لحاف ( عصمت چغتائی ) جب میں جاڑوں میں لحاف اوڑھتی ہوں، تو پاس کی دیواروں پر اس کی پرچھائیں ہاتھی کی طرح جھومتی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور ایک دم سے میرا دماغ بیتی ہوئی دنیا کے پردوں میں دوڑنے بھاگنے لگتا ہے۔ نہ جانے کیا کچھ یاد آنے لگتا ہے۔ معاف کیجئے گا، میں آپ کو خود اپنے …
Search
Trending now
سفرِ زیست۔افسانہ
سفرِ زیست کتاب وقت گزارنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ انٹرنیٹ اور ورائٹی شوز کے دور میں آج بھی ت…
ذ را مسکرا ئیے
ذ را مسکرا ئیے پروفیسر صاحب انتہائی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے تھے، جیسے ہی آپ نے تخت…
بلاؤز
بلاؤز ( سعادت حسن منٹو ) کچھ دنوں سے مومن بہت بے قرار تھا۔ اس کا وجود کچا پ…
وہ بڑھا
وہ بڈھا ( راجندر سنگھ بیدی ) میں نہیں جانتی۔ میں تو مزے میں چلی جا …
لحاف
لحاف ( عصمت چغتائی ) جب میں جاڑوں میں لحاف اوڑھتی ہوں، تو پاس کی دیواروں …