بیجا استعمال کی اطلاع دیں

5/random/slider

لیبلز

About Limmer

About Limmer
Glimmer is one of the most Elegant, Clean and Creative WordPress blog.

About Me

About Me
Lorem ipsum dolor sit amet Cras vitae nibh nisl. Cras etwmaur is egettobsi lorem ultricies ferme ntutbm a in diam. Morbi mollis pellentesque aug uenec rhoncus.

لیبلز

Popular Posts

Recent in Fashion

3/Fashion/post-list

Subscribe Us

نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سفرِ زیست۔افسانہ



 سفرِ زیست

کتاب وقت گزارنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ انٹرنیٹ اور ورائٹی شوز کے دور میں آج بھی توجہ کھینچتی ہے۔

ایک اچھی کہانی اپنی وضع، بناوٹ، ساخت، خوبی، خو، اور عمدگی کی بنا پہ قارئین کے لیے تجسس اور دلچسپی کا باعث بنتی ہے۔

چونکہ تجسس انسانی فطرت کا حصہ ہے اور تجسس ہی ”وضوح“ پہ اکساتا ہے۔ سو پڑھنے والوں کو میری ہر کہانی میں تجسس کی ”گرہ“ دلچسپی سے مزین لگتی ہے اور یقینی طور پہ کہانی میں ”نضارت“ کی اصل وجہ بھی یہی ہے۔

کسی بھی کتاب کو کامیاب بنانے کے لیے جتنی کوشش رائٹر کو کرنی پڑتی ہے۔ اتنی ہی کوشش پبلشر کو کرنی پڑتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ میں میری کتابوں کے حقوق اشاعت حاصل کرنے کے بعد ادارہ علم و عرفان نے اس ذمہ داری کو میری توقعات سے زیادہ بہتر طور پر ادا کیا ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد قارئین میری اس رائے سے اتفاق کریں گے۔

 

نایاب جیلانی

 

مجھے اس عورت سے نفرت ہے اور اس کے بچوں سے شدید ترین نفرت… اور اب مجھے اپنے آپ سے بھی نفرت ہونے لگی ہے۔“ اس نے سنگی بینچ پر بیٹھتے ہوئے کرب سے سوچا۔

جب آدمی انسانیت کے مقام سے گرتا ہے تو کیا محسوس کرتا ہے؟ اور جب کسی کی نظر سے گرتا ہے تو کیا بیتی ہے اس پر؟“ کچھ گرم قطرے اس کے گالوں پر پھسلتے ہوئے گردن پر لڑھک آئے تھے۔

اس نے تھک کر بینچ کی پشتہ سے ٹیک لگا لی۔

وہ خود کو اندھی کھائی میں گرتا محسوس کرتا ہے یا پھر ضمیر کی عدالت میں صفائیاں پیش کی جاتی ہیں۔

ضمیر کی عدالت۔“ وہ بڑابڑئی تھی۔

بڑی سخت عدالت ہوتی ہے جس میں مجرم اپنے لئے خود سزا تجویز کرتا ہے۔ کیا کوئی خود اپنے ہاتھوں گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال سکتا ہے۔

اس نے ہتھیلیوں کی پشت سے آنسوؤں کو صاف کیا۔

دھند کی وجہ سے کوئی منظر صاف نہیں تھا۔ ہر چیز کہر میں لپٹی اُداس تھی بالکل اس کی طرح۔ کچھ ہمت کرکے اس نے اُٹھنا چاہا تھا مگر کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ سردی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس ”بار“ کی وجہ سے جو اُٹھایا نہیں جا رہا تھا۔ اس نے اپنی دھونکنی کی مانند چلتی ہوئی سانسوں کو ہم وار کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں بھی کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔

اس نے بغیر دیکھے دائیں ہاتھ سے ٹٹولتے ہوئے منرل واٹر کی بوتل کو اٹھایا اور منہ سے لگا لیا۔ پھر بائیں ہاتھ کی مٹھی کھولی اور تین چار گولیاں نکال کر نگل لیں۔

میں نے ساری زندگی کیا کیا۔“ اک فلم تھی جو ذہن کی اسکرین پر چلنے لگی۔ آنکھیں بند کرکے اس نے سر جھٹکنا شروع کر دیا۔ وہ کچھ سوچنا نہیں چاہتی تھی مگر

میں نے صرف اور صرف نفرت کی…“ اس نے سوچا اور پھر اسے یاد آ گیا تھا کہ اس نے کسی سے محبت کی تھی۔

آنکھوں سے ایک بار پھر پانی روانی سے بہنے لگا تھا۔ وہ آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے ہنسنے لگی اور پھر ہنستے ہنستے ایک دم چپ ہو گئی۔

ہاں میں نے حیدر سے محبت کی ہے۔“ وہ ہذیانی انداز میں چیخی اور پھر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔ پارک اس وقت سنسان تھا بھلا رات کے دو بجے کسے ضرورت تھی پارک میں آنے کی۔ اس نے دور دور تک سناٹوں کو محسوس کرکے ایک دفعہ پھر اٹھنا چاہا۔

اس بار وہ کامیاب ہو گئی تھی مگر دوسرے ہی پل لڑھکتی ہوئی سرد گھاس پر گر گئی۔ اس کے منہ سے سفید جھاگ نکل رہا تھا جب کہ ٹانگیں بے جان ہو گئی تھیں اور شاید جسم بھی۔

###

 

 

نئی صبح نیا ہنگامہ لے آئی تھی اگرچہ اذکی صبح خیز تھی لیکن نہ جانے کیوں آج آنکھ دیر سے کھلی۔ جب وہ اٹھی تو سورج آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ وہ اسپرنگ کی طرح اچھل کر واش روم کی طرف بھاگی۔

منہ پر دو تین پانی کے چھپا کے مار کر تولیہ سے چہرہ تھپتھپایا۔ دیا اور زید ابھی تک سو رہے تھے۔ اذکی کو کچھ اطمینان ہوا۔ حیدر کا کندھا ہلا کر اسے جگانے اور باتھ روم کی طرف دھکیلنے میں کم از کم سات منٹ لگے تھے۔ وہ بڑبڑاتے ہوئے کچن کی طرف آ گئی۔ چائے کا پانی چولہے پر رکھا اور فریج کھول کر آٹا نکالنا چاہا تو خالی برتن منہ چڑانے لگا۔ شدید کوفت کے عالم میں اس نے بریڈ کے پیکٹ کو نکال کر ٹوسٹر آن کیا۔

اسی پل حیدر کی حسب معمول آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔

اذکی! میرا ٹاول کدھر ہے؟“ وہ باتھ روم میں کھڑا گرج رہا تھا۔ اذکی نے دہل کر دونوں بچوں کی طرف دیکھا۔ پھر تلملاتے ہوئے تولیہ اسٹینڈ پر پھینک کر دیا کو تھپکنے لگی۔ حیدر بالوں کو تولیہ سے رگڑتے ہوئے ”جلدی جلدی“ کی گردان کئے جا رہا تھا اس کی یہی جلد بازیاں اذکی کو بوکھلا دیتی تھیں۔

ہر کام جو ڈیڑھ منٹ میں ہونا ہوتا تھا اُلٹ پلٹ ہو کر دس منٹ لے لیتا۔ پھر حیدر کی خفگی عروج پر پہنچ جاتی پارہ چڑھ جاتا اور سارا نزلہ تھر تھر کانپتی اذکی پر گرتا۔ اپنی غلطی کو اس نے کبھی تسلیم ہی نہیں کیا تھا۔

حیدر بلیو شرٹ کو اُلٹ پلٹ کرکے دیکھ رہا تھا۔ اذکی کا سانس حلق میں اٹک گیا۔ اس نے کن انکھیوں سے حیدر کے تاثرات نوٹ کئے۔

حیدر! ٹائم کم ہے لیٹ ہو جائیں گے آپ۔ جلدی سے چینج کرکے ناشتہ کر لیں۔“ اذکی نے اس کا دھیان شرٹ سے ہٹانا چاہا تھا۔ وقت کا احساس دلاتے ہوئے اسے اچانک چولہے پر رکھی چائے کا خیال آیا۔ وہ کچن کی طرف جانے لگی تھی جب حیدر نے جھنجلاتے ہوئے شرٹ صوفہ پر اچھال دی۔

کہاں جا رہی ہو وہ وائٹ لائننگ والی شرٹ پریس کر دو۔ ”تم جانتی تو ہو کہ مجھے یہ کلر سخت ناپسند ہے۔

آج یہی پہن لیں۔ رات کو میں نے آدھی بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ آپ کے کپڑے استری کئے تھے اور ابھی تو میں نے ناشتہ بھی بنانا ہے۔“ اذکی نے کچھ ڈرتے ہوئے کہا تھا جواباً حیدر نے کھا جانے والی نظروں سے اُسے گھورا۔ ٹیبل کو ٹھوکر ماری شرٹ کو اُٹھایا اور استری اسٹینڈ کی طرف بڑھ گیا۔

انتہائی ضدی شخص ہے۔“ وہ منہ ہی منہ میں بدبدائی اور پھر ناشتہ میز پر لگانے لگی۔ پندرہ منٹ بعد فل تیاریوں کے ساتھ خوشبوئیں بکھیرتا وہ کمرے سے باہر نکل آیا تھا۔ اذکی پر نظر پڑی تو ایک اور خطرناک قسم کی گھوری پھینکی۔

ناشتہ تو کر لیں۔

حیدر کو دروازے کی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ تیزی سے اس کے پیچھے آئی تھی۔

نہیں کرنا مجھے ناشتہ واشتہ۔“ اس کا موڈ سخت خراب تھا۔ اذکی نے روکنے کی کوشش کی مگر بے سود وہ تیزی سے سیڑھیاں اُتر گیا تھا۔ اس نے کھڑکی میں کھڑے ہو کر کئی سورتیں حیدر پر پڑھ کر پھونکیں۔ جب تک گاڑی نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی تھی وہ کھڑکی میں سے اسے دیکھتی رہی۔

گاڑی نے ٹرن لیا تو وہ پردے برابر کرکے بیڈ روم میں چلی آئی۔

یہ سب تو معمول کا حصہ بن گیا تھا جب کبھی حیدر کا موڈ آف ہوتاوہ اس کے جذبات کا خیال کئے بغیر اپنی ضد پر اڑ جاتا۔ غصے میں کبھی اسے احساس نہیں ہوتا تھا کہ اذکی کے نازک دل کو کتنی ٹھیس پہنچی ہے۔ اب تک تو اسے عادی ہو جانا چاہئے تھا مگر وہ اپنی فطرت کا کیا کرتی۔ لوازمات سے سجی ٹیبل کو دیکھ کر اسے رونا آ گیا۔

مینگو شیک کو فریج میں رکھتے ہوئے اس نے کتنے ہی آنسو بہا دیئے۔ ہاف فرائی ایگ بریڈ جیم مارجرین اور کیک ایک ایک کرکے ساری چیزیں اٹھاتے ہوئے وہ سخت دلبرداشتہ تھی۔ حیدر زیادہ چائے نہیں پیتا تھا جب کہ اذکی کی آنکھیں چائے کے بغیر کھلتی نہیں تھیں لیکن اس وقت چائے پینے کو بھی دل نہیں کر رہا تھا۔ بچوں کو دیکھا تو وہ ابھی تک سوئے ہوئے تھے۔

دونوں اڑھائی سال کے ہو رہے تھے بے حد صحت مند اور خوبصورت اس نے باری باری دونوں کی پیشانی چومی اور پھر لاؤنج میں آکر بیٹھ گئی۔

دل بھر بھر کے آ رہا تھا۔ وہ جتنی بھی کوشش کرتی تھی صبح کے وقت ضرور کوئی نہ کوئی بدمزگی ہو ہی جاتی۔ جب سے وہ اس فلیٹ میں شفٹ ہوئے تھے حیدر اکثر ہی کسی نہ کسی بہانے سے ناشتہ نہیں کرتا تھا پہلے تو صرف شک تھا اسے اب یقین ہونے لگا تھا کہ حیدر راحت دلا جاتا ہے۔

اسے حیدر کے راحت دلا جانے پر کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ وہ تو اس کے کٹھور رویے اور بے حسی پر کڑھتی رہتی تھی۔ یہ تو معمول کی باتیں تھیں اس کیلئے۔ صبح صبح حیدر یونہی ہنگامہ مچائے رکھتا تھا اذکی کا ایک پیر کچن میں اور دوسرا بیڈ روم میں ہوتا۔

اذکی! میرا والٹ نہیں مل رہا۔“ وہ دوڑتی ہوئی بیڈ روم میں آتی۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھے والٹ کو دیکھ کر اسے بھی غصہ آ جاتا تھا۔

یہ کیا ہے؟“ وہ اس کے سامنے والٹ لہراتی تو وہ انجان بن کر بھولپن سے بولتا۔

اچھا ادھر رکھا تھا مجھے تو نظر نہیں آیا۔“ یا پھر ”میری بلیو ربن والی فائل نہیں مل رہی۔“ وہ ڈھونڈ ڈھانڈ کر فائل برآمد کرتی۔

ذرا موبائل تو چارجنگ پر لگانا۔“ وہ فرائنگ پین میں انڈا ڈالنا بھول کر موبائل کو دیکھنے لگتی۔ گھی گرم ہو کر اچھلنے لگتا۔

وہ چائے بنا رہی ہوتی تو حیدر ایک دفعہ پھر چیختا ہوا اس کے سر پر پہنچ جاتا تھا۔

میرے سوکس تو ڈھونڈ دو نہ جانے ایک کہاں غائب ہو گیا ہے“ وہ سوکس دینے آتی تو نیا آرڈر جاری ہو جاتا۔

یہ بلیک شوز رہنے دو براؤن پالش کر دو۔“ اذکی جوتے پالش کرنا شروع کرتی تو حیدر تیار ہو کر ٹیبل تک آ جاتا۔ اسی اثناء میں ناشتہ ادھورا رہ جاتا تھا۔

نتیجتاً وہ جلتا کلستا اسے باتیں سناتا آفس سدھارتا۔ اس سارے قصہ میں اپنا قصور نہ ہونے کے باوجود وہ خود کو کوستی رہ جاتی تھی۔ اس وقت بھی اسے خود پر غصہ آ رہا تھا۔ دیا کے رونے کی آواز سن کر وہ اٹھ بیٹھی۔ دونوں بہن بھائی نہ صرف اٹھ چکے تھے بلکہ رونے کا پروگرام بھی شروع ہو چکا تھا۔ دیا اور زید کے منہ دھلا کر اس نے باری باری کپڑے تبدیل کئے۔

بیڈ روم کی چیزیں سمیٹیں۔ ان دونوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کر ناشتہ کرواتے ہوئے اس کا دھیان بٹ گیا تھا۔ دونوں تھے بھی بلا کے شرارتی کوئی ڈیکوریشن پیس ان دونوں کے عتاب سے نہیں بچا تھا۔ وہ تو سنجیدگی سے سوچ رہی تھی کہ ان کی تیسری سالگرہ کے بعد مونیٹسوری میں داخل کروا دے گی۔

آرام سے کارٹون دیکھو اور خبردار جو شرارت کی تو اور دیا آپ بھائی سے ذرا دور ہو کر بیٹھیں۔

کارٹون لگا کر اس نے دونوں کو ٹی وی کے سامنے بٹھا دیا تھا۔ باؤلز میں تھوڑے تھوڑے چپس ڈال کر اس نے دیا اور زید کے سامنے رکھے تھے تاکہ دونوں مصروف رہیں۔ دیا نے شرارت سے بھائی کے باؤل میں ہاتھ مارا تھا یعنی کہ حد ہی ہو گئی۔ ذرا بھی تنبیہ کا اثر نہیں ہوا تھا۔ اذکی کے گھورنے کا الٹا اثر ہوا وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی اور پھر دوڑ کر اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔

یقینا لاڈ کا موڈ ہو رہا تھا اذکی نے اٹھا کر اس کے گال کو چوما پھر صوفہ پر بٹھاتے ہوئے بولی۔

مجھے کام کرلینے دو پھر پپا آ جائیں گے اور میں نے کھانا بھی بنانا ہے۔

پپا کدھل (کدھر) ہیں۔

آفس…“ اذکی کی بجائے زید نے مدبرانہ انداز میں جواب دیا اذکی کو ہنسی آ گئی۔ وہ دونوں کارٹونز دیکھنے میں محو ہو گئے تھے لہٰذا وہ آرام سے کام کر سکتی تھی۔

حیدر کے کئی مرتبہ کہنے کے باوجود اس نے کام والی نہیں رکھی تھی۔ کام تھا بھی کتنا سارا دن بور ہونے سے بہتر تھا کہ وہ مصروف ہی رہتی۔ برتن دھونے کے بعد اس نے کچن صاف کیا۔ بچوں کے کپڑے سرف میں بھگوئے تھے انہیں کھنگال کر الگنی رپ پھیلایا۔ ڈسٹنگ کی حیدر کو ڈسٹ سے سخت الرجی تھی حیدر کی امی بھی بے حد صفائی پسند خاتون تھیں۔ مجال ہے جو گرد کی تہہ نظر آ جائے حتیٰ کہ ڈسٹ بن تک چم چم کرتا تھا۔

کام سے فراغت کے بعد اس نے اپنا حلیہ درست کیا۔ دیا اور زید کی آواز نہیں آ رہی تھی جب کہ ٹی وی چل رہا تھا۔ وہ بے حد پریشانی کے عالم میں لاؤنج میں آئی تو دیا صوفہ پر جب کہ زید کارپٹ پر بے خبر سو رہے تھے۔ اس نے نرمی سے زید کو بانہوں میں اُٹھا کر بیڈ پہ لٹایا اور دیا کے اوپر چادر ڈال کر ٹی وی بند کر دیا اور خود بھی کارپٹ پر دراز ہو گئی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور ذہن راحت ولا میں اٹکا ہوا تھا۔

اذکی نے بریانی دم پر رکھی ہی تھی کہ ڈور بیل گنگنا اٹھی۔ اس نے آنچ دھیمی کرکے باہر جھانکا۔ اس سے پہلے ہی دونوں بچے اچھلتے ہوئے۔ ”پپا آ گئے“ کا نعرہ بلند کئے دروازے تک پہنچ چکے تھے۔

مما! آ بھی جائیں پپا آ گئے ہیں۔“ زید نے بے صبری سے اذکی کو پکارا۔ وہ ہاتھ پونچھتی ہوئی ان کے پیچھے آ گئی۔ لاک کھول کر وہ ہٹ گئی تھی۔ دونوں بچے باپ سے لپٹ گئے وہ بھی ساری تھکن بھلا کر ان دونوں کو چٹا چٹ چوم رہا تھا۔

مما کہاں ہیں؟“ حیدر نے زید سے دریافت کیا۔

کچن میں۔

اچھا…“ اس کا ”اچھا“ خاصا طویل تھا۔ اذکی کی کچکچا کر حیدر کو دیکھا۔ وہ زید اور دیا کو ایک ایک چاکلیٹ کھول کر پکڑا رہا تھا۔ کچن کے دروازے کے پاس وہ لمحہ کو رُکا پھر بڑے انداز میں گنگناتے ہوئے بیڈ روم میں چل دیا وہ نہا کر باہر نکلا تو اذکی بیڈ روم میں موجود تھی۔

آج آپ دیر سے کیوں آئے ہیں۔“ اس کے تھانیدارانہ انداز پر حیدر نے مسکراہٹ ضبط کی۔

دراصل ایک دوست کو اس کے گھر ڈراپ کرنا تھا۔ اس کا راستہ چونکہ دوسرا تھا اسی لئے دیر ہو گئی۔“ خلاف توقع حیدر نے ذرا تفصیل سے جواب دیا۔

جن کے راستے مختلف ہوں ان دونوں کو ابتداء میں ہی للہ حافظ کہہ دینا چاہئے۔ اس سے نہ صرف اپنا وقت بچتاہے بلکہ طویل سفر کی تھکان بھی نہیں ہوتی۔

کھانا کھلانے کا پروگرام ہے کہ فلسفہ پر ہی ٹرخاؤ گی۔“ حیدر مسکرایا کم کم ہی چہرہ مبارک پر مسکراہٹ جلوہ افروز ہوتی تھی۔ اذکی اس کا موڈ بہتر دیکھ کر پلٹ گئی۔ وہ ڈائننگ ٹیبل پر برتن رکھ رہی تھی جب وہ ایک دفعہ پھر بنا ٹھنا سا اس کے قریب چلا آیا۔

کہیں جانا ہے آپ کو۔“ اذکی نے اس کی ”تیاریوں“ کو دل ہی دل میں سراہا۔ غضب کی ڈریسنگ ہوتی تھی اس کی بلا کا نفاست پسند تھا۔

ہاں… ایسا ہے کہ تم بچوں کو تیار کر دو اور خود بھی ہو جاؤ میں اتنے میں گاڑی نکالتا ہوں۔ ایک دوست کا نکاح ہے آج ”شہنائی“ میں۔ مجھے اصل میں یاد ہی نہیں رہا تھا۔ ابھی ابھی اس کا ایس ایم ایس آیا ہے۔ اب کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو فٹا فٹ تیاری پکڑو۔“ اذکی نے کچھ جھنجلا کر چمچہ ٹیبل پر پٹخا۔ اس کی اسی طرح کی لاپروایوں پر اُسے جی بھر کے تاؤ آتا تھا۔

یہ کوئی وقت ہے بتانے کا۔ آپ صبح بھی تو ذکر کر سکتے تھے میں کم از کم بچوں کے کپڑے ہی پریس کر دیتی۔

کہا تو ہے کہ ذہن سے نکل گیا تھا۔“ اذکی نے تیزی سے برتن میز پر سے سمیٹے دیا نے چاکلیٹ سے منہ اور دونوں ہاتھ گندے کر لئے تھے۔ اس کا منہ اور ہاتھ دھلوا کر کپڑے بدلتے ہوئے وہ مسلسل نیچے سے آنے والے ہارن کی آواز سن کر بھنارہی تھی بچوں کو تیار کرکے اس نے اپنے کپڑے الماری سے نکالے تب ہی موبائل کی بل بجنے لگی تھی۔

اذکی نے جھلا کر موبائل اٹھایا۔ اسکرین پر حیدر کا نمبر جگمگا رہا تھا۔

دس منٹ تک آ رہی ہوں۔“ حیدر کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ سرعت سے بولی۔

تم رہنے دو میں پہلے ہی لیٹ ہو چکا ہوں۔ کم از کم تم آدھا گھنٹہ تو مزید لگاؤ گی۔ لہٰذا دروازہ بند کرکے کھاناکھا لو میں دیر سے آؤں گا۔“ اذکی نے گہری سانس خارج کرکے کپڑے بیڈ پر پھینکے اور دونوں ہاتھوں سے سرتھام لیا۔

مما چلیں بھی۔“ دیا نے اس کا بازو ہلایا۔ زید منتظر سا بیٹھا تھا۔ اس نے بکھری ہمتیں سمیٹ کر بچوں کو اٹھایا۔ بالوں میں برش چلا کر پرس پکڑا اور دروازے لاک کرکے سیڑھیاں اترنے لگی۔ آخر بچوں کو بھی بہلانا تھا۔ حیدر کو اس نے مختصر سی کال کرکے بتا دیا تھا اپنے جانے کے متعلق

حیدر رات ساڑھے بارہ بجے گھر آیا تھا اس کے ساتھ ساحرہ بھی تھی۔ وہ ساحرہ کی ضد پر ہی اسے یہاں لایا تھا۔ فلیٹ کی سجاوٹ اور خوبصورتی کو ساحرہ نے بڑی حاسدانہ نظروں سے دیکھا تھا۔ وہ ایک ایک چیز کو نظروں میں تول رہی تھی۔ خصوصاً حیدر کے بیڈ روم میں آکر اس کا حسد نفرت میں بدلنے لگا۔ من میں لاوا سا پک رہا تھا جو کہ اُبلنے کو بے تاب تھا۔ اس نے زہریلی نگاہوں سے دیا اور زید کی انلارج تصویر کو گھورا۔

اس کی آنکھوں سے شعلے لپکنے لگے تھے۔ بیڈ کے عین سامنے والی دیوار پر اذکی کی فل سائز تصویر ٹنگی تھی ہنستی مسکراتی۔ اذکی تفخر سے حیدر کے پہلو میں کھڑی تھی۔ حیدر واش روم میں تھا جب باہر آیا تو اُسے بت بنا پاکر قدرے حیران ہوا تھا۔

کیسا لگا تمہیں میرا فلیٹ۔“ وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا تھا۔

ساحرہ نے مڑ کرکٹیلی نگاہوں سے اسے دیکھا۔

صرف تمہارا۔“ وہ دھیمی آواز میں غرائی۔ حیدر کو اپنے لفظوں کے چناؤ پر پشیمانی ہوئی۔ اس نے ساحرہ کا بدلتا موڈ بھی دیکھ لیا تھا۔ لہٰذا نرمی سے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرکے کچن میں چلا گیا۔

اس دڑبے کا راحت ولا سے کیا مقابلہ۔“ ساحرہ نے دل کو تسلی دی۔ ٹرے میں کافی کے مگ رکھے حیدر کمرے میں آیا تو ساحرہ پہلے جیسی کیفیت میں بیٹھی ہوئی تھی۔

اس کی موجودگی محسوس کرکے سیدھی ہو گئی۔

یہ کافی پیو۔“ ساحرہ نے مگ حیدر کے ہاتھ سے لے لیا تھا۔ کافی پیتے ہوئے بھی وہ مسلسل حیدر کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اسے ساحرہ کی نظروں سے اب الجھن سی ہونے لگی تھی۔ تاہم اس نے کچھ ظاہر نہیں ہونے دیا۔

اچھی بنی ہے ناکافی۔“ حیدر نے ساحرہ سے تائید چاہی۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

جانتے ہو کتنے دنوں بلکہ مہینوں بعد تمہارے ہاتھ کی بنی کافی پی ہے۔

ساحرہ کا لہجہ عجیب سا تھا یا پھر حیدر کو ہی لگا۔ کئی لمحے وہ کچھ بول نہیں سکا تھا۔

اصل میں مصروفیت ہی اتنی ہے کہ…“

تمہاری مصروفیت کا دائرہ اذکی اور ان دو بچوں تک محدود ہو گیا ہے حیدر!“ وہ پھنکاری۔

تمہارے پاس میرے لئے کوئی لمحہ کوئی وقت نہیں ہے۔

تم ایسا نہیں کہہ سکتی۔“ حیدر اس کے لہجہ کی تیزی محسوس کرکے نرمی سے بولا۔

میں صبح ناشتہ تمہارے ساتھ کرتا ہوں لنچ بھی راحت ولا میں کرتا ہوں۔ چاہے کتنا ضروری کام کیوں نہ ہو چھوڑ چھاڑ کر صرف تمہاری خاطر بھاگا آتا ہوں۔ آفس ٹائم کے بعد پہلے تمہارا درشن کرتا ہوں ادھر تو بعد میں آتا ہوں میں اور تم جانتی بھی ہو کہ اذکی اور بچے بالکل اکیلے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود میں رات صرف اور صرف تمہارے لئے راحت ولا میں گزارتا ہوں تاکہ تم تنہائی محسوس نہ کرو۔

حیدر نے بے حد رسانیت سے اُسے ٹھنڈا کرنا چاہا تھا۔ ساحرہ کے اندر جوار بھاٹا اُٹھ رہا تھا۔ یہ خوبصورت فلیٹ اسے کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔ وہ نفرت سے سر جھٹکتے ہوئے بولی۔

تمہاری محبت نجانے کہاں سوئی ہے۔ تم بدلتے جا رہے ہو حیدر…“ ساحرہ نے مگ ٹیبل پر پٹخا۔ تھوڑی سی کافی چھلک کر میز کی شفاف سطح پر گر گئی تھی۔

یہ بچے تمہارے لئے اہم ہوتے جا رہے ہیں۔

ساحرہ نے دیا اور زید کی تصویر کی طرف اشارہ کیا۔

تم مجھے بھول رہے ہو چند سالوں بعد تمہیں ساحرہ یاد بھی نہیں رہے گی۔

ساحرہ! تم نے بدگمانیوں کی بہت بڑی فصیل کھینچ لی ہے۔ ایسی کوئی بات نہیں میں کل بھی تمہیں چاہتا تھا آج بھی تم سے محبت کرتا ہوں۔ یہ تو مجھے کہنا چاہئے کہ تم بدل رہی ہو۔ کہاں گئی میری وہ دوست جو بن کہے میری ساری پریشانیاں جان جاتی تھی جسے کچھ بتانے کیلئے مجھے لفظوں کا سہارا نہیں لیتا پڑتا تھا جو میرے چہرے کو پڑھنے کے فن سے آشنا تھی اور جسے پاکر میرے وجود کی تکمیل ہوتی تھی جو میرے دل کے موسموں مزاج کے رنگوں اور میری عادتوں سے واقف تھی۔

حیدر کو حقیقتاً ساحرہ کی سوچ سے دکھ ہوا تھا وہ دلفریب رسیلی آواز والی ساحرہ نجانے کہاں کھو گئی تھی جو لفظوں کی جادوگر تھی۔ اس وقت تو وہ ایک عورت نظر آ رہی تھی۔ حسد و رشک کی کیفیت میں مبتلا عام سی عورت۔ ساحرہ کو بھی احساس ہو گیا تھا کہ وہ کچھ غلط بول رہی ہے۔ اس نے اپنی پسند سے بساط بچھائی تھی اور مرضی کے مطابق مہرے رکھے تھے۔

ہر بازی سوچ بچار سے جیتی تھی۔ جیسا کہ حیدر اس کا تھا۔ حیدر کی ماں بہنیں اور خاندان والے سب گن گاتے تھے اس کے۔ اس نے ساری فضول سوچوں کو جھٹک کر حیدر پر توجہ دینی شروع کی تو اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ واقعی بہت بڑی بے وقوفی کرنے چلی تھی۔ اس سے شکوہ شکایات اور لڑائی جھگڑا کرکے۔ ساحرہ نے بڑی مہارت سے موضوع بدل دیا تھا۔ اب وہ امی کی بیماری اور ثمرہ کے سسرال میں ہونے والے تازہ ترین فنکشن کو ڈسکس کر رہی تھی۔

کچھ ہی دیر میں وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی۔ حیدر کا دھیان بٹ گیا تھا۔ آج وہ اذکی کے گھر میں تھی اس کے بیڈ روم میں۔ ایک دفعہ پھر وہ دانستہ اذکی کو ہرانے والی تھی۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی سوچ کی پرچھائیں تھی جب کہ دل قدرے مطمئن ہو کر ٹھہر گیا تھا۔ اس نے بڑے استحقاق سے مگ اُٹھا کر کچن میں رکھے۔

کل جب وہ آئے گی اور اسے میرے یہاں آنے کا پتا چلے گا پھر کیسی کیفیت ہو گی اس کی۔“ پورے گھر کا جائزہ لے کر ساحرہ نے تنفر سے سوچا اور بیڈ روم کا دروازہ کھول کر اندر چلی گئی۔

اذکی اگلی صبح دن چڑھے ہی آ گئی تھی۔ مامی جی نے تو بہت روکا تھا مگر وہ حیدر کی پریشانی کے خیال سے جلد آ گئی۔ کچھ بچے بھی وہاں مطمئن نہیں تھے۔ جواد بھائی کے شریر بچوں نے دونوں کو اچھا خاصا بے زار کر دیا تھا۔ لہٰذا وہ صبح ہوتے ہی نکل پڑی۔ جواد بھائی اسے چھوڑ گئے تھے۔ گھر کی الٹ پلٹ حالت اور سنک میں برتنوں کے ڈھیر کو دیکھ کر اسے رات مامی جی کی طرف رکنے پر بے حد افسوس ہوا۔

بچوں کو کھلونے دے کر اس نے کمر کس لی تھی۔ ابتداء کچن سے کی برتن دھوئے شلف اور کیبٹ وغیرہ صاف کئے خوب رگڑ رگڑ کر فرش دھویا۔ لاؤنج میں بکھرے کشن ترتیب سے رکھے۔ بیڈ روم میں آکر اس کا دماغ گھوم گیا تھا۔ حیدر کے کپڑے کتابیں وغیرہ کارپٹ پر بکھری ہوئی تھیں تولیہ ٹوائلٹ کے دروازے کے عین وسط میں پڑا نوحہ کناں تھا کشن زمین بوس تھے گندے چائے کے کپ اور دودھ کے گلاس میز پر اوندھے پڑے تھے۔

بیڈ شیٹ لٹک رہی تھی۔

کمال ہے حیدر نے ایک رات میں ہی اتنا ”کھلارا“ ڈال دیا ہے۔“ چیزیں سمیٹتے ہوئے وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔ تکیے درست کرتے ہوئے کوئی چیز اس کے ہاتھ سے ٹکرائی تھی۔ کئی لمحے وہ اسے ہاتھ میں پکڑے گھورتی رہی۔ اس کے دل کی رفتار یکدم ہی بڑھ گئی تھی۔ گولڈ کا دل والا لاکٹ اس کے ہاتھ میں لرز رہا تھا اور وہ جانتی تھی کہ یہ کس کا ہے۔

تو کیا وہ یہاں آئی تھی۔“ اذکی کا تنفس تیز تیز چلنے لگا۔ وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھتی چلی گئی۔ آنکھوں میں اُمڈنے والی نمی کو بے دردی سے رگڑتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔ اپنی ہستی کی نفی اور ناقدری پر دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ تہی دامنی کا احساس کچوکے لگانے لگا۔

مجھے کیا ملا ہے“ روتے روتے اس نے اچانک سر اٹھا کر دیکھا۔

اس کے دونوں بچے سہمے ہوئے دروازے کے ساتھ لگے کھڑے تھے۔ اذکی نے تڑپ کر انہیں اپنی بانہوں میں لے لیا۔ دیا اور زید بھی اس کے ساتھ مل کر رو رہے تھے۔

میرا سب کچھ تو یہی ہیں۔ میں خالی دامن کب ہوں بھلا مجھ سے بڑھ کر بھی کوئی امیر ہے۔ میرے دوست میرے بچے ہیں۔“ دیا کی پیشانی چومتے ہوئے وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔

###

 

 

آپ اسے یہاں لائے تھے؟“ رات کو حیدر نو بجے گھر آیا تھا۔

آتے ہی اس تفتیش پر چِڑ سا گیا۔

میں جسے چاہوں اور جب چاہوں یہاں لے کر آؤں تم کون ہوتی ہو پوچھنے والی… یہ میرا گھر ہےمجھ سے تعلق رکھنے والا ہر شخص یہاں آئے گا چاہے وہ کوئی بھی ہو…“ حیدر نے ایک ایک لفظ چبا کر بولتے ہوئے اس کے سوجے پپوٹوں اور گلابی آنکھوں کو دیکھا۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے جب کہ چہرہ بے حد سرخ تھا۔

میں اس گھر کے مالک کی بیوی ہوں حق رکھتی ہوں پوچھنے کا…“ اذکی بھاری آواز میں بمشکل بولی۔

حلق میں گولا اٹکنے لگا تھا۔

میرے خیال میں جو یہاں آئی تھی اس کے پاس بھی ایسا حق محفوظ ہے…“ حیدر کا اطمینان قابل دید تھا۔ اذکی کو اپنا آپ انگاروں سے جلتا محسوس ہوا۔

یہ میرا گھر ہے میں اس عورت کا سایہ بھی نہیں پڑنے دوں گی۔

اپنی زبان کو لگام دو…“ حیدر نے شدید طیش کے عالم میں اس کے رخسار پر تھپڑ دے مارا۔

کبھی بھی ساحرہ کے متعلق کچھ مت کہنا۔

ورنہ میرے مزاج سے تم واقف ہی ہو…“ اس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑتے ہوئے اس نے گرج کر کہا تھا۔

کیا کر لیں گے آپ زیادہ سے زیادہ ماریں گے نا جتنا چاہیں مار لیں لیکن میں ساحرہ کو یہاں آنے نہیں دوں گی…“ نجانے کہاں سے اتنی ہمت آ گئی تھی اس میں۔ حیدر کے ہاتھوں کی رفتار میں مزید تیزی آ گئی اس نے اذکی کو دھکا دے کر بیڈ پر پٹخ دیا۔

درد سے پھٹتے سر کو انگلیوں سے دباتے ہوئے وہ روئے جا رہی تھی۔ حیدر نے سائیڈ ٹیبل سے گاڑی کی چابی اٹھائی آخری غصیلی نگاہ اس کے تڑپتے وجود پر ڈالی اور باہر نکل گیا۔

دروازے کی چرچراہٹ سن کر وہ ہڑبڑا کر اٹھ گئی تھی۔ پہلے تو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کہاں ہے۔ آہستہ آہستہ حواس ٹھکانے آئے تو نئے سرے سے سب کچھ یاد آنے لگا۔ حیدر نے بیڈ روم کی لائٹ آن کرکے شرٹ اتاری اذکی دیا اور زید کیلئے دودھ کی بوتلیں لینے چلی گئی۔

چار بجے وہ اٹھ جاتے تھے۔ حیدر کپڑے بدل کر آیا تو اذکی لیٹ چکی تھی۔ اس نے اپنا تکیہ اٹھایا اور پھر کارپٹ پر دراز ہو گیا۔

صبح وہ معمول کے مطابق شور مچاتے ہوئے تیار ہو رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ بہت دن بعد اس نے ڈٹ کر ناشتہ بھی کیا اور پھر بچوں کو باہر لے جانے کا وعدہ کرکے آفس چلا گیا تھا۔ اذکی معمول کے کام نبٹا کر بچوں کو نہلانے لگی تھی۔

جب فون کو بیل گنگنا اٹھی۔ اس نے جلدی جلدی دیا کے اوپر پانی ڈال کر تولیہ لپیٹا اور فون اسٹینڈ کی طرف بڑھی۔ دوسری طرف راحت بیگم کی آواز سن کر وہ گڑبڑا گئی تھی۔ اسے امید نہیں تھی کہ وہ کبھی یہاں فون کریں گی۔ بڑا طنطنہ تھا ان میں۔ اس نے اسلام کیا تو انہوں نے جواب دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ بس حیدر کا پوچھ کر فون رکھ دیا تھا۔

وہ سوچتے ہوئے الجھن کا شکار ہو گئی۔

لنچ ٹائم میں حیدر کبھی نہیں آیا تھا۔ اس وقت اسے دروازے میں کھڑا دیکھ کر اذکی کو شدید حیرت ہوئی۔ وہ خوب لدا پھندا تھا شاید کل کے رویے کی تلافی کرنا چاہتا تھا۔ اذکی کو مختلف شاپرز پکڑا کر وہ بیڈ روم میں چلا گیا۔ اس نے پلیٹیں نکال کر ڈائننگ ٹیبل پر رکھیں۔ وہ دونوں بچوں کو اٹھا کر لے آیا تھا۔

انہیں کیوں لائے ہیں سونے دیتے…“ اذکی دیا کی بے زار صورت دیکھ کر بولی۔

ابھی اس کا سائرن بج جانا تھا۔

یہ جو میں اتنا کچھ لایا ہوں یہ کون کھائے گا…“ وہ زید کا منہ دھلواتے ہوئے بولا۔ اذکی بغیر کچھ کہے تولیہ لینے چلی گئی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ دونوں بچے کچی نیند میں اُٹھنے کے باوجود روئے نہیں تھے بلکہ خوب چہک رہے تھے۔

پپا میں جھولے میں بیٹھوں گی۔“ وہ دونوں رات کی تفریح کے متعلق پلاننگ کر رہے تھے۔

اذکی کو ہنسی آ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ حیدر کے پاس وقت نہیں ہوگا اور پھر راحت ولا جا کر اسے واپسی کا خیال ذرا دیر سے ہی آتا ہے۔ کھانا کھا کر اس نے برتن سمیٹے جبکہ حیدر دونوں بچوں کو لے کر بیڈ روم میں چلا گیا تھا۔ کچن صاف کرکے جب وہ آئی تو دیا اس کے سینے پر سر رکھے سو چکی تھی۔ اذکی نے اسے اٹھانا چاہا تو حیدر نے روک دیا۔

رہنے دو اسے اور تم کہاں جا رہی ہو ادھر بیٹھو۔

حیدر نے کھسک کر اس کیلئے جگہ بنائی تھی وہ خاموشی سے دوسری طرف بیٹھ گئی۔

خفا ہو…؟“ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ آہستگی سے بولا۔ اذکی نے بے حد شکایتی نظروں سے اس کی طرف دیکھا تھا جبکہ وہ اس کی سیاہ آنکھوں میں پھیلی سرخی اور اداسی کو دیکھ کر نگاہ چرا گیا۔

کیا نہیں ہونا چاہئے؟“ اس سوال کا جواب حیدر کے پاس نہیں تھا وہ خاموش رہا یا پھر وہ مزید اس موضوع پر گفتگو کرنا نہیں چاہتا تھا۔

اسے اذکی کے تیور بدلے بدلے سے لگ رہے تھے۔ پہلے بھی ان کے درمیان جھگڑا ہوتا تھا کبھی کبھار غصے میں اس کا ہاتھ بھی اُٹھ جاتا لیکن اذکی نے کبھی بات کو طول نہیں دیا تھا وہ خود ہی اسے منا لیا کرتی تھی۔ راحت ولا میں رہنے والی دبوسی اذکی جو امی جان کی ذرا سی بات پر تھرتھر کانپنے لگتی تھی ،سے یکسر مختلف لگ رہی تھی اس وقت بے حد پر اعتماد سی۔

حیرت ہے راحت ولا سے یہاں تک اتنے مختصر سے عرصہ میں اذکی میں اتنی زیادہ تبدیلی آ گئی ہے اور مجھے علم ہی نہیں ہو سکا۔“ وہ بے حد حیرانگی سے سوچ رہا تھا۔ اذکی کو اس معنی خیز خاموشی سے الجھن ہونے لگی وہ سنبھل کر اس کے پاس سے اٹھی تھی۔ تکیہ درست کرتے ہوئے اس نے حیدر کی آواز سنی۔

تم یہ چاہ رہی ہو کہ میں ایکسکیوز کروں اپنے رویے کی معافی طلب کروں تم سے۔

طنزیہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے وہ ایک پل کو رُکا۔

اس بھول میں مت رہنا اذکی بیگم تم کبھی بھی اس مقام تک نہیں پہنچ سکو گی جسے عرف عام میں دل کہتے ہیں۔ اس میں کوئی اور پورے کروفر سے جلوہ افروز ہے۔“ وہ استہزائیہ ہنسا۔ اذکی کی آنکھوں میں کرچیاں چبھنے لگیں۔ سینے میں کچھ بہت زور سے ٹوٹا تھا۔

اس فلیٹ میں تمہیں لے آیا ہوں تو مالک نہ بن بیٹھو اور ہاں ایک غلط فہمی دور کر لو ابھی سے کہ ساحرہ جب چاہے یہاں آ سکتی ہے۔

آئندہ اس معاملے میں بحث مت کرنا مجھ سے“ وہ لفظوں کے تیر برسا کر کروٹ بدل چکا تھا۔ اذکی ایک پل میں ہی عرش سے فرش پر آگری تھی۔ تھوڑی دیر پہلے جو ہلکی سی پشیمانی حیدر کے لہجے سے ظاہر ہو رہی تھی وہ اس وقت مفقود ہو چکی تھی۔ اس نے دوبارہ بے حسی کا لبادہ اوڑھ لیا تھا۔ سات مہینے پہلے جب وہ اسے لے کر راحت ولا سے نکلا تھا تو پہلی مرتبہ اذکی کو قدموں کے نیچے زمین ہونے کا احساس ہوا تھا۔ سر پر چھت اگرچہ نہیں تھی مگر سائبان دینے والا ہم قدم تھا اور اس وقت وہ ایک دفعہ پھر کڑی دھوپ میں بھڑبھڑ جل رہی تھی۔ اس تپش نے اس کے دل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وہ ایک دفعہ پھر خلا میں معلق ہو گئی تھی۔

امی جان نے فون کیا تھا جبکہ تم نے مجھے بتانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ وجہ پوچھ سکتا ہوں۔ محترمہ اذکی صاحبہ آپ سے۔

کھیر بناتے ہوئے اذکی کے ہاتھ سے کفگیر گر پڑا۔ حیدر آفس سے اٹھ کر آیا تھا۔ اس کی گاڑی کو بے وقت گیراج میں دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو گئے تھے۔ پردے کی اوٹ میں اس نے حیدر کے سرخ چہرے اور بھینچے ہوئے لبوں کو دیکھا تھا۔

اس کے سیڑھیاں چڑھنے اور کچن تک آنے میں صرف تین منٹ لگے تھے جب کہ اذکی پر ایک ایک پل بھاری ہو گیا تھا وہ جان گئی تھی کہ اس سے انجانے میں غلطی سرزد ہو گئی ہے اور اس کی سزا بے حد کڑی ہو گی۔

وہ میں۔ کل آپ کو بتانا چاہ رہی تھی۔“ وہ یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ تمہارے لفظوں کے تیروں نے مجھے لہولہان کر دیا تھا۔ کچھ بھی محفوظ نہیں رہا تھا نہ دل نہ دماغ۔

سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج ہو گئی تھیں اس پل۔

تم شروع سے ہی خار کھاتی ہو ان سے۔ امی نے فون کیا تھا کہ ساحرہ کی طبیعت خراب ہے مگر تم نے جان بوجھ کر نہیں بتایا۔“ وہ دہاڑ رہا تھا جب کہ اذکی اس نئے الزام پر تڑپ کر رہ گئی۔

یہ۔ جھوٹ ہے۔“ وہ ہکلاتے ہوئے بولی۔

کیا مطلب امی نے فون نہیں کیا تھا۔“ اس کی تیوریاں چڑھ گئیں۔

اذکی نے اس کے لہجے کے اتار چڑھاؤ اور تنفس کی تیزی کو ملاحظہ کیا۔ وہ بے حد اشتعال میں تھا۔ ساحرہ کا معاملہ ہو اور حیدر کو غصہ نہ آئے۔ وہ ساری دنیا سے لاپروا ہو سکتا تھا مگر ساحرہ سے نہیں۔ نجانے کون سی کشش تھی اس عورت میں یا پھر کوئی اسم پڑھ کر پھونک رکھا تھا ساحرہ نے حیدر پر۔

تائی جی نے فون کیا تھا مگر…“ وہ منمنائی۔

شٹ اپ… فضول صفائیاں دے کر وقت برباد نہ کرو میرا… ابھی مجھے ساحرہ کو ڈاکٹر کے پاس بھی لے کر جانا ہے اور ہاں آج میں تمہیں معاف کر رہا ہوں آئندہ ایسی لاپروائی نہ کرنا۔

اذکی کی بات سنے بغیر اس پر احسان کرتا ہوا دروازہ دھماکے سے بند کرکے سیڑھیاں اتر گیا تھا وہ دیا ”پاپا پاپا‘ کرتی اس کے پیچھے لپکی تھی جب کہ اس نے دیا کی آواز سن کر بھی پلٹ کر نہیں دیکھا تھا۔ بند دروازے کو ننھے منے ہاتھوں سے بجاتے ہوئے وہ چیخ چیخ کر رو رہی تھی۔ اس نے برنر بند کرکے دیا کو اٹھایا اور ساتھ لگا کر تھپکنے لگی۔

موسم چند دنوں سے بے حد خراب تھا اچانک ہی مشرقی جانب سے تیز بگولا اٹھا جس نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے یا۔

تیز آندھی کے ساتھ بادلوں کی گرج چمک دلوں کو سہما رہی تھی۔ رات کے دس بجے تھے۔ اذکی کھڑکیاں دروازے اچھی طرح بند کرکے بچوں کو لئے بیڈ روم میں آ گئی۔ بچے بے حد خوفزدہ تھے اس نے دونوں کو کمبل اوڑھا کر فون اٹھایا اور نمبر ملانے لگی۔ حیدر نے کال ریسیو کی تھی۔ اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ بول اٹھا۔

آج میں نہیں آؤں گا…“ اذکی اس کی لاپروائی پر چیخ کر رہ گئی۔

دونوں بچوں کی طرف دیکھ کر اس نے آہستگی سے کہا۔

حیدر! بچے بے حد خوفزدہ ہیں اور پھر آپ جانتے ہیں کہ میں اکیلی نہیں رہ سکتی۔

میں تم لوگوں کے ساتھ چپک کر بیٹھ جاؤں۔ بہت شوق تھا تمہیں الگ رہنے کا اب بھگتو خود ہی۔“ جواباً وہ دھیمے لہجے میں طنزیہ بولا۔ اذکی جان گئی تھی کہ کچھ کہنا سننا بے کار ہے۔ فون رکھ کر وہ بیڈ پر ڈھے گئی۔

دیا کھسکتے ہوئے اس کے قریب آ گئی تھی۔

مما! ڈل (ڈر) لگ رہا ہے؟“ اپنے منے سے ہاتھ کو اس کے گال پر پھیرتے ہوئے وہ معصومیت سے بولی۔ اذکی نے بے خیالی میں سر ہلایا۔

مجھے بھی ڈل (ڈر) لگ رہا ہے اور بھائی کو بھی۔

اچھے بچے ڈرتے نہیں ہیں۔ آپ تو بہت بہادر ہو۔“ اس نے کچھ چونک کر دیا اور پھر زید کو دیکھا۔ آدھی بند ہوتی آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں واضح نظر آ رہی تھیں۔

اذکی نے ہاتھ بڑھا کر زید کو بھی قریب کر لیا۔ دونوں بچے اس کے دائیں بائیں تھے۔ اس نے خود کو بہت محفوظ تصور کیا۔ تھوڑی دیر پہلے والی بے سکونی اور تکلیف کا اثر زائل ہو گیا تھا۔

مما! پاپا نہیں آئیں گے۔“ زید نے اس کے بازو میں سر گھسایا۔

نہیں باہل (باہر) بالش (بارش) ہے پپا بھیگ جائیں گے۔“ دیا بڑے پن سے بولی۔ ساتھ میں ماں سے تائید بھی چاہی۔

اس نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔

پاپا امبریلا لے کر آ جائیں گے دادو پاس ہوگی امبریلا۔“ زید نے سر اٹھا کر دیا کو دیکھا۔

اچھا۔ پاپا آ جائیں گے۔“ وہ خوش ہو کر چہکی۔ ”بٹر فلائی والی امبریلا لے کر ہیں مما جی…“ دیا نے اس کا بازو ہلایا۔ اس نے کچھ جھنجلا کر دیا کو تھپکا۔ ”چلو اب کلمہ پڑھو اور سو جاؤ۔

میں پاپا سے کلمہ پڑھوں گی۔“ دیا سرعت سے بولی۔

میں بھی…“ زید نے ایک دفعہ پھر سر اٹھا کر کہا۔ اذکی نے دونوں کو ہلکی سی چپت لگا کر ڈانٹا اور پھر کلمہ سننے لگی۔ دونوں ماں کا موڈ دیکھ کر شرافت سے کلمہ سنانے لگے تھے

وہ اپریل کی بڑی خوش گوار سی شام تھی۔ جب اچانک ہی راحت بیگم ساحرہ اور نائلہ آپی چلی آئیں۔ اذکی حیرت سے گم صم رہ گئی۔ بہرحال انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھا کر اس نے دونوں بچوں کو دادو کی آمد سے آگاہ کیا۔ وہ کچھ شرماتے گھبراتے اس کا پلو پکڑے ڈرائنگ روم میں آ گئے۔ راحت بیگم نے دونوں کو دیکھ کر نرمی سے پاس بلایا۔ پیشانی سرچوم کر دیا کو گود میں جبکہ زید کو دائیں طرف اپنے ساتھ بٹھا لیا تھا۔

 

پپا ابھی تک آئے نہیں۔“ وہ جانتی تھی کہ حیدر پہلے راحت ولا ہی جاتا ہے پھر کھانا کھا کر یا پھر کبھی کبھار چائے وغیرہ پی کر ہی اس طرف آتا ہے لیکن نجانے کیا بچوں سے کریدنا چاہا تھا انہوں۔

پپا لات (رات) کو آئیں گے۔…“ دیا نے فوراً جواب دیا۔ وہ راحت بیگم کی کلائی میں پڑے نفیس سے کنگن کے ساتھ کھیل رہی تھی۔

ساحرہ خاموشی سے صوفہ میں دھنسی اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی۔

اگرچہ اس نے فلیٹ پہلے بھی دیکھ رکھا تھا مگر ان دنوں میں مزید تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ ڈرائنگ روم کا فرنیچر پردے حتیٰ کہ کارپٹ بھی بدلا گیا تھا۔ اس نے بچوں کے چہرے دیکھ کر مزید تکلیف محسوس کی۔ وہ جانتی تھی کہ یہاں آکر دہری اذیت کا شکار ہو جاتی ہے مگر پھر بھی وہ یہاں آئی تھی ایک اور بازی کھیلنے۔ اسے اذکی کا مطمئن چہرہ دیکھ کر رشک آتا تھا۔

یہی اطمینان ساحرہ کے سکون کو ڈانواں ڈول کر دیتا۔ وہ جان نہیں پائی تھی اب تک کہ کون سی ایسی چیز ہے جو اذکی کو انتہائی مطمئن رکھتی ہے۔ حالانکہ شوہر اور سسرال والوں نے کبھی اسے اہمیت نہیں دی تھی۔ ان سب کی نظروں میں اس کی حیثیت کسی بے جان کھلونے جتنی تھی۔

اذکی کولڈ ڈرنکس لے آئی تھی۔ راحت نے سہولت سے انکار کر دیا جب کہ ساحرہ نے نزاکت سے گلاس اٹھایا لیا تھا۔

نفیس سے گلاس میں مشروب بہت بھلا لگ رہا تھا۔ ساحرہ نے گلاس ٹیبل کی چمکیلی سطح پر رکھ کے اذکی کو دیکھا۔ وہ پہلے کی طرح موٴدب سی بیٹھی تھی آخر راحت بیگم کے سامنے کس کی جرأت تھی کہ جم کر بیٹھ سکے۔ چہار سو معنی خیز خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ بچے بھی چپ تھے۔ اذکی نے اس سکوت کو توڑتے ہوئے آہستگی سے کہا۔

میں حیدر کو فون کرتی ہوں۔

آں۔

ہاں تم رہنے دو حیدر آ رہا ہے۔“ اذکی کو اُٹھتے دیکھ کر ساحرہ سرعت سے بولی ساتھ میں جتانے والی معنی خیز نظروں سے دیکھا تھا اسے۔ وہ جزبز سی بیٹھ گئی کچھ دیر بعد دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی بچے قلانچیں بھرتے ہوئے حیدر کی ٹانگوں سے لپٹ گئے۔ اس نے بھی دونوں کو والہانہ انداز میں لپٹا لیا۔ ساحرہ نے محبت کے اس مظاہرے کو دیکھ کر نگاہیں موڑ لیں۔

پپا آپ لات کو کیوں نہیں آئے مجھے نیند بھی نہیں آئی آپ کے بغیل (بغیر)…“ شکایتوں کی پٹاری کھل چکی تھی۔

مجھے بھی…“ زید نے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا۔ دونوں کے تابڑ توڑ سوالوں پر وہ بوکھلا گیا تھا۔

ارے یار سانس تو لینے دو۔“ اس نے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرکے بریف کیس اور کوٹ سوفے پر اچھالا ماں کو دیکھ کر اس کا چہرہ چمک اٹھا تھا۔

میں لیٹ تو نہیں ہوا۔“ وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا۔ اذکی پانی لینے کچن میں چلی گئی تھی۔

نہیں ابھی ہمیں آئے ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی ہے۔“ راحت خوش گوار موڈ میں بولیں۔

پیا! میں آپ کے ساتھ آفس جاؤں گی۔“ ساحرہ نے کچھ کہنے کیلئے لب کھولے ہی تھے جب دیا نے اچانک اُسے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ ساحرہ لب بھینچ کر رہ گئی۔

وہ کیوں بھئی۔

حیدر نے نشست بدل کر کر دیا کی طرف دیکھا جو کہ بریف کیس کے بٹنوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی۔

اس لئے کہ بالش (بارش) ہو جاتی ہے۔ پھل (پھر) آپ آفس سے نہیں آتے۔ دادو پاس چلے جاتے ہیں۔

اور آپ کیا کرو گی۔“ حیدر نے دلچسپی سے بیٹی کے چہرے کی طرف دیکھا۔

میں امبریلا۔

دیا اٹھو شاباش نوڈلز کھا لو۔“ اذکی نے اُسے پچکارا۔

زید کو اٹھنے کا اشارہ کرکے وہ ڈرائنگ روم سے باہر نکل گئی تھی۔ دونوں نے بھی منہ بسورتے ہوئے ماں کی پیروی کی۔

حیدر! مجھے گھر بھی جانا ہے لہٰذا تم بات کرو اذکی سے۔“ نائلہ آپی نے گھڑی کی سوئیوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔ حیدر کو بھی ان کی آمد کا مقصد یاد آ گیا تھا اس نے اذکی کو آواز دے کر بلایا۔

میں نے تو اس وقت بھی ساحرہ سے کہا تھا یہ خود ہی نہیں مانی تھی۔

چلو اب بھی سہی بھلا ہمیں کیونکر اعتراض ہونا ہے۔“ اذکی راحت بیگم کے الفاظ سن کر ٹھٹک گئی تھی۔ راحت کے برابر بیٹھتے ہوئے اس نے حیدر کے چند الفاظ سنے تھے۔ اس کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی تھی۔

کیا مطلب ہے آپ کا؟“ اس نے فق چہرے کے ساتھ بامشکل کہا۔ ساحرہ کے علاوہ سب نے ہی اسے گھورا تھا۔ ساحرہ اطمینان سے سامنے دیوار پہ ٹنگی پینٹنگ بغور تک رہی تھی۔

لگتا ہے تمہیں ہماری زبان سمجھ میں نہیں آتی۔“ راحت نے ناگواری سے اب لب کاٹتے دیکھ کر کہا۔ وہ بے قراری سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

آپ جو چاہتے ہیں وہ نہیں ہوگا۔“ بہت مشکل سے یہ چند الفاظ اس کے منہ سے ادا ہوئے تھے ورنہ اس سے تو بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔ راحت کو اس کے کورے جواب نے طیش دلا دیا۔ بھلا اس کی اوقات ہی کیا تھی کہ راحت کے سامنے انکار کرتی۔

بہت بولنے لگی ہے امی جان یہ آپ کا بھی لحاظ نہیں رہا۔ اس دو کمروں کے فلیٹ میں آکر نجانے کیا سمجھنے لگی ہے خود کو…“ نائلہ آپی کٹیلی نگاہوں سے اسے گھورتے ہوئے امی جان سے مخاطب ہوئیں۔

حیدر! اس سے کہو کہ دیا کا بیگ تیار کرے۔“ راحت نے کچھ سوچتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں کہا۔

تائی جی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔ میں دیا کو کیسے جانے دوں۔

اسے تو میرے بغیر سونے کی عادت بھی نہیں ہے۔“ وہ جانتی تھی کہ راحت جو کہتی ہیں وہی کرتی ہیں۔ ان کا فیصلہ اٹل ہوتا ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ وہ اپنی ضد منوا کر دم لیتی ہیں لہٰذا منت بھرے لہجہ میں کہتے ہوئے گڑگڑائی تھی۔

دیا غیروں میں نہیں جا رہی ہے میں اس کی دادی ہوں ساحرہ بھی ماں ہے اور ویسے بھی یہ ساحرہ کا حق بنتا ہے۔ پہلے وہ اس لئے خاموش رہی تھی کہ دیا کو تمہاری ضرورت تھی لیکن اب وہ ساحرہ کے ساتھ رہ سکتی ہے۔

اگلے سال تک اسکول جانے کے قابل ہو جائے گی۔“ انہوں نے دو ٹوک بات کرکے اسے اشارہ کیا۔ اذکی کے قدم من من بھر کے ہو رہے تھے اس سے کھڑا رہنا دشوار ہو گیا۔ وہ بے جان ٹانگوں کو گھسیٹتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئی۔

حیدر آپ تائی جی کو سمجھائیں۔“ اس نے امید بھری نظروں سے حیدر کے پر سوچ چہرے کی طرف دیکھ کر بھرائی آواز میں کہا۔ راحت کو گویا پتنگے لگ گئے۔

کیا کہہ رہی ہو لڑکی تم حیدر مجھے یعنی اپنی ماں کو سمجھائے۔بہت بول لیا تم نے اب بس جاؤ حیدر دیا کو لے آؤ نائلہ کو دیر ہو رہی ہے۔ اُسے گھر ڈراپ کرنا ہے۔“ تائی جی نے چادر سنبھالی۔ ساحرہ اور نائلہ بھی اُٹھ چکی تھیں۔ حیدر دیا کو لے آیا تھا۔ اذکی کے دل کو کسی نے مٹھی میں بھینچا۔

حیدر! آپ میری بچی کو نہیں لے جا سکتے۔ میں اس ڈائن کے حوالے اپنی بیٹی نہیں کروں گی۔

وہ چیختی ہوئی آگے بڑھی تھی حیدر نے اس کا بازو پکڑ کر صوفے پر پٹخا۔

یہ ڈرامہ بازی بند کرو۔“ وہ غرایا۔ بچی ماں کو روتے دیکھ کر کسمسائی۔ نائلہ نے آگے بڑھ کر اسے گود میں اٹھا لیا تھا۔ اذکی نے دھندلائی نظروں سے ان سب کو جاتے دیکھا۔ اس کے گالوں پر آنسو موتیوں کی طرح گر رہے تھے جب کہ شہ رگ پر کسی نے چھری چلا دی تھی وہ اذیت سے کراہنے لگی۔

زید ماں کے رونے کی آواز سن کر لاؤنج میں آ گیا تھا۔ جب وہ رو رو کر تھک گئی تو خود ہی خاموش ہو گئی۔ زید اس کے پیروں میں لیٹا اونگھنے لگا تھا۔ وہ اس کے گلابی گالوں پر سے آنسو چنتے ہوئے اپنی گزشتہ زندگی کو سوچنے لگی اسے لگ رہا تھا کہ زندگی میں اب کوئی خوشی نہیں بچی امید کے جگنو راستہ بھول گئے تھے۔ راہوں میں کوئی روشنی نہیں رہی تھی چہار سو اندھیرا اور تاریک رات پنکھ پھیلائے خوشیوں کو نگلنے کیلئے بے تاب بیٹھے تھے۔

آپ نے اچھا نہیں کیا عباس صاحب؟“ راحت نے دبیز قالین پر ٹہلتے ہوئے تیسری مرتبہ کہا تھا۔ ہر دفعہ کی طرح اس بار بھی عباس نے فائل سے سر اٹھا کر راحت کے سرخ و سفید چہرے پر غصے کی لالی کو بغور دیکھا اور دوبارہ سے سر جھکا دیا۔ وہ بڑی اہم فائل اسٹڈی کر رہے تھے ان کا ذہن راحت کے ادا کئے ان چار لفظوں میں الجھ کر رہ گیا۔ تنگ آکر انہوں نے فائل بند کی عینک اتار کر ٹیبل پر رکھی اور اٹھ کر راحت بیگم کے قریب چلے گئے۔

ان کے کندھے پر ہاتھ کا ہلکا سا دباؤ ڈال کر انہوں نے صوفے کی طرف اشارہ کیا۔ راحت لب بھینچے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئیں۔

کیا اچھا نہیں کیا میں نے تشریح کرنا پسند فرمائیں گی آپ۔“ وہ نہایت ٹھنڈے مزاج کے مالک تھے۔ مگر اس لمحے شدید کوفت و جھنجلاہٹ نے گھیر لیا تھا انہیں۔

راحت نے تیکھے چتونوں کے ساتھ گھورا۔

سب کچھ کرکے معصوم بن رہے ہیں آپ۔

حیدر میری اولاد ہے۔ بیٹا ہے میرا وہ۔ اگر میں نے اس کے متعلق کوئی فیصلہ کر لیا ہے تو کون سا گناہ سرزد ہو گیا ہے مجھ سے۔ میں حق رکھتا ہوں اس پر۔“ انہوں نے بے حد ضبط سے اپنی شریک حیات کو سمجھانا چاہا تھا۔

بات حق حقوق کی نہیں اصول کی ہے۔ میں نے شروع سے ہی چند اصول مقرر کئے تھے اور آپ بھی پابند ہیں۔ ان اصولوں کے۔ کیا ایک ماں کے جذبات مجروح نہیں ہوئے؟ اس کے ارمانوں کا گلا نہیں گھونٹا گیا؟ میرے وجود کی نفی نہیں کی گئی۔

غم و غصہ کی وجہ سے راحت کے ماتھے کی رگ مسلسل پھڑک رہی تھی۔ غصہ میں ان کا بی پی شوٹ کر جاتا تھا لہٰذا گھر میں سب ہی اس بات کا خصوصی خیال رکھتے تھے کہ کچھ بھی ان کی مرضی کے خلاف نہ ہو پائے۔

آپ نے نائلہ کی شادی اپنی پسند سے کی میں خاموش رہا۔ سنیہ اور ثمرہ کے متعلق آپ کے فیصلے کو اہمیت دی گئی۔ سدرہ کی منگنی بھی آپ نے اپنی مرضی سے کی۔

میں اس وقت بھی نہیں بولا۔ اگرچہ آپ کے فیصلے بہت بہترین تھے۔ اللہ کا شکر ہے میری بیٹیاں اپنے گھروں میں شاد آباد ہیں۔ اگر میں نے بیٹے کا رشتہ اپنی پسند سے کر لیا ہے تو آپ کو فراخ دلی کا ثبوت دینا چاہئے۔“ وہ رسان سے گویا ہوئے۔ راحت نے تنفر سے سر جھٹکا۔

کون سا رشتہ میں نہیں مانتی اس نام نہاد بندھن کو۔ یہ کاغذ کا ٹکڑا کیا ثابت کرتا ہے۔

کچھ بھی نہیں۔“ راحت نے خاکی لفافے کو میز پر اچھالا عباس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔

آپ کے ماننے یا نہ ماننے سے حقیقت بدل نہیں سکتی۔ اذکی میرے بھتیجی ہے اور میرے اکلوتے بیٹے کی منکوحہ آپ کے انکار کرنے سے نہ اس کی حیثیت بدل سکتی ہے اور نہ ہی اہمیت میں کوئی فرق آ سکتا ہے۔ راحت ولا کی وہ اکلوتی بہو ہے سن رہی ہیں آپ۔“ عباس نے گویا کھلا چیلنج کیا تھا۔

مارے تحیر کے راحت کی آنکھیں پھیل گئیں۔ ان کی ہر بات پر سر جھکانے والے نے اچانک پینترا بدلا تھا اور وہ بھی اس لڑکی کی خاطر،جس کی کوئی حیثیت سرے سے تھی ہی نہیں۔ وہ اس معمولی لڑکی کی خاطر اپنی بیوی سے جھگڑ رہے تھے۔ راحت کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا۔

آپ کس انداز میں گفتگو کر رہے ہیں میرے ساتھ۔“ کئی لمحے خاموش رہنے کے بعد راحت نے تیز لہجے میں کہا۔

عباس بغیر کچھ کہے کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے دانستہ راحت کی طرف نہیں دیکھا تھا۔ دروازہ کھلا اور پھر بند ہوا۔ راحت کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ عباس نے زندگی میں پہلی مرتبہ ان سے بلند آواز میں بات کی تھی وہ بھی اس معمولی لڑکی کی وجہ سے۔ جسے وہ کل رات ہی گھر لائے تھے۔ راحت کے سر پر گویا آسمان آن گرا۔ ان کے دل میں چھپی شدید نفرت ابھر کر سامنے آ گئی تھی۔

عباس نے جانتے بوجھتے حیدر کا نکاح اس لڑکی کے ساتھ کرکے انہیں گویا سلگتی بھٹی میں جھونک دیا تھا۔ راحت نے چند سال پہلے ہی ان کے کان میں یہ بات انڈیلی تھی کہ وہ حیدر کیلئے لڑکی پسند کر چکی ہیں۔ اس کی تعلیم ختم ہونے کے بعد اگلا اقدام اٹھایا جائے گا۔ ساحرہ ان کی بھانجی تھی بے حد ذہین خوبصورت اور چنچل سی حیدر کو بھی وہ پسند تھی۔ دونوں کی بے تحاشا دوستی اور قلبی لگاؤ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا۔

کلاس فیلو ہونے کے ساتھ ساتھ وہ کزنز بھی تھے۔ اسٹڈی کے علاوہ بھی خوب گپ شپ رہتی تھی۔

دونوں گھرانوں کی خواتین کے درمیان بات چیت تقریباً طے تھی۔ ساحرہ بھی جانتی تھی کہ عنقریب حیدر سے اس کا گہرا تعلق بننے والا ہے جبکہ حیدر کو بھی راحت نے اوّل روز سے ساحرہ کے متعلق بتا دیا تھا۔ ساحرہ خود بھی ڈھکے چھپے لفظوں میں اسے احساس دلا دیتی تھی۔

راحت نے ان دونوں کے حوالے سے بے حد خواب بن رکھے تھے۔ خاندان کی چند ایک تقاریب میں انہوں نے دبے دبے لفظوں میں اس ”رشتہ“ کا اظہار کر دیا تھا تاکہ لوگ کسی قسم کی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ مگر چند ہی لمحوں میں ان کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے تھے۔ وہ گویا پتھر کا بت بنی حیدر کی پشت کو گھورے جا رہی تھیں جو لاپروائی سے بیٹ لہراتا باہر نکل گیا تھا۔

چند دن پہلے عباس کے نام ایک رجسٹری آئی تھی۔ راحت کو اندازہ نہیں تھا کہ اس لفافے میں کیا چھپا ہے۔ جب عباس نے لفافہ وصول کرکے بے تابی سے کھولا اور اس کے اندر سے برآمد ہونے والی تحریر کو پڑھ کر وہ ساکت رہ گئے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے ملازم کو گاڑی نکالنے کا اشارہ کیا۔ خود تیار ہو کر وہ تیزی سے پورچ کی طرف بڑھے۔ راحت کو مختصر لفظوں میں بتا کر انہوں نے بائیک نکالتے حیدر کو آواز دی۔

اس نے چیونگم چباتے ہوئے باپ کی جلد بازی کو نوٹ کیا۔ کھڑکی کے پاس آکر اس نے جھک کر دیکھا۔ وہ بریف کیس کھولے کچھ تلاش کر رہے تھے۔

بابا! کہاں جا رہے ہیں؟“ انہیں مطلوبہ چیز مل گئی تھی۔ بریف کیس کو بند کرکے انہوں نے پچھلی سیٹ پر رکھا پھر ڈرائیونگ سیٹ کی طرف اشارہ کرکے بولے۔

ذرا میرے ساتھ آؤ۔“ بائیک کی چابی اُس نے بشیر کی طرف اچھالی اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔ بابا عموماً خود ڈرائیو کیا کرتے تھے۔ یہ گاڑی انہیں بے حد محبوب تھی۔ بہت حفاظت سے انہوں نے اسے رکھا ہوا تھا۔ بقول ان کے ”بڑی یادیں وابستہ ہیں اس سے“ وہ اکثر امی کے ساتھ مل کر ان کی کھٹارا“ کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔

 

جوش میں آکر اور کچھ گاڑی ڈرائیو کرنے کے شوق میں اس نے بابا کی بات مان تو لی تھی مگر جب اس ٹوٹے پھوٹے گندے سے محلے میں داخل ہوئے اور مسلسل جمپ لگنے کی وجہ سے اچھل کود شروع ہوئی تو وہ چند منٹوں میں بے زار ہو گیا۔

بابا! یہ آپ کہاں چلے آئے ہیں۔“ اس نے منہ بتاتے ہوئے کوئی دسویں مرتبہ کہا تب جواباً عباس نے اس کا کندھا نرمی سے تھپتھپایا۔

بس… وہ رہا سامنے گھر…“ سبز دروازے کے پاس گاڑی روک کر اس نے کوفت کے عالم میں اس ”گھر“ کو دیکھا جو کہیں سے بھی گھر نہیں لگ رہا تھا دڑبے کی طرح تنگ اور تاریک سا۔ پھر بابا کو ایک بے حد کمزور بوڑھے شخص سے گلے ملتے دیکھ کر اس کی کوفت دو چند ہو گئی۔ وہ بوڑھا بار بار کھانس رہا تھا۔ تخت پر بیٹھی ادھیڑ عمر عورت اپنے کھچڑی زدہ بالوں کو کھجاتے اٹھی اور گھڑے سے پانی نکال کر لے آئی۔

پانی پی کر سانس قدرے بحال ہوئی تھی اس لاغر سے آدمی کی۔

شاید بیمار ہے۔“ حیدر نے سوچا۔ اس چھوٹے سے مکان میں اتنے افراد کو دیکھ کر اسے بے تحاشا حیرت ہوئی۔ ڈھیروں کے حساب سے بچے گھر گھر پھرتی خواتین۔ کچھ درمیانی عمر کے مرد ڈیوڑھی میں پڑے اونگھ رہے تھے۔

یہ مہمان ہیں رفیق کا پتا لینے آئے ہیں۔“ کھچڑی زدہ بالوں والی عورت نے اس کی حیرت کو دور کر دیا تھا۔

کچھ دیر بعد چند اور بوڑھی عورتیں چلی آئیں۔ ان کے پیچھے دھان پان سے وجود والی لڑکی بھی نمودار ہوئی۔ اس کے چہرے پر بوکھلاہٹ واضح تھی جبکہ ہاتھ میں پکڑی ٹرے بھی لرز رہی تھی۔ اس نے بدرنگ میز پر ٹرے رکھی۔ بابا نے اٹھ کر والہانہ انداز میں اسے لپٹا لیا تھا حیدر کو ایک دفعہ پھر جھٹکا لگا۔ وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بھرائے لہجے میں کچھ بڑبڑا رہے تھے۔

حیدر کو یہ سین ہضم نہیں ہو رہا تھا۔ جب تک وہ لڑکی آنسو پونچھتے ہوئے چارپائی پر نہیں بیٹھی تھی وہ پہلو ہی بدلتا رہا۔ بابا اس کا ہاتھ پکڑے نجانے سرگوشی میں کیا کہہ رہے تھے۔ حیدر کو اب غصہ آنے لگا تھا۔

ایک تو بابا بولتے ہی آہستہ ہیں۔“ کب سے ان کی سرگوشیاں برداشت کر رہا تھا۔ پتا نہیں کون سے ایسے راز و نیاز تھے جو ختم ہی نہیں ہو رہے تھے۔

بابا! کب چلنا ہے۔“ اس نے بے زاری سے جما ہی لی۔ ایک تو نیند بے حد آ رہی تھی۔ شام کو اس کا میچ تھا اور ابھی اسے تین چار گھنٹے بھرپور نیند بھی لینا تھی مگر بابا اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ تنگ آکر اس نے ایک دفعہ پھر پکارا۔

بابا! کس وقت جانا ہے۔

چلتے ہیں بیٹے تھوڑا صبر کرو اور…“ بابا کے اگلے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔

چارپائی پر لیٹے شخص کو کھانسی کا شدید دورہ پڑا تھا۔ کھانستے کھانستے وہ بے حال ہو گیا۔ بابا نے اٹھ کر اس کا سینہ مسلنا شروع کیا۔ وہ آہستہ آہستہ بابا سے کچھ کہہ رہا تھا۔ حیدر نے دور سے اس کی آنکھوں میں ڈھیروں نمی کو تیرتے دیکھا۔ اسے کچھ افسوس ہوا تھا۔

نہ جانے بے چارے کو کتنی تکلیف ہے۔

بابا نے اس کا کمزور ہاتھ تھام کر شاید تسلی دی تھی وہ لمحوں میں ہی پرسکون ہو گیا۔

پاس بیٹھی عورت نے بھی بابا سے کچھ کہا تھا۔ بابا پر سوچ نظروں سے حیدر کو دیکھنے لگے پھر اٹھ کر چلے گئے اس نے بھی بابا کی پیروی کی تھی۔ کمرے میں ویسے بھی گھٹن اور حبس تھا۔ برآمدے میں آکر اس نے طویل سانس کھینچا مگر دوسرے ہی پل اس کا سانس حلق میں ہی اٹک گیا۔ بابا کیا کہہ رہے تھے۔ اس نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر بابا کے مرجھائے چہرے کی طرف دیکھا۔

میری بھتیجی ہے اذکی تم نکاح کر لو اس سے بیٹا۔ شاید میرے مرے ہوئے بھائی کو سکون آ جائے۔ میں بھی کسی قدر لاپروا ہوں۔ ساری زندگی اس کی واحد نشانی کو پوچھا تک نہیں۔ اگر اب بھی پتا نہ چلتا تو میں بے خبری میں ہی مارا جاتا۔ قیامت میں کیسے منہ دکھاتا اپنے بھائی کو“ پھر بابا نہ جانے کیا کیا کہتے رہے۔ اسے تو بس یہاں سے نکلنے کی جلدی تھی۔

حیدر کو اندازہ ہو گیا تھا کہ بابا اسے بغیر نکاح کے جانے نہیں دیں گے۔ لہٰذا اس نے بغیر سوچے سمجھے اثبات میں سر ہلایا۔ عباس نے اسے سینے میں بھینچ کر پیشانی پر بوسہ دیا۔ ان کے بیٹے نے لاج رکھ لی تھی اس وقت ان کی کچھ ہی دیر میں سب کو خبر ہو گئی۔ مامی جی افتاں و خیزاں کچن میں مصروف اذکی کے سر پر پہنچ گئیں۔ ان کے ہاتھ پیر پھول رہے تھے۔ تیرہ چودہ سالہ اذکی نے حیرت سے مامی کے جھریوں زدہ چہرے کو دیکھا۔

وہ بہت مسرور لگ رہی تھیں۔

مولوی صاحب کی طرف چھوٹے کو بھیجا گیا۔ آدھے گھنٹے کے صبر آزما انتظار کے بعد مولوی صاحب کی شکل نظر آئی۔ کچھ ہی دیر میں نکاح کی کارروائی شروع ہوئی۔ مولوی جی نے ابھی دعا کیلئے ہاتھ بھی نہیں اٹھائے تھے کہ حیدر باپ کے کان میں منمنایا۔

بابا! میرا میچ…“ وہ بار بار گھڑی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ مولوی صاحب نے آمین کہا اور حیدر نے دروازے کی طرف دوڑ لگا دی۔

عباس اذکی کو بازو کے گھیرے میں لئے چلے آئے۔ وہ کانپتی لرزتی مامی کے گلے سے لگ کر خوب تڑپ تڑپ کر روئی۔ اس گھر سے نکل کر اسے خوابوں کے محل میں جانا تھا۔ اس کی سہیلیاں حیدر کو دیکھ کر اس کی قسمت پر رشک کر رہی تھیں۔ لوگوں کے تبصرے بھی اس تک پہنچ رہے تھے۔

جس ماحول میں اس نے پرورش پائی تھی اور جس قسم کے حالات سے وہ گزر رہی تھی۔

ان سب نے اس کے شعور کو بے حد پختہ کر دیا تھا۔ وہ اپنی عمر سے زیادہ سمجھ دار اور سنجیدہ تھی۔ کچھ مامی نے بھی کانوں میں بہت کچھ انڈیلا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ نکاح کا کیا مفہوم ہے۔ راحت ولا میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی آنکھوں نے کچھ خواب بن لئے تھے۔ مگر ان کی مسافت بے حد مختصر تھی۔ پل جھپکنے کے ساتھ ہی سب کچھ ٹوٹ کر بکھر گیا۔ خوشنما خواب ریزہ ریزہ ہو گئے۔

ان کے پہنچنے سے پہلے ہی حیدر نے مختصر سا سارا واقعہ ماں کو من و عن کہہ سنایا تھا۔ اس کیلئے تو یہ ایک واقعہ ہی تھا۔ خود تو وہ کرکٹ کٹ پہن کر بیٹ گھماتا کلب چلا گیا تھا مگر اپنے پیچھے ایک طوفان چھوڑ گیا۔

راحت غم و غصہ کی تصویر بنی چادر میں لپٹی سہمی سی اذکی کو گھورے جا رہی تھیں۔

ان کے دل میں جو اوّل روز سے گرہ لگی تھی وہ آخر تک نہ کھل سکی۔

انہوں نے کبھی بھی اسے قبول نہیں کیا تھا۔ لمحہ بہ لمحہ اس کی تذلیل کی غربت کے طعنے دیئے۔ اس کی عزت نفس کو اپنے قدموں تلے روند کر نہ جانے کون سے جذبے کو تسکین پہنچاتی تھیں وہ اور رہا حیدر تو وہ شاید بھول چکا تھا کہ کسی اذکی نامی لڑکی کو اپنے ساتھ ایک بندھن میں باندھ کر لایا ہے۔ راحت کی طرح نائلہ سنیہ اور ثمرہ کے انداز بھی خاصے روکھے قسم کے تھے البتہ سدرہ نہایت محبت سے ملی تھی اس سے۔

تایا جی کے علاوہ کوئی بھی کلام کرنا پسند نہیں کرتا تھا۔ وہ سارا دن کمرے میں دبکی بیٹھی رہتی۔ زیادہ دل گھبراتا تو کچن میں گھس جاتی۔ اسے یقین تھا کہ وہ اپنے حسن اخلاق کی وجہ سے راحت کے دل کو جیت لے گی۔ انہیں خوش کرنے کیلئے آہستہ آہستہ اذکی نے بہت سی گھریلو ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھا لیں۔

تایا جی نے اسے اسکول داخل کروانا چاہا تو محض راحت کے خوف کی وجہ سے اس نے انکار کر دیا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ راحت کو طعنے دینے کیلئے ایک اور موضوع مل جائے۔ بی اے کرنے کے بعد حیدر نے یونیورسٹی جوائن کر لی تھی ساحرہ بھی اس کے ساتھ تھی۔ ساحرہ کے گھر والوں نے حیدر کے نکاح اور اذکی کی راحت ولا آمد پر اچھا خاصا واویلا کیا تھا تاہم راحت کے یقین دلانے اور حیدر کے ازلی لاپروا رویے کو دیکھ کر انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اذکی ساحرہ کے راستے کی رکاوٹ ہرگز نہیں ہے۔

 

حیدر بے حد کھلنڈری طبیعت کا مالک تھا۔ بیس سال کی عمر میں اس سے کسی میچورٹی کی توقع کی بھی نہیں جا سکتی تھی۔

عباس کا ارادہ تھا کہ حیدر کی تعلیم مکمل ہونے کے فوراً بعد روایتی انداز میں اذکی، کی رخصتی کر دی جائے۔

اپنی بیوی کے مزاج سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ اسی لئے وہ شدت سے منتظر تھے اس بابرکت دن کے جبکہ راحت تو کچھ اور ہی سوچے بیٹھی تھیں۔

محض اذکی کو ایذا پہنچانے اور شوہر پر اپنی ضد ثابت کرنے کیلئے وہ روزانہ ہی ساحرہ کو کسی نہ کسی بہانے بلا لیتیں۔ اس کے لاڈ اٹھاتیں۔ وہ نخرے کر کرکے اپنی من پسند چیزوں کی فرمائش کرتی تھی۔ راحت بغیر ماتھے پر بل ڈالے اپنے ہاتھوں سے اس کیلئے کوئی نہ کوئی ڈش تیار کرکے رکھتیں۔ یہی حال نائلہ آپی اور ثمرہ کا تھا۔ ساحرہ کو خصوصی اہمیت دے کر وہ دانستہ جتایا کرتی تھیں کہ ساحرہ ہی ان کی مند پسند بھابھی ہے۔

وہ بھی گرمیوں کی سخت ترین دوپہر تھی۔ پسینہ گویا پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔ اذکی گرمی سے بے حال دوپہر کا کھانا تیار کر رہی تھی۔ نائلہ آپی اور سنیہ بھی آئی ہوئی تھیں۔ ان کی آمد کے فوراً بعد ساحرہ کو بھی فون کرکے بلوا لیا گیا۔ وہ سب لاؤنج میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ اذکی نے کھانا تیار کرکے برتن ٹیبل پر لگا دیئے۔ پھر پسینہ صاف کرتے ہوئے نجمہ کو لاؤنج میں ان سب کو بلانے کیلئے بھیجا۔

حیدر کسی دوست سے ملنے کیلئے صبح سے نکلا ہوا تھا جبکہ تایا جی… لنچ کے لئے آفس سے اٹھ آئے تھے۔ وہ تایا جی کیلئے گرما گرم پھلکے اتار رہی تھی جب ساحرہ کچن میں داخل ہوئی۔

ارے نجمہ کی جگہ تم نے سنبھال لی ہے۔ ویسے اچھا کیا ہے تم نے کھایا پیا حرام کرنے سے بہتر ہے کہ ہاتھ پیر ہلا لئے جائیں۔ جہاں سے کھاؤ تھوڑا حق بھی ادا کرو۔

میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا“ وہ معصومانہ انداز میں کہتے ہوئے اس کی پسینے سے شرابور کمر کو گھورنے لگی۔ اذکی نے آنکھوں میں اُمڈنے والی نمی کو صاف کرتے ہوئے ذرا سا رخ موڑ کر اسے دیکھا۔

یہ میرے تایا جی کا گھر ہے۔

اوہو۔‘’‘ ساحرہ نے معنی خیزی سے آنکھیں پٹپٹائیں۔

تو گویا معدے کے راستے سے گزر کر سب کے دلوں میں جگہ بنانا چاہتی ہوں۔

سرخ خوبانی کو نزاکت سے اُٹھاتے ہوئے وہ ایک لمحہ کو رُکی۔

یہ تو تمہاری بھول ہی ہے خواہ مخواہ نچڑ رہی ہو گرمی سے۔ ان تلوں میں تیل ہرگز نہیں۔ تم خالہ کے دل اور نگاہ میں کبھی نہیں اتر سکتیں۔“ ساحرہ نے تمسخر اڑایا اور پھر اونچی ہیل سے ٹک ٹک کرتی باہر کل گئی۔ تایا جی آواز دے رہے تھے۔ وہ نم پلکوں کو صاف کرتی ٹیبل تک آ گئی۔

اسے دیکھ کر راحت کی پیشانی شکن آلود ہو گئی۔

وہ گھبراتی ہوئی تایا جی کے برابر رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔ نائلہ آپی اور ساحرہ آپس میں کچھ بات چیت کر رہی تھیں جبکہ سنیہ کھانے کی طرف متوجہ تھی۔ تایا جی تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کی پلیٹ میں کچھ نہ کچھ ڈال رہے تھے۔ اذکی کے حلق سے کچھ بھی نہیں اتر رہا تھا۔ راحت کی مسلسل چُبتی نظروں نے اس کی بھوک کو منٹوں میں مٹا دیا۔ وہ بے دلی سے چاولوں کی پلیٹ میں چمچہ چلانے لگی تھی۔

اسی پل گیٹ پر مخصوص ہارن بجا اور حیدر آندھی و طوفان کی طرح داخل ہوا۔ گرمی کی حدت سے اس کی سرخ و سفید رنگت تمتما رہی تھی۔ اس نے زور دار آواز میں سلام جھاڑا اور ٹیبل کا جائزہ لے کر چمچہ پلیٹ پکڑ لی۔

یہ کیا بے ہودگی ہے حیدر آرام سے بیٹھ کر کھانا کھاؤ۔“ راحت نے اسے جلدی جلدی پلیٹ میں چاول ڈالتے ٹوکا۔ حیدر نے گلاس اٹھایا اور لبوں سے لگا لیا۔

کہاں ہے بے ہودگی۔“ اس نے سرعت سے دائیں بائیں دیکھ کر ”بے ہودگی“ کو تلاشنا چاہا۔ راحت نے کڑی نظروں سے اس کی حرکت کو ملاحظہ کیا جبکہ ساحرہ اور نائلہ آپی نے بے اختیار قہقہہ لگایا۔ اذکی ہنوز سر جھکائے چاولوں کو ٹونگ رہی تھی۔

ایں تم پھر آ گئیں۔“ ساحرہ کی سریلی ہنسی کو سن کر حیدر نے مصنوعی حیرت کا اظہار کیا۔ ساحرہ کے مسکراتے لب سمٹ گئے۔

گھر میں کھانا نہیں ملتا تمہیں یا پھر کک چھٹی پر چلا گیا ہے۔“ اس نے ساحرہ کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تھی۔ راحت نے اس کا مخروطی انگلیوں والا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ بٹھایا اور حیدر کو ایک دفعہ پھر گھورا۔

خاموشی سے کھانا کھاؤ۔“ عباس نے بھی اُسے گھر کا۔ وہ شرافت سے پلیٹ پر جھک گیا۔ کھانے کے بعد وہ سب لاؤنج میں چلے گئے تھے جبکہ ساحرہ کو حیدر اپنے کمرے میں لے گیا تھا نیا میوزک سسٹم دکھانے کیلئے۔

اذکی بے دلی سے برتن اٹھانے لگی تھی۔ کام سے فراغت کے بعد وہ برآمدے میں آکر بیٹھ گئی۔ تیز دھوپ اگرچہ آنکھوں میں چبھ رہی تھی مگر وہ ڈھیٹوں کی طرح بیٹھی رہی۔ تھوڑی دیر بعد نجمہ بھی ہاتھ پونچھتی آ گئی۔

نجمہ کافی باتونی تھی اپنی منگنی کا قصہ چٹ پٹے انداز میں سنا کر اب وہ ابا اور اماں کے تازہ ترین جھگڑے کا احوال سنانے لگی تھی۔ اذکی بھی تکلیف دہ سوچوں کو جھٹک کر اس کی طرف متوجہ ہو گئی۔

راحت نے انہیں خوش گپیاں کرتے ہوئے دیکھا تو نجمہ کو جھڑک کر اس کے کواٹر بھیج دیا جبکہ اذکی کو اوپر والے پورشن کی صفائی پر لگا دیا۔ وہ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔ جب ساحرہ کی آواز نے اس کے قدموں کو جکڑ لیا۔

خالہ جانی! یہ لڑکی ہے بڑے کام کی۔ کسی دن ہماری طرف بھیج دیجئے گا۔ لان کی تھوڑی کانٹ چھانٹ کروا لیں گے اسی سے۔“ اس نے اذکی کی طرف رخ کر کے بلند آواز میں کہا تھا۔

اذکی نے راحت کا جواب نہیں سنا۔ وہ ڈبڈبائی نظروں سے کارپیٹڈ سیڑھیاں چڑھنے لگی تھی۔ آخر رونے کیلئے تنہا کونا بھی چاہئے تھا۔

ماسٹرز کرنے کے بعد حیدر کو بڑی اچھی جاب کی آفر ہوئی تھی۔ عباس بھی گویا اسی دن کا انتظار کر رہے تھے۔ راحت کا موڈ قدرے بہتر دیکھ کر انہوں نے اپنی دلی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ کئی لمحے راحت پر سوچ نظروں سے ان کے پرامید چہرے کو دیکھتی رہیں۔ وہ بے حد عقل مند خاتون تھیں۔ جانتی تھیں کہ کس موقع پر کون سی بات کرنا مناسب ہے۔ اپنی بہن سے انہوں نے مشورہ کر لیا تھا۔ ان کی بیٹیاں اور خصوصاً حیدر بھی تقریباً راضی تھا۔ رہے عباس تو انہیں منانا کون سا مشکل کام تھا۔ راحت خود بھی مناسب موقع کی تلاش میں تھیں جو کہ عباس نے خود ہی فراہم کر دیا تھا۔

عباس! ہم پڑھے لکھے باشعور ہیں۔ پرانے وقت گزر گئے ہیں جب بچوں کے ساتھ زور زبردستی کر لی جاتی تھی مگر اب ایسا نہیں ہے۔ بچے خود اپنے بارے میں فیصلے کرنے کے قابل ہو چکے ہیں۔ خود ہی سوچئے آپ کا حیدر ماشاء اللہ پڑھا لکھا ہے۔ اس کا اکیڈمک ریکارڈ نظر انداز کئے جانے والا نہیں۔ حال ہی میں اس نے تعلیم مکمل کرکے عملی زندگی میں قدم رکھا ہے۔ کیا یہ اس کے ساتھ زیادتی نہیں کہ ایک انڈر میٹرک لڑکی کو اس کے ساتھ نتھی کر دیا جائے اور وہ ساری زندگی ایک گنوار جاہل کے ساتھ ناخوشگوار زندگی گزارے۔

راحت نے بہت سوچ بچار کے ساتھ ساحرہ کا بتایا ہوا پہلا پتا پھینکا تھا۔

مگر حیدر نے مکمل رضا مندی کے ساتھ نکاح کیا تھا۔“ عباس نے اضطراری کیفیت میں کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔

ان کے چہرے پر پریشانی کے سائے پھیل چکے تھے۔

حیدر نے آپ کی خواہش کا احترام کیا تھا اس وقت۔ آپ اس کی چاہت کا خیال رکھیں۔ یاد رہے کہ حیدر ساحرہ سے محبت کرتا ہے اور میں اپنے اکلوتے بیٹے کو آپ کے فضول فیصلے کی بھینٹ نہیں چڑھاؤں گی۔

راحت نے گفتگو کو سمیٹنا چاہا۔ وہ اپنے فیصلے سے عباس کو آگاہ کر چکی تھیں۔ ان کا مقصد بس یہی تھا۔

تم کیا چاہتی ہو؟“ وہ آزروگی سے کہتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گئے۔ راحت نے ان کے چہرے پر پھیلی رنجیدگی کو بغور پڑھا۔

میرے چاہنے یا نہ چاہنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔“ انہوں نے پہلو بچایا۔

اصل مسئلہ تو حیدر کا ہے اس نے رات کو مجھ سے بات کی ہے کہ وہ ساحرہ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔

راحت نے اپنے کندھوں کا بوجھ ہلکا کیا۔ اب وہ مطمئن ہو چکی تھیں۔

اذکی کا کیا ہوگا اور یہ اس کے زیادتی نہیں اور پھر میرا ضمیر یہ گوارا نہیں کرتا کہ میں اپنی بھتیجی کے ساتھ یہ ظلم کروں۔ راحت تم حیدر کو سمجھاؤ۔“ وہ بھرائی آواز میں گویا ہوئے۔ راحت نے خشمگیں نظروں سے ان کی عرق آلود پیشانی کو دیکھا۔ وہ آہستہ آہستہ سینہ مسل رہے تھے۔

حیدر کہہ رہا تھا کہ بابا نہ مانیں کروں گا تو میں اپنی مرضی ہی۔“ انہوں نے جھوٹ کا سہارا لیا۔

جانتے تو ہیں آپ کہ کس قدر ضدی طبیعت کا مالک ہے۔ مزاج کے خلاف کچھ برداشت نہیں کر سکتا وہ۔“ عباس نے بے یقینی سے راحت کی آنکھوں میں دیکھا۔ انہوں نے سرعت سے نظریں چرائی تھیں۔

حیدر نے کہا ہے۔“ وہ آہستگی سے بڑبڑائے۔

میں خود بات کروں گا اس سے۔

عباس نے گویا ایک فیصلہ کیا اور پھر اٹھ کر بیڈ کی طرف بڑھے۔ دراز سے شیشی نکال کر چند ٹیبلٹس زبان کے نیچے رکھیں راحت کندھے اچکا کر اٹھ گئی تھیں۔ ان کا ذہن تیزی سے منصوبہ بنا رہا تھا اور ساحرہ بھی اس میں شریک تھی۔ وہ ہر قدم اس کے مشورے سے اٹھاتی تھیں۔ اب بھی انہوں نے ساحرہ کو مکمل رپورٹ دی ساحرہ نے انہیں اطمینان دلا دیا تھا کہ وہ خود ہی حیدر سے نبٹ لے گی۔

راحت کی بہن فاخرہ اگرچہ راضی نہیں تھیں مگر ساحرہ کی ضد کی وجہ سے مجبور ہو گئی تھیں۔ انہیں اذکی سے دلی ہمدردی محسوس ہوتی تھی۔ یہ کم گو سی لڑکی انہیں بے حد پسند تھی۔ اب بھی بیٹی کا معاملہ نہ ہوتا تو وہ ہرگز بھی راحت کی بات نہ مانتیں۔ مگر اس وقت وہ بھی بے بس تھیں کیونکہ ساحرہ نے انہیں اچھا خاصا دھمکا دیا تھا۔ وہ حیدر کو بچپن سے چاہتی تھی اور اس کے علاوہ کسی اور کا تصور بھی اس کیلئے محال تھا۔

عباس کی طبیعت کچھ بہتر نہیں تھی لہٰذا وہ جلدی ہی سو گئے۔ صبح معمول کے مطابق اٹھے تھے کہ حیدر چلا آیا۔ انہوں نے بھی سوچ لیا تھا کہ حیدر سے ابھی بات کر لی جائے لیکن ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ سر جھکائے اپنی پسند بتا کر باہر نکل گیا تھا۔ وہ گم صم سے وہیں کھڑے رہ گئے۔ حیدر کے اس طرح رنگ بدلنے نے ان کو بے حد شاک پہنچایا تھا۔ ان کا تنفس تیز تیز چلنے لگا تھا اور بائیں جانب شدید ٹیسیں اٹھنے لگیں۔

وہ نڈھال سے کارپٹ پر گر گئے۔

راحت فتح مندی سے سرشار بیڈ روم میں آئیں تو عباس کو کارپٹ پر اوندھے منہ پڑے دیکھ کر ان کے اوسان خطا ہو گئے تھے۔ فوراً فون کرکے حیدر کو بلایا۔ بھاگم بھاگ انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔ ان کی صحت یابی کیلئے دعائیں مانگتی وہ مسلسل رو رہی تھیں۔ بائیس گھنٹوں کے صبر آزما انتظار کے بعد عباس نے آنکھیں کھولیں تو راحت کا نڈھال سا چہرہ نظر آیا۔

عباس نے کرب سے آنکھیں دوبارہ موندیں۔

ساری زندگی انہوں نے راحت کے کسی فیصلے کے سامنے سر نہیں اٹھایا تھا ہمیشہ وہی کیا جو وہ چاہتی تھیں ان کی ہر جائز ناجائز خواہش کا احترام کیا۔ اذیت سے سوچتے ہوئے انہیں اذکی کا خیال آیا۔ اس کا اداس ویران چہرہ سوال کرتی نگاہیں۔ انہوں نے بمشکل آنکھیں کھولیں تو درد کی تیز لہر سی اٹھی تھی۔

میں تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکا بیٹی۔

مجھے معاف کر دینا۔“ دو آنسو لڑھکتے ہوئے چپکے سے بالوں میں جذب ہو گئے تھے۔

میرے جیسے کمزور مرد بھلا کر بھی کیا کر سکتے ہیں۔“ بہت پہلے کے چند ایک منظر یاد آئے تھے انہیں۔ ماں کی التجائیں بھائی کا رونا بلکنا اور راحت کی کشش۔ انہوں نے بوسیدہ زندگی کے اس باب کو بند کر دیا تھا ہمیشہ کیلئے۔

میں نے کیا کھویا کیا پایا۔“ ان کی سانسیں اکھڑنے لگی تھیں۔

ڈاکٹرز کے پورے عملے نے انہیں ایک دفعہ پھر گھیر لیا۔ مگر اکھڑی سانسیں ہموار نہیں ہو سکی تھیں۔ چند لمحوں بعد مشینیں بے جان ہو گئیں۔ ڈاکٹرز مایوس باہر نکلنے لگے۔ راحت کی دعائیں ادھوری رہ گئیں وہ فرش پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔ حیدر نے آنسو صاف کرتے ہوئے بہنوں کو اطلاع دی روتے بلکتے وہ بابا کے بے جان وجود کو گھر لے آئے تھے۔ راحت غش کھا کر گر پڑیں۔

جب انہیں ہوش آیا تو عباس کو ان کی آخری آرام گاہ تک پہنچا دیا گیا تھا۔ مہمانوں سے گھر بھرا ہوا تھا۔ صدمے سے نڈھال اذکی بھاگ بھاگ کر ہلکان ہو رہی تھی۔ اس کا تو سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔ روتے بلکتے وہ مختلف کام انجام دے رہی تھی۔

آہستہ آہستہ مہمان جانے لگے۔ راحت نے بھی زندگی کے معاملات میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ گھر کی فضا بے حد سوگوار تھی انہی دنوں سدرہ کے سسرال والوں نے شادی کی تاریخ طے کر دی۔

راحت نے سادگی کے ساتھ شادی کے انتظامات کروائے۔ چالیسویں کے بعد ہی سادگی سے نکاح ہوا اور اس سے اگلے روز وہ شوہر کے پاس لندن چلی گئی۔

ساحرہ نے مستقل ادھر ہی ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔ ہر وقت راحت کے ساتھ چپکی رہتی۔ اذکی اپنے دھیان میں معمول کے کام نبٹا کر کمرے میں گھس جاتی تھی۔ وہ جان گئی تھی کہ اس چھت تلے اگر رہنا ہے تو لبوں کو سینا اور خواہشوں کا گلا گھوٹنا ہوگا۔

راحت کے حکم کے مطابق وہ صرف کام کیلئے ہی اپنے کمرے سے نکلتی تھی۔ حیدر اگر گھر پہ ہوتا تو وہ اذکی کو ہمیشہ ادھر ادھر کر دیتی تھیں۔

چھ ماہ کے مختصر عرصے میں ساحرہ نہایت دھوم دھام سے اس گھر میں ہمیشہ کیلئے آ گئی تھی۔ راحت نے اپنے سارے ارمان جی بھر کے پورے کئے ہر ہر فنکشن نہایت بہترین تھا۔

ساحرہ نے آتے ہی سب سے پہلے اذکی سے ملاقات کرنے ارادہ ظاہر کیا۔

وہ اپنا دلکش روپ اسے دکھانا چاہتی تھی یا پھر اذکی کو یہ جتلانا تھا کہ وہ ہی حیدر کی من پسند بیوی ہے۔

اذکی پتھر سے بنی مورت نہیں تھی کہ اس پر کوئی اثر ہی نہ ہوتا۔ رات کی تاریکیوں میں جی بھر کر رونے اور دل کا غبار نکالنے کے بعد صبح وہ بے حد لاپروا نظر آتی۔ آہستہ آہستہ وہ ساحرہ کے مزاج کو سمجھنے لگی تھی۔

وہ جان گئی تھی کہ ساحرہ اسے جلانے تڑپانے کیلئے بعض نازیبا حرکتیں کرتی ہے۔ لہٰذا اس نے خود پر خول چڑھا لیا۔ مگر کبھی کبھی یہ خول چٹخ جاتا تھا۔ خصوصاً جب وہ حیدر کے ساتھ ہوتی تھی۔ صبح صبح وہ بیڈ روم کا دروازہ کھول دیتی تھی تاکہ اس کی کھنکتی ہنسی اذکی کے کانوں تک پہنچ سکے۔ اکثر اپنی سہیلیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وہ حیدر کی بے تابیوں کی داستان سنانے لگتی۔

اسے ہمیشہ ساحرہ پر رشک آتا تھا۔ وہ ان چند لوگوں میں سے تھی جو چاہے جانے کیلئے بنے ہوتے ہیں۔ ماں باپ کی لاڈلی ساس کی چہیتی نندوں کی دلاوری اور شوہر کی من چاہی۔ اسے سب کی محبتیں بے دریغ ملی تھیں۔ اسے تو مغرور ہونا ہی تھا جبکہ اذکی نے آنکھ کھولی تو ماں نہیں تھی لڑکپن گزرا تو باپ کا سایہ اٹھ گیا۔ ماموں مامی نے ہی آسرادیا تھا۔

ان کی محبت ہی اس کی کل کائنات تھی مگر ماموں کی طویل بیماری راحیلہ بھابھی کے روزانہ کے جاہلانہ جھگڑوں نے انہیں سخت پریشان کر رکھا تھا۔

وہ جلد از جلد اسے مضبوط ہاتھوں میں دینا چاہتے تھے۔

مامی کے رشتے کے بھائی نے ہی اذکی کے تایا کے متعلق بتایا تھا۔ اسے بھی پہلی مرتبہ کسی قریبی عزیز کے بارے میں پتا چلا تھا۔ تایا جی کی شفیق صورت دیکھ کر اسے اپنے بابا یاد آ گئے تھے۔ ان کے سینے سے لگ کر ساری محرومیاں بھول گئی تھی۔ وہ ان کے جانے کے بعد سچ مچ کڑی دھوپ کا گماں ہوا تھا اسے۔

جس کے ساتھ اتنا مضبوط تعلق تھا۔ وہ سدا کا لاپروا اسے لاکر بھول چکا تھا یقینا اسے نہ حق لینا آیا تھا نہ حق وصول کرنے کیلئے جھگڑنا۔ وہ اوّل روز کی طرح اب بھی راحت کو دیکھ کر تھر تھر کانپنے لگتی تھی۔

اگر حیدر کبھی اچانک سامنے آ جاتا تو وہ کونوں کھدروں میں چھپنے لگتی تھی۔ وہ اونچی آواز میں بولتا تو اذکی سہم کر کمرے میں دبک جاتی۔

اگر اس کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہو جاتی تو وہ زمین آسمان ایک کر دیتا۔ نجمہ کانپتی لرزتی ادھر ادھر بھاگنے لگتی۔ اذکی کے ہاتھ پیر پھول جاتے بس ایک ساحرہ واحد ہستی جو اس کے غصے کو کبھی خاطر میں نہیں لاتی تھی یا پھر حیدر کو اس پر غصہ ہی نہیں آتا تھا۔

شروع سے ہی اذکی تایا جی اور حیدر کے کپڑے دھو کر پریس کرکے ہینگ کر دیا کرتی تھی۔

ان دونوں کے جوتے پالش کرکے شوز ریک میں سجا دیتی۔ البتہ کریڈٹ سارا راحت بیگم کے حصے میں چلا جاتا تھا جن کے سلیقے کی سارے خاندان میں دھوم تھی اور اب ان کی بھانجی نے ان کا تخت سنبھال لیا تھا۔

صبح کے وقت حیدر اور ساحرہ ایک ہنگامہ مچائے رکھتے تھے۔ حیدر آفس جلدی پہنچنے کیلئے شور مچاتا جبکہ ساحرہ یہ ثابت کرنے پر تلی ہوتی تھی کہ سارا گھر اس نے سنبھال رکھا ہے۔

ہاتھوں سے زیادہ زبان چلتی تھی اس کی بھاگتی دوڑتی کبھی حیدر کی پسند معلوم کر رہی ہے۔ کبھی راحت کو پرہیزی ناشتہ پہنچا رہی ہے۔ ساتھ وہ اذکی کو بھی خوب دوڑاتی تھی۔

اذکی! پیاز کاٹ دو آملیٹ کیلئے۔“ وہ آٹا گوندھ کر ہٹتی تو نیا حکم جاری ہو جاتا۔ اتنے میں ساحرہ برتن لگانے شروع کر دیتی۔ اذکی ملک شیک بنا کر جگ میں ڈالتی اور ساحرہ کمال مہارت سے ٹرے میں سجا کر حیدر کو بیڈ روم میں دے آتی۔

وہ کچن میں برتنوں کے ساتھ الجھ رہی ہوتی اور راحت کی بڑبڑاہٹیں عروج پر پہنچ جاتیں۔

زندگی اسی طرح اپنی ڈگر پر رواں دواں تھی۔ وقت اپنی چال روانی سے چل رہا تھا۔ اذکی نے اب تو انگلیوں پر حساب لگانا بھی چھوڑ دیا تھا۔

حیدر کبھی کبھار اسے کاموں میں الجھا دیکھ کر ٹھٹک جاتا تھا وہ جان کر بھی انجان بن جاتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ سب میں تبدیلیاں آ جاتی ہیں مگر راحت اور ساحرہ اوّل روز کی طرح تھیں مغرور اور خودپسند۔

ساحرہ کی شادی کو چھ سال ہو گئے تھے پر ابھی تک اس کی گود خالی تھی۔ راحت کو بھی فکر نے گھیر لیا تھا۔ لوگوں کے دبے دبے تبصرے اذکی کے کانوں تک بھی پہنچ رہے تھے۔ ساحرہ بھی فکر مند رہنے لگی تھی۔ ہر طرف سے مایوس ہو کر ساحرہ نے نئی چال چلی۔ راحت بھی اس کی ہمنوا تھیں۔ دراصل ساحرہ کو حیدر کے بدل جانے کا وہم ہو گیا تھا۔ اولاد ہی پیروں کی زنجیر ہوتی ہے۔

اس کی سہیلی کے ساتھ ایسا حادثہ ہو چکا تھا جس نے اسے صحیح معنوں میں پریشان کر دیا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ حیدر بھی اس کے ساتھ اس قسم کا کھیل کھیلے۔

ساحرہ کو یقین تھا کہ اس کا یہ عمل اعلیٰ ظرفی اور وسیع دل ہونے کا ثبوت بن جائے گا۔ لوگوں کی واہ واہ اور خاندان بھر کی شاباشی اور سب سے بڑھ کر راحت کی مکمل خوشنودی حاصل ہو جائے گی۔

ساحرہ کی فیملی کے علاوہ کسی اور کو حیدر اور اذکی کے نکاح کی خبر نہیں تھی۔

اس بات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے حیدر اور اذکی کی شادی کا اعلان کر دیا۔ پورے خاندان میں گویا بھونچال آ گیا تھا۔ سب بے حد حیران تھے جبکہ ساحرہ کو اصل پریشانی نے اس وقت جکڑا تھا۔ جب اس نے حیدر سے ذکر کیا اور اس نے خاموشی سے سر جھکا کر اپنی رضا مندی کا اظہار کر دیا۔ وہ حیدر کے رویے کو جان نہیں پائی تھی مگر اگلے بہت سے دنوں نے ثابت کر دیا تھا کہ اگر ساحرہ یہ قدم نہ اٹھاتی تو وہ پھر بھی اذکی کو بیوی کا درجہ دینے والا تھا۔

رہی اذکی تو اس کا سکتہ ابھی تک نہیں ٹوٹا تھا۔دو ماہ گزر جانے کے بعد بھی وہ ابھی تک بے یقین تھی۔ کہاں تو راحت اور ساحرہ سرے سے اس کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری تھیں اور کہاں پل ہی پل میں انہوں نے اس کے مقام کا خود ہی تعین کر دیا۔

شروع شروع میں حیدر قدرے اکھڑا کھڑا ہی رہا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کے رویے میں تبدیلی آ گئی اور جب اسے باپ بننے کی خوشخبری ملی تو راحت ولا میں گویا خوشیوں کی بارات اتر آئی۔ راحت کا موڈ بھی بہت بہتر ہو گیا تھا جبکہ ساحرہ اب اکھڑی اکھڑی رہنے لگی تھی۔ اسے دیکھتے ہی تنفر سے رخ بدل جاتی۔ وہ زیادہ تر اپنے کمرے میں بند رہنے لگی تھی اذکی وجہ جانتی تھی کہ یہ سب اس وجود کے مرہون منت ہے جس نے ابھی اس دنیا میں آنکھ نہیں کھولی تھی۔

ساحرہ کی نظریں بے حد چبھنے والی کٹیلی ہوتی تھیں۔ کبھی کبھی اسے اس کی براؤن چمکیلی آنکھوں سے وحشت ہونے لگتی۔

اس نے نو سال اس گھر میں کسی تیسرے درجے کے ملازم کی طرح گزارے تھے حیدر کی منکوحہ ہونے کے باوجود۔ اس نے نو سال حیدر کو دوسرے کنارے پر کھڑے دیکھا اور برداشت بھی کیا جبکہ ساحرہ کا ضبط تو مہینوں میں ہی جواب دے گیا تھا۔

ساحرہ نے حیدر پر احسان کیا تھا اور وہ راحت بیگم وقتاً فوقتاً اسے جتاتی رہتی تھیں۔

یہ احسان اذکی کے وجود پر بھی کیا گیا تھا۔ اسے فرش سے عرش پر بٹھایا گیا۔ حیثیت سے بڑھ کر ملا یہ راحت کا فرمان تھا جسے سننا اذکی کی مجبوری تھی۔

حیدر خود بھی جانتا تھا کہ ساحرہ ان دنوں کس کرب سے گزر رہی ہے۔ اپنی محبت کا یوں بٹوارا کرنا بہت بڑے ظرف کی بات تھی اور ساحرہ کا ظرف کتنا وسیع ہے اس کا علم صرف اذکی کو تھا۔

حیدر کے جانے کے بعد وہ بھوکی شیرنی کی طرح اس کے اردگرد چکراتی رہتی اور زبان سے شعلے برساتی راحت نے کبھی ساحرہ کو روکا نہیں تھا بلکہ وہ خود بھی ایسی کوئی نہ کوئی بات ضرور کر دیا کرتی تھیں جس سے اسے تکلیف پہنچتی رہتی۔

جب اس نے جڑواں بچوں کو جنم دیا تو راحت بیگم نے زید کو ہاتھوں میں لے کر ساحرہ کی گود میں ڈال دیا تھا۔ اس وقت ساحرہ نے صاف انکار کر دیا تھا وہ کیونکر اذکی کے بچے کو گود میں لیتی اور پالتی پوستی۔ اپنے انکار کو اس نے بڑے میٹھے لفظوں میں ڈبو کر پیش کیا تھا۔

یہ تو بہت چھوٹا ہے ابھی اسے فی الحال ماں کی ضرورت ہے۔“ راحت نے اسے ساتھ لپٹا کر چوما۔

وہ اس کی آزردگی محسوس کر چکی تھیں۔

گھر آکر ایک دفعہ پھر روٹین لائف شروع ہو گئی۔راحت کی طبیعت اگرچہ ٹھیک نہیں رہی تھی مگر پھر بھی وہ دونوں بچوں کو اٹھائے رکھتیں۔ اذکی کو کم ہی بچوں کے قریب آنے دیتی تھیں وہ۔ جب بچوں کو فیڈ کروانا ہوتا تو وہ اسے آواز دے لیتیں۔ اس کے بعد اذکی کاموں میں مصروف ہو جاتی اور راحت انہیں اپنے کمرے میں لے جاتی تھیں اور وہ دل مسوس کر رہ جاتی۔

اچانک موسم کی تبدیلی کی وجہ سے دونوں بچے بیمار ہو گئے تو مجبوراً راحت نے بچوں کو اس کے حوالے کر دیا۔ وہ تو ترس کر رہ گئی تھی بچوں کیلئے۔ جوں جوں وہ دونوں بڑے ہو رہے تھے ماں کا لمس پہچانے لگے تھے۔ خود ہی اوپری گود کو محسوس کرکے رونا چلانا شروع کر دیتے۔ راحت انہیں پچکارتی ہی رہ جاتیں مگر جوں ہی اٹھاتیں دونوں کا بھونپو آن ہو جاتا تھا اسی لئے راحت کا موڈ خراب رہنے لگا تھا۔

بچوں کے رونے کی آواز انہیں ناگوار گزرنے لگتی۔

اس دن بھی وہ دیا کو تخت پر لٹا کر دودھ لینے چلی گئی تھی واپس آئی تو راحت کا تخت گیلا ہو چکا تھا۔ انہوں نے غصے سے چند ماہ کی بچی کو چپت رسید کی۔ دیا نے رونا شروع کر دیا اور راحت کا پارہ بھی چڑھ گیا تھا۔

آفتی طوطے ہیں یہ بچے… ریں ریں ختم نہیں ہوتی ان کی۔“ شور اور گندگی ان کی نفاست پسند طبیعت پر گراں گزرتی تھی اور کچھ ساحرہ بھی انہیں بھڑکانے لگی تھی۔

وہ ذرا ذر اسی باتوں کو طول دے کر ہنگامہ مچا دیتی تھی اور پھر معصومیت کا ڈھونگ رچا کر رونا چلانا شروع کر دیتی۔ بچوں کی پہلی اور دوسری سالگرہ انہیں ڈراموں کی نذر ہو گئی۔ ان ہی خشک اور روکھے پھیکے دنوں میں ساحرہ نے اس کے ساتھ شدید جھگڑا کیا۔ ہمیشہ کی طرح چپ رہنے کی بجائے اس نے ساحرہ کو دو ٹوک جواب دے کر گویا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال لیا تھا۔

راحت کو بھی اذکی کا بولنا پسند نہیں آیا۔ انہوں نے حیدر کو فون کرکے بلایا۔ اس کے آنے سے پہلے ہی ساحرہ روتی دھوتی میکے چلی گئی تھی۔ راحت کے تن بدن میں آگ لگی ہوئی تھی لاڈلی بھانجی کے آنسو دل پر گر رہے تھے۔

لے جاؤ اسے میری نظروں سے دور… ورنہ کچھ کر لوں گی میں۔“ وہ اپنی تعلیم بھلائے جاہل عورتوں کی طرح واویلا کرنے لگی تھیں۔

حیدر نے بھی پہلی مرتبہ اس پر چڑھائی کرنے کی بجائے کچھ اور سوچا اور پھر اسے بیگ تیار کرنے کا حکم دے کر باہر نکل گیا۔

اذکی خاموشی سے چند ضرورت کی اشیاء بیگ میں رکھ کر بچوں کو لئے اس کے پیچھے جا رہی تھی جب راحت کی آواز نے اس کے قدم روک دیئے۔

اب جا رہی ہو تو اس گھر میں آنے کی ضرورت نہیں۔ تمہارے لئے اس گھر کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔

حیدر اسے مامی کی طرف چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ ہفتے تک اس نے فلیٹ کا بندوبست کرکے ضروری سامان ڈالا اور پھر اسے لینے چلا آیا۔

اس نے چھوٹے سے فلیٹ میں نہیں گویا جنت میں قدم رکھے تھے۔ ”اپنا گھر“ یہ احساس ہی بڑا دلنشین تھا۔ وہ ساری تھکن محرومیاں اذیتیں بھلائے اپنے گھر کو سنوارنے میں مشغول ہو گئی۔ بچے گھر اور پھر حیدر آنکھوں نے پہلی مرتبہ کچھ رنگوں اور خوابوں کو محسوس کیا تھا۔

راحت کو جب فلیٹ کے متعلق خبر ہوئی تو کافی دیر ہو چکی تھی۔ انہوں نے حیدر سے باز پرس کی تو وہ لاپروائی سے بولا۔

آپ ہی نے تو کہا تھا کہ میری نظروں سے دور لے جاؤ اسے۔ اب ظاہر ہے مجھے کچھ نہ کچھ بندوبست تو کرنا ہی تھا۔

ساحرہ اور راحت کی تدبیریں الٹ گئی تھیں۔ اس نے یہ سب کچھ اس لئے کیا تھا کہ حیدر اذکی کو چھوڑ دے چونکہ مقصد تو پورا ہو چکا تھا۔ حیدر کو اولاد چاہئے تھی سو مل گئی۔ اب وہ اذکی کو نکلوانا چاہتی تھی مگر ایسا ہوا نہیں تھا۔

اذکی کو مطمئن دیکھ کر اس کا حسد نفرت میں بدلنے لگا تھا۔ بچے‘ گھر شوہر وہ جاہل ان پڑھ عورت کس قدر مکمل تھی جب کہ وہ خود کیا تھی ایک خوب صورت چمکتا دمکتا ڈیکوریشن پیس۔ سو اس نے اذکی کے سکون میں سخت نوکیلا پتھر پھینک کر سب کچھ منتشر کر دیا تھا

گھر آکر ساحرہ نے بھرپور نیند لی تھی۔ دو تین گھنٹے سونے کے بعد اس وقت وہ فریش تھی۔ وہ نہا کر باہر نکلی تو فون بجنے لگا تھا۔ دوسری طرف اس کی سہیلی ثمن تھی کافی دیر اس سے گپ شپ لگانے کے بعد اس نے فون رکھ کر اپنا جائزہ لیا۔ جدید تراش خراش کا خوب صورت سوٹ اس کے سراپے پر سج گیا تھا۔ وہ آئینے کے سامنے سے ہٹی تو دیا پر نظر پڑی۔ ایک جاندار مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھوا۔

وہ دیا کے قریب بیڈ پر لیٹ کر اس کے من موہنے سے نقوش دیکھنے لگی۔ خوب صورت ناک چھوٹا سا دہانہ لمبی لمبی سنہری پلکیں۔ اس کے نقوش حیدر سے بے حد ملتے تھے۔ دیا کا انتخاب اس نے اسی لئے ہی کیا تھا ورنہ زید میں اذکی کا عکس دیکھ دیکھ کر اس کا بی پی شوٹ کر جاتا تھا۔

دیا جب اٹھی تو ایک دفعہ پھر مما مما کی گردان شروع کر دی تھی اس نے، تنگ آکر ہولے سے جھنجھوڑا تھا اُسے۔

میں بھی ماں ہوں تمہاری۔

نہیں… آپ نہیں مما…“ ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے اس نے چلانا شروع کر دیا تھا۔

ساحرہ نے نجمہ کو آواز دے کر دودھ کی بوتل منگوائی اور اس کے لبوں سے لگا دی۔ شام کو حیدر آیا تو دیا اسے دیکھ کر کھل اٹھی۔ ساحرہ آئسکریم باؤل میں نکال کر اسے کھلا رہی تھی اور وہ نخرے کر کرکے کھا رہی تھی بلکہ زیادہ منہ اور ہاتھوں پر مل رہی تھی۔

ارے یہ کون ہے کارٹون؟“ حیدر نے کوٹ پھینک کر دیا کو اٹھا لیا۔

کدل (کدھر) کارٹون…“ اس نے آئسکریم سے لت پت ہاتھ حیدر کے منہ پر رکھا۔

یہ ہے۔“ حیدر نے اس کے گال پر بوسہ دیا۔

میں… کارٹون۔“ وہ کھلکھلائی۔ حیدر اسے گدگدانے لگا تھا۔ وہ بھی باپ سے کافی اٹیج تھی۔

فریش ہو کر اس نے جوس پیا اور پھر ماں کو سلام کرنے ان کے بیڈ روم میں چلا گیا۔

ساحرہ نے دیا کے کپڑے چینج کئے تھے۔ حیدر جب آیا تو پنک فراک پہنے گڑیا کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ اس نے محبت پاش نظروں سے بیٹی کے چہرے کو دیکھا۔ اسے اچانک بابا کی بات یاد آئی تھی۔ وہ برسات کی ایک خوب صورت شام تھی۔ ان دنوں اس نے نیا نیا کالج جوائن کیا تھا۔ لان میں کرکٹ کھیلتے ہوئے اچانک زور دار شاٹ لگا تھا اور بال اڑتے ہوئے سدرہ کے ماتھے پر جا لگی۔

وہ چیختی ہوئی گھاس پر دو زانو بیٹھ کے رونے لگی تھی جبکہ حیدر نے بیٹ پھینک کر ہنسنا شروع کر دیا۔ سدرہ کی رونی صورت دیکھ کر اس نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کی تھی۔ اسی اثناء میں بابا بھی چلے آئے۔

کیا ہوا ہے میرے بیٹے کو۔“ بابا نے فکر مندی سے اس کے چہرے پر پھیلے آنسوؤں کو دیکھا۔ سدرہ نے پاس رکھا بیٹ اٹھایا اور حیدر کی ٹانگ پر دے مارا اور چلائی۔

اس نے مجھے مارا ہے بابا۔ دیکھیں میرا ماتھا۔“ وہ روتے ہوئے بابا کے کندھے سے جا لگی۔ انہوں نے محبت سے اس کے ماتھے کو چوما اور پھر ساتھ لپٹا کر حیدر کو گھورا۔

گھر کو کرکٹ گراؤنڈ سمجھ رکھا ہے۔ آنکھوں پر عینکیں چڑھا کر کھیلو گے تو یہی ہوگا۔ چلو سوری بولو بہن سے۔

میں کیوں بولوں سوری جان بوجھ کر تو نہیں مارا میں نے۔

خود ہی بے نتھے بیل کی طرح جھومتی ہوئی آ گئی تھی سامنے۔ بال نے تو پھر لگنا ہی تھا۔“ وہ لاپروائی سے بولا۔ بابا کو شدید غصہ آ گیا تھا اس کے انداز پر۔

حیدر! سنا نہیں تم نے۔

سوری…“ اس نے جان چھڑائی اور بیٹ جھک کر اٹھایا۔

یہ کون سا طریقہ ہے معافی مانگنے کا۔“ وہ بغیر ان کی طرف دیکھے پلٹنے لگا تھا جب بابا نے پکارا۔

کہاں جا رہے ہو؟

سوری بولنے کا طریقہ سیکھنے۔“ وہ پیچھے سے چلایا۔ بابا کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی انہوں نے آواز دے کر اسے واپس بلایا تھا۔ وہ منہ بناتا ہوا پلٹ آیا۔

سنو حیدر یہ بیٹیاں بہت نازک بہت پیاری ہوتی ہیں۔ جب تمہاری بیٹی ہوگی تو پھر تم سمجھو گے۔“ اچانک ہی وہ سنجیدہ ہو گئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔

اس وقت تو اس نے لاپروائی سے سر ہلا دیا تھا مگر اب اپنی بیٹی کو دیکھ کر بہت سے پردے آنکھوں کے سامنے سے ہٹے تھے۔

کل کو اگر زید کرکٹ کھیلتے ہوئے دیا کو بال مارے تو پھر…“ حیدر نے سوچا اور اس کے دل کو کسی نے مٹی میں بھینچا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر دیا کو سینے سے لگا لیا۔

مما پاس جانا ہے۔“ وہ باپ سے لپٹتے ہوئے منمنائی۔ حیدر نے موبائل اور گاڑی کی چابی اٹھا کر اس کی انگلی پکڑ لی۔

ساحرہ کچن میں تھی۔ وہ دروازے کے قریب آکر بولا۔

ساحرہ! میں ذرا دیا کو اذکی سے ملوانے لے کر جا رہا ہوں ،دو گھنٹے تک آ جاؤں گا۔

کیا مطلب ہے تمہارا۔“ ساحرہ نے برنر بند کرکے چمچہ سلیب پر پٹخا۔

دیا نہیں جائے گی ادھر بمشکل میں نے اسے بہلایا ہے۔

یہ ضد کر رہی ہے۔“ وہ نرمی سے بولا۔

تو کرنے دو‘ تمہیں کیا ہے جاؤ اپنا کام کرو۔ اسے میرے پاس چھوڑ دو۔ اسی طرح عادی ہو گی یہ۔“ ساحرہ نے ہاتھ پونچھ کر دیا کا بازو پکڑ لیا اور سیڑھیاں چڑھنے لگی۔

حیدر کچھ دیر سوچتا رہا پھر بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

مختلف سوچوں نے اسے جکڑ رکھا تھا۔ کبھی ساحرہ کے چہرے کی روشنی دل کو منور کرتی اور کبھی اذکی کی اداسی اور ویرانی بے چین کر دیتی۔ اپنے پاس رکھی چابی سے لاک کھول کر وہ اندر آیا تو اذکی پہلے والی کیفیت میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اسے دیکھ کر بھی اس کے وجود میں کوئی حرکت نہیں ہوئی۔ وہ تیزی سے اس کی طرف آیا۔ نبض چیک کی تو بخار سے جل رہا تھا اس کا بدن۔

اس نے سرعت سے اذکی کو اٹھا کر بیڈ پر لٹایا۔ پھر ڈاکٹر کو فون کیا۔ چیک اپ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے پرچے پر چند دوائیاں لکھیں۔

یہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں‘انہیں خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ میں نے انہیں نیند کا انجکشن دیا ہے۔ چند گھنٹے یہ پرسکون نیند لے سکیں گی۔“ ڈاکٹر نے شائستگی سے کہتے ہوئے بیگ سنبھالا۔ ڈاکٹر طارق کے جانے کے بعد اس نے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں اذکی کے ماتھے پر رکھیں۔

رات تک اس کا بخار کچھ کم ہوا تھا۔ آنکھیں کھولتے ہی اس نے دیا کو پکارنا شروع کر دیا۔ حیدر نے اٹھ کر لائٹ آن کی پھر ہاتھ بڑھا کر اسے تکیے کے سہارے بٹھایا۔ حواس قدرے بہتر ہوئے تو اسے سب کچھ یاد آ گیا۔ نجانے کب وہ سوچتے سوچتے بے ہوش ہوگئی تھی۔ اچانک ہی بدن ٹوٹنے لگا تھا۔ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ زید کو ہی اٹھا کر بستر پر لٹا دیتی۔ زندگی کے تلخ باب کو سوچتے ہوئے ساری طاقت نچڑ کر رہ گئی تھی۔

اس نے گردن موڑ کر زید کو دیکھا۔ وہ بے خبر سو رہا تھا۔ پھر اس کی نگاہیں اس بے حس شخص پر ٹک گئیں۔ اذکی کے اندر جوار بھاٹا اٹھنے لگا۔ حیدر نے بھی اس کی نظروں کی تپش محسوس کرلی تھی۔ تاہم اس نے اذکی کی طرف دیکھنے سے گریز کیا اور اٹھ کر کچن میں چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ آیا تو ہاتھ میں سوپ کا باؤل پکڑ رکھا تھا۔

یہ پی لو پھر دوا کھا لینا۔

حیدر نے باؤل اس کی طرف بڑھایا۔ اس نے خاموشی سے پکڑکر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔

پتا نہیں میری بچی نے کچھ کھایا ہے یا نہیں۔

اس کی بے قرار ممتا کو کسی پل چین نہیں تھا۔ حیدر اس کی بے چینی کی وجہ جانتا تھا اسی لئے رسانیت سے بولا۔

اذکی! دیا کی فکر نہ کرو۔ وہ بہت خوش ہے وہاں‘ ساحرہ بہت خیال رکھے گی اس کا۔ پھر امی بھی ہیں۔

میں اپنی ممتا کا کیا کروں‘ کسی پل سکون نہیں آتا مجھے۔“ وہ بھرائی آواز میں گویا ہوئی۔

عورت کی حیثیت ہی کیا ہے اور پھر مجھ جیسی عورت کی۔“ اس نے آنسو صاف کرکے تکیہ پر سر پٹخا۔

جس کے آگے پیچھے کوئی نہیں۔ گھر ہے تو شوہر کا‘ اولاد ہے تو شوہر کی۔ مرضی ہے تو شوہر کی۔“ وہ بڑبڑا رہی تھی۔ حیدر اٹھ کر اس کے قریب چلا آیا۔

تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اذکی! خاموش ہو جاؤ پلیز۔“ اسے بے تحاشا روتے دیکھ کر حیدر نے التجا کی۔ پہلی مرتبہ اس کا لہجہ نہایت نرم تھا اور آواز بے حد پست۔

میں دیا کو لانا چاہ رہا تھا مگر ساحرہ…“

ہاں جانتی ہوں میں کہ اس عورت سے کوئی خوشی برداشت نہیں ہوتی میری۔ یہ میں ہی ہوں کہ ایک عمر انگاروں پر چلتی رہی۔ نو سال اذیت کی بھٹی میں گزارے۔

آپ کے گھر میں کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر زندگی جی۔ آپ کی ماں اور بیوی کی ہر بات مانی‘ طنز و طعنے برداشت کئے۔ عزت نفس کا گلا دبایا۔ صرف اور صرف ایک چھت کیلئے‘ روٹی کے چند ٹکڑوں کیلئے پل پل لمحہ لمحہ مرتی رہی میں اور آپ۔“ اس نے سر اٹھا کر حیدر کی طرف دیکھا۔

آپ کیا کر سکتے ہیں حیدر صاحب‘کچھ بھی نہیں۔ انصاف تو دور کی بات ہے آپ تو اب بھی اذکی کی خاطر نہیں آئے۔

اس عورت کی خاطر جس نے نو سال آپ کے نام پر قربان کئے۔ کون دے گا حساب مجھے ان نو سالوں کا۔“ اس کے بال بکھر کر چہرے اور گردن سے چپک گئے تھے جب کہ سانسیں دھونکنی کی مانند چل رہی تھیں۔

آپ تواپنے بیٹے کیلئے آئے ہیں نا اس کیلئے۔“ اس نے بے دردی سے کمبل کھینچا۔

لے جائیں اسے بھی۔ اپنی محبوب بیوی کی خوشی پوری کر دیں۔ وہ یہی چاہتی ہے نا‘ سو آپ اس کی خواہش کا احترام کریں۔

جائیں آپ۔“ وہ زور زور سے چلا رہی تھی۔ حیدر نے اسے بال نوچتے دیکھ کر تیزی سے پکڑا۔ زید بھی اٹھ گیا تھا اور اب خوفزدہ نظروں سے ماں کو تک رہا تھا۔

اذکی ہوش کرو‘ کیا پاگل پن ہے یہ۔“ حیدر نے اسے جھنجھوڑ ڈالا۔

نہ آپ نے مجھ سے محبت کی نہ قدر کی‘ پاگل ہو گئی ہوں میں نہیں خواہش رہی جینے کی۔ اب جی کر کرنا بھی کیا ہے۔“ اس نے بے دردی سے لب کچلے۔

حیدر نے اسے ساتھ لگا لیا تھا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

پلیز اذکی بس بھی کرو‘ مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔“ اس نے نرمی سے اذکی کے بالوں کو سہلاتے ہوئے کہا۔ وہ ایک دم چپ کرکے پیچھے ہٹ گئی تھی۔ حیدر نے پانی کا گلاس اس کے سوکھے لبوں سے لگایا۔ پھر زید کو اٹھا کر دوسرے کمرے میں لے گیا تھا۔ زید کو سلا کر اس نے تمام لائٹس آف کیں سوپ ٹھنڈا ہو چکا تھا وہ مائیکرو وویو میں گرم کرکے لے آیا۔ اذکی بھی شاید تھک گئی تھی اسی لئے جب حیدر نے اسے سوپ پلانا شروع کیا تو اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی تھی۔ خالی باؤل میز پر رکھ کر اس نے میڈیسن نکالی۔ دوا کھا کر وہ لیٹ گئی تھی۔ حیدر نے بھی دوسری طرف آکر تکیہ درست کیا اور دراز ہو گیا۔

ساحرہ نے دیا کیلئے دلیہ بنا کر فریج میں رکھا اور پھر اس کے بجتے سائرن کو خاموش کروانے کیلئے ٹی وی لگا دیا۔ مگر دیا ہی کیا جو چپ کر جائے۔ اس نے اسے ریموٹ پکڑا کر بہلانا چاہا مگر دیا نے اٹھا کر نیچے پھینک دیا۔ وہ اسے لے کر لان میں چلی آئی۔ اونگی بونگی سی حرکتیں کرکے اس نے دیا کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ پچھلے دو تین دن سے بخار کی وجہ سے نہ تو وہ سو رہی تھی نہ ہی کچھ کھا پی رہی تھی۔

مزاج بھی چڑچڑا سا ہو رہا تھا۔ ساحرہ نے اسے جھولے پر بٹھایا۔ مگر اس نے احتجاجاً چلانا شروع کر دیا تھا۔ تنگ آکر وہ اسے لئے اندر چلی گئی۔ راحت اس وقت آرام کر رہی تھیں۔ اس نے کھانا کھا کر برتن سنبھالے۔ دلیہ پیالے میں ڈال کر وہ بیڈ روم میں آ گئی۔

آج حیدر نے نہیں آنا تھا۔ دو دن سے وہ ”ادھر“ ہی تھا اسی وجہ سے ساحرہ کا موڈ سارا دن خراب رہا۔

اونہہ… اہمیت جتانے کے اوچھے ہتھکنڈے۔“ حیدر نے فون پر اسے اذکی کی خرابیٴ طبیعت کا بتایا تھا۔ ساحرہ نے ریسیور پٹخ کر تنفر سے سوچا۔

تھوڑا سا دلیہ زبردستی اسے کھلا کر اس نے دوا دی۔ جو کہ اس نے تھوڑی کھائی اور زیادہ گرائی۔

دو دن سے دیا کو شدید بخار تھا وہ ساری رات روتی رہتی۔ اس کی وجہ سے وہ بھی بے آرام رہی تھی۔ دن کو بھی سونے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔

ساحرہ کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہو رہی تھیں جبکہ دیا کا شاید آج بھی جاگنے اور جگانے کا پروگرام تھا۔ ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ دیا کسمساتے ہوئے اٹھ گئی اور رونا شروع کر دیا۔ ساحرہ جھنجھلا کر اٹھ بیٹھی۔

عجیب مصیبت گلے میں ڈال لی ہے۔“ اس نے دیا کے بازو کو سختی سے پکڑ کر دوبارہ لٹایا۔ وہ بھاں بھاں کرکے چلانے لگی تھی۔ روتے روتے اسے شدید کھانسی آ گئی۔

ساحرہ نے اس کی کمر سہلا کر سانس ہموار کیا۔ پانی پلا کر آخری کوشش کے تحت اس نے دیا کو تھپکنا شروع کر دیا تھا۔ پھر اچانک اس کے ذہن میں خیال آیا۔ وہ سرعت سے اٹھی اور دراز میں سے ایک درمیانے سائز کی شیشی نکال لائی۔ دودھ کی بوتل میں اس نے ننھی ننھی دو گولیاں مکس کیں اور دو پانی کے ساتھ خود نگل لیں۔ دیا کے منہ سے بوتل لگا کر اس نے اطمینان بھرا سانس خارج کیا۔

کچھ دیر بعد دیا اونگھنے لگی تھی۔ اسے بھی نیند کے شدید جھونکے آنے لگے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ غافل ہو گئی۔

حیدر ساری رات سو نہیں سکا تھا۔ اذکی کی حالت دیکھ کر نجانے کیوں اس کا دل موم ہوا جا رہا تھا۔ وہ غمگین تھی تو حیدر بھی خوش نہیں تھا۔ وہ متضاد کیفیات کا شکار تھا۔

جن دنوں وہ اذکی کو اس نام نہاد بندھن سے آزاد کرنے کا سوچ رہا تھا۔

ساحرہ وہ تکلیف دہ ڈاکٹری رپورٹس لے آئی۔ اس کی التجا اور امی جان کی خواہش جان کر وہ کچھ پل خاموشی سے سوچتا رہا۔ اسے وہ دونوں درست لگی تھیں اور پھر بچے کی خواہش بھی انگڑائیاں لے کر جاگ اٹھی۔

بظاہر اس نے ساحرہ کے مجبور کرنے پر اذکی کو بیوی کا درجہ دیا تھا مگر لاشعور میں یہ خواہش نجانے کب سے چھپی تھی۔

جب اذکی نے ماں بننے کی خبر اسے دی تھی تو گویا اسے دونوں جہان کی خوشیاں مل گئیں۔

وہ بے حد خوش تھا اور ساحرہ بھی اس کی خوشی میں شریک تھی۔ ڈاکٹر نے جڑواں بچوں کی نوید سنائی تو اس نے اور امی نے ساحرہ کی گود میں زید کو ڈال دیا تھا۔ لیکن ساحرہ نے خود ہی انکار کر دیا۔

پر اب جبکہ دونوں بچے اچھے خاصے سمجھ دار ہو گئے تھے ماں کے لمس کو پہچانتے تھے تو ساحرہ نے دیا کو لینے کیلئے اسے مجبور کرنا شروع کر دیا۔

ساحرہ نے اس کے سامنے دو شرائط رکھی تھیں اور حیدر کو ہر حال میں اس کی ایک شرط ماننا تھی۔

سو اس نے دیا کو اس کے حوالے کر دیا۔ دوسری شرط ماننا اس کے اختیار میں نہیں تھا۔ وہ خود کو اس موڑ پر انتہائی بے بس محسوس کر رہا تھا۔ اس کی یہی کمزوری شاید ساحرہ کے ہاتھ جا لگی تھی۔

لیکن اذکی کی حالت کے پیش نظر اس نے ساحرہ کی دوسری شرط پر توجہ دینا شروع کر دی تھی۔ پچھلے چند دنوں سے وہ شدید ذہنی اذیت کا شکار تھی۔ سوتے میں اٹھ کر چیخنے لگتی‘ بالوں کو نوچتی اور خود کو کوستی رہتی۔

زید بھی الگ سہما سہما سا تھا۔ سو اس نے دل کی آواز پر کان بند کرکے دماغ سے سوچنا شروع کر دیا۔ امی نے کبھی اذکی کو دل سے قبول نہیں کیا۔ ساحرہ اگر انہیں پوتا پوتی دے دیتی تو اذکی کی طرف وہ آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ ساحرہ بھی اس کے وجود کو برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔ اپنی تکلیف کم کرنے کیلئے اس نے اذکی کو اذیت پہنچانے کا الگ طریقہ سوچا تھا یعنی دیا کو اس نے سے چھین کر۔

وہ صبح بغیر ناشتہ کئے آفس چلا آیا تھا۔ پہلی مرتبہ وہ راحت ولا ساحرہ سے ملے بغیر آفس میں موجود تھا۔ مگر ہمیشہ کی طرح وہ دلجمعی سے کام نہیں کر سکا۔ سر میں الگ ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ اس نے کچھ لمحے سوچا اور پھر اپنے سامنے چند کاغذات تیار کرنے کیلئے کہا۔ اس نے فلیٹ اذکی کے نام کر دیا تھا جبکہ بینک میں موجود تین لاکھ رقم میں مزید پچاس ہزار کا اضافہ کیا۔

اس کام سے فارغ ہو کر اس نے بخاری صاحب سے چھٹی لی اور راحت ولا چلا آیا تھا۔ وہ بیڈ روم کے دروازے تک آیا تو ساحرہ کی سوئی سوئی آواز نے قدم روک لئے۔

حیدر صرف اور صرف میرا ہے۔ مجھے اس سے شدید محبت ہے۔“ وہ تفخر سے بول رہی تھی۔ حیدر کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ جانتا تھا کہ ساحرہ اس کے معاملے میں کس قدر شدت پسند ہے۔ اس نے کوٹ دائیں کندھے پر منتقل کرکے ہینڈل پر ہاتھ رکھا۔

میں نے جسے چاہا اسے پایا بھی۔ کوئی میرے راستے کی رکاوٹ بنے میں اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہوں۔ پھر اذکی کیا چیز ہے۔ مجھے یقین ہے کہ حیدر میری دوسری شرط ماننے پر تیار ہو جائے گا۔ کیونکہ اذکی اسے مجبور کرے گی۔ وہ بچی کے بغیر نہیں رہ سکتی‘ بچی ماں کے بغیر نہیں رہ سکتی اور میں… میں حیدر کے بغیر نہیں رہ سکتی۔

حیدر نے دروازے کو ہولے سے دھکیلا‘ دروازہ کھلتا چلا گیا تھا۔

ساحرہ کی اس طرف پشت تھی یا پھر وہ فون پر ہی اس قدر محو تھی کہ اسے حیدر کی آمد کا احساس نہیں ہوا تھا۔ ورنہ وہ تو اس کی خوشبو سے ہی پہچان لیا کرتی تھی۔

میں نے ہر بازی سوچ سمجھ کر کھیلی ہے۔ جیت ہمیشہ میرے مقدر میں لکھی گئی ہے۔ اس وقت بھی جب اذکی راحت ولا میں حیدر کی منکوحہ بن کر آئی تھی اور اب بھی جبکہ وہ اس کے دو بچوں کی ماں ہے۔ اسے پیچھے ہٹنا ہے ہر صورت۔

حیدر ٹھٹک کر رہ گیا تھا۔ اس نے بے یقینی سے ساحرہ کی پشت کو دیکھا۔

دنیا کے جس کونے میں بھی دیا اور زید رہیں بس میری نگاہوں سے اوجھل ہو جائیں۔ ویسے بھی وہ جہاں رہیں حیدر کے بچے ہی کہلائیں گے اسی کے نام سے پہچانے جائیں گے۔ حیدر کو بھی یقین و اطمینان رہے گا کہ اس کے بچے موجود ہیں۔ پھر وہ صرف اور صرف میرا ہوگا۔ کوئی اذکی ہمارے درمیان نہیں آئے گی اور نہ ہی کسی اور دوسری عورت کا دھڑکا۔

وہ حقارت سے کہہ رہی تھی جبکہ حیدر کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا۔ الفاظ تھے کہ شعلے اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ سامنے کھڑی عورت نے بھی اس تپش کو محسوس کر لیا تھا۔ جب وہ پلٹی تو حیدر کو موجود دیکھ کر اس کے ہاتھ سے ریسیور چھوٹ کر گر پڑا۔

تم کب آئے۔“ وہ گڑبڑا گئی تھی۔ حیدر لب بھینچے دو قدم آگے بڑھا اور ساحرہ نے اس کی آنکھوں میں پھیلی سرخی اور چہرے کے تناؤ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنا چاہا تھا۔ اسے اسی پل حیدر سے خوف محسوس ہو رہا تھا شدید خوف۔

بہت بڑی ایکٹر ہو تم اور میں۔“ دھیمے لہجے میں بھوکے شیر کی سی غراہٹ تھی۔ ساحرہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہونے لگی۔

میں اس دنیا کا احمق ترین آدمی ہوں۔

اس نے استہزائیہ ہنس کر ساحرہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پھر تھپڑ دے مارا۔ ساحرہ کے لبوں سے بے ساختہ چیخ نکل گئی۔ اس نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے حیدر کے تنے تنے نقوش کو دیکھا۔ حیدر نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ وہ گال پر ہاتھ رکھے بے یقین سی کھڑی تھی۔ وہ اذکی نہیں ساحرہ تھی۔ اذکی کو مارنا معمولی واقعہ تھا لیکن ساحرہ کو مارنا معمولی بات نہیں تھی۔

تم نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔“ وہ غرائی۔ حیدر نے لگاتار دو اور تھپڑ اس کے منہ پر مارے۔ بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر اس نے اُسے زور دار جھٹکا دیا تھا وہ دیوار سے جا ٹکرائی۔

میرا دل چاہ رہا ہے کہ تمہیں شوٹ کر دوں ڈرامے باز عورت۔“وہ دھاڑا۔ پھر اسے بازو سے پکڑتے ہوئے دوبارہ اپنے مقابل کھڑا کرتے ہوئے بولا۔

بہت شاطر دماغ ہے تمہارا۔

میں کوئی چال سمجھ ہی نہیں سکا۔ ہوں نا بے وقوف۔“ وہ اذیت سے کہتے ہوئے ایک پل کو روکا۔

بہت ذہین ہو تم۔ میں متاثر تھا تمہارے اس شیطانی دماغ سے۔ اس حسن سے‘تعلیم سے خاندان سے۔“ اس نے آنکھوں میں امڈنے والی نمی کو صاف کرتے ہوئے لب کچلے۔

تم سے بہتر تو وہ جاہل عورت ہے جس نے اپنے دل کے ٹکڑے کو تمہاری گود میں ڈالا۔ بقول میری ماں کے وہ نیچ عورت‘ بہت بلند ہے۔

جو میرے دیئے ہر دکھ ہر درد کو ان دو دنوں میں بھول چکی ہے کیونکہ حیدر نے اس سے پہلی مرتبہ محبت سے بات کی ہے۔ اس نے ان دو دنوں کے صدقے ہمیشہ کیلئے اپنی بچی کو تمہیں دے دیا۔ رات کو اس نے مجھے اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا میں تمہیں یہ خوشخبری رات ہی کو سنا دینا چاہتا تھا۔ اذکی نے بخوشی رضا مندی ظاہر کی تھی۔ میرے ضمیر پر پڑا بوجھ ہلکا ہو گیا۔

لیکن رات کے پچھلے پہر میں نے اسے روتے دیکھا بے تحاشا روتے ہوئے۔ اس نے میری محبت پر ممتا کو قربان کر دیا تھا مگر اپنا دل۔

حیدر کی آواز رندھ گئی۔

انسان کس مقام پر بے بس ہوتا ہے؟ اور کس مقام پر رسوا ہوتا ہے؟

میں بے بس اس وقت ہوا تھا جب بابا کے چہرے پر آزردگی پھیلی دیکھی تھی۔ ان کی آنکھوں میں امید کے دیے روشن تھے میں انکار کرتا تو وہ دیے بجھ جاتے۔

میں نے خود کو بے بس پایا۔ پہلی مرتبہ بابا کی محبت میں خود کو مجبور پایا تھا میں نے اور دوسری مرتبہ تمہاری محبت میں۔ جب بیمار باپ کے سامنے تم سے شادی کا اعلان کیا تھا۔ میں اس وقت بھی لاچار تھا۔ کیونکہ تمہاری چاہت نے بیڑیاں ڈال رکھی تھیں پاؤں میں۔ اور آج اسی محبت نے مجھے اس مقام پر لاکر رسوا کر دیا ہے۔ تم نے کیسی محبت کی مجھ سے کہ ہر مقام پر مجھے گناہ گار کرتی رہیں‘ اللہ کا مجرم بناتی رہیں۔

وہ رو رہا تھا۔ ساحرہ نے بے یقینی سے اس کے چہرے پر پھیلتے آنسوؤں کو دیکھا۔ حیدر نے دھند کے پار بیڈ پر کمبل میں سوئی اپنی بیٹی پر نگاہ ڈالی۔ وہ ساحرہ کے چلانے اور حیدر کے دھاڑنے پر بھی نہیں اٹھی تھی۔ حالانکہ اس کی نیند بے حد ہلکی تھی۔ ذرا سا کھٹکا ہوتا اور وہ اٹھ جاتی۔

ساحرہ! میں نے سوچا تھا کہ تمہاری دوسری شرط مان لوں۔

میں اذکی کو چھوڑنے والا تھا ہمیشہ کیلئے۔ تمام کاغذات تیار ہیں۔ میں تمہیں اور امی کو انگلینڈ لے جانا چاہتا تھا اس لئے کہ مجرم ہمیشہ منہ چھپاتا ہے۔ لیکن اب۔“ وہ رُکا تو ساحرہ کی سانسیں بھی تھم گئیں۔

میں جا رہا ہوں ساحرہ! میرے جانے کے بعد ایک لمحے کیلئے ضرور سوچنا کہ تم نے واقعی مجھ سے محبت کی تھی یا محض میری ماں کی انا تھی یا پھر تمہاری ضد۔

حیدر پلٹ کر بیڈ کی طرف آیا۔ ساحرہ نے تیزی سے اس کے بازو کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔

تم… مجھے چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہو حیدر‘ میں تمہارے بغیر کیسے رہوں گی۔

وہ گڑگڑاتے ہوئے اس سے لپٹ گئی۔ حیدر نے تنفر سے اس کے ہاتھوں کو جھٹکا۔

تم اس سونے کے محل میں اکیلی رہنا۔ تنہائی تو ویسے بھی پسند ہے تمہیں۔“ وہ غرایا تھا۔

راحت بھی شور سن کر آ گئیں۔

جو کیا تمہاری ماں نے کیا‘ میں تو محض مہرہ تھی۔“ راحت کو دیکھ کر وہ چیخی تھی۔ راحت نے بھی منٹوں میں صورت حال جان لی تھی۔ اس کی وحشت زدہ آنکھوں میں جھانکتے ہوئے لاپروائی سے بولیں۔

میں نے کیا کیا ہے۔ تمہاری خاطر بہو اور پوتے پوتی کو گھر سے نکالا۔ ترستی رہتی ہوں ان کی صورت دیکھنے کیلئے… بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔

وہ اپنا واویلا کرنے لگیں۔ حیدر نے ماں کی طرف دیکھے بغیر دراز میں سے چند کاغذات نکالے۔

خالہ حیدر کو روکیں یہ جا رہا ہے۔“ ساحرہ سارا غرور طنطنہ بھلائے التجا کر رہی تھی۔ حیدر نے لیدر کے بیگ میں ضروری سامان رکھا اور پھر کمبل ہٹا کر دیا کو اٹھانے لگا۔

امی… دیکھیں دیا کو کیا ہوا ہے۔“ اس کی متوحش پھٹی پھٹی آواز نے راحت کو بے حد پریشان کر دیا۔

وہ لشتم پشتم بیڈ تک آئیں۔

ارے یہ تو ٹھنڈی پڑی ہے۔“ راحت نے اس کے جسم کو چھوا۔ حیدر دیوانوں کی طرح اس کی نبض ور دل کی دھڑکن چیک کر رہا تھا۔ راحت نے نجمہ کو پکارا۔

ڈاکٹر کو فون کرو۔

امی… دیا۔“ وہ کپکپاتی آواز میں بولا۔ دیا کا گلابی چہرہ لٹھے کی طرح سفید ہو رہا تھا جب کہ ہونٹ نیلے ہو گئے تھے۔ راحت نے دل پر ہاتھ رکھا۔

ہائے ماں صدقے کیا ہوا ہے میری بچی کو۔“ دیوار سے لگی ساحرہ نے راحت کی بلند آواز کو سنا۔ حیدر کی صدمے سے چور آواز نے اس کی رہی سہی ہمت بھی نچوڑ لی۔

اماں… میری بیٹی مر گئی۔“ اس نے دیوار کا سہارا لیا۔

دیا مر گئی۔

وہ بڑبڑائی اور پھر سر کو دونوں ہاتھوں سے تھامے وہ گرتی چلی گئی تھی۔

یں ساحرہ ہوں۔ مرسلین وجاہت کی اکلوتی بیٹی۔

محبت‘ ذہانت‘ حسن اور دولت سے مالا مال۔

بچپن سے ہی مجھے احساس دلایا گیا تھا کہ میں بہت خاص ہوں۔ اپنے ماں باپ کیلئے‘ دادی دادا کیلئے‘ ننھیال والوں کیلئے۔ ڈیڈی مجھے بے انتہا چاہتے تھے۔ انہوں نے میری ہر ضد پوری کی۔ مجھے بے تحاشا محبت دی لیکن ایک وقت ایسا آیا تھا کہ میرے عزیز ازجان ڈیڈی نے نہ صرف میری خواہش رد کی بلکہ مجھ سے شدید ناراض بھی ہوئے۔

انسان جذبات میں اندھا ہوتا ہے اور محبت میں بے تحاشا اندھا… میں نے ہوش سنبھالا تو حیدر کا نام اپنے نام کے ساتھ جڑا سنا۔

نانی ہمیشہ بڑے دلار سے کہتی تھیں کہ ساحرہ میرے حیدر کی دلہن بنے گی۔ شعور کے ساتھ ساتھ حیدر کا خیال پختہ ہوتا گیا۔ اسی لئے میں نے ہمیشہ اس پر اپنا حق جتایا۔

کیونکہ نانی کے ساتھ خالہ نے بھی ہمیشہ مجھے یہی جتانے کی کوشش کی تھی کہ حیدر مجھے چاہتا ہے مجھ سے محبت کرتا ہے۔

جو خواب خالہ نے میری آنکھوں میں اتارے تھے ان کی مدت بے حد طویل تھی۔ میں نے چھوٹی سی عمر میں بڑا لمبا سفر طے کر لیا تھا۔ جب حیدر کے نکاح کی خبر مجھ تک پہنچی تو میرے قدموں تلے گویا انگارے بچھ گئے۔ جسے میں نے سوچا‘ چاہا‘ پوجا وہ کسی اور کا ہو گیا تھا۔ مجھ پر ایک جنون کی کیفیت طاری ہو گئی۔ میں ساری رات روتی رہی‘چیختی رہی۔ امی مجھے سنبھال رہی تھیں سمجھا رہی تھیں۔

مجھے اس لڑکی سے نفرت محسوس ہو رہی تھی جو حیدر کی منکوحہ تھی۔ میرے خواب اجڑ گئے تھے۔ میں جتنا بھی ماتم کرتی کم تھا۔

خالہ کو میری حالت کا پتا چلا تو وہ دوڑی چلی آئیں۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا تھا کہ اس نکاح کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ اہمیت۔ خالو نے جذبات میں آکر یہ قدم اٹھایا ہے اور مجھے غمگین نہیں ہونا چاہئے۔ میں سنبھل گئی۔ پھر حیدر کے رویے نے بھی خالہ کی بات پر مہر لگا دی۔

میں مطمئن ہو گئی تھی۔

خالہ نے ہر لمحے مجھے احساس دلایا تھا کہ میں ہی ان کی بہو ہوں۔ میرے لئے یہ اعزاز کسی میڈل سے کم نہیں تھا۔

اذکی کیا تھی حیدر کی نظر میں خالہ کی نگاہ میں فقط عام سی لڑکی جسے خالو ہمدردی کے تحت لے آئے تھے۔ خالہ نے ہمیشہ اسے کسی تیسرے درجہ کی ملازمہ ہی سمجھا تھا۔ میں نے بھی خالہ کی پیروی کرتے ہوئے اسے ایک نوکرانی کی طرح ٹریٹ کیا۔

لیکن میرے لاشعور میں ہمہ وقت ایک خوف کنڈی مارے بیٹھا رہتا تھا جو کہ مجھے کبھی بھی مطمئن ہونے نہ دیتا۔ یہ خوف آہستہ آہستہ جڑ پکڑنے لگا۔ جب میں نے حیدر کو ازکی کی طرف متوجہ ہوتے دیکھا۔ اگرچہ وہ اسے بلاتا نہیں تھا مگر اس کی آنکھیں، میری چھٹی حس نے مجھے احساس دلایا تھا کہ کچھ غلط ہونے والا ہے۔ پھر خالہ کی طرف سے شادی کا اصرار۔ میں نے امی اور ڈیڈی کو اپنی قسم دے کر منا لیا تھا جبکہ ڈیڈی مجھ سے شدید خفا ہو گئے تھے۔

ان کے نزدیک میں غلط تھی میری محبت غلط تھی۔ مجھے ڈیڈی کی اس سوچ سے وحشت ہونے لگی۔ انہیں تو اپنی بیٹی کے بارے میں سوچنا چاہئے تھا کجا کہ ایک ایسی لڑکی جسے انہوں نے دیکھا تک نہیں تھا۔ اس کے غم میں گھلے جا رہے تھے۔ اس رات میری ڈیڈی کے ساتھ شدید جھڑپ ہوئی۔

کیا یہ اس لڑکی پر ظلم نہیں جو کہ حیدر کی منکوحہ ہے۔“ ڈیڈی کے الفاظ سن کر میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔

آپ کو میرا احساس نہیں ہے۔“ میں نے رونا دھونا شروع کر دیا۔ امی اور ڈیڈی کو آخر ماننا ہی تھا۔

حیدر کی زندگی میں داخل ہو کر بھی میرے اندر سے وہ خوف نہیں نکل سکا مجھے اذکی کے وجود سے نفرت تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں اضافہ ہوتا گیا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا جب میں نے نئے سرے سے ”گیم“ پلان کیا۔ ایسا گیم جس میں سارے فائدے میرے ہی تھے۔

خالہ تو ویسے بھی اذکی سے متنفر تھیں۔ ان کی نفرت کو میں نے مزید دو چند کیا تھا ہر وقت اذکی کی برائیاں کر، کرکے لیکن جب مجھے اس کی ضرورت محسوس ہوئی میں نے خالہ کو رام کرنا شروع کر دیا۔

پانچ سال گزر جانے کے بعد ڈاکٹر نے جو پروانہ میرے ہاتھ میں پکڑایا تھا اس نے میرے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچ لی تھی۔ خالہ کا رویہ بھی بدلنے لگا۔ نندوں نے بھی دبے دبے طعنے دینا شروع کر دیئے۔

ان سب کی فطرت سے میں واقف تھی۔ اپنا مقام بڑھانے اور حیدر پر احسان کرنے کا مجھے موقع مل گیا۔ میں نے خالہ اور حیدر کو اذکی کی طرف ازخود متوجہ کیا۔ خالہ اذکی سے تو نہیں البتہ مجھ سے اور بھی خوش ہو گئیں۔ پورے خاندان میں واہ واہ ہونے لگی۔ میرے اس عمل سے ڈیڈی بے حد خوش تھے۔ اذکی اور حیدر کے نکاح سے تقریباً سب ہی لاعلم تھے۔ اسی بات سے فائدہ اٹھا کر میں نے ایک نئی مثال قائم کرکے سب کے دلوں پر راج کرنے کے متعلق سوچا حیدر میر اعلیٰ ظرفی کا قائل ہو گیا۔

اس کی محبت میں کئی گناہ اضافہ ہوا تھا۔

اذکی ماں بنی تو حیدر بے حد خوش تھا۔ اسے اولاد کی نعمت حاصل ہوئی تھی اسے تو خوش ہونا ہی تھا۔ میں نے بھی خوش دلی کا خول خود پر چڑھا لیا۔ زید کو گود میں لیتے ہوئے ایک اور ننھا سا احساس دل میں ابھرا تھا۔ یہ احساس نفرت کا نہیں حسد کا تھا اور یہ حسد مجھے اس مقام تک لے آیا جس میں نری رسوائی ہی رسوائی تھی۔

سوچی سمجھی اسکیم کے تحت میں نے اذکی کو گھر سے نکلوایا تھا۔ مگر یہاں پر مجھے منہ کی کھانی پڑی تھی‘ میرے وجود کی عمارت دھڑام سے گری تھی۔

حیدر نے اذکی کو فلیٹ لے دیا۔“ میرا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔ اس خبر نے مجھے توڑ پھوڑ دیا۔

تو کیا اذکی‘ حیدر کے دل تک پہنچ گئی ہے۔“ میں خوفزدہ ہو گئی۔ حیدر مجھ سے دور جانے والا تھا۔

چونکہ اذکی کا پلڑا بھاری تھا وہ اس کے بچوں کی ماں تھی۔ مجھے خطرے کی گھنٹیاں سنائی دینے لگیں۔ ہمیشہ غیر محسوس طریقے سے اپنی مٹھاس بھری باتوں میں حیدر کو الجھا کر میں نے اذکی تے متنفر کرنے کی کوشش کی تھی مگر اب… سارا پانسا الٹ چکا تھا۔ میں جو جھولی بھر کر لینے کی عادی رہی تھی تہی داماں رہ گئی۔ اس کا سرشار مطمئن چہرہ‘ سجا سجایا گھر‘ صحت مند بچے‘ مکمل گھریلو عورت کا روپ اور پھر بچوں پر فدا ہوتا حیدر۔

سب کچھ اسی کا تھا میرے حصے میں کیا آیا۔

میں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا تھا اس کے سکون کو درہم برہم کرنے کا سو میں کامیاب بھی رہی۔

حیدر کے سامنے دو شرائط رکھ کے میں پرسکون وہ چکی تھی۔ حیدر نے دیا کو میرے حوالے کر دیا یعنی کہ وہ اذکی کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔

اگر میں ظرف اور دل کو تھوڑا وسیع کر لیتی تو آج خالی دامن نہ رہتا پڑتا مگر میں تو بے حد کم ظرف تھی۔

میں ایسا کیونکر کرتی۔

دیا میرے پاس آئی تو پہلی مرتبہ میں نے اس میں حیدر کی شبیہ ڈھونڈ کر جی بھر کے اسے پیار کیا۔ میری ممتا کے سوتے پھوٹ پڑے۔ دیا حیدر کی بیٹی تھی میں نے اسے اپنی بیٹی سمجھا‘ مگر وہ اذکی کے وجود کا حصہ بھی تھی وہ مجھے کبھی ماں نہیں سمجھ سکتی تھی۔ تین سال کی بچی میرے اور اپنے رشتہ کو جان بھی کیسے باقی۔ ماں سے دوری نے اسے چڑچڑا کر دیا تھا۔

وہ دن بھر روتی اور رات بھر چلاتی رہتی۔ میں نے اسے چپ کروانے اور سلانے کا پرانا طریقہ سوچا۔

مجھے جب نیند نہیں آتی تو میں آرام سے دو تین گولیاں کھا کے سو جاتی ہوں۔ میں نے اس تین سالہ بچی کے ساتھ بھی یہی کیا اور وہ ہمیشہ کیلئے سو گئی اور حیدر کی محبت بھی دیا کے ساتھ مر گئی۔ وہ مجھے الزام دیتا ہے کہ میں نے اس کی بیٹی کو قتل کر دیا ہے۔

ہاں یہ سچ ہے کہ میں نے اسے مارا ہے لیکن جان بوجھ کر نہیں۔ میں اسے مارنا نہیں چاہتی تھی۔ میں تو بس… بھلا میں حیدر کی بیٹی کو مار سکتی ہوں مگر حیدر کو کون سمجھائے۔

اس نے مجھے پولیس کے حوالے نہیں کیا۔ حالانکہ اسے ایسا کرنا چاہئے تھا۔ یہ بھی نہیں کہ وہ اپنی رسوائی کے ڈر سے خاموش ہو گیا ہے۔

نہ ہی وہ اخبار میں لگنے والی خبروں سے خوفزدہ ہو کر چپ کی بکل مار بیٹھا ہے۔

اس نے دراصل مجھے ضمیر کے حوالے کر دیا ہے تاکہ یہ ضمیر رات دن کچوکے لگائے‘ کوڑے برسائے‘ اذیت سے دوچار کرے مجھے۔ خود تو وہ اسی دن چلا گیا تھا اذکی اور زید کو لے کر۔

میں اور میری خالہ اس سنہری محل میں سارا دن چکراتی رہتی ہیں۔ لیکن ایک دوسرے سے کچھ نہیں بولتیں۔ ہمارے پاس بولنے کیلئے بچا ہی کچھ نہیں حیدر چلا گیا۔ میری زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے میں جانتی ہوں اب وہ کبھی نہیں لوٹے گا۔

بھلا حیدر کے بغیر بھی زندگی کوئی زندگی ہے۔ مجھے اب جینا چاہئے بھی نہیں میرا زندہ رہنے کو دل بھی نہیں کرتا۔ اب تو دیا بھی رات بھر پکارتی رہتی ہے۔ اسے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔ اسی لئے وہ مجھے اپنے پاس بلاتی ہے۔ میں دیا کے پاس جانا چاہتی ہوں۔ میں اس تعفن زدہ وجود و ختم کرنا چاہتی ہوں۔

کاش میں تم سے معافی مانگ سکتی اذکی! اے کاش نادان انسان سمجھ پائے۔

######

بخاری صاحب کا چوکیدار اللہ بخش فجر نماز پڑھنے کیلئے مسجد جا رہا تھا جب سامنے گراؤنڈ میں ٹھنڈی گھاس پر پڑے وجود پر اس کی نظر پڑی۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا باڑھ پھلانگ کر اندر چلا آیا۔ اللہ بخش حیران تھا کہ اتنی صبح ٹھنڈی گھاس پر کون لیٹا ہوا ہے۔ قریب آیا تو آنکھیں حیرت سے اُبل پڑیں۔ وہ کوئی عورت تھی جس کے منہ سے سفید جھاگ نکل کر گردن اور بالوں سے چپک گیا تھا۔

اللہ بخش نے جھک کر اس کا بازو پکڑا۔ اس کا اندازہ درست نکلا تھا۔ وہ عورت مر چکی تھی اور اسے مرے ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے تھے۔ کیونکہ اس کا وجود ٹھنڈ سے اکڑ گیا تھا۔

اللہ بخش نے اس کی کلائیوں میں پڑی سونے کی چوڑیوں اور بالیوں کو دیکھ کر عورت کی مالی حیثیت کا تعین کیا۔ پھر تھکے تھکے قدموں سے اعلان کروانے کیلئے چل دیا۔

اس کے علاوہ وہ کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا۔

وہ پارک سے باہر نکلا تو ایک گھبرائی گھبرائی سی بوڑھی عورت کو دیکھ کر ٹھٹک گیا۔

اللہ بخش نے اسے آواز دی۔ وہ راحت تھی جو کہ ساحرہ کو اس کے کمرے میں نہ پاکر گھبراتے ہوئے باہر نکل آئی تھیں اور جب گیٹ کھلا دیکھا تو ان کا کلیجہ حلق میں آ گیا۔

اللہ بخش نے انہیں پارک میں پڑی اس مردہ عورت کے متعلق بتایا۔ راحت کی آنکھیں ابل پڑیں۔

وہ گم صم سی اس کے ساتھ چل رہی تھیں۔

###

آج وہ پورے آٹھ برس بعد اس سرزمین پر قدم رکھ رہا تھا۔ اس کے ساتھ اس کی بیوی اذکی تھی جو کہ چار سالہ دیا پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھی۔ دیا اپنی بڑی بڑی آنکھوں میں حیرت سموئے اردگرد کے مناظر کو انتہائی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی جبکہ زید قدرے بیزار سا تھا۔ کیونکہ اس کی نیند ادھوری رہ گئی تھی۔ ٹیکسی کے ذریعے وہ گھر پہنچے تھے۔

اپنے آنے کی اطلاع اس نے بہنوں کو نہیں دی تھی اسی لئے راحت ولا میں سناٹوں نے استقبال کیا۔ اس نے پھاٹک کھولا اور اندر چلا آیا۔ دھول مٹی اور جگہ جگہ گند بکھرا ہوا تھا۔ دیا نے لان میں موجود جھولے کو دیکھ کر شور مچانا شروع کر دیا۔ زید اور دیا دونوں بھاگتے ہوئے جھولے تک گئے اور پھر دونوں میں زور دار قسم کی جھڑپ ہوئی۔ ہمیشہ کی طرح اب بھی اذکی نے دونوں کی صلاح کروائی۔

بیٹا! آپ بعد میں لے لینا۔ پہلے چھوٹی بہنا کو جھولا لینے دو۔“ وہ منہ بناتا ہوا دیا کو جھولے پر بٹھانے لگا۔ دیا خوب چہک رہی تھی‘ اس کی معصوم چہکار نے برسوں کی چھائی خاموشی کو توڑ ڈالا۔ سکوت ٹوٹ چکا تھا۔ سناٹا دم دبا کر بھاگ نکلا۔

اس کے جانے کے چھ ماہ بعد امی نے ساحرہ کی خودکشی کی اطلاع دی تھی۔ اس نے بے دلی سے سن کر فون رکھ دیا۔

وہ سب کچھ بھلا سکتا تھا مگر اپنی بیٹی کی قاتلہ کو معاف نہیں کر سکتا تھا۔ اسے یہی بہتر لگا تھا کہ وہ منظر سے ہٹ جائے۔ اسی لئے وہ اذکی کو لئے جدہ چلا گیا۔ دو سال پہلے راحت بھی اس جہان فانی سے کوچ کر گئی تھیں۔ ساحرہ کے مرنے کے بعد ان کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں رہا تھا۔ سارا سارا دن بولائی بولائی حیدر کو پکارتی رہتیں۔ بیٹیاں روزانہ تو نہیں ہفتہ بعد آ جاتی تھیں۔

پاگل ماں کی خیریت دریافت کرنے۔

حیدر۔“ اذکی نے اسے پکارا تھا۔ خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ وہ تیزی سے اذکی کی طرف بڑھا تھا جو کہ بیگ پکڑے دروازہ کھلنے کی منتظر کھڑی تھی۔

اذکی نے اندر آکر کھڑکیاں دروازے کھولے۔ تازہ ہوا کمروں میں داخل ہوئی تو حبس کچھ کم ہوا۔ اب وہ ڈوپتا اتارے پائپ پکڑے صحن اور برآمدہ دھو رہی تھی۔ دونوں بچے پانی کو دیکھ کر اچھلنے کودنے لگے۔

اذکی! میں کھانا لے کر آتا ہوں۔ اتنے میں تم یہ کھٹ راگ ختم کرو۔“ وہ پانی کی بوتل پکڑے اس کے قریب چلا آیا۔ اذکی نے حیدر کے مرجھائے وجود کو بغور دیکھا۔ وہ پہلے سے کس قدر بدل چکا تھا نہ مزاج میں تندی رہی تھی نہ ہی بے حسی اور لاپروائی۔ وہ بے حد ذمہ دار اور سنجیدہ ہو گیا تھا۔

کپڑے تو بدل لیں۔“ اذکی اس کے پر شکن لباس کو دیکھ کر بولی۔

ٹھیک ہی ہیں۔ میں کون سا ولیمہ اٹینڈ کرنے جا رہا ہوں۔“ وہ بے نیازی سے کہتا ہوا دیا کو آواز دینے لگا۔ وہ بھی باپ کو باہر کی طرف جاتا دیکھ کر لپکتی ہوئی آ گئی تھی۔ حیدر نے جھک کر اسے اٹھایا اور پورچ کی طرف آ گیا۔

بابا آپ کی گاڑی تیسری نسل کے بھی کام آئے گی یقینا…‘ وہ گاڑی کا آئل پانی چیک کرکے آہستگی سے بڑبڑایا۔

اپنی گلیاں‘ پرانے راستے سب اجنبی اجنبی سے لگ رہے تھے۔

کھانا پیک کروا کے اس نے دیا کو آئسکریم کھلائی۔ سپر مارکیٹ سے جیلی‘ کینڈیز اور چاکلیٹ کی شاپنگ کرکے وہ بڑی مسرور نظر آ رہی تھی۔

واپسی پر اپنے علاقے کے قبرستان پر نظر پڑی تو گاڑی کو روڈ پر کھڑا کرکے نیچے اتر آیا تھا۔

بابا کدھر جا رہے ہیں۔“دیا اس کی انگلی پکڑے حیرانگی سے بولی۔

دادو سے ملنے۔“ وہ ہولے سے بڑبڑایا۔

کس سے۔“ دیا کو شاید سمجھ نہیں آئی تھی۔ ہتھیلی کی پشت سے منہ صا ف کرکے وہ اشتیاق سے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ وہ ماں کی قبر کے پاس آکر دو زانو بیٹھ گیا تھا۔ دیا نے بھی اس کی پیروی کی۔

نجانے کون کون سے منظر آنکھوں کے سامنے آ رہے تھے۔ اس نے فاتحہ پڑھ کر چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ بہت سی نمی نے انگلیوں کی پوروں کو چھوا تھا۔ ساتھ بنی قدرے اونچی سی قبر کے سنگ مر مر کے کتبہ پر لکھا ساحرہ کا نام پڑھ کر اس کے دل خون کے آنسو رویا تھا۔

اس کا چہرہ ایک دفعہ پھر سے گیلا ہونے لگا۔ فاتحہ کیلئے ہاتھ اٹھائے تو وجود‘ کپکپانے لگا تھا۔ دیا نے بھی باپ کو دیکھ کر ننھے منے ہاتھ دعا کیلئے اٹھا دیئے۔

میں تم سے نفرت کرنا چاہتا ہوں مگر…“ اس کی قبر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ آہستگی سے بولا تھا۔

مگر میں ایسا کر نہیں سکتا۔ جانتی ہو کیوں؟ اس لئے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں بہت زیادہ۔

شرٹ کی آستین سے چہرہ صاف کرکے وہ بڑبڑایا۔

پپا! چلیں بھی۔“ دیا گھبرا گئی تھی۔

چلتے ہیں بیٹا۔“ وہ اٹھ کر بابا کے قریب آ گیا اور پھر دیا کی تربت کو دیکھ کر وہ بے تحاشا رونے لگا تھا۔

میری پیاری بیٹی۔“ اس نے تھوڑی سی پرنم مٹی کو اٹھا کر چوما۔

یہ میرا خاندان ہے۔ انتہا پسند اور خود پرست‘ محبتوں میں بھی اور نفرتوں میں بھی۔

اس نے اذیت سے سوچا۔

یااللہ میں بڑا بے انصاف رہا ہوں‘ مجھے معاف کر دینا۔“ اس نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور پھر سہمی ہوئی بچی کو ساتھ لپٹا لیا۔ دیا رونے لگی تھی پھر منا سا ہاتھ اس کے چہرے پر رکھ کر دھیرے سے بولی۔

گھر چلیں۔

ہاں چلو۔“ وہ اٹھا اور پھر تیز قدموں سے پھاٹک عبور کر گیا۔ گھر آنے تک اس نے خود کو نارمل کر لیا تھا۔

لیکن اذکی پہلی نظر میں ہی اسے دیکھ کر جان گئی تھی اور پھر دیا نے بھی تصدیق کر دی۔

حیدر! کھانا کھا لیں۔“ اذکی نے پلیٹیں ٹیبل پر رکھتے ہوئے حیدر کو آواز دی۔ وہ بے دلی سے محض ان کا ساتھ دینے کیلئے چلا آیا تھا۔ پھر جلدی اس نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ اذکی وجہ جانتی تھی اسی لئے خاموش رہی۔ گزرے برسوں میں وہ حیدر کے بے حد قریب آ گئی تھی۔

بن کہے ہی جاننے لگی تھی کہ حیدر کو کس چیز کی ضرورت ہے اور فی الحال وہ تنہائی اور خاموشی چاہتا تھا لہٰذا اذکی بچوں کے ساتھ مصروف رہی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ صرف لمحاتی کیفیت ہے کچھ دیر بعد جب وہ باہر آیا تو پہلے کی طرح فریش تھا۔ اس کا ارادہ بچوں کو گھمانے پھرانے کا تھا لہٰذا مری کا پروگرام بن گیا۔ بچوں نے سنا تو خوشی سے اچھلنے لگے۔ اذکی نے مختصر سی تیاری کی۔

حیدر جلدی کی گردان کئے جا رہا تھا۔ اس میں بہت سی تبدیلیاں آئی تھیں۔ بس یہ عادت شاید بہت پختہ ہو چکی تھی۔ اذکی ہمیشہ کی طرح بوکھلانے لگی۔ حیدر پہلے کی طرح آرڈر دینے کی بجائے اس کے ساتھ مل کر پیکنگ کروا رہا تھا۔ پھر اس نے گاڑی میں سامان رکھا۔ اذکی نے کمروں کو لاک کیا اور فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گیا۔ سفر کے دوران بچوں نے خوب اودھم مچائے رکھا۔

آسمان پر چھائے بادلوں کے ٹکڑوں کو دیکھ کر دیا بے خود ہونے لگی تھی۔

بھائی بادل۔“ وہ خوشی سے چہکی اور پھر شفاف روڈ پر دوڑنے لگی تھی۔

دیا گر جاؤ گی۔“ زید بھی اس کے پیچھے لپکا۔ حیدر نے بھی زید کی پیروی کی۔ اذکی سست رفتاری سے چلنے لگی تھی۔

جنون کسی بھی شکل میں ہو۔ اندھی کھائی کی طرف لے جاتا ہے۔ بہت سال پہلے اس نے سوچا تھا کہ زندگی میں سوائے اندھیروں کے کچھ نہیں۔

آج وہ وثوق سے کہہ سکتی تھی کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔

راحت اور ساحرہ کی نفرت نے اسے یہی باور کروایا تھا کہ وہ کبھی کسی مقام تک نہیں پہنچ سکتی۔ زمین اس کے قدموں کے نیچے کبھی نہیں آ سکتی۔

وہ دونوں عورتیں محبت میں بھی جنونی تھیں اور نفرت میں بھی۔ ان دونوں کی مشترکہ محبت بھی جنوں خیز تھی اور وہ محبت حیدر سے تھی۔ ایک بیوی کی حیثیت سے اسے چاہتی تھی اور دوسری ماں کی حیثیت سے۔

ان کی مشترکہ نفرت بھی اندھی تھی اور وہ تھی اذکی سے۔

ان دونوں عورتوں نے کبھی نہیں یہ سوچا تھا کہ یہ تیسری عورت بھی سینے میں ویسا ہی جذبہ رکھتی ہے۔ اس کی دھڑکن بھی اس شخص کو پکارتی ہے جس کی محبت میں وہ دونوں گرفتار ہیں۔

وہ دونوں باحیثیت اعلیٰ خاندانی عورتیں بے صبر اور جلد باز تھیں۔ سو اس کا نتیجہ پچھتاوے کی شکل میں ان کے سامنے آیا۔

جب کہ اس عورت نے ہمیشہ ہر حال میں صبر کیا اور اسے وہ سب بھی ملا جو اس نے کبھی چاہا تھا اور وہ بھی جس کی طلب اس نے کبھی نہیں کی تھی۔

اور میرے صبر نے مجھے سب کچھ دے دیا۔“ اس نے طمانیت سے سوچا اور حیدر کے ہم قدم ہو گئی۔

ماڈل 1960ء۔“ماڈل روڈ پر چلتے ہوئے تین منچلوں نے مبالغہ آمیزی کی حد کرتے ہوئے فقرہ کسا تھا۔ اذکی اور حیدر نے بے اختیار ان تینوں کی طرف دیکھا تھا۔ جو کہ گاڑی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے زیر لب مسکرا رہے تھے۔ اذکی اور حیدر ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا دیئ

جنوں کی راہ



تم اگر پاتال میں بھی چھپ جاتی تو تمہیں ڈھونڈ نکالنا تھا۔“ ایئر پیس سے وہی غرور و تکبر سے لبریز آواز نکل کر اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔ اس کی ٹانگیں لرزنے لگیں۔

تم جانتی ہوں کہ میں کتنا برا ہوں‘ ابھی تو تم نے میرا صرف ایک روپ دیکھا ہے۔

وہ گرج رہا تھا جبکہ شفق کے ہاتھ بے جان ہونے لگے تھے۔ اس نے ریسیور کو مضبوطی سے پکڑا۔

ہماری بڑی قیمتی امانت تمہارے پاس ہے۔“ اب کے اس کی آواز بہت پراسرار تھی۔

شفق نے گھبرا کر ریسیو دور پھینک دیا۔ اس کے دماغ میں سنسناہٹ ہو رہی تھی جبکہ دل اٹھاہ گہرائیوں میں ڈوب رہا تھا۔

###

 

تمہارے حضور ایک درخواست پیش کی تھی۔

کوریڈور میں اس کے برابر چلتے ہوئے خرم بے حد دھیمی آواز میں بولا تھا۔ اس نے گردن موڑ کر ایک سلگتی ہوئی نگاہ خرم کے چہرے پر ڈالی۔

وہ دیکھ سامنے رہا تھا مگر اس کا سارا دھیان ساتھ چلتی شفق پر تھا۔ وہ ہونٹ بھینچے چلتی رہی۔ وارڈ کے دروازے پر پہنچ کر اس نے سسٹر شائستہ کو چند ہدایات دیں۔

سسٹر شائستہ نے میجر ڈاکٹر شفق کو دیکھ کر خود کو ہشاش بشاش ظاہر کیا اور ایک ہی سانس میں بیڈ نمبر تھری اور فور کے پیشنٹ کی مختلف شکایات کیں۔

شفق نے بے حد دھیان سے اس کی بات سنی۔ فائل ایک نظر دیکھ کر اس نے سسٹر شائستہ کو پکڑائی۔

کیا خیال ہے ڈاکٹر! کہ بیڈ نمبر فور کے پیشنٹ کی میڈیسنز چینج نہ کر دی جائیں۔“ خرم بے حد غور سے اس کے کان میں پڑے ائیررنگز کو جھولتے دیکھ رہا تھا۔ شفق نے اسے براہ راست مخاطب کیا تو وہ ایک دم گڑبڑا سا گیا۔

ہاں‘ نہیں ٹھیک ہے۔“ بے ربط سے چند جملے اس کے لبوں سے ادا ہوئے۔

سسٹر شائستہ نے مسکراہٹ چھپانے کیلئے سر جھکا لیا تھا جبکہ شفق نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا۔

آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟“ اس نے ترشی سے کہا۔

پلیز شانی! یہاں نہیں۔“ کیپٹن ڈاکٹر خرم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں التجا کی تھی۔

متوقع“ بے عزتی“ اور وہ بھی وارڈ میں سب کے سامنے ہونے کے خیال سے ہی خرم کی حالت غیر ہونے لگی۔

ابھی میں نے کیا کہا ہے؟“ وہ دھیمے مگر سخت لہجے میں بولی۔

شاید میری طبیعت کے بارے میں پوچھا ہے۔“ خرم آہستگی سے منمنایا۔

شفق منہ ہی منہ میں بدبداتے ہوئے باہر نکلی۔ خرم نے بھی اس کی پیروی کی تھی۔ اپنے روم میں آکر اس نے گلاسز اتارے۔ دراز میں سے چند ایک فائلز نکال کر سامنے رکھیں۔ ایک سرسری نگاہ دوڑا کر اس نے فائل خرم کی طرف بڑھا دی۔

اس کیس کو اچھی طرح سے اسٹڈی کرکے آنا اور ہاں‘ آج تو میں نے برداشت کر لیا ہے۔ آئندہ ایسی لاپروائی کی تو ایل او سے شکایت کروں گی۔ انڈر اسٹینڈ۔

خرم نے برا سا منہ بنا کر فائل اٹھا لی۔ سلیوٹ کیا اور دروازے کی طرف بڑھا۔ ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر اس نے گردن موڑ کر دیکھا تھا۔ وہ دراز میں سے کچھ تلاش کر رہی تھی۔ اس نے کہا۔

میرے سوال کا جواب…“ شفق کو پیپر ویٹ اٹھاتے دیکھ کر وہ سرعت سے باہر نکل گیا تھا۔

اس نے سر جھٹک کر اپنے سامنے رکھی فائل کھول لی تھی۔

چار بجے تک اس نے آف کر جانا تھا اور وہ دعا کر رہی تھی کہ خرم سے سامنا نہ ہو۔ شاید یہ گھڑی قبولیت کی تھی۔ پارکنگ میں اس وقت اِکا دُکا گاڑیاں تھیں اور صد شکر کہ سفید کلٹس اسے کہیں بھی نظر نہ آئی۔

ایک نادیدہ سا بوجھ کندھوں سے ہٹتا محسوس ہوا تھا۔ وہ کچھ ہلکی پھلکی سی ہو کر رنگ جھلاتی اپنی گاڑی تک آئی۔

موسم کافی اچھا تھا۔ شریر ہوا کا جھونکا آیا اور گزر گیا۔ اس کا ذہن بہت بوجھل سا تھا۔ لاشعوری طور پر وہ اس فون کال کے متعلق سوچ رہی تھی۔ایک ہاتھ سے ماتھے پر آئے بال ہٹاتے ہوئے اس نے جوں ہی نگاہ اٹھائی تو گویا نظر اس چہرے پر ٹھہر سی گئی تھی۔

اس کا دل ایک لمحے کو تھم سا گیا تھا۔بالکل اس دن کی طرح جب اس نے حسین چہرے کو پہلی مرتبہ دیکھا تھا اور یہ دعا خود بخود لبوں پر آن ٹھہری تھی کہ وہ اسی شخص کو ہر لمحہ‘ ہر پل دیکھے۔

زندگی کی آخری سانس تک یہ چہرہ اس کی نگاہوں میں مقید رہے۔

اور آخری مرتبہ اس شخص کو سوچتے ہوئے اس کا دل اور اس کے لب کہہ رہے تھے:

اے خدا! اس چہرے کو مجھے اب زندگی میں دوبارہ کبھی نہ دکھانا۔ یہاں تک کہ مجھے موت آ جائے۔“ اس کی آنکھوں میں دھند کی دبیز تہہ اتر آئی تھی۔ اس نے آنکھیں رگڑیں تو بے تحاشا چبھن اور جلن محسوس ہوئی۔ یہ جلن اس کے دل تک بھی پہنچ رہی تھی۔

تو آج پورے چودہ برس بعد میں تمہیں دیکھ رہی ہوں‘ چودہ برس۔“ اس نے اسٹیرنگ پر سر پٹختے ہوئے اذیت سے سوچا۔ اس کے گالوں پر کچھ گرم قطرے پھسلنے لگے تھے

وہ ساری رات سو نہیں سکی تھی‘ اس لئے آنکھ بھی دیر سے کھلی۔جب وہ اٹھی تو دن خوب چمک رہا تھا۔ سوجی آنکھوں پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے تو کچھ جلن کم ہوئی۔ معاً اسے احد اور حدید کا خیال آیا۔ وہ سرعت سے ان کے بیڈ روم کی طرف بڑھی۔

دونوں کے بیڈ خالی تھے جبکہ کمرے کی حالت بھی بے حد ابتر تھی۔ بکھری ہوئی چیزیں سمیٹ کر اس نے کمرے کی حالت کچھ بہتر کی اور پھر کچن میں جھانکا۔

دودھ کے خالی گلاس اور ڈبل روٹی کے بچے کچھے ٹکڑے آملیٹ کی باقیات ٹیبل پر پڑی تھیں۔ اس کے لبوں پر مسکان اُبھر آئی۔

خود سے اٹھ کر ان دونوں سے پانی تک پیا نہیں جاتا تھا اور کجا کہ خود سے ناشتہ بنانا۔ وہ بے حد حیران تھی اور خوش بھی۔ ان دونوں نے صبح ہنگامہ بھی نہیں کیا تھا اس لئے تو وہ اتنی دیر تک سوتی رہی۔

ورنہ ان دونوں کے شور شرابے کی وجہ سے اس کی آنکھ خود بخود کھل جاتی تھی۔

یعنی الارم لگانے کی کبھی ضرورت ہی پیش نہیں آئی تھی۔

وہ بال سمیٹ کر اپنے لئے چائے بنانے لگی۔چائے کے ساتھ ٹیبلٹ لی تو پھوڑے کی طرح دکھتے سر کو کچھ آرام ملا۔ برتن سمیٹ کر اس نے ٹی وی لگا لیا تھا۔ وہ دانستہ کچھ بھی سوچنے سے گریز کر رہی تھی۔اسی پل ممانی بولتی ہوئی چلی آئی تھیں۔ ہاتھ میں اون کا گولا اور سوئیٹر تھا۔ شفق نے زبردستی مسکراہٹ لبوں پر سجائی۔

اس وقت وہ خاموشی اور تنہائی چاہتی تھی۔ مگر ممانی کی موجودگی میں یہ دونوں چیزیں اسے میسر نہیں آ سکتی تھیں۔

اے شافی! آج تم ہسپتال نہیں گئی۔ خیر تو ہے‘ یہ آنکھیں کیوں لال ہو رہی ہیں۔ طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری۔“ ممانی نے محبت سے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا اور ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے۔

ٹھیک ہوں ممانی!“ وہ بے دلی سے بولی۔

خاک ٹھیک ہو۔ اے خرم بھی چلا گیا ورنہ وہی تمہیں دیکھ لیتا۔“ ممانی کے یونہی ہاتھ پاؤں پھولے رہتے تھے۔ ان کے ”وہ ہی تمہیں دیکھ لیتا۔“ کہنے پر وہ مسکرا دی تھی۔

آپ کا بیٹا بہت قابل ہے۔

ہیں سچ!“ وہ کھل اٹھیں۔

اب خرم آتا ہے تو کہتی ہوں اس سے کہ تمہیں دیکھ لے‘ کیسی رنگت ہو رہی ہے تمہاری۔ بڑی شفا ہے میرے خرم کے ہاتھ میں‘ بس شفق! تم اس کا خیال رکھنا ہے تو بڑا ہی ذہین مگر کچھ کھنڈرا اور لاپروا ہے۔

اللہ بخشے بھائی جی کو‘ بڑی خواہش تھی ان کی کہ تم دونوں کو ڈاکٹر بنانے کی۔ جب تم پیدا ہوئی تو رات کے بارہ بجے ہی فون کھڑکا دیا۔ بولے کہ مستقبل کی ڈاکٹر صاحبہ آئی ہیں اور پھر ساڑھے چار سال بعد صبح صادق کے وقت خرم نے بھی آنکھیں کھول لیں۔ رحیم نے بھائی جی کو فون کرکے خوشخبری سنائی اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب بھی تشریف لے آئے ہیں۔ جواباً بھائی جی نے کہا تھا کہ یہ ہمارے ڈاکٹر صاحب کچھ لیٹ نہیں ہو گئے۔

چلو پھر بھی ٹھیک ہے اور ان دونوں کی کتنی خواہش تھی کہ تم دونوں کی شا…“

اس کے چہرے پر پھیلے تاثرات دیکھ کر وہ خاموش ہو گئی تھیں اور پھر اپنی خفت مٹانے کیلئے اسے سوئٹر کا نیا ڈیزائن دکھانے لگیں۔ اس نے بھی سر جھٹک کر خود کو لاپروا ظاہر کیا۔

کتنے سوئٹر بنائیں گی خرم کیلئے۔“ ابھی سردی کا آغاز بھی نہیں ہوا تھا اور وہ کتنے ہی سوئٹر بنا کر اسے دکھا بھی چکی تھیں۔

خرم کیلئے کام کرتے وہ کبھی بھی نہیں تھکتی تھیں۔

اس خبیث کیلئے تو نہیں بنا رہی اب‘ وہ تو اس قابل ہی نہیں کہ اس کی خاطر آنکھیں پھوڑوں۔ یہ تو احد اور حدید کیلئے ہیں۔ دیکھو تو رنگ اچھا ہے نا! پتا نہیں ان شیطانوں کو بھی پسند آتے ہیں کہ نہیں۔“ انہوں نے ادھ بنا سوئٹر بازو پہ پھیلا کر اسے دکھایا۔ شفق مسکرا دی۔

یقینا خرم نے ان کے اتنے پیار سے بنائے سوئٹرز میں نقص نکالے تھے۔

اسی لئے وہ اس سے کافی خفا دکھائی دے رہی تھیں۔

ممانی! کیوں آپ اتنی محنت کرتی ہیں۔ سردی اسٹارٹ ہوتے ہی میں بازار سے لے آتی۔ بھلا اتنی مشقت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔“ اس نے نرمی سے کہا تھا جبکہ ممانی مزید خفا ہو گئیں۔

تو بھلا مشقت کیسی‘ وہ بھی یہی کہتا ہے۔ امی آپ کی نظر کمزور ہے کیوں اون سلائیوں میں ہر وقت لگی رہتی ہیں۔ بازار سے ریڈی میڈ لے آیئے گا۔

شفق ان کا موڈ خراب ہوتا دیکھ کر گرما گرما چائے بنا لائی۔ چائے پیتے ہوئے اچانک انہیں یاد آیا۔

اے شافی! تمہیں بتانا یاد ہی نہیں رہا۔ ہماری کالونی میں جو مسز رضوی نہیں ہیں جن کے پوتے کے عقیقہ میں تم بھی گئی تھی۔ ان کی بیٹی کی پرسوں شادی تھی۔“ انہوں نے شادی کا ذکر اس طرح کیا تھا جیسے خدا نخواستہ وہاں وفات ہو گئی ہو۔ شفق نے بے خیالی میں سر ہلایا۔

تم سے دو ڈھائی سال بڑی ہی ہوگی۔“ ان کے لہجے میں حسرت سی تھی جس نے شفق کو بے چین سا کر دیا تھا۔

میاں کرنل ہے۔ کوئٹہ گئی ہے بیاہ کر…“ وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتی تھیں مگر احد اور حدید کو آتا دیکھ کر خاموش ہو گئیں۔ وہ آتے ہی شفق سے لپٹ گئے۔

رات کو آپ دیر سے کیوں آئی تھیں۔ آپ کے آنے تک میں سو بھی گیا تھا۔“ احد نے اس کے گال کو چومتے ہوئے شکوہ کیا۔

حدید کیوں پیچھے رہتا۔ بیگ کار پیٹ پر پھینک کر وہ بھی اس سے لپٹ گیا تھا۔

رات کو کسی نے دودھ بھی نہیں دیا تھا۔ اسی لئے میں صبح بھی نہیں پی رہا تھا۔ وہ تو خرم…“

شیطانوں! اِدھر اُدھر بھی دیکھ لیا کرو‘ ممانی جان آئی ہیں۔ پہلے انہیں سلام کرو۔“ وہ دونوں جھٹ اس سے الگ ہو کر ممانی سے چمٹ گئے۔

میں بوڑھی ہڈیاں گھسیٹتی آ جاتی ہوں مگر تم دونوں کو کبھی توفیق نہیں ہوئی کہ نانی کا حال ہی پوچھ آئیں۔

ممانی نے بھی شکوہ کر ڈالا تھا اور ان دونوں کو تو موقع ملنا چاہئے تھا شفق کے خلاف بولنے کا۔

ان سے پوچھئے ذرا‘ یہی تو ہمیں جانے نہیں دیتیں کہیں بھی۔“ احد نے ہاتھ نچا کر کہا۔

سنڈے کو میں آ رہا تھا آپ کی طرف مگر مما نے جانے ہی نہیں دیا۔“ حدید نے بھی مسکین سی شکل بنائی۔ شفق مسکراتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئی تھی۔

آج چونکہ ہاف ڈے تھا‘ اسی لئے بچے جلد ہی اسکول سے آ گئے تھے اور صبح بھی پتا نہیں کیا کھایا تھا انہوں نے۔ وہ تیزی سے ہاتھ چلانے لگی تھی اسی پل احد نے دہائی دی۔

میرے پیٹ میں چوہوں کا میچ ہو رہا ہے مما!“

اور میرے پیٹ میں وہ کبڈی کھیل رہے ہیں۔“ حدید بھی ٹھنکا۔

اور ادھر بیڈ منٹن کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔“ لاؤنج سے ایک اور آواز ابھری تھی۔

شفق بغیر دیکھے بھی جانتی تھی کہ آنے والا کون ہے۔

اس نے گرما گرم سینڈوچز کے ساتھ خرم کیلئے چائے بھی تیار کر لی۔ وہ لاؤنج میں آئی تو بچے بے صبری سے ٹرے کی طرف لپکے۔ اس نے پلیٹیں ٹیبل پر رکھیں اور چائے خرم کی طرف بڑھائی۔

خالی چائے!“ خرم چیخا۔

یہ سینڈوچ نظر نہیں آ رہے تمہیں؟“ شفق سنجیدگی سے بولی۔

لو یہ سینڈوچ… یہ تو تمہارے یہ پیٹو پہلوان چٹکیوں میں اڑا دیں گے۔

مجھ مسکین کو تو کچھ بھی نہیں ملے گا۔

صبح پتا نہیں کیا کچا پکا کھا کر گئے تھے اسکول بے چارے‘ میں آج دیر سے اٹھی تھی۔“ اس نے محبت سے ان دونوں کی طرف دیکھا۔ خرم کو اچانک ہی اچھو لگ گیا تھا۔ ممانی پریشان ہو اٹھیں۔

اے بیٹا! آرام سے۔

بے چارے۔“ وہ کھانستے ہوئے بمشکل بولا۔

تمہارے ان ”بے چاروں“ نے ایک ایک پراٹھا اور دو توس میری ان گنہگار آنکھوں کے سامنے کھائے ہیں۔

ان بابرکت ہاتھوں سے میں نے انہیں ناشتہ بنا کر ٹھنسوایا ہے۔“ گہرے صدمے سے اس کی آواز بوجھل ہو گئی تھی۔ بچوں اور ممانی کے ساتھ وہ بھی ہنس پڑی۔

ممانی اور خرم کے جانے کے بعد اس کا باقی دن بے حد مصروف گزرا تھا۔ بچوں کو ہوم ورک کروا کر اس نے کھانا بنایا‘ بچے کھانا کھا کر کمپیوٹر کے سامنے جم کر بیٹھ گئے اور وہ کچھ دیر سونے کیلئے کمرے میں چلی گئی۔

شام گہری ہو گئی تھی جب احد نے اسے تقریباً جھنجھوڑ کر اٹھایا تھا۔

مما جی اٹھ جائیں‘ رات ہو گئی ہے اور خرم انکل بھی آئے ہیں۔“ شفق اتنی دیر سونے پر حیران ہوتی واش روم میں گھس گئی۔ جب وہ باہر آئی تو خرم اور بچے لڈو کھیلنے میں مصروف تھے۔ وہ کچن میں آکر سبزی بنانے لگی۔ کچھ ہی دیر بعد خرم بھی آ گیا تھا۔

شفو!“ وہ انتہائی نرم لہجے میں بولا۔

شفق نے گھور کر اسے دیکھا‘ وہ جانتی تھی کہ اب خرم کیا کہنے والا ہے۔ اسی لئے سرعت سے بولی۔

پلیز خرم! کوئی ایسا سوال مت کرنا جو مجھے مشکل میں ڈال دے اور تمہاری اس فضول بکواس کا میرے پاس کوئی جواب بھی نہیں۔

کبھی تو نرمی سے بول لیا کرو‘ ہر وقت ہی انگارے چبائے رکھتی ہو۔“ خرم نے منہ بنایا۔

میں تو خود سوچ رہا ہوں کہ تم سے فی الحال شادی کرنے کا ارادہ بدل دوں۔

وہ بے حد سنجیدگی سے بولا تھا۔ شفق کو خوشگوار حیرت نے گھیر لیا۔

شکر ہے کہ تم نے بھی کوئی عقل مندانہ فیصلہ کیا ہے۔ اب میں اور ممانی فٹا فٹ تمہارے لئے کوئی لڑکی ڈھونڈتے ہیں۔ مجھے ممانی کی تنہائی کا خیال آزردہ کر دیتا ہے۔ تمہیں تو ان کے بڑھاپے کا احساس کرکے بہت پہلے ہی سنجیدہ ہو جانا چاہئے تھا۔ چلو دیر آید درست آید۔

شفق خاتون! آپ کس قدر معصوم ہیں۔

اس معصومیت نے ہی تو اسیر کر رکھا ہے قسم سے۔“ اس نے فروٹ باسکٹ سے سرخ سا سیب اٹھایا۔

میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ چند سال مزید انتظار کر لوں۔ شاید کسی کو مجھ بے چارے پر ترس آ ہی جائے اور کوئی پرموشن کا چانس بن جائے۔ اب تم میجر اور میں کیپٹن۔ تمہیں سلیوٹ کرتا اچھا لگوں گا بھلا۔“ وہ ایک دفعہ پھر پٹڑی سے اتر گیا تھا اور شفق کا دل چاہ رہا تھا کہ اس کی گردن مروڑ دے۔

ویسے مجھے لگتا ہے کہ میری زندگی کی دو بڑی خواہشیں کبھی بھی پوری نہیں ہو سکتیں۔ ایک تم سے شادی دوسری پروموشن امی بھی یہی کہتی ہیں‘ خرم تمہاری نالائقی کو دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ اسی کپتانی کے ساتھ عمریا بیتے گی تمہاری۔“ اس نے قہقہہ لگایا تھا جبکہ شفق نے چمچہ سلیب پر پٹخا اور اس کی طرف رخ کیا۔

پورے تیس کے ہو چکے ہو۔ دو چار سال بعد کون لڑکی دے گا تمہیں‘ یہی شادی کی مناسب عمر ہے۔

اپنا نہیں تو ممانی کا ہی احساس کر لو۔“ وہ آزردگی سے بولی۔

تو پھر مان جاؤ‘ نہ مجھے خوار کرو نہ خود کو۔“ خرم سنجیدگی سے بولا تھا۔ اس کی آنکھوں میں نرم گرم سے جذبے لو دینے لگے تھے۔ شفق نے نگاہ چرا لی۔

کیوں بھول جاتے ہو تم کہ میں پہلے سے شادی شدہ اور دو بیٹوں کی ماں ہوں اور بیٹے بھی ایسے کہ جن کے بڑھتے قد میری نیندیں اڑا رہے ہیں۔

کل کو یہی بچے مجھ سے سوال کریں گے کہ ہمارا باپ کہاں ہے۔“ وہ جیسے پھٹ پڑی تھی اور خرم کے ضبط کی طنابیں بھی ٹوٹ گئیں۔

اسی لئے‘ اسی لئے آج سے نو سال پہلے تم سے کہا تھا کہ مجھ سے شادی کر لو۔ بچے چھوٹے ہیں۔ وہ مجھے باپ کے روپ میں قبول کر لیں گے مگر تم نہیں مانیں۔ کیا میں انہیں باپ کا پیار نہیں دے سکتا تھا۔ بولو‘ بتاؤ۔

خرم! تم کسی اچھی سی لڑکی کے ساتھ شادی کر لو۔

میں خود کو تمہارے قابل نہیں سمجھتی‘ مت خود کو ضائع کرو۔ اپنی بوڑھی ماں کا ہی خیال کر لو۔ پلیز خرم! پلیز! وہ بے تحاشا روتے ہوئے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بولی تھی۔

خرم کو نجانے کیا ہوا تھا‘ وہ الٹے قدموں تیزی سے باہر نکلتا چلا گیا جبکہ شفق ٹیبل پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔ اسی پل فون کی گھنٹی گونج اٹھی۔ اس نے سی ایل آئی پر نمبر دیکھا‘ وہ ہی نمبر تھا۔ اک خوف کی لہر اس کے وجود سے اٹھی تھی۔ وہ ایک دفعہ پھر بے تحاشا رونے لگی۔ آنکھوں کے سامنے نجانے کون کون سے منظر آ رہے تھے جو کہ یادوں کے تپتے صحراؤں میں لے گئ

ہاں راحیل یار! دل لگنے کی بات بھی تم نے خوب کہی ہے۔ اپنا شہر تو اداسیوں کا شہر ہے۔ قسم سے جو شور اور ہلا گلا لاہور میں ہے‘ وہ اسلام آباد میں کہاں۔ اور دل لگتا نہیں لگایا جاتا ہے۔

وہ ابھی ابھی ٹینس گراؤنڈ سے آیا تھا اور اب جوگرز سمیت صوفہ پر لیٹا اپنے عزیز ازجان دوست سے گفتگو میں مصروف تھا۔

اوہ‘ نہیں یار! کہاں وہ اور کہاں زرش اور فریحہ بس یوں سمجھ لو وہ پہلی لڑکی ہے جو میرے دل کو بھائی ہے۔

باقی سب تو ٹائم پاس ہیں۔“ وہ بے حد مسرور تھا اور اردگرد سے بے نیاز بھی۔ اسی پل دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔

شاہ میر نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔ اندر آتی شخصیت کو دیکھ کر وہ ایک دم کھڑا ہو گیا تھا ساتھ ہی ریسیور بھی کریڈل پر ڈال دیا۔

ہیلو ینگ مین! کیسے ہو‘ ابھی ابھی پتا چلا ہے ہمارے لاہور میں آپ کی آمد ہوئی ہے۔

سوچا کہ آپ نے تو آنا نہیں۔

ہم خود ہی مل آئیں۔“ وہ جسٹس (ر) شرجیل اعجاز تھے‘ اس کے پاپا کے بیسٹ فرینڈ۔ شاہ میر چاہتے ہوئے بھی خوش دلی کا مظاہرہ نہیں کر سکا تھا۔

آپ کیسے ہیں انکل؟“ اس نے رسماً پوچھا۔

ہم تو ٹھیک ٹھاک اور فٹ ہیں۔ تم اپنے باپ کی سناؤ‘ کس کس کی دم پر پاؤں رکھا ہوا ہے اس نے؟“ ان کا موڈ بہت اچھا تھا۔ صوفے پر بیٹھتے ہوئے وہ بے تکلفی سے بولے۔

شاہ میر بھی مسکرا دیا۔

کہاں جی‘ پھندے تو آپ لوگوں کی گردنوں کے گرد کستے رہے ہیں اور الزام ہمارے سر۔“ جسٹس شرجیل نے اس کے جواب کو بے حد انجوائے کیا تھا۔ پھر اسے سراہتے ہوئے بولے۔

تم اپنے باپ سے بھی زیادہ ذہین آفیسر ہو۔ جس عہدے پر پہنچنے کیلئے اس نے تیس سال ضائع کئے ہیں۔ تمہاری رفتار کو دیکھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب تم اپنے باپ کی کرسی پر بیٹھے ہو گے اور…“

وہ مجھے سلیوٹ کریں گے؟“ شرجیل نے کچھ حیران ہو کر ان کے چہرے کی طرف دیکھا تھا اور پھر دونوں کا مشترکہ قہقہہ گونج اٹھا۔

میں سوچ رہا تھا کہ میجر کے اسٹارز لگنے کے بعد تم کچھ سنجیدہ ہو جاؤں گے۔ مگر تمہیں دیکھ کر مجھے اپنے خیالات بدلنے پڑے ہیں۔ تم بالکل ویسے ہی ہو۔ شوخ‘ شریر اور ہینڈ سم۔“ ان کے ہونٹوں پر بڑی پدرانہ قسم کی مسکراہٹ تھی۔

یہ مسکراہٹ صرف ان ہی لوگوں کیلئے تھی جو جسٹس شرجیل کو بہت محبوب تھے اور شاہ میران ہی چند لوگوں میں سے تھے۔

انکل! آپ کیلئے چائے منگواؤں؟“ معاً اسے خیال آیا۔ شرجیل صاحب نے انکار کر دیا تھا۔ شاہ میر دل ہی دل میں خوش ہوا۔ اب وہ دعا کر رہا تھا کہ انکل کو کوئی ضروری کام یاد آ جائے۔ کیونکہ اس کی آدھی شام تو برباد ہو چکی تھی اب وہ رات انکل کی ہمراہی میں برباد کرنا نہیں چاہتا تھا۔

کب آ رہے ہو ہماری طرف؟“ لبوں پر مچلتا سوال نوک زبان پر آ ہی گیا تھا۔

چند دنوں تک آؤں گا۔“ اس نے فوراً ہامی بھر لی۔ گفتگو کی طوالت اسے جھنجلاہٹ میں مبتلا کر رہی تھی۔ وہ دل ہی دل میں پیچ و تاب کھا رہا تھا۔

چند دنوں تک نہیں‘ تم کل آ رہے ہو۔“ جسٹس شرجیل نے محبت بھری دھونس جمائی۔

اوکے… ٹھیک ہے۔“ اس نے بغیر سوچے سمجھے سر ہلا دیا۔

تم جتنے شریر ہو‘ تمہارا‘ باپ اتنا ہی سنجیدہ تھا۔

تمہیں دیکھ کر مجھے اپنی جوانی یاد آ جاتی ہے میرے اور جہاں زیب کے مزاج میں بہت فرق تھا مگر ہماری دوستی پھر بھی مثالی دوستی کہلائی جاتی تھی۔ میں بے حد شرارتی تھا اور وہ بے حد سنجیدہ۔ ہر کام نہایت ہی سنجیدگی سے کرتا تھا حتیٰ کہ بے ایمانی بھی۔

شرجیل انکل طویل… قہقہہ لگانے میں مصروف تھے۔ آدھا گھنٹہ مزید بیٹھنے کے بعد انہوں نے جانے کا قصد کیا تو شاہ میر نے بھی اطمینان بھرا سانس لیا۔

اُف یہ ریٹائرڈ آفیسر تو پرانے قصے سنا سنا کر اپنے گھر والوں کی زندگیاں عذاب بنا دیتے ہوں گے۔ بڑی ہی باہمت خاتون ہیں آنٹی!“ وہ اپنی کنپٹیاں دباتے ہوئے زیر لب بڑبڑایا۔ شاور لینے کے بعد اس نے بال بنائے‘ پرفیوم اسپرے کیا اور گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکل گیا۔

راستے میں سے ملیحہ کو لے کر جب وہ کلب پہنچا تو شہروز کو غصے سے مٹھیاں بھینچتے دیکھ کر فوراً بولا۔

کچھ مت کہنا‘ ابھی دو گھنٹے ایک ریٹائرڈ بڈھے کی بکواس سن کر آ رہا ہوں۔ مزید کچھ کہا تو تمہارا سر پھاڑ دوں گا۔

ہیں کون بڈھا؟“ فراز بھی چونکا تھا۔

تم کب سے ”بڈھوں“ کی کمپنی انجوائے کرنے لگے ہو۔“ شہروز نے پہلو بدل کر کہا۔

کمپنی‘ میں تو ان کے قریب سے بھی نہ گزروں۔ خوامخواہ دماغ چاٹنے بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ تو شرجیل انکل تھے پاپا کے دوست۔

مجبوراً مجھے انہیں برداشت کرنا پڑا۔“ اس نے برا سا منہ بنایا۔

ایک تو تمہارے پاپا کے دوست پورے ملک میں جراثیموں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں۔ جہاں بھی چلے جاؤ‘ کوئی نہ کوئی دوست اگ ہی آتا ہے۔“ ملیحہ نے بھی ناک چڑھائی۔

دوست نہیں‘ جاسوس کہو جاسوس۔“ فراز دور کی کوڑی لایا تھا۔

ہاں فراز کی بات میں وزن ہے۔ انکل نے تمہاری نگرانی کرنے کیلئے دوست پلس جاسوس چھوڑ رکھے ہیں“ شہروز نے بھی سر ہلایا۔

چلو شکر ہے فراز کا وزن نہ سہی بات میں تو وزن ہے ہی۔“ شاہ میر نے شرارت سے اپنی سوکھے سڑے گہری سانولی رنگت والے دوست فراز کی طرف دیکھا۔ جو کہ ایک بیورو کریٹ کا بیٹا تھا۔

ویسے جتنا پولیس والے کماتے ہیں اور جتنا کھاتے ہیں۔ فراز کی صحت پر تو کچھ اثر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا“ اشعر نے بھی آنکھیں گھمائیں۔

فراز بے چارا تو اپنے پاپا کی ایک ٹانگ برابر بھی نہیں۔

ان کی تو ”توند“ ہی ماشاء اللہ سے“ شہروز کے مذاق نے فراز کو بھی بھڑکا دیا تھا۔ اس نے تمسخر سے ان تینوں کی طرف دیکھا۔

پولیس والے تو پیدائشی بدنام ہیں آرمی والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک ”پہیے“ پر پورا ملک چلتا ہے اور دوسرا ”پہیہ“ آرمی چلاتی ہے بلکہ دوڑاتی ہے۔“ فراز کا لہجہ کیٹلا تھا اور زہریلا بھی۔ ان تینوں فوجیوں کے خون بھی گرم ہو اٹھے تھے۔

کیونکہ وہ بھی نسل در نسل فوج سے ہی منسلک تھے۔

اچھا بکواس بند کرو اپنی‘ کوئی اور بات کرتے ہیں۔“ ملیحہ محفل کا رنگ بدلتے دیکھ کر تیزی سے بولی۔

یہ بکواس نہیں حقیقت ہے۔ تم اس شہزادے شاہ میر کو ہی دیکھ لو۔ کیسے ٹھاٹ سے نوکری کر رہے ہیں۔ اپنے کیریئر کے ان پانچ چھ سالوں میں آج یہ میجر کے عہدے پر ہے اور ابھی تک اس نے سیاچن کے برف پوش پہاڑوں‘ گہری اندھی کھائیوں‘ ہڈیوں کو بھی ٹھڑا دینے والی ٹھنڈ محسوس نہیں کی‘ جس کی برف پر اگر پاؤں رکھیں تو لوہے کی طرح بے جان ہو جائیں اور اگر ہاتھ رکھیں تو سن ہو جائیں۔

یہ کس کس کی ”مہربانیوں“ کی وجہ سے پنڈی لاہور کے اردگرد گھوم رہے ہیں۔

یہ سب بار میں بیٹھ کر مشروب پینے والے کیا جانیں کہ ٹھنڈ سے منجمد انگلیوں کو کٹوانے سے کیسا درد محسوس ہوتا ہے۔ دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں…“

جسٹ شٹ اپ فراز!“ شہروز اور اشعر چلا اٹھے تھے۔

دفع ہو جاؤ تم یہاں سے‘ ایڈٹ۔“ ملیحہ نے تنفر سے سر جھٹکا۔

فراز کرسی گھسیٹ کر اٹھ گیا تھا پھر ان سب پر آخری طنزیہ نگاہ ڈالتا باہر نکلتا چلا گیا۔

تمہیں کس نے مشورہ دیا تھا کہ اس عجوبے کو گروپ میں شامل کرنے کا۔“ شہروز‘ اشعر سے الجھ پڑا تھا جبکہ شاہ میر سرخ چہرہ اور انگارہ آنکھیں لئے ابھی تک اس دروازے کو دیکھ رہا تھا جہاں سے فراز گیا تھا۔

پلیز میرو! موڈ ٹھیک کرو اپنا۔“ ملیحہ نے اپنا نازک ہاتھ اس کے بازو پر رکھ کر نزاکت سے کہا۔

چلو اٹھو‘ کہیں اور چلتے ہیں۔“ شاہ میر ایک دم اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ان تینوں نے بھی اس کی پیروی کی تھی۔

شرجیل انکل کا فون آیا تھا۔ اس نے سن کر بے دلی سے ریسیو کریڈل پر ڈال دیا۔ اس کا شرجیل انکل کی طرف جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ مگر جب پاپا کا فون آیا اور انہوں نے اس کی خوب کھنچائی کی تو مجبوراً وہ ان کی طرف جانے کیلئے تیار ہو گیا تھا۔ وہ پاپا سے صاف لفظوں میں انکار کر سکتا تھا۔ مگر اس نے ایسا کیا نہیں۔ کیونکہ جسٹس شرجیل کی بیٹی اس کی منگیتر تھی اور وہ اس کے ہونے والے سسر۔

 

وہ تو اس بات پر ہی مسرور تھا کہ ماہا ہائیر اسٹڈیز کیلئے امریکہ میں مقیم تھی اور دو چار سال تک ماہا کا بھی شادی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ شاہ میر ان چند سالوں کو انجوائے کرنا چاہتا تھا۔

لنچ آورز میں جب وہ جسٹس شرجیل کے گھر گیا تو وہ میاں بیوی اس کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔

بڑے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا۔ چونکہ اس نے آفس جانا تھا لہٰذا ان دونوں نے اسے مزید اصرار کرکے روکا نہیں۔

وہ بھی جلد ہی جان چھٹ جانے پر دل ہی دل میں خوش ہوتا بڑے مگن انداز میں ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ جب بالکل اچانک ہی دائیں طرف سے ایک لڑکی بہت تیزی سے روڈ کراس کرنے کے چکر میں اس کی گاڑی سے ٹکرا گئی تھی اگر وہ بروقت بریک نہ لگاتا تو یقینا وہ اس کی گاڑی کے نیچے آکر بری طرح کچلی جاتی۔

شاہ میر کا موڈ ایک دم ہی آف ہو گیا تھا۔ گاڑی سے اترنے کے بجائے شیشہ نیچے کرکے اس نے روڈ سے اٹھتی اس بڑے سے ٹینٹ نما دوپٹے میں لپٹی لڑکی کو دیکھا۔

وہ اپنا ماتھا سہلا رہی تھی۔ شاہ میر کی نظر اس کے زخمی پاؤں اور چھلے ہاتھ پر پڑی۔ چند ایک بوندیں ٹپک کر اس کے بے داغ یونیفارم پر رنگ چھوڑ گئی تھیں۔ اسے کچھ پشیمانی ہوئی۔ ایک دم ہی وہ دروازہ کھول کر نیچے اتر آیا۔

آپ کو چوٹ…“ اس کے چہرے پر نگاہ پڑتے ہی شاہ میر باقی الفاظ بھول گیا تھا۔

وہ کھلتے کنول اور سرخ گلاب کی طرح حسین تھی کہ شاہ میر ایک ٹک اس کے دلکش چہرے کی طرف دیکھے گیا۔

اس کی دل کی رفتار معمول سے بڑھ گئی تھی۔ کم و بیش ایسے ہی تاثرات اس لڑکی کے چہرے پر ابھرے تھے۔ اس لڑکی نے شاہ میر کی محویت کو محسوس کر لیا تھا اسی لئے سر سے سرکتے دوپٹے کو ماتھے پر کرکے وہ ایک دم مڑی تھی اور پھر لہرا سی گئی۔ شاہ میر نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا تھا اور نیچے جھک کر اس کی کتابیں اٹھائیں۔

میں آپ کو ڈراپ کر دوں‘ میرا مطلب ہے کہ آپ سے چلا نہیں جا رہا۔

وہ اسے لنگڑاتے دیکھ کر نرمی سے بولا۔

ایسی آفر وہ ہر کسی کو نہیں کرتا تھا اور نہ ہی کوئی اس کی آفر ٹھکراتا تھا۔ وہ بغیر کچھ بولے اس کے ہاتھ سے کتابیں لے کر جانے لگی تھی جب وہ اس کے سامنے تن کر کھڑا ہو گیا۔

آؤ میرے ساتھ۔“ وہ تحکم سے بولا جبکہ شفق اس کی آواز کے سحر میں ڈوب گئی تھی۔

وہ آرمی یونیفارم تھا۔ ایسا یونیفارم شفق کا باپ بھی پہنتا تھا۔

فرق صرف اتنا تھا کہ اس کے شانوں پر اسٹارز جگمگا رہے تھے اور وہ میجر تھا جبکہ اس کا باپ معمولی سا کواٹر ماسٹر تھا۔ کواٹر ماسٹر بشیر احمد۔

وہ ایک ٹرانس کے عالم میں چلتی ہوئی اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ وہ پہلی مرتبہ ایسی گاڑی میں کسی مرد کے ہمراہ بیٹھی تھی۔

وہ پہلا مرد تھا جس نے پہلی مرتبہ اس پر بہت بے باک نگاہیں ڈالی تھیں اور یہ پہلی غلطی تھی جو اس نے شاہ میر کی گاڑی پر بیٹھ کر کی اور دوسری غلطی اس سے محبت کرکے۔

######

ان دنوں اسے زرشی‘ فریحہ‘ ملیحہ سب بھول چکی تھیں اور وہ بہت سنجیدگی کے ساتھ شفق سے فلرٹ کرنے میں مصروف تھا۔ وہ جب جب شفق سے ملتا اس سے باتیں کرتا اس کی آتش شوق مزید بھڑکتی۔ وہ ملیحہ جیسی ماڈ نہیں تھی۔ زرش جیسی بولڈ اور فریحہ جیسی گفتگو کرنے کا فن اسے نہیں آیا تھا مگر پھر بھی اس میں ایسی کوئی کشش ضرور تھی جو شاہ میر کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچتی۔

حسین چہرے اسے بہت اٹریکٹ کرتے تھے۔ وہ خوبصورتی کا دلدادہ تھا۔ اس کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ ایک چہرے کو دیکھ دیکھ کر اُکتا سا جاتا تھا مگر شفق میں نجانے کیا بات تھی کہ وہ چاہتے ہوئے بھی دامن نہ چھڑا پاتا اور ایک وقت ایسا بھی آیا تھا اور اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ وہ سچ مچ شفق کو چاہنے لگا ہے۔

شاہ میر کے والد جنرل جہاں زیب اعلیٰ خاندانی حسب نسب رکھتے تھے۔

ان کا تعلق سید فیملی سے تھا۔ پنجاب کے کئی علاقوں میں ان کی لاکھوں ایکڑ زمین تھی۔ وہ تین بھائی تھے اور تینوں ہی عادتوں‘ مزاج میں ایک دوسرے سے مختلف تھے اگر کوئی چیز ان میں مشرکہ پائی جاتی تھی تو وہ تھی پیسے کی ہوس۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب علم کا چراغ گھر گھر نہ جلتا تھا اور نہ ہی اتنی خوشحالی تھی کہ لوگ تعلیم جیسی فضول چیز پر پیسے خرچتے۔

لیکن پنجاب کے ایک گاؤں کے زمیندار سید بلند بخت کو ایک ہی شوق تھا ایک ہی لگن تھی کہ میرے تینوں بیٹے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور بڑے شہروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں۔ انہوں نے اس شوق کی خاطر بہت سی زمینیں بھی فروخت کی تھیں اور اپنے بچوں کو اس وقت کے بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم کے حصول کیلئے بھیجا اور اس مقام پر ان کے بیٹوں نے انہیں مایوس نہیں کیا تھا۔

سید بلند بخت درمیانے درجے کے پڑھے لکھے انسان تھے۔ ان کا چھوٹا بھائی فوج میں کپتان تھا۔ جب بھی گاؤں میں کوئی ان کے بھائی کا ذکر کرتا تو ان کا سر فخر سے بلند ہو جاتا تھا۔ وہ ایک فوجی کے بڑے بھائی تھے۔ یہ اعزاز ان کیلئے کسی میڈل سے کم نہیں تھا۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب خاکی وردی والوں کو بڑی عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اسی چاہ میں انہوں نے اپنے تینوں بیٹوں کو بری اور بحری فوج میں بھرتی کروایا۔ تینوں نے ہی اپنی ذہانت کی بنا پر کمیشن لیا اور مختلف عہدوں پر فائز ہو گئے۔ بلند بخت نے اپنے بیٹوں کیلئے ورثے میں بہت سی زمینیں اور ایک خستہ حال فیکٹری چھوڑی تھی جو کہ ان کے بیٹوں کو ناکافی معلوم ہوتی تھی۔

 

آخر عمر میں جب سید بلند بخت گھٹنوں کے درد کی وجہ سے چل پھر نہیں سکتے تھے‘ بڑھاپے اور رعشہ کی وجہ سے ان کے ہاتھ اور سر کانپتا تھا اور ان کی داڑھی کے سفید بال نجانے کیوں گدلے آنسوؤں سے بھیگتے جاتے اور ان کی لکنت زدہ زبان پر صرف چند الفاظ گویا ٹھر گئے تھے۔ ان کی خدمت پر مامور خادم بتاتا تھا کہ وہ اپنے بیٹوں سے سخت نالاں تھے۔

اور ان کے قریبی عزیزوں کا خیال تھا کہ بڑھاپے کی وجہ سے ان کا دماغی توازن ٹھیک نہیں رہا۔

اسی لئے وہ اپنے اتنے لائق بیٹوں کو گالیاں دیا کرتے تھے۔ جنہوں نے ہر لمحہ‘ ہر پل اپنی باپ کی خواہش کا احترام کیا۔

رب نواز بتاتا تھا کہ بلند بخت نے آنکھیں بند کرنے سے پہلے ساری رات بہت سی باتیں کیں اور ان کی زبان ذرا بھی نہیں لڑکھڑائی۔ آخری وقت میں انہوں نے بہت افسوس سے کہا تھا کہ ”کاش“ میں انہیں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ اچھا انسان بننے کی بھی ترغیب دیتا۔

میں نے ان کا دھیان ہمیشہ بڑی کرسی‘ بڑا عہدہ اور بڑے خوابوں کی طرف لگایا۔ اگر بلند بخت کے بیٹے بلند انسان ہوتے‘ ایمان دار ہوتے تو کیا خوب ہی اچھا ہوتا۔

وقت گزرتا گیا۔ اس وقت کی ایک خستہ حال فیکٹری چار بڑی فیکٹریوں میں تبدیل ہو گئی۔ رزق حلال میں حرام کی آمیزش نے روح کو آلودہ‘ دلوں کو سیاہ اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا تھا۔

بیویاں بھی چمک دمک کی دلدادہ اور شوقین مزاج تھیں۔

ایک زندگی پنجاب کے اس چھوٹے سے گاؤں میں ہمیشہ کیلئے دفن ہو گئی تھی‘ دوسری بہت روشن اور چمکدار تھی اور اس دوسری زندگی نے تیسری زندگی کو وہ ہی عیش وہی آرام اور وہی حرام وراثت میں لوٹایا تھا۔

جنرل جہاں زیب کا چھوٹا بیٹا شاہ میر تھا۔ اس سے بڑے تین بھائی تھے اور باپ کی شدید خواہش کے باوجود ان تینوں نے باپ کے پروفیشن کو اہمیت نہیں دی تھی۔

اب جنرل جہاں زیب کی امیدوں کا واحد مرکز ان کا لاڈلا اور بے حد چہیتا بیٹا شاہ میر تھا۔

وہ اس سے بے حد محبت کرتے تھے۔ ان کے لاڈ پیار نے اسے ضدی اور لاپروا بنا دیا تھا اور جب اس نے آرمی جوائن کی تو جنرل جہاں زیب کا سیروں کے حساب سے خوب بڑھ گیا۔ وہ شاہ میر سے بے انتہا خوش تھے۔

بڑے دونوں بیٹوں کی شادیاں اپنے بھائی کی بیٹیوں کے ساتھ اور تیسرے کی منگنی اپنے ہی جیسے آرمی سے منسلک خاندان میں کرکے وہ بہت مطمئن تھے۔

شاہ میر کو بھی انہوں نے باندھ دیا تھا۔ مگر بعض دھاگے بہت کمزور ہوتے ہیں۔ ایک جھٹکے سے ٹوٹنے والے۔ جنرل جہاں زیب جانتے نہیں تھے کہ جس دھاگے سے انہوں نے شاہ میر کو باندھ رکھا ہے وہ کتنا کچا اور عنقریب ٹوٹنے والا بھی۔

پھر تم کب مل رہی ہو؟“ وہ فون پر اس سے پوچھ رہا تھا۔ دوسری طرف اس نے نجانے کیا کہا تھا کہ شاہ میر تپ اٹھا۔

اس کے علاوہ کوئی اور بہانا ڈھونڈو۔

وہ غصے سے بولا۔

تم مجھ سے ملنا نہیں چاہتی۔“ اس نے کہا۔ اس کی توقع کے عین مطابق وہ فوراً ہی جذباتی حربے سے گھائل ہو گئی۔

ٹھیک ہے پھر تم کل مجھ سے مل رہی ہو‘ اوکے۔“ ”میں کل پانچ بجے تمہیں لینے کیلئے آؤں گا۔“ وہ تحکم سے بولا۔

ڈر‘ کس بات کا ڈر؟“ شاہ میر جھنجلایا۔

تم دوسروں کی طرف مت دیکھو‘ اپنے دل کی سنو۔

دوسری طرف وہ روہانسی ہو کر فون رکھ چکی تھی۔ شاہ میر ایک دفعہ پھر اس کا نمبر ملا رہا تھا۔

فون کیوں بند کیا ہے؟“ اس نے بمشکل اپنے غصے پر کنٹرول کرکے پوچھا۔

ایک بات بتاؤں شفق! تم جب تک مجھ سے ملنے کا وعدہ نہیں کر لیتی‘ میں اسی طرح تمہیں فون کرتا رہوں گا۔ چاہے پوری رات بیت جائے یا زندگی۔“ وہ جنونی لب و لہجے میں بولا تھا۔

دوسری طرف وہ رو رہی تھی‘ اس کی سسکیوں کی آواز شاہ میر کی سماعتوں سے ٹکرا کر اس کی انا کی تسکین کر رہی تھیں۔ وہ کچھ پرسکون سا ہو گیا۔

شفق! میں تمہیں بے حد چاہتا ہوں۔ میں تم سے۔

شاہ میر اسے خواب دکھا رہا تھا۔ وہ خواب جو بند آنکھوں کے پیچھے بہت کھلے اور خوشنما لگتے ہیں۔ آنکھ کھولنے پر ان کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ پھر وہ سلگاتے ہیں‘ تڑپاتے ہیں‘ رلاتے ہیں۔

پھر تم مجھ سے مل رہی ہونا…“ اس کی آواز بہت دھیمی اور بوجھل تھی۔

ہوں‘ یہ ہوئی نا بات۔“ وہ خوشی سے چلایا اور پھر مزید دو چار باتیں کرنے کے بعد اس نے فون بند کر دیا تھا

اگلے دن وہ اپنے وعدے کے عین مطابق آ گئی تھی۔ شاہ میر فتح مندی کے احساس سے سرشار ہو گیا تھا۔

وہ جانتا تھا کہ اس کی شخصیت نظر انداز کئے جانے والی نہیں کوئی‘ لڑکی اس کے سحر سے بچ نہیں سکتی تھی۔ اس کے سرکل کی لڑکیاں چکور کی مانند اس کے گرد چکراتی تھیں۔ اس کی قربت کی خواہشمند رہتیں۔ یہ اور بات تھی کہ شاہ میر صرف خوبصورت چہروں کی طرف متوجہ ہوتا تھا۔

جن دنوں وہ کیڈٹ کالج میں زیر تعلیم تھا ان ہی دنوں میں اس کے پاپا کے خلاف ہونے والی انکوائری نے ان کی راتوں کی نیندیں اڑا دی تھی۔ وہ ویک اینڈ پر گھر آیا۔ تو خلاف معمول سب کو خاموش خاموش پایا۔ گھر میں کافی ساری خواتین نظر آ رہی تھیں۔ سب ہی نے دوپٹے اوڑھ رکھے تھے اور سپارے پڑھ رہی تھیں حتیٰ کہ ممی بھی۔

وہ قیاس کے گھوڑے دوڑانے لگا تھا۔

اسی پل ممی کی نگاہ اس پر پڑی۔”میرو! کب آئے ہو تم۔“ وہ اس کے قریب آتے ہوئے دبی آواز میں بولیں۔

ابھی آیا ہوں‘ کوئی حادثہ ہو گیا ہے کیا؟” وہ اپنے تجسس کو چھپا نہیں پایا تھا۔ ممی چونکیں اور پھر گھور کر اسے دیکھا۔

دماغ ٹھیک ہے تمہارا‘ کیا بک…“ شیما نے کچھ سوچ کر اسے ڈانٹنے کا ارادہ ترک کر دیا اور پھر بازو سے پکڑ کر اسے برابر والے کمرے میں لے گئیں۔

تمہارے پاپا کو ہیڈ آفس والوں نے بلایا ہے۔“ ممی کے لب و لہجے سے ہی وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ ”طلبی“ کس سلسلے کی کڑی ہے۔ فطری طور پر وہ بھی پریشان ہو اٹھا۔

یہ سب جنرل ثقلین نے کروایا ہے۔“ ممی دانت پیستے ہوئے غضب ناک ہوئیں۔

اوہوں۔“ شاہ میر نے ہونٹ سیکڑے۔

ان دنوں شاہ میر کے خاندان میں بھی چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں کہ بریگیڈیئر جہاں زیب کی وردی بس اترنے ہی والی ہے۔

مگر حیرت انگیز طور پر نہ صرف جہاں زیب کے خلاف ہونے والی انکوائری روک دی گئی۔ بلکہ تین سال بعد ان کی پروموشن بھی ہو گئی اور یہ صرف اور صرف ان کے لاڈلے بیٹے کی وجہ سے ہوا تھا۔ وہ ایک بڑے طوفان کی زد میں آنے سے بچ گئے تھے۔

ہر پروفیشن میں بے ساکھیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔“ جہاں زیب برملا اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔

شاہ میر کو بہت زیادہ محنت کرنا نہیں پڑی تھی۔

اپنے باپ کو اس انکوائری سے ”بری“ کروانے کیلئے اس نے جنرل ثقلین کی اکلوتی بیٹی کے سامنے ”دانہ“ پھینکا تھا اور وہ اس دانے کو چگتی ہوئی اس کے قریب آ گئی۔

وہ پہلی لڑکی تھی جس کے ساتھ شاہ میر کا دل ”فلرٹ“ کرنے کو بھی نہیں چاہتا تھا۔ بے حد معمولی شکل و صورت کی نتاشا پر دوسری نظر ڈالنا بھی شاہ میر جیسے لڑکے کیلئے بہت مشکل کام تھا۔

وہ آکسفورڈ سے پڑھ کر آئی تھی۔ بے حد قابل اور بولڈ۔ اس کے باوجود وہ احساس کمتری کا شکار تھی۔

نتاشا کے ساتھ گھنٹوں باتیں کرنا۔ اس کے ساتھ گھومنا پھرنا۔ اس کی تعریفیں کرنا بہت تکلیف دہ کام تھا جو وہ نہایت ہی دل جمعی سے کر رہا تھا۔ آہستہ آہستہ اس نے بہت سے کانٹے نتاشا کے دل سے نکال دیئے اور ایک بڑا سا کانٹا چبھو دیا۔ نتاشا کو اپنا اسیر کرکے وہ اس کی ”تڑپ“ کا مزہ لے رہا تھا۔

جیسا کہ نتاشا کا باپ اس کے باپ کو اذیت دے کر لطف اٹھا رہا تھا۔

اس نے نتاشا کے سامنے ایک چھوٹی سی شرط رکھی تھی۔ نتاشا‘ شاہ میر کی بات کیسے ٹال سکتی تھی اور جنرل ثقلین‘ بیٹی کی وجہ سے مجبور ہو گیا تھا۔

بہت سی بری عادتوں کے ساتھ شاہ میر نے اپنے باپ سے ایک اور بری عادت بھی وارثت میں لے لی تھی اور وہ تھی مطلب نکال کر مقابل کو پیروں تلے روند کر گزر جانا۔

نتاشا کے دل کے ساتھ جنرل ثقلین کے جذبات کو بھی اس نے کچل دیا تھا۔ ان دونوں خاندانوں میں اک سرد جنگ چھڑ چکی تھی۔ جس کا خاتمہ جہاں زیب کی ”جرنیلی“ کے بعد ہوا۔

پروموشن کے بعد انہوں نے جنرل ثقلین کو قبل از وقت ریٹائر منٹ لینے پر مجبور کر دیا تھا۔

باپ کی پروموشن کے بعد اس کی زندگی میں مزید آسانیاں ہو گئی تھیں۔ وہ باپ کے تعلقات کا ناجائز فائدہ اٹھاتا تھا۔ انہوں نے کبھی بھی اس پر سختی نہیں کی تھی۔ اس لئے وہ مزید آزاد اور خود سر ہوتا چلا گیا تھا۔

تو پھر تم آ ہی گئی ہو۔“ اپنے گھنے سیاہ بالوں میں انگلیاں پھیرتا وہ دھیمے سے مسکرایا تھا۔

نہیں آنا چاہئے تھا مگر پھر بھی آ گئی ہوں۔“اس نے خفگی سے کہا۔

ارے تم تو خفا ہو گئی ہو۔ میں تو بس مذاق کر رہا تھا“ وہ اب بھی مسکرا رہا تھا۔ شفق اسے مسلسل مسکراتا دیکھ کر چڑ سی گئی۔

یوں کیوں ہنس رہے ہو‘ میرے چہرے پر لطیفہ لکھا ہے کیا؟

چہروں پر لطیفے بھی لکھے جاتے ہیں۔

مجھے آج پتا چلا ہے۔“ اب کے اس نے قہقہہ لگایا تھا۔ شفق روہانسی ہو گئی تھی۔

تم نے مجھے اس لئے بلایا ہے کہ میرا مذاق اڑاؤ۔“ شفق کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔

ایک تو تم مڈل کلاس کی لڑکیاں روتی بہت ہو۔“ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا تھا۔ اس کی آواز اتنی اونچی ضرور تھی کہ شفق کے گال تپ اٹھے۔

آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹنے لگیں۔

اس لئے کہ تم اپر کلاس کے لڑکے ہمیں رلاتے بہت ہو‘ پاگل ہوتی ہیں ہم جو تم جیسوں کے جال میں پھنس جاتی ہیں۔

وہ آگ بگولا ہو کر چلائی تھی اور پھر غصے سے پلٹنے لگی۔

شاہ میر کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔ آج سے پہلے اسے اپنی صاف گوئی پر کبھی بھی اتنا غصہ نہیں آیا تھا۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکتے ہوئے نرمی سے بولا۔

تم غصے میں اور بھی خوبصورت لگتی ہو شفق! میں تو دیکھنا چاہ رہا تھا کہ تم میں کتنا غصہ ہے اگر میں براہ راست اظہار محبت کروں تو تم مجھے مارو گی تو نہیں اب تمہارے تاثرات دیکھ کر مجھے اپنا ارادہ بدلنا پڑا ہے۔

تم میں بہت غصہ ہے اور مجھے اپنی عزت عزیز ہے اور…“ وہ اسے بے تحاشا روتے دیکھ کر گھبرا گیا تھا۔

دیکھو شفق! تم مجھے معاف کر دو‘ مجھے گالیاں دے لو‘ غصہ کر لو مگر یوں خفا مت ہو۔“ زندگی میں پہلی مرتبہ شاہ میر کسی کی یوں منتیں کر رہا تھا۔ شفق نے آنسو پونچھ کر دور سے آتے رکشے کے سامنے ہاتھ لہرایا۔

تم اس رکشے والے کو مجھ پر فوقیت دے رہی ہو۔

شاہ میر کا دماغ بھی تپ اٹھا۔

یوں تماشا مت بناؤ۔“ وہ دبے دبے لہجے میں غرایا تھا۔

آئیں جی۔“ رکشہ والے نے سر باہر نکال کر کہا تھا۔ شاہ میر نے اک غصیلی نگاہ ڈال کر اسے جانے کا اشارہ کیا۔

بادشاہو روکا کیوں تھا۔“ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا نو دو گیارہ ہو گیا۔

شاہ میر نے بغیر کچھ کہے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچنا شروع کیا۔

اس وقت سڑک سنسان تھی۔ اکا دکا گاڑیاں آ جا رہی تھیں۔ شاہ میر نے فرنٹ ڈور کول کر اسے گاڑی میں دھکیلا اور خود دوسری طرف آکر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔

نہیں جا رہی میں تمہارے ساتھ۔“ شفق چلائی تھی۔

مزید ایک لفظ بھی مت بولنا‘ خاموشی سے بیٹھی رہو۔ میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑنے جا رہا ہوں۔“ وہ بھی گرجا تھا۔

پھر سارے راستے خاموشی چھائی رہی۔

شفق کی سسکیاں اسے ڈسٹرب کر رہی تھیں تاہم وہ بولا کچھ نہیں۔ شفق کے گھر سے کچھ دور اس نے گاڑی روک دی۔ وہ بغیر کچھ کہے خاموشی سے اتر گئی تھی۔ شاہ میر بھی سلگتا ہوا چلا گیا تھا۔

رات تک وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ اب کبھی بھی اس بددماغ لڑکی سے رابطہ نہیں کرنا۔ مگر وہ صرف تین دن ہی خود کو روک سکا تھا۔ چوتھے دن وہ ایک دفعہ پھر اس کا نمبر ملا رہا تھا۔

بیل مسلسل جا رہی تھی مگر کوئی رسپانس نہیں مل رہا تھا۔ اس نے ایک مرتبہ پھر نمبر ڈائل کیا مگر جواب ندارد۔

فون سن بھی لو شفق!“ تیسری بیل پر کسی کرخت سے لہجے والی خاتون نے فون اٹھایا تھا۔ شاہ میر نے غصے سے فون پٹخ دیا۔

وہ ٹاول اٹھا کر واش روم کی طرف بڑھنے لگا تھا جب فون کی گھنٹی گنگنا اٹھی۔ وہ سرعت سے فون کی طرف بڑھا۔ دوسری طرف اشعر تھا۔

شاہ میر نے طویل سانس خارج کی۔

کہاں ہو تم؟

تمہارے دل کے پاس۔ تمہارے سپنوں میں‘ خیالوں میں‘ خوابوں میں اور…“ وہ روانی سے بول رہا تھا جب اشعر نے گھبرا کر اسے روک دیا۔

اوہ میرے بھائی! بس کر‘ میں ملیحہ نہیں ہوں۔ تمہارے رومانٹک ڈائیلاگز کی تاب نہیں لاسکوں گا میں۔ میرے حال پر رحم کر۔“ اشعر کے گڑگڑانے پر شاہ میر نے قہقہہ لگایا تھا۔

اتنے دن ہو گئے ہیں تم کلب نہیں آتے۔ ملیحہ نے تو میرا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ بڑی اداس ہو رہی ہے دیدار کروا دو اسے اپنا۔

بھاڑ میں جائے ملیحہ‘ میں کیا کروں اس پاگل کا۔“ شاہ میر نے کڑوے لہجے میں کہا تھا۔

یہ میرے کان کیا سن رہے ہیں؟“ اشعر قدرے حیران ہوا۔

ٹھیک ہی سن رہے ہیں‘ زیادہ ایکٹنگ نہ کرو اور ہاں اس ملیحہ سے جان چھڑوا دو میری۔

وہ لاپروائی سے کہہ رہا تھا۔

بس چھٹی ملیحہ بیگم کی۔“ اشعر نے قہقہہ لگایا۔ اب وہ شہ میر کو کسی نئے ”پیس“ کے متعلق بتا رہا تھا۔ وہ بے خیالی میں سنتا گیا۔

اگلے چند ہفتے اس کے بہت مصروف گزرے تھے مگر باوجود مصروفیت کے وہ شفق کو اپنے ذہن سے نہیں نکال پایا تھا۔

اس نے ایک مرتبہ پھر اس سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کرنا شروع کر دی تھی‘ ایک دن اتفاقاً اس نے فون اٹھا لیا۔

کیسی ہو ڈئیر؟“ شاہ میر کے لہجے میں ایسی تڑپ تھی‘ اتنی بے قراری تھی کہ شفق ٹھٹک سی گئی۔

فون مت رکھنا‘ پہلے میری بات سن لو۔“ وہ ٹوٹے لہجے میں کہہ رہا تھا۔

اتنے دنوں میں‘ میں نے جان لیا ہے کہ میں سچ مچ تم سے محبت کرنے لگا ہوں۔ تمہاری بے رخی ناراضی مجھے بہت تکلیف دیتی ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ تمہاری فیلنگز کیا ہیں۔

اگر تم مجھے چاہتی ہوتیں تو یوں تمام رابطے‘ تعلق نہ توڑ لیتی۔ خیرایک بات تو طے ہے۔ تم مجھے چاہو یا نہ چاہو۔ میں تم سے زندگی کی آخری سانس تک محبت کرتا رہوں گا۔ تم مجھے معاف کرنے کا حوصلہ رکھتی ہو تو کل اسی جگہ پر مجھ سے ملنا‘ جہاں پہلی مرتبہ ہماری ملاقات ہوئی تھی‘ اوکے۔“ شاہ میر فون رکھ چکا جبکہ شفق ریسیور ہاتھ میں پکڑے ساکت سی کھڑی رہی۔

اس کی ماں اسے گم صم کھڑا دیکھ کر بلند آواز میں بولی تھی۔

شافی! تیرے بابا کے آنے کا وقت ہو گیا ہے‘ جلدی سے ہنڈیا چڑھا لو۔

اچھا اماں!“ شفق نے گڑبڑا کر ریسیو کریڈل پر پٹخا ور تیزی سے کچن کی طرف بھاگی۔ وہ سبزی کاٹ رہی تھی جب خرم کی آواز آئی۔

شفو“ شافی! کہاں ہو تم؟

کیا بات ہے‘ ادھر ہوں میں۔“ اس نے کھڑکی میں سے جھانکا۔

دیکھو‘ میرا ٹیسٹ کتنا اچھا ہوا ہے۔“ خرم نے ایک پرچہ شفق کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔

خرم اس کے پاس انگلش اور میتھ پڑھنے آتا تھا۔ کل اسی کا ٹیسٹ تھا جس کی وہ ساری رات بیٹھ کر تیاری کرتا رہا تھا۔ شفق بھی اس کے ساتھ جاگتی رہی تھی۔

بابا آتے ہیں تو انہیں بھی دکھانا۔

سر نے آج میری بہت تعریف کی ہے۔کہہ رہے تھے کہ خرم! تم تو کمال کرنے لگے ہو۔ میں نے کہا کمال میرا نہیں میرے ٹیوٹر کا ہے۔“ وہ مسکراتے ہوئے اسے بتا رہا تھا۔ شفق بھی بے دلی سے مسکرا دی۔

تم باہر بیٹھ کر پڑھو۔ میں ابھی آتی ہوں۔“ خرم کو بھیج کر وہ ایک دفعہ پھر گہری سوچوں میں گم ہو گئی تھی۔

وہ ساری رات سو نہیں سکا تھا۔ اسی لئے اٹھا بھی دیر سے ہی تھا۔ ناشتہ کرنے کے بعد وہ اشعر کے گھر چلا گیا تھا۔

مل گئی تمہیں فرصت مجھ سے ملنے کی؟“ اشعر نے طنزیہ کہا۔

آج جلدی ہی اٹھ گئے ہو۔“ شاہ میر اس کے طنز کو نظر انداز کرتا لاپروائی سے بولا۔ اشعر چھٹی کا دن سو کرگزارتا تھا۔ خلاف معمول اسے جاگتا پاکر شاہ میر حیران ہوا۔

ناشتہ کرو گے؟

نہیں۔

چائے تو پیو گے ناں؟

نہیں رہنے دو‘ ابھی پی کر آ رہا ہوں۔

کیا بات ہے ہیرو! تم ٹھیک تو ہو ناں!“ اشعر جاتے جاتے پلٹ آیا تھا۔ صوفے پر اس کے مقابل بیٹھتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بولا۔

مجھے کیا ہونا ہے؟“ اس نے اشعر کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔

چھپاؤ مت مجھ سے‘ جو بات ہے شیئر کرو۔

مجھے محبت ہو گئی ہے۔

کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔

اشعر جو کہ غمگین سی صورت بنائے بیٹھا تھا‘ ایک دم ہی ہنس پڑا۔

بہت اچھا لطیفہ سنایا ہے تم نے مجھے۔“ اشعر کے مذاق اڑانے پر وہ تپ اٹھا۔

میں سنجیدہ ہوں۔

ہوں… تو کیا اسم شریف ہے محترمہ کا اور تم سے کہاں ”ٹاکرا“ ہوا ہی اس کا؟

شفق… شفق نام ہے اس کا۔“ شاہ میر کھوئے کھوئے لہجے میں بولا تھا۔

اشعر کو بے ساختہ ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔

دانت کیوں نکل رہے ہیں تمہارے؟“ شاہ میر نے اسے گھورا۔

اچھا بتاؤ کہ ان شفق خاتون سے کب اور کہاں ملاقات ہوئی ہے تمہاری؟“ وہ بمشکل ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے بولا۔

بس ایک ایکسیڈنٹ ہی سمجھ لو۔“ شاہ میر کو بے اختیار اپنی اور شفق کی ملاقات یاد آ گئی۔ وہ ایکدم اٹھ کھڑا ہوا۔

کہاں جا رہے ہو؟“ اشعر اسے تیزی سے باہر نکلتے دیکھ کر چیخا۔

ایک ضروری کام یاد آ گیا ہے۔ جم میں ملاقات ہو گی۔“ شاہ میر نے گاڑی اسٹارٹ کی۔ اشعر کندھے اچکاتا پلٹ گیا تھا۔

شاہ میر کو گویا یقین تھا کہ شفق ضرور آئے گی۔ وہ جس آگ میں سلگ رہا تھا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ شفق تک اس کے شعلے نہ لپکتے۔ وہ اس کے یقین پر مہر لگانے آ گئی تھی۔

شاہ میر بے انتہا خوش تھا۔ اسی خوشی میں اس نے ملیحہ کو لنچ کی آفر کر ڈالی تھی۔

وہ جو اتنے دنوں سے شاہ میر کی بے اعتنائی برداشت کر رہی تھی کھل اٹھی۔

شکر ہے کہ تمہیں میرا خیال تو آیا۔

تمہارا خیال کب نہیں آتا۔ بس یار پچھلے دنوں کچھ مصروف تھا۔ اسی لئے تمہیں ٹائم نہیں دے پایا۔“ وہ دلکشی سے مسکرایا۔

شاہ میر! تم فراز سے ملے ہو‘ اس دن کے بعد۔“ ملیحہ کو اچانک خیال آیا تھا۔ شاہ میر کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی تھی۔

نہیں۔“ وہ تنفر سے بولا۔

امریکہ بھاگ گیا ہے خبیث‘ کہہ رہا تھا اس ملک کے حالات دیکھ کر میرا دل جلتا ہے۔ اگر یہی حال رہا تو میں ایک دن کڑھ کڑھ کر ختم ہو جاؤں گا۔ یہ سسٹم تو بدل نہیں سکتا۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے کا ارادہ کر لیا ہے۔ بے چارہ کتابی کیڑا‘ کتابی باتیں کرتا تھا۔“ ملیحہ نے لاپروائی سے کہا۔

میرا خیال ہے باتیں ساتھ ساتھ ہوتی رہیں گی۔

کھانا کھانے چلتے ہیں۔“ شاہ میر کے کہنے پر ملیحہ مسکراتے ہوئے کھڑی ہو گئی تھی۔

ملیحہ کے کہنے پر وہ ایک درمیانے درجے کے ہوٹل میں آئے تھے۔ یہاں آکر شاہ میر بری طرح پچھتایا تھا۔ اس کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ یوں شفق سے سامنا ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ اور بھی پانچ چھ لڑکیاں کالج یونیفارم میں تھیں۔ اس کی بدقسمتی تھی کہ شفق نے بھی اسے دیکھ لیا تھا۔

اس کی آنکھوں میں چھائی ناگواری نے شاہ میر کو کچھ پریشان کر دیا تھا۔ اسی پل شفق نے اپنی دوستوں سے کچھ کہا تھا اور پھر تیزی سے باہر نکلتی چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد گویا ہر منظر بے رنگ ہو گیا تھا۔

وہ چلی گئی تھی اور اس کے جانے کے بعد شاہ میر نے بے دلی سے کھانا کھایا تھا۔ اس رات شفق نے پہلی مرتبہ ازخود اسے فون کیا تھا۔ وہ جیسے کسی گہرے صدمے کے زیر اثر بول رہی تھی۔

شاہ میر خاموشی سے سنتا رہا تھا۔ یہاں تک کہ وہ خود ہی بول بول کر خاموش ہو گئی۔

کچھ اور کہنا ہے تو وہ بھی کہہ لو‘ میں ہمہ تن گوش ہوں۔“ شاہ میر نرمی سے بولا تھا۔

کہنے کیلئے کچھ بچا ہی نہیں۔“ اس کا لہجہ ٹوٹا بکھرا تھا۔ شاہ میر کو انجانی سی خوشی ہوئی۔

تمہارا یہ لہجہ‘ یہ انداز مجھے خوش فہمیوں میں مبتلا کر رہا ہے۔

میرے ساتھ مذاق مت کرو‘ میری زندگی کے ساتھ مذاق نہ کرو۔“ وہ بھیگی آواز میں بولی۔

تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں ہے؟

اعتبار!“ وہ تنفر سے ہنسی۔ ”یہ لفظ تمہارے منہ پر سجتا نہیں ہے۔

میں اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہوں گا۔ اگر تم یقین نہیں کرتی تو نہ کرو۔ ملیحہ میرے دوست کی فیانسی ہے۔ اگر تم کچھ دیر اور رُکتی تو اشعر کو بھی دیکھ لیتی۔“ وہ اسی سحر انگیز لہجے میں کہہ رہا تھا۔

شفق خاموشی سے اس کی دلنشین آواز کو سنتی رہی اورجب وہ فون رکھ رہی تھی تو شاہ میر اس سے ملنے کا وعدہ لے چکا تھا۔

اگلے دن وہ اپنے وعدے کے عین مطابق آ گئی تھی۔ اس کی ناراضی اور غصے کے باوجود شاہ میر نے اسے لنچ کروایا تھا۔ وہ بے حد گھبرائی اور سہمی سہمی تھی۔ شاہ میر کو اس کی گھبراہٹ مزہ دے رہی تھی۔ وہ اس سے کافی دیر بے سروپا باتیں کرتا رہا تھا۔ اس کی دلچسپیاں‘ مشاغل‘ مصروفیت‘ پسند نا پسند۔

شفق سوچ رہی تھی کہ شاہ میر یقینا اس سے کوئی اور بات کرنا چاہ رہا ہے۔

لاشوری طور پر وہ اپنا دھیان اس بات سے ہٹانے کیلئے مسلسل بول رہا تھا۔

تم وہ بات کرو‘ جو کہنا چاہتے ہو۔“ بہت دیر اپنے گلابی دودھیا ہاتھوں کو دیکھنے کے بعد اس نے باکل اچانک کہا تھا۔شاہ میر اک پل کیلئے بالکل خاموش ہو گیا۔ پھر جب وہ بولا تو بے حد سنجیدہ تھا۔

میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔

بس اتنی سی بات۔

وہ ہولے سے مسکرائی تھی۔

کیا تم بھی ایسا چاہتی ہو؟“ شاہ میر نے سوالیہ نگاہوں سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔

جب ایک عورت کی زندگی میں کوئی مرد داخل ہوتا ہے تو پتا ہے کہ اس عورت کی کیا خواہش ہوتی ہے۔ یہ کہ وہی مرد آخری بھی ہو۔ لباس کی طرح مرد بدلنے والی عورتیں‘ عورتیں نہیں طوائفیں ہوتی ہیں۔“ شفق بہت مضبوط لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر بول رہی تھی۔

وہ جب جب اس سے ملتا تھا۔

شفق اسے حیران ہی کرتی تھی۔ وہ اس سے تقریباً آٹھ نو سال چھوٹی تھی۔ مگر اس کی سوچ شاہ میر کی سوچ سے زیادہ پختہ تھی۔

تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟“ وہ سنبھل کر بولا تھا۔

اگر مجھے تم سے محبت نہ ہوتی تو میں کبھی بھی تمہارے ساتھ اس وقت یہاں نہ ہوتی؟

میرے والدین راضی نہ ہوں تب بھی۔“ شاہ میر نے اس کے چہرے کا رنگ بدلتے دیکھا۔

نہیں۔“ چند پل سوچنے کے بعد وہ اسی مضبوط لہجے میں بولی تھی۔

جس شادی میں تمہارے والدین ہی شامل نہ ہوں بھلا وہ کب کامیاب رہے گی۔“ شفق گویا خود کو آزما رہی تھی۔

میرے بغیر رہ سکو گی؟“ شاہ میر نے پہلا پتا پھینکا تھا۔

محبت کے بغیر انسان زندہ رہ سکتا ہے مگر عزت کے بغیر نہیں۔“ وہ کھڑکی کے پار بد رنگ منظر دیکھ رہی تھی۔

ایسا ہی بد رنگ منظر ہمیشہ کیلئے اس کی زندگی میں ٹھہرنے والا تھا۔

اگر میں اپنے ممی پاپا کو منانے میں کامیاب نہ ہوا تو؟“ اس نے دوسرا پتا پھینک کر سوالیہ نگاہوں سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ وہ لب کاٹتے ہوئے بہت آزردہ لگ رہی تھی۔ اس آزردگی میں بے بسی کا عنصر بھی نمایاں تھا۔

مجھے پتا ہے‘ وہ نہیں مانیں گے۔ ہرگز بھی نہیں۔

وہ کہہ رہا تھا شفق کا دل بھی اک لمحے کو رکا۔

وہ نہ آئے تو تم بھی مجھ سے شادی نہیں کرو گی۔ ممی پاپا کیلئے میری خواہش‘ میری پسند کی کوئی اہمیت نہیں‘ ان کیلئے یہ معمولی بات ہی ہوگی۔ تمہارے لئے بھی شاید یہ معمولی واقعہ ہو مگر میرے لئے تمہیں بھلانا بہت مشکل ہے۔ تم مجھے نہ ملی تو میں مر نہیں جاؤں گا نہ ہی کسی قسم کا جوگ لینے کا کوئی ارادہ ہے میرا۔

بس اک پھانس سی ہمیشہ رہے گی۔ تمہیں کھونے کادکھ دل کے ایک کونے میں ”یاد بن“ کر زندہ رہے گا۔“ وہ پتے پر پتے پھینک رہا تھا یہاں تک کہ شفق کے آنسو بہہ نکلے۔

شاید یہ ہماری آخری ملاقات ہو۔“ اس کے دل کو کسی نے مٹھی میں بھینچا تھا۔

تم ان سے بات تو کرو اگر وہ مان گئے تو ٹھیک ہے ورنہ میں تم سے شادی کرنے کیلئے تیار ہوں۔ میرے بابا سے تم ایک دفعہ مل لو۔“ آخری کارڈ سے شاہ میر یہ بازی جیت چکا تھا۔

شفق نے خود کو آزمایا تھا مگر وہ اس آزمائش میں پوری نہیں اتری تھی۔ اس نے اک ہی پل میں سارے ہتھیار پھینک دیئے تھے اور ہتھیار پھینکنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے

ویک اینڈ پر وہ گھر گیا تھا اور اس نے ممی‘ پاپا سے بات بھی کی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ممی پاپا نے ماننا نہیں ہے مگر وہ پھر بھی کافی دیر تک ان سے بحث کرتا رہا تھا جھگڑتا رہا تھا۔

جنرل جہاں زیب جانتے تھے کہ شاہ میر بے حد جذباتی ہے۔ اس دور میں عموماً لڑکے جذباتی ہوتے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے اس کے مسئلے پر اتنا غور نہیں کیا تھا جبکہ شیما کافی پریشان تھیں۔

انہیں شاہ میر کے مزاج کا پتا تھا کہ وہ کس قدر ضدی‘ جذباتی اور جنونی ہے۔ جس کام سے اسے روکا جائے وہ ضد میں آکر وہی کرتا تھا۔ رات کو وہ ایک دفعہ پھر ماں سے الجھ پڑا تھا۔ اب شیما کو بھی غصہ آ گیا تھا۔

کیا ہے اس معمول لڑکی میں جس کی خاطر تم ماں باپ سے جھگڑ رہے ہو؟

وہ معمول لڑکی نہیں ہے۔“ اس نے ناگواری سے کہا۔

بتاؤ پھر کیا ہے اس کے پاس۔

کس فیملی سے تعلق ہے اس کا۔ کیا کرتا ہے اس کا باپ۔ کتنی زمینیں ہیں‘ کتنی فیکٹریز ہیں‘ کتنا بینک بیلنس ہے؟

اس کے پاس یہ سب نہیں ہے مگر اسے معمولی مت کہیں۔

یو آر آل ریڈی انگیجڈ شاہ میر! تم رشتوں کو کیا سمجھتے ہو‘ ہزاروں لوگوں کے سامنے تم نے ماہا کو انگیجمنٹ رنگ پہنائی ہے اور ماہا کوئی عام لڑکی نہیں ہے۔ تمہارے پاپا کے بیسٹ فرینڈ کی بیٹی ہے اور تم جانتے ہو کہ…“

جسٹس شرجیل کے ہم پر بہت احسان ہیں۔

اس نے ترشی سے شیما کی بات کاٹی۔ شیما کا چہرہ یک لخت سرخ ہو گیا تھا۔

بہت ہو گیا‘ اب اس پاگل پن کو ختم کرو۔ تم بچے نہیں ہو اور نہ ہی اتنے کم فہم ہو کہ ہر بات تمہیں سمجھانی پڑے۔ دس منٹ میں فریش ہو کر نیچے آؤ۔ میں کھانا لگواتی ہیں۔

آپ نے میرا پاگل پن دیکھا ہی کب ہے ممی ڈیر!“ شیما کے جانے کے بعد اس نے تلخی سے سوچا۔

صبح ہوتے ہی اس نے جسٹس شرجیل کو فون کیا۔

وہ باتھ لے رہے تھے۔ ملازمہ نے اسے ہولڈ کرنے کو کہا۔ کچھ دیر بعد دوسری طرف شرجیل کی آواز سنائی دی۔

شہزادہ عالم کو کیسے ہماری یاد آ گئی؟

انکل! میں نے آپ سے ایک بات پوچھنا ہے۔“ وہ بغیر سلام دعا کے سرعت سے بولا تھا۔ شرجیل نے قہقہہ لگایا۔

کہو۔ میری جان! اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے۔

انکل! آپ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔

یہ کیسا سوال ہے؟“ شرجیل چونک سے گئے تھے۔

میری بات کا جواب دیں۔“ وہ سختی سے بولا تھا۔

اگر کوئی پیمانہ ہوتا تو پیمائش کر لیتے۔ شاید تمہارا باپ بھی تمہیں اتنا نہ چاہتا ہوگا جتنی محبت میں تم سے کرتا ہوں۔“ انہوں نے سنجیدگی سے کہا۔

بتائیں انکل! جو ہمیں بہت عزیز ہوں‘ ان کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے نا؟“ وہ ضدی لہجے میں گویا ہوا۔

ہاں…“ شرجیل مختصر بولے۔

تو پھر ایک بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ پاپا کو مجھ سے محبت نہیں ہے۔ اب میں آپ کی محبت کو پرکھنا چاہتا ہوں۔“ اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔

ایک پہیلی بوجھتے ہیں۔ بازار میں ایک چیز ہے۔ وہ بہت خوبصورت ہے۔ آپ کا دل چاہتا ہے کہ اسے خرید لیں۔ والٹ میں پیسے بھی ہیں۔ کچھ اختیارات بھی ہیں۔ دل مجبور اور بے بس ہے تو پھر آپ کیا کریں گے۔

چھوڑ دیں گے اسے یا پھر خرید لیں گے؟“ اس کے لہجے میں نجانے کیا تھا جس نے شرجیل کی چھٹی حس کو الرٹ کر دیا تھا۔

یہ تو چیز دیکھ کر بتایا جا سکتا ہے۔ اگر اس میں کوئی عیب نہ ہو اور دیکھنے والی نگاہ اسے پہلی نظر میں اوکے کر دے تو پھر اسے خرید لینا چاہئے۔“ وہ شاطرانہ دماغ اور زرخیز سوچ رکھتے تھے۔

انہوں نے بڑے بڑے فیصلے کئے تھے۔

جائز و ناجائز ہر کام بڑی صفائی سے انجام دیا تھا۔ وہ لوگوں کے رویوں اور چہروں کو دیکھ کر اندر کا حال پڑھ لیتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ آدمی کی سوچ میں گھس جاتے ہیں۔ دماغ میں جھانک لیتے ہیں مگر شاہ میر کے متعلق ان کے اکثر اندازے غلط ہی ہوتے تھے۔

اوکے انکل! آپ نے میرا مسئلہ حل کر دیا۔“ وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتے تھے مگر شاہ میر نے کھٹاک سے فون رکھ دیا تھا۔

اب وہ اپنی پیکنگ کر رہا تھا۔ شاور لے کر اس نے لباس بدلا‘ جوگرز کسے‘ پرفیوم اسپرے کیا۔ اسی پل گوگی (ملازمہ) ممی کا پیغام لے کر آ گئی تھی۔

جب وہ ممی کے بیڈ روم میں آیا تو وہ اس کے انتظار میں ہی بیٹھی تھیں۔ سامنے رکھا میگزین ایک طرف رکھتے ہوئے وہ دلکشی سے مسکرائیں۔

بہت ہینڈ سم لگ رہے ہو‘ اسی لئے تو شرجیل اور اس کی بیٹی تم پر فدا ہیں۔

شیما نے محبت سے اس کے شاندار سراپے کو دیکھ کر کہا۔

ممی! بات یہ ہے کہ مجھے ان دونوں سے ہی چڑ ہونے لگی ہے۔ کم از کم ماہا کا ذکر میرے سامنے نہ کیا کریں۔“ وہ صاف گوئی سے بولا۔ شیما کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔

جتنا مرضی چڑ لو‘ شادی تو آخر اسی سے ہی ہونی ہے۔

ایک بات تو طے ہے کہ مجھے ماہا سے شادی کسی بھی صورت میں نہیں کرنی جس کے اتنے بوائے فرینڈز ہوں‘ وہ میری بیوی کبھی بھی نہیں بن سکتی۔

وہ کٹیلے لہجے میں گویا ہوا تھا۔ شیما کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔

ماہا کوئی گری پڑی لڑکی نہیں ہے۔ جسٹس شرجیل کی بیٹی گری پڑی ہو بھی نہیں سکتی۔“ شیما نے بمشکل اپنے لہجے کی تندی پر قابو پایا۔ شاہ میر نے غصے سے ماں کی طرف دیکھا تھا۔

وہ ریٹائرڈ بڈھا اب پاپا کے کسی کام کا نہیں ہے۔

ہاتھی مرا ہوا بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے۔

شیما نے ایک دفعہ پھر لہجے میں شیرینی بھری تھی۔

جو بھی ہو‘ میرا فیصلہ اٹل ہے۔ پاپا کو بھی بتا دیجئے۔“ وہ شانے جھٹکتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

مجھے شفق جیسی لڑکی کا ساتھ چاہئے جس کا ظاہر اور باطن صاف پاک ہے جس کی نگاہ میں حیاء ہے اور جس کی زندگی میں پہلے کوئی مرد نہیں رہا۔“ وہ مضبوط لہجے میں کہتا باہر نکل گیا تھا۔ جہاں زیب نے بے حد حیرانی سے اس کی پشت کو دیکھا۔ ان کی پیشانی پر سلوٹیں نمودار ہو گئی تھیں۔

س نے ماہا سے منگنی توڑنے کا اعلان کر دیا تھا۔ جب جہاں زیب کو خبر ہوئی تو انہوں نے طوفان کھڑا کر دیا تھا۔ شاہ میر لاہور جا چکا تھا۔ ان کا مارے غصے‘ اشتعال اور توہین کے احساس سے برا حال تھا۔ وہ بیوی اور ملازموں پر چیختے رہے پھر شرجیل کو فون کرکے ماہا کو واپس بلوانے کیلئے کہا۔ وہ ان دونوں کا نکاح کر دینا چاہتے تھے۔ جب تک جہاں زیب لاہور پہنچتے‘ ان کے لاڈلے چہیتے بیٹے نے ایک معمولی سے کواٹر ماسٹر کی بیٹی سے نکاح کر لیا تھا۔

یہ ایسی شکست تھی جس نے ان کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔

ان کا نکاح شفق کے چھوٹے سے دو کمروں والے گھر میں ہوا تھا۔ اس کے بابا بشیر احمد نے ہزاروں خدشات کے ساتھ اپنی اکلوتی بیٹی کو رخصت کیا تھا۔ وہ بیٹی کو وداع کرکے بے حد پریشان تھا۔

اس کی بیوی البتہ بہت مطمئن اور سرشار تھی۔ داماد کی شاندار پرسنالٹی اور اونچے عہدے نے اسے فخر و انبساط کے جذبات سے مغلوب کر دیا تھا۔

آج سے پورے سات دن پہلے جب شفق نے جھجکتے ہوئے اپنی ماں سے چپکے سے اپنی پسند کا اظہار کیا تو وہ کئی لمحے تو کچھ بول ہی نہیں سکی تھی۔

یہ تو کیا کہہ رہی ہے شافی!“ خالدہ نے بے یقینی سے بیٹی کے کے چہرے کی طرف دیکھا۔

وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے‘ وہ آپ سے ملنے کیلئے آئے گا۔“ وہ پلکیں جھکائے لرزتی آواز میں بولی تھی۔ خالدہ‘ بیٹی کے چہرے پر پھیلے رنگوں کو دیکھنے لگی۔

کون ہے وہ اور کیا کرتا ہے؟‘ اب کے خالدہ کی آواز نرم تھی۔

شفق نے دھیرے دھیرے اسے شاہ میر کے متعلق بتایا۔ خالدہ کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا تھا۔ آنکھوں میں چھائی ناگواری دور ہوتی چلی گئی۔

اس کے ماں‘ باپ مان گئے ہیں۔ وہ آئیں گے یہاں رشتے کی بات کرنے۔“ خالدہ نے اشتیاق سے پوچھا۔

نہیں… وہ لوگ نہیں مان رہے۔ اس کے باوجود شاہ میر مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔

تم صاف انکار کر دو۔ جب تک وہ اپنے والدین کو منا نہیں لیتا۔ یہ شادی نہیں ہوگی۔“ خالدہ نے غصے سے کہا تھا۔ شفق کی آنکھوں میں نمی تیرے لگے تھی۔

اماں! شادی کے بعد…“

اس کے علاوہ کوئی اور بات کرو۔“ خالدہ نے جھاڑو پکڑ کر صحن میں بکھڑے پتے اکٹھے کرنا شروع کر دیئے تھے۔

شفق کتاب اٹھا کر چھت پر چلی گئی۔ خالدہ جانتی تھی کہ وہ چھت پر پڑھنے کیلئے نہیں‘ رونے کیلئے گئی ہے۔

وہ سر جھٹک کر لاپروائی سے اپنے کام میں مصروف رہی تھی۔

اور پھر ایک دن بالکل اچانک شاہ میر ان کے گھر چلا آیا تھا۔ خالدہ تو اسے دیکھ کر دنگ ہی رہ گئی تھی۔ اتنا حسین مرد اس نے پوری زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔ اسے بے اختیار اپنی بیٹی کے نصیب پر رشک آیا۔

یہ اتنا سجیلا جوان میری بیٹی کا طلب گار ہے۔“ وہ ساکت و صامت سی اسے دیکھے جا رہی تھی اور پھر اس نے ازخود اپنے شوہر سے بات کرنے کی ٹھان لی۔

نیک بخت! تیرا دماغ تو ٹھیک ہے۔“ بشیر نے حیرت سے بیوی کے پرجوش چہرے کی طرف دیکھ کر کہا۔

یہ امیر زادے چھوٹے بڑے اسٹیشنوں پر گھڑی دو گھڑی کیلئے رکتے ہیں اور پھر چل دیتے ہیں۔ ارے‘ ایسے مسافروں کا کیا بھروسا‘ مجھے اپنی شفق کو کسی برزخ میں نہیں پھینکنا۔“ بشیر کے دو ٹوک بات کرنے پر خالدہ جلبلا اٹھی تھی۔

تم اپنے ہی جیسے کسی حوالدار کے ساتھ میری شہزادیوں جیسی بیٹی کو بیاہنے کا خیال دل سے نکال دو۔

میں نے اسے ایسے ہی اونچے گھرانے میں بیاہنے کا خواب دیکھا تھا جو کہ اب پورا ہو رہا ہے۔

جو اس کے نصیب میں ہوا وہ اسے مل جائے گا اور پھر ابھی تو اس کی تعلیم بھی نامکمل ہے اور میں اسے ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں۔

ضد مت کرو بشیر! سمجھ داری سے کام لو۔ کتنا اچھا لڑکا ہے شاہ میر اور پھر میجر بھی ہے۔ میری بیٹی‘ بیگم صاحب بن کر رہے گی۔

خالدہ کی آنکھوں میں ننھے منے دیے سے جل اٹھے تھے جن کی روشنی نے بشیر کے ارادوں کو بھی ڈانواں ڈول کر دیا۔ وہ کچھ دیر سوچنے کے بعد آہستگی سے بولا تھا۔

اپنی بھابھی کو کیا جواب دوں گی۔ انہوں نے بچپن میں ہی شفو کو خرم کیلئے مانگ لیا تھا۔

خرم‘ شفق سے پورے چار سال چھوٹا ہے اور ابھی اسکول میں پڑھ رہا ہے۔ تم بھی بشیر نجانے کس زمانے کی باتیں کرتے ہو۔

خالدہ نے بے حد ناگواری سے بشیر کو گھورا تھا اور پھر کرخت لہجے میں گویا ہوئی تھی۔

سوچ لو خالدہ! ہمارا اور ان کا کوئی جوڑ نہیں بنتا۔“ بشیر اسے حقیقت بتا رہا تھا اور وہ اس کی کوئی بھی بات سننا نہیں چاہتی تھی۔

تم اس احساس کمتری سے کبھی بھی نہ نکلنا۔“ خالدہ زہریلے لہجے میں کہہ رہی تھی۔

شاہ میر کے والدین رضا مند نہیں تھے اور یہی بات بشیر کی نیندیں اڑانے کیلئے کافی تھی‘ لیکن بیٹی کے سرشار چہرے کی طرف دیکھ کر دل کچھ پرسکون سا بھی تھا۔ آج رات اسے بڑی سکون نیند آئی تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ بس آج کی رات تک ہی اس کی زندگی میں سکون لکھا گیا ہے

شاہ میر نے کرائے پر کوٹھی لی تھی جس میں وہ شفق کو لے کر گیا تھا اور جسٹس شرجیل کیلئے شادمان میں اس درمیانے درجے کی کوٹھی کا پتا لگانا کون سا مشکل کام تھا۔

وہ دونوں ایک ہفتے کیلئے ملک سے باہر گئے ہیں۔“ جسٹس شرجیل فون پر اپنے دوست سے مخاطب تھے۔

تم اسے ایک دفعہ پاکستان آ لینے دو پھر دیکھنا‘ میں اس کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔“ جنرل جہاں زیب دوسری طرف پھنکار رہا تھا۔

شرجیل نے زہر کا گھونٹ بھرتے ہوئے جہاں زیب کو ٹھنڈا رہنے کی تلقین کی۔

شرجیل! اس بے غیرت نے میری انا کو للکارا ہے۔ میں اس کا خون کر دوں گا۔ اس نے ابھی میری نرمی اور پیار دیکھا ہے‘ اسے ڈھیل دے رکھی تھی میں نے۔ بہت ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اس نے میری نرمی کا۔ ایک دفعہ آ لو لینے دو اسے‘ میں کیا حشر کروں گا اس کا۔

جہاں زیب بھوکے شیر کی طرح غرا رہے تھے۔

ایسے ہی غصے اور اشتعال کی تیز لہریں شرجیل کے وجود سے بھی اٹھ رہی تھیں۔

جذباتی مت بنو جہاں زیب! اپنے بیٹے کے کیریئر کو تباہ کرنے کے بارے میں مت سوچو۔ ہمیں شاہ میر کے راستوں میں روڑے اٹکانے کی ضرورت نہیں۔“ شرجیل نرم آواز میں بولے۔

اس نے مجھے ذلیل کرکے رکھ دیا ہے۔ بہت شرمندہ ہوں میں تم سے۔

جانے دو اس بات کو‘ اب آگے کا سوچو۔

جو ہونا تھا‘ وہ تو ہو چکا ہے۔ شاہ میر نے اپنی مرضی کر لی ہے‘ اب ہماری باری ہے۔ اگر تم شاہ میر سے اُلجھو گے‘ جھگڑو گے تو وہ تم سے اور دور چلا جائے گا۔ اسے خود سے قریب کرو۔ ہم کیوں اس کی نظروں میں بُرے بنیں۔ اسے کیوں نہ شاہ میر کی نگاہوں سے گرا دیں جو کہ سارے فساد کی جڑ ہے۔ وہ اس لڑکی کی ظاہری شخصیت سے متاثر ہوا ہے۔ اس کے اندر کی بدصورتی برداشت نہیں کر پائے گا۔

ہلکا سا قہقہہ لگا کر شرجیل ایک پل کو رکے۔

یہ وقت جوش سے نہیں‘ ہوش سے کام لینے کا ہے۔ اگرچہ غلطی شاہ میر کی ہے مگر سزا کی حق دار وہ عورت ہے جس نے شاہ میر کو اپنے جال میں پھنسایا ہے۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اب ہمیں کیا کرنا ہے۔ ذرا غور سے سنو“ شرجیل نے شاطرانہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنا نیا منصوبہ دوست تک پہنچایا تھا۔

دوسری طرف جہاں زیب بھی کھل اٹھے۔

اب وہ دونوں بڑے خوش گوار موڈ میں بات چیت کر رہے تھے۔

######

تمہیں پاکر میرے وجود کی تکمیل ہوئی ہے شفق! میں جو صرف ایک ایڈونچر کے تحت تم تک آیا تھا‘ دل لگی کرتے کرتے تمہیں دل میں ہی بسا لیا ہے۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم یوں میرے دل و دماغ پر حاوی ہو جاؤ گی کہ تمہارے بغیر ایک پل کٹنا بھی نہایت مشکل ہوگا۔ وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بول رہا تھا۔

شفق کا انگ انگ سرشار ہو گیا۔ وہ شاہ میر کے قریب آکر اس کے کندھے پر سر ٹکاتے ہوئے اس کی نگاہوں کے تعاقب میں دور تلک پھیلے خوش رنگ پھولوں اور اونچے اونچے درختوں کو دیکھنے لگی۔

زندگی کس قدر خوبصورت ہے۔“ وہ خوابناک لہجے میں بولی تھی۔

زندگی نہیں‘ تم خوبصورت ہو۔“ شاہ میر نے اس کے گرد بازو پھیلا کر نرمی سے کہا۔

آپ کو اتنی اچھی اچھی باتیں کرنا بھی آتی ہیں۔

میں تو سمجھ رہی تھی کہ صرف لڑنا اور جھگڑنا ہی آتا ہے۔“ شفق نے شرارت سے کہا۔ شاہ میر نے گردن موڑ کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا اور تنک کر پوچھا۔

میں نے کب تمہارے ساتھ لڑائی کی ہے۔ بتاؤ ذرا۔

ایک تو یہ جو ویٹر بے چارہ بدقسمتی سے پاکستانی ہے‘ اس کی شامت آئی رہتی ہے۔ دوسرے ہوٹل کا منیجر جس کے ساتھ کئی مرتبہ جھگڑ چکے ہیں آپ۔

وہ بھی کیا سوچتے ہوں گے کہ کب یہ لوگ یہاں سے دفعان ہوں گے۔

اوہو‘ تمہیں بتانا یاد ہی نہیں رہا۔ آج رات بارہ بجے کی فلائٹ ہے ہماری۔“ شاہ میر نے گلاس ونڈو ایک جھٹکے سے بند کرکے پردے برابر کر دیئے تھے۔

شفق کا خواب بھی ایک چھناکے کے ساتھ ٹوٹا تھا‘ وہ بے خیالی میں شاہ میر کو تکنے لگی۔

ہم کچھ اور دن نہیں یہاں ٹھہر سکتے۔

محترمہ! میری صرف ایک ہفتے کی چھٹی تھی۔ وہ بھی کرنل حشمت کی مہربانی سے ملی تھی۔ آج جانا بہت ضروری ہے۔“ وہ بیڈ پر بیٹھ کر سوکس پہننے لگا پھر جوگرز کے تسمے کستا کھڑا ہو گیا۔

تم پیکنگ کر لو پھر تھوڑی سی شاپنگ کر آئیں گے‘ ورنہ اشعر اور شہروز نے تو مجھے زندہ نہیں چھوڑنا۔“ وہ بال بنا کر بولتا ہوا باہر نکل گیا تھا۔ شفق بے دلی سے اٹھ کر سوٹ کیس نکالنے لگی۔

شفق نے اپنی اور شاہ میر کی مختصر پیکنگ کر لی تھی۔ شاور لے کر اور بال سلجھا کر وہ کچھ آزردہ سی بیڈ پر بیٹھی تھی‘ جب شاہ میر آ بھی گیا تھا۔ اسے گم صم بیٹھ دیکھ کر وہ ٹھٹک گیا۔

کیا بات ہے شانی؟“ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے وہ تیز لہجے میں بولا۔ شفق نے پرنم آنکھوں سے اس کے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھا۔

یہ شخص کس قدر عزیز ہو گیا تھا کہ اُسے کھونے کا خیال ہی جان نکالنے لگتا تھا اور پاکستان واپس جانے کا سوچ کر ہی اس کی روح تک کانپ جاتی تھی۔

کچھ نہیں۔“ وہ بھرائی آواز میں بولی۔

پھر رو کیوں رہی ہو؟“ شاہ میر نے اس کے گال پر پھسلتا آنسو پونچھا۔

کب رو رہی ہوں۔“ اس نے ہتھیلیوں کی پشت سے آنکھیں رگڑیں۔

پیکنگ کر لی ہے۔“ شاہ میر کے استفسار پر اس نے سر ہلا دیا تھا۔ اسی پل ویٹر کافی لے آیا تھا۔ کافی پی کر وہ دونوں شاپنگ کرنے چلے گئے تھے۔

واپس آ کر کھانا کھانے کے بعد شاہ میر تو ایک ڈیڑھ گھنٹے کیلئے سو گیا تھا جبکہ شفق کی ایک پل کیلئے بھی آنکھ نہیں لگی تھی جو باتیں شادی سے پہلے سوچنے والی تھیں‘ وہ اب مختلف مشکل میں ذہن کے دریچوں پر دستک دے کر اسے ڈسٹرب کر رہی تھیں۔

دل میں چند ایک خدشات بھی سر اٹھا رہ تھے۔ جب جہاز نے لندن کی حسین سرزمین کو الوداع کہا تو ساتھ ہی شفق کا سکون یہیں کہیں ان ہی فضاؤں میں بکھر کر رہ گیا تھا۔

لاہور ایئر پورٹ کی عمارت سے باہر نکل کر جوں ہی شاہ میر نے ٹیکسی کی تلاش نگاہیں دوڑائیں تو سامنے سے آتے اپنے ڈرائیور یاور کو دیکھ کر ٹھٹک کر رک گیا۔ یاور نے ان کے قریب آکر زور دار آواز میں سلام جھاڑا تھا۔

چھوٹے صاحب! آئیں میرے ساتھ۔ بڑے صاحب نے حکم دیا ہے کہ میں آپ کو لے کر سیدھا پنڈی آؤں۔“ یاور نہایت ادب سے بولا۔

بڑے صاحب نے؟“ شاہ میر نے تعجب سے کہا۔ شفق کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمودار ہونا شروع ہو گئے تھے۔

ہاں جی‘ انہوں نے کہا ہے کہ آپ اور چھوٹی بی بی دونوں گھر آئیں۔ وہ آپ دونوں کا انتظار کر رہے ہیں۔“ شاہ میر بے حد حیران تھا۔

وہ اپنے پاپا کے مزاج کو جانتا تھا۔ ان سے اتنی نرمی کی توقع اسے ہرگز نہیں تھی پھر بھی وہ شفق کے منع کرنے کے باوجود گاڑی میں سامان رکھوانے لگا۔

ٹھیک ہے جو ہوگا‘ دیکھا جائے گا۔“ شاہ میر نے ہمیشہ کی طرح لاپروائی سے سرجھٹکا۔ شفق بے حد خوف زدہ تھی۔ وہ شاہ میر کے ساتھ جانا نہیں چاہتی تھی۔

شاہ میر! آپ مجھے اماں کی طرف چھوڑ دیں۔

شفق آہستگی سے منمنائی۔ شاہ میر نے سخت نظروں سے اسے گھورا۔

بیٹھو…“ اس نے شفق کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کادروازہ کھولا۔

میں اماں سے ملنا چاہتی ہوں۔“ وہ ایک دفعہ پھر منمنائی تھی۔ شاہ میر نے اسے گاڑی میں دھکیل کر دروازہ بند کیا اور خود دوسری طرف آکر بیٹھ گیا۔

جوں جوں پنڈی کی حدود شروع ہو رہی تھیں‘ شفق کا سانس حلق میں اٹکنے لگا تھا اور پھر جب گاڑی ایک عالی شان بنگلے کے سامنے رکی تو وہ دل کو مضبوط کرکے شاہ میر کے ہم قدم ہو گئی۔

پہلا جھٹکا اسے تب لگا تھا‘ جب وہ اپنی ساس سے ملی تھی اور پھر جہاں زیب سے ملاقات کے بعد اس کے سارے خدشات پانی کے بلبلے کی طرح ایک ایک کرکے بیٹھتے چلے گئے۔ ان کا استقبال اتنا اچھا تھا کہ شاہ میر بھی حیران رہ گیا تھا۔ اس کی امیدوں کے برخلاف اس کے باپ نے شفق کو بحیثیت بہو کے نہ صرف قبول کیا بلکہ شاہ میر کے اس ”گناہ“ کو بھی کمال اعلیٰ ظرفی کے ساتھ معاف کر دیا۔

وہ صرف دو دن ہی رہے تھے‘ تیسرے دن شفق بھی شاہ میر کے ہمراہ لاہور آ گئی تھی۔ رات کو وہ اپنی ماں سے ملنے چلی گئی۔ اس کی ماں کا سر اسے ہشاش بشاش اور شاد دیکھ کر فخر سے بلند ہو گیا تھا۔ وہ کتنی ہی دیر بیٹی سے کرید کرید کر شاہ میر کے والدین کے رویوں کے متعلق پوچھتی رہی

یہ دن شفق کی زندگی کے بہترین دن تھے۔ وہ کس قدر خوش اور مطمئن تھی۔ شاہ میر آفس کے بعد سارا وقت اسے ہی دیتا تھا۔ اس نے اپنی پہلے والی ساری سرگرمیاں ترک کر دی تھیں۔ اگر کبھی ملیحہ اور فروا میں سے کسی کا فون آتا تو وہ بغیر سنے ہی فون ڈسکنیکٹ کر دیتا تھا۔

وہ پہلے سے بہت حد تک بدل گیا تھا۔ اس کی شخصیت کی تبدیلی نے اس کے دوستوں کو بھی چونکا دیا تھا۔

شاہ میر فون پر گفتگو میں مصروف تھا۔ دوسری طرف شاہ میر کی ممی تھیں جو کہ شفق سے بات کرنا چاہ رہی تھیں۔ شاہ میر نے اشارے سے اسے قریب بلایا اور پھر ریسیور اسے تھما دیا۔

وہ کچھ حیران سی ان سے بات کرنے لگی تھی۔ فون بند کرکے وہ شاہ میر کے قریب قالین پر بیٹھ گئی۔

ممی تمہیں اپنے پاس بلا رہی ہیں۔“ شاہ میر نے ٹی وی آف کرکے اس کی طرف رخ کیا۔

ہاں… مگر…“ وہ کچھ کہتے کہتے ہچکچا کر خاموش ہو گئی۔ شاہ میر نے اس کی الجھن محسوس کر لی۔

کیا مسئلہ ہے‘ تم جانا نہیں چاہتی؟“ شاہ میر نے تنک کر پوچھا۔

نہیں‘ ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔ آپ بتائیں‘ رہ لیں گے میرے بغیر۔“ وہ شاہ میر کو ناراض نہیں کر سکتی تھی‘ اس لئے قدرے بشاشت سے بولی۔

ہاں‘ مشکل تو ہے‘ پر کیا کریں‘ مجبوری ہے۔

ممی خفا ہوں گی۔“ شاہ میر مسکرا دیا تھا‘ اسی وقت گوگی چلی آئی۔

چھوٹے صاحب! دودھ لاؤں؟“ وہ سر جھکائے پوچھ رہی تھی۔

میں دے دوں گی انہیں دودھ‘ تم جاؤ۔“ شفق نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھ کر غصے سے کہا تھا۔

ممی نے ان کے لاہور آنے کے تیسرے دن ہی گوگی کو بھیج دیا تھا۔ اگرچہ گوگی کے آنے سے شفق کو بہت آسانی ہو گئی تھی مگر اس کی وقت بے وقت دخل اندازی اسے سخت ناپسند تھی۔

گوگی کو بھیج کر وہ کچن میں چلی آئی تھی۔

اگلی صبح وہ ڈرائیور کے ہمراہ پنڈی چلی گئی تھی۔ وہ صرف ایک دو دن کیلئے آئی تھی مگر اسے پورا ہفتہ رہنا پڑا تھا۔ پہلے ممی کی طبیعت کچھ خراب ہو گئی تھی اور پھر اسے بخار نے گھیر لیا۔ رات کو شاہ میر کا فون آیا تو وہ رو پڑی تھی۔

میرا یہاں دل نہیں لگ رہا‘ آپ کب آئیں گے شاہ میر؟“ اس نے ویک اینڈ پر آنے کیلئے کہا تھا مگر وہ آ نہیں سکا تھا‘ اسی لئے شفق جھنجلا رہی تھی۔

گھومو‘ پھرو انجوائے کرو۔ دل تو لگ ہی جائے گا اور تم نے کون سا ساری زندگی وہاں رہنا ہے‘ جب ممی کہیں گی آ جانا۔“ وہ لاپروائی سے کہہ رہا تھا۔

میرے بغیر آپ بہت خوش لگ رہے ہیں۔“ شفق نے خفگی سے کہا تھا۔ شاہ میر نے قہقہہ لگایا۔

نہیں‘ تمہاری جدائی میں دن رات آہیں بھرتا ہوں۔

جھوٹ بولتے ہیں آپ‘ میں نہیں مانتی۔

شفق کو قطعاً یقین نہیں آیا تھا۔

گوگی سے پوچھ لینا۔

کیا…؟“ شفق حیران ہوئی۔

میں تمہیں یاد کرتا ہوں کہ نہیں۔“ وہ اسے تنگ کر رہا تھا۔ شفق نے چڑ کر فون رکھ دیا۔ بیل ایک دفعہ پھر بجنے لگی تھی۔ شفق کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ بہت دیر تک شاہ میر سے باتیں کرنے کے بعد وہ کچھ ہلکی پھلکی ہو گئی تھی۔

رات کو اسے بڑی گہری نیند آئی تھی‘ اسی لئے آنکھ بھی دیر سے ہی کھلی۔

وہ شاور لے کر نیچے آئی تو ممی کہیں جانے کیلئے تیار بیٹھی تھیں۔ انہوں نے اسے بھی اپنے ساتھ چلنے کیلئے کہا۔ وہ ایپل جوس پی کر ممی کے ہمراہ ان کی کسی عزیزہ سے ملنے کیلئے چلی گئی تھی۔

چائے پینے کے بعد اس نے ممی سے اٹھنے کیلئے کہا مگر ان کی سہیلی نے کوئی قصہ چھیڑ دیا پھر آنٹی نائلہ نے انہیں کھانے کیلئے روک لیا تھا۔ شفق کی طبیعت کچھ خراب ہو رہی تھی۔

جی بہت متلا رہا تھا‘ وہ اٹھ کر واش روم میں چلی گئی۔

ممی اس کی زرد رنگت دیکھ کر فکر مند ہو گئی تھیں۔ وہ انہیں تسلی دے کر ان کے قریب رکھے صوفے پر بیٹھ گئی پھر جب کھانا کھا کر وہ دونوں وہاں سے رخصت ہوئیں تو انہوں نے نہایت پیار سے شفق سے پوچھا۔

تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگی رہی۔ چلو میں تمہیں ڈاکٹر کو دکھاتی ہوں۔ پہلے بھی اتنے دن تمہیں بخار رہا ہے۔

ان کی جہاندیدہ نگاہیں اسے کھوج رہی تھیں۔

ان کی نظروں نے اسے بھی بے چین سا کر دیا تھا۔ وہ اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے نارمل لہجے میں بولی۔

میں ٹھیک ہوں‘ بس ذرا سر چکرا گیا تھا۔ ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔“ شیما ہنکارا سا بھر کر خاموش ہو گئی تھیں۔ جب ایک پرائیویٹ کلینک کے سامنے گاڑی رکی تو شفق کا مارے کوفت و جھنجلاہٹ کے براحال ہو گیا تھا۔

مختلف ٹیسٹ اور چیک اپ کے بعد ممی نے اسے گاڑی میں بیٹھنے کا کہا۔ خود وہ کسی جاننے والی خاتون سے گفتگو میں مصروف ہو گئی تھیں۔ شفق کے جانے کے بعد وہ ایک دفعہ پھر ڈاکٹر ماریہ کے روم میں گھس گئیں۔ تقریباً پندرہ منٹ بعد ان کی واپسی ہوئی تھی۔ ان کے چہرے پر ایسا تاثر ضرور تھا جس نے شفق کو ٹھٹکا دیا تھا۔ تاہم وہ کچھ بولی نہیں تھی۔

گھر آکر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی جبکہ شیما نے اپنے بیڈ روم کی طرف رخ کیا۔

جب تک جہاں زیب گھر نہیں آ گئے تھے‘ وہ زخمی ناگن کی طرح کمرے کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک چکراتی رہیں۔ جہاں زیب کے آنے ساتھ ہی گویا وہ پھٹ پڑی۔

ہمارے بدترین خدشات کی تصدیق ہو گئی ہے۔ گوگی (ملازمہ) نے ٹھیک رپورٹ دی تھی۔“ شیما کا تنفس بے حد تیز چل رہا تھا۔ جہاں زیب کے ماتھے پر بھی سلوٹیں نمودار ہو گئیں۔

ایسا نہیں ہونا چاہئے‘ ہرگز نہیں۔

وہ مٹھیاں بھینچتے ہوئے تنفر سے بولے۔

اس خبیث کو غلطیاں کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔“ ان کی آنکھوں سے شعلے لپکنے لگے تھے۔ بریف کیس پٹخ کر انہوں نے بیگم سے کہا۔

تم ”اسے“ واپس بھجواؤ‘ کل صبح ہی میں شرجیل کو فون کرتا ہوں۔“ جہاں زیب کچھ سوچتے ہوئے ٹیلی فون اسٹینڈ کی طرف بڑھ گئے جبکہ شیما کمرے سے باہر نکل گئی تھیں۔

######

اگلی صبح کافی حیران کن تھی۔ شفق کو اندازہ نہیں تھا کہ اتنی جلدی اسے ”قفس“ سے رہائی مل جائے گی۔ وہ بہت خوشی خوشی لاہور روانہ ہوئی تھی۔ گھر آکر اس نے بہت سکون محسوس کیا تھا۔ شاہ میر چونکہ آفس گیا ہوا تھا‘ لہٰذا گوگی کو بتا کر اماں کی طرف آ گئی۔ اس کی ممانی بھی آئی ہوئی تھیں‘ اسی لئے وہ سارا دن اماں کی طرف رہی۔

شام کو ڈرائیور اسے لینے کیلئے آ گیا تھا۔

اگلے بہت سارے دن بہت خوشگوار گزرے تھے اور وہ دعا کرتی تھی کہ اس کی باقی زندگی بھی اسی طرح گزرے۔ صبح شاہ میر کے تیز تیز بولنے پر وہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی۔ اس نے بے حد حیرانی سے شاہ میر کو تیار ہوتے دیکھا۔

کہاں جا رہے ہیں آپ؟

میں پنڈی جا رہا ہوں۔ ممی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے‘ وہ ہاسپٹل میں ہیں۔

اس نے بال بنا کر برش ٹیبل پر پٹخا اور پھر والٹ اٹھا کر پاکٹ میں ٹھونسا۔

وہ بھی کمبل ہٹا کر اٹھ گئی۔

کب آئیں گے؟

ابھی تو جا رہا ہوں‘ اگر ممی کی طبیعت بہتر ہوئی تو کل آ جاؤں گا‘ ورنہ دو تین دن تک میں ادھر ہی ہوں۔ تم اگر یہاں رہنا چاہو تو ٹھیک ہے‘ ورنہ اپنی اماں کی طرف چلی جانا۔

نہیں‘ میں ادھر ہی رہوں گی۔ گوگی جو ہے میرے پاس۔“ اس نے بال سمیٹتے ہوئے آہستگی سے کہا۔

شاہ میر پلٹ کر اس کے قریب آیا اور پھر اس کی پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کرتے ہوئے تیزی سے باہر نکلتا چلا گیا۔

وہ بھی پورچ تک اسے خدا حافظ کہنے کیلئے آئی تھی۔

شاہ میر کے جانے کے بعد اس کا باقی دن کافی مصروف گزرا تھا۔ اس نے گوگی کے ساتھ مل کر پورے گھر کی نئے سرے سے ترتیب بدلی‘ پردے وغیرہ دھلوائے۔ کام کے دوران بھی اس کا ذہن پنڈی میں ہی اٹکا ہوا تھا۔

گوگی کھانا لگا کر اس سے پوچھنے کیلئے آئی تو اس نے انکار کر دیا۔ دل ایک دم ہی ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تھا۔

وہ بے دلی سے ٹی وی دیکھتی رہی۔ گوگی کھانا کھا کر اس کیلئے دودھ لے آئی تھی۔ شفق نے گلاس ٹیبل پر رکھ دیا۔

کچھ دیر بعد گوگی جمائیاں لینے لگی تو شفق بھی ٹی وی آف کرکے اٹھ گئی۔ اس نے گوگی کو اپنے بیڈ روم میں سونے کیلئے کہا تھا۔ گوگی نے خاموشی سے اپنا بستر اس کے کمرے میں لگایا۔ وہ بھی بیڈ پر دراز ہو کر سونے کی کوشش کرنے لگی تھی۔

###

 

رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔

اس کی نیند ٹوٹنے کی وجہ وہ ہلکا شور تھا۔ کچھ دیر کان لگا کر شفق نے اس ہلکے شور کو سننے کی کوشش کی اور پھر گوگی کو آواز دے کر جگا دیا۔ ایک خوف کی تیز لہر تھی جو سارے وجود میں سرائیت کر گئی تھی۔ کوریڈور میں سے بوٹوں کی دھمک سنائی دے رہی تھی۔ اس نے خوف زدہ ہو کر گوگی کا ہاتھ پکڑ لیا۔

گوگی! میرا خیال ہے کہ گھر میں چور گھس آئے ہیں۔

وہ لرزیدہ آواز میں بولی۔ گوگی نے اس کے خوف سے پیلے پڑتے چہرے کی طرف دیکھا۔

نہیں بی بی! آپ کا وہم ہے۔“ گوگی قالین کے ڈیزائن کو گھور رہی تھی۔ شفق اس کے اطمینان پر قدرے حیران ہوئی۔

تمہیں آواز نہیں آ رہی۔ مجھے تو لگتا ہے کہ باہر کوئی ہے۔“ شفق گھٹی گھٹی آواز میں بولی۔ اس پل دروازے کا ہینڈل گھوما تھا جبکہ شفق کے حلق سے نکلنے والی چیخ بے ساختہ تھی۔

چچ… چور…“ شفق نے گوگی کا بازو مضبوطی سے پکڑ کر لرزتی آواز میں کہا۔

گوگی غیر محسوس طریقے سے شفق سے قدرے ہٹ کر بیٹھ گئی۔ وہ دو مرد تھے اور ان کے ساتھ ایک عورت بھی تھی۔ انتہائی خوبصورت عورت۔ اس عورت کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر شفق مزید گوگی کے قریب ہو گئی تھی۔

کک… کون ہو تم؟

ابھی بتا دیتے ہیں‘ آخر جلدی کیا ہے۔

اس موٹے اور بھدے شخص نے بے ڈھنگا قہقہہ لگایا تھا۔

ارے یہی شفق ہے۔“ دوسرے نے مونچھوں کو تاؤ دے کر کہا۔ ”شفق کی آنکھیں وحشت سے پھٹ رہی تھیں۔

دیکھو‘ تم لوگوں کو جو چاہئے‘ میں تمہیں دیتی ہوں۔ اس دراز میں لاکر کی چابی ہے‘ اس میں میرا زیور ہے اور ساتھ ہی کچھ نقدی بھی ہے۔ پلیز تم لوگ مجھے کچھ مت کہو۔

اس عورت نے شفق کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور شفق کو آگے بڑھ کر دو تین تھپڑ مارے تھے۔

وہ درد سے بلبلا اٹھی۔ وہ دونوں آدمی بہت خاموشی سے صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک اردگرد کا جائزہ لے رہا تھا۔

اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے سوچنا تھا نا شہزادی! اونچے لوگوں سے ”یاریاں“ لگانے کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے۔“ اس عورت نے بازاری انداز میں قہقہہ لگایا تھا۔

خدا کیلئے مجھے کچھ مت کہو۔ گوگی…! پلیز گوگی…! مجھے بچا لو…“ اب وہ عورت ہنٹر لہرا رہی تھی۔

وہ تڑپ کر گوگی کی طرف بڑھی۔

ایک لفظ بھی زبان سے مت نکالنا‘ ورنہ بہت برا سلوک کروں گی۔“ وہ کرخت لہجے میں بولی۔ ان میں سے ایک آدمی صوفے پر سے اٹھا۔

ہمیں بھی ”باری“ لینے دو رانی…! خود ہی گرجتی برستی رہوگی۔“ شفق کی طرف گندی نگاہوں سے دیکھتا وہ اس عورت سے مخاطب تھا۔

رانی نے اپنے بال جھٹک کر ہاتھ میں پکڑا ہنرا پوری شدت کے ساتھ اس خوفناک جسامت والے مرد کی کمر پر مارا تھا‘ وہ بلبلا کر پیچھے ہٹا۔

رانی! مالک نے کہا تھا کہ…“

بدنیت‘ حرام خور۔ شکل دیکھی ہے اپنی‘ تھوکنے کو بھی دل نہیں کرتا۔“ وہ غرائی تھی۔

اب وہ تینوں صوفے پر بیٹھ گئے تھے جبکہ گوگی ایک دم اٹھی تھی اور اس نے ہنٹر اٹھا کر شفق کی کمر پر برسانا شروع کر دیا تھا۔ وہ درد و کرب اور شدید دکھ اشتعال سے ایک ملازمہ کے ہاتھوں پٹتی رہی اور چیختی رہی۔

چھوڑو مجھے‘ اللہ کا واسطہ نہ مارو۔

اس کے لبوں پر ایک ہی التجا تھی۔ جب وہ رو رو کر اور چیخ چیخ کر بے ہوش ہو گئی تو گوگی نے ہنر پھینک کر دھواں دھار رونا شروع کر دیا۔

رانی باہر نکلنے سے پہلے ایک دفعہ پھر بے ہوش پڑی شفق کے پاس آئی۔

تیری صورت پر ترس آ گیا ہے مجھے‘ ورنہ جس نے ہمیں بھیجا ہے نا‘ اس نے کہا تھا کہ تیری بوٹیاں کر دوں‘ تجھے ذلتوں کے گڑھے میں اتار دوں‘ تجھے پامال کر دوں مگر میں نے ایسا نہیں کیا‘ میں نے تجھے پامال نہیں ہونے دیا۔

وہ آہستہ سے بڑبڑا رہی تھی اور پھر گوگی کو ٹھوکر مارتے ہوئے باہر نکل گئی۔

ہم ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ دولت کے بھوکے‘ پیسے کے بجاری۔“ گوگی نے اپنی ٹانگ سہلاتے ہوئے اسے کہتے سنا اور پھر اس نے شفق کو اٹھا کر بستر پر ڈالا۔

اس کے بازو سے خون رس رہا تھا جبکہ دونوں گال سوجے ہوئے تھے۔ اسے ایک دم ہی اس حسین عورت پر ترس آیا۔

گوگی نیم مردہ سی صفائیاں پیش کرتی شفق کو دیکھ کر سر جھکائے‘ جھوٹ پر جھوٹ بول رہی تھی۔ اس کا دل قطرہ قطرہ پگھل رہا تھا اور پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتی شفق بے ہوش ہو کر فرش پر آن گری تھی۔ اسے اٹھانے کیلئے کوئی بھی آگے نہیں بڑھا تھا۔ حتیٰ کہ اس کا محبوب شوہر بھی نہیں۔

گوگی کو اس پل خود سے نفرت محسوس ہو رہی تھی اور اس کا دل چاہ رہا تھا کہ کوئی ایسا اسم ہوتا جسے پڑھ کر وہ ان درندوں کے درمیان سے غائب ہو جاتی۔

تم سچ کہہ رہی ہو گوگی!“ جنرل جہاں زیب نہایت مکاری سے اس کی طرف دیکھ کر بولا تھا‘ وہ کسی معمول کے مطابق رٹے رٹائے جملے دہرا رہی تھی۔

جی صاحب! بالکل سچ‘ ان ڈاکوؤں نے بی بی کو بہت اذیت دی‘ بہت برا کیا ان کے ساتھ۔ مجھے باندھ رکھ تھا انہوں نے اور بی بی کو…“

بس کرو‘ خاموش ہو جاؤ…“ شاہ میر کے چلانے پر وہ ایک دم رک گئی تھی۔

جنرل جہاں زیب کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نے جھلک دکھائی تھی۔ گوگی نے آنکھ اٹھا کر اس ”فرعون“ کی نگاہ میں چھپی فتح کو پڑھا اور دل ہی دل میں موٹی سی گالی دی۔ اب وہ شاہ میر کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے گویا لہو ٹپک رہا تھا۔

دماغ سے گرم دھواں نکل رہا تھا۔ وہ تیزی سے ان سب کے درمیان سے نکلتا چلا گیا۔ جہاں زیب اور شرجیل ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے فاتحانہ مسکرا اٹھے جبکہ گوگی لرزتی کانپتی شفق کو اٹھانے لگی پھر ان کے حکم کے مطابق وہ شفق کو گاڑی میں ڈال کر اس کے ماں باپ کے گھر چھوڑ آئی تھی۔

گوگی کا باپ ڈرائیور تھا اور وہ سارے راستے روتا رہا تھا۔ اس کی نگاہوں کے سامنے اپنے بیٹے کا چہرہ آ رہا تھا۔ اسپتال کے جنرل وارڈ میں بستر پر لیٹا اس کی نو بیٹیوں کے بعد پیدا ہونے والا دس سالہ کمزور بیمار بیٹا جس کا علاج یہ ”فرعون“ کروا رہے تھے اور جنہوں نے سرخ نیلے نوٹوں سے ان کے حلق تک بھر دیئے تھے۔

اور اس کی بیوی اپنی بیٹیوں کو بیاہنے کیلئے اتنی بڑی رقم پاکر کس قدر مسرور تھی۔

اب وہ ایک گھر بنا سکتی تھی۔ بیٹیوں کو بے حد قیمتی جہیز دے سکتی تھی اور… اور

######

اس نے آنکھ کھولی تو اسپتال کے ایک کمرے میں خود کو پایا۔ اس کی بوڑھی ماں تیزی سے اس کی طرف بڑھی تھی۔ اب وہ بے اختیار اپنی بیٹی کے ہاتھ چوم رہی تھی پھر اس نے اپنے باپ کو اپنی طرف آتے دیکھا پھر اس نے اپنے باپ کو روتے دیکھا۔

وہ کس کس بات کا غم کرتی۔

اپنے دل اجڑنے کا‘ اپنے گھر کے اجڑنے کا۔ وہ کس کس بات پر آنسو بہاتی۔ شوہر کی بے وفائی پر کہ جس نے وفا کے، اعتبار کے‘ اعتماد کے سارے بھرم توڑ دیئے تھے یا پھر ان انسانوں کے ظلم پر چیختی جو انسان کی شکل میں حیوان تھے‘ درندے تھے‘ شیطان تھے۔ اس کی ماں اسے چپ کروا رہی تھی۔ صبر کی تلقین کر رہی تھی۔

صبر… کیسا صبر…؟“ شفق نے آنسو بھری آنکھوں سے اپنی ماں کے چہرے کی طرف دیکھا۔

مجھے صبر کرنا نہیں آتا ماں! میں کیسے صبر کروں۔ بھلا تم نے مجھے صبر کرنا سکھایا ہے؟“ وہ اپنے بال نوچتے ہوئے چیخی تھی۔ اس کے باپ نے بے اختیار اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ ”میں نے خوابوں کا اتنا حسین پہاڑ دیکھا اور پھر اس پر چڑھنا چاہا۔ ماں تو مجھے روک دیتی کہ اس کی بلندی بہت زیادہ ہے تو گر جائے گی‘ بکھر جائے گی‘ مر جائے گی۔ ماں تو مجھے منع کرتی‘ جھڑکتی‘ مارتی پر اس پہاڑ پر چڑھنے نہ دیتی۔

دیکھ تو تیری شفو کو کتنے زخم آئے ہیں‘ کتنا درد ہو رہا ہے۔“ وہ غم سے نڈھال تکیے پر سر پٹخ رہی تھی۔ اسی پل ایک نرس اور اس کے ساتھ ایک ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوئی۔ اس نے اندر کا منظر دیکھ کر اس دونوں کو زبردست قسم کی جھاڑ پلائی۔

کیا کر رہے ہیں آپ لوگ‘ جانتے نہیں کہ یہ کتنے بڑے شاک سے گزری ہے اور کیسی کنڈیشن ہے اس کی۔ یہ تو شکر ہے کہ اس قدر ذہنی اذیت کے باوجود اس کا مس کیرج نہیں ہو گیا اور آپ لوگ تو حد کر رہے ہیں۔“ ڈاکٹر غصے سے بول رہی تھی اور پھر شفق کو دیکھنے لگی۔

نرس نے اسے پرسکون رہنے کا انجکشن دیا تھا۔ کچھ پل بعد وہ اونگھنے لگی تھی۔ اس کے ماں باپ نے بے اختیار خدا کا شکر ادا کیا۔

اماں! میں شاہ میر سے ملنا چاہلتی ہوں۔ میں اسے بتاؤں گی کہ میں اس کے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔ اماں! وہ مجھ سے بدگمان ہو رہا ہے۔ وہ اس جھوٹی عورت پر یقین کر رہا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ان ڈاکوؤں نے میرے ساتھ…“اپنی ماں کی گود میں سر رکھے وہ ٹوٹے لہجے میں کہتی ہوئی بے اختیار رو دی تھی۔ خالدہ نے اس کے بالوں میں محبت سے انگلیاں پھیرتے ہوئے اس کے سر کو چوما۔

 

ہاں بیٹی! تم اس سے ملو‘ اسے آرام سے تمام حالات بتاؤ‘ وہ یقینا سمجھ جائے گا۔

اماں! محبت کے رنگ اتنے کچے ہوتے ہیں کہ ایک ہی بارش سے بدرنگ ہو جاتے ہیں۔“ وہ لب کچلتے ہوئے آہستگی سے بولی۔

تم نے شاہ میر کو فون کیا ہے؟

دونوں نمبر بند ہیں‘ اس سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

اماں! ہم ابھی شاہ میر سے ملنے چلتے ہیں۔

وہ بے قراری سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ خالدہ نے گہری سانس کھینچ کر چادر اٹھا لی۔

شفق کو اسپتال سے آئے آج ساتواں دن تھا اور وہ مسلسل شاہ میر کے نمبر پر ٹرائی کر رہی تھی مگر کوئی رسپانس نہیں مل رہا تھا۔ وہ دونوں رکشے کے ذریعے شادمان آئی تھی مگر کوٹھی کے گیٹ پر بڑا سا تالا لگا ہوا تھا پھر اس نے میس جانے کے متعلق سوچا۔ اس کی ماں کے چہرے پر تفکر کے سائے پھیلے ہوئے تھے جبکہ شفق پرامید تھی۔

ریسپشن پر اس نے اپنا تعارف کروایا اور شاہ میر کے متعلق پوچھا۔ سامنے کھڑے لڑکے نے جو خبر اس کی سماعتوں میں انڈیلی تھی‘ اسے سن کر ایک لمحے کیلئے وہ چکرا کر رہ گئی۔

شاہ میر کی پوسٹنگ ہو چکی ہے۔“ وہ زیر لب بڑبڑائی۔ اس کی ماں نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا۔ وہ تھکے تھکے قدموں سے چلتی ہوئی گھر چلی آئیں۔ ایک ہفتے کے اندر اندر اس کی پوسٹنگ کیونکر ہوئی‘ اس کے پیچھے کون سا مضبوط ہاتھ ہے اس کے ساتھ جو کچھ ہوا‘ وہ کس نے کروایا؟ کڑیوں سے کڑیاں ملتی گئیں۔

بہت سے پردے آنکھوں کے سامنے ہٹتے چلے گئے اور وہ کسی ہارے ہوئے مسافر کی طرف بالکل ڈھے گئی تھی۔

######

پھر کیا سوچا ہے تم نے؟“ وہ ابھی ابھی آفس سے آیا تھا۔ باپ کا پیغام ملتے ہی اسٹڈی روم میں چلا گیا تھا۔ جہاں زیب اس کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ اسے آتا دیکھ کر اس نے کتاب سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی۔

کس بارے میں؟

اپنی زندگی کے بارے میں۔

جہاں زیب نے کافی پیتے ہوئے اس کے چہرے کا بغور جائزہ لیا۔

زندگی…“ وہ تلخی سے بولا۔

اگر تم اپنی اس ”حماقت“ کی وجہ سے اداس پھر رہے ہو تو میں ”اسے“ لے آتا ہوں۔“ جہاں زیب نے کافی کے مگ پر انگلی پھیرتے ہوئے بہت اطمینان سے کہا تھا۔

ایسا اطمینان جو دوسروں کو بے اطمینان کر دے۔ شاہ میر کے تاثرات بدل گئے تھے۔ آنکھوں میں سختی سی اتر آئی۔

تاہم وہ بولا کچھ نہیں تھا۔ جہاں زیب اسی سکون کے ساتھ کافی کے سپ لیتے رہے۔

تمہاری ”مجنونانہ“ حالت دیکھ کر دل تو نہیں چاہتا کہ تمہیں اصل حقیقت بتاؤں مگر بتانا ضروری بھی ہے۔ بشرطیکہ تم حوصلہ رکھو۔“ انہوں نے خالی مگ میز پر رکھ کر چیئر گھمائی۔ شاہ میر بے چینی سے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا۔ باپ کے کہنے پر اس نے چونک کر دیکھا۔

تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ ڈاکو جو تمہارے گھر گھسے تھے۔ وہ یوں ہی آؤٹنگ کی غرض سے آئے تھے۔ میرا مطلب ہے کہ اگر انہوں نے ڈاکہ ہی ڈالنا ہوتا تو کوئی زیور‘ پیسہ بھی لے کر جاتے اور…“ انہوں نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی۔

شاہ میر کی آنکھوں میں دکھ کی لہریں ہلکورے لے رہی تھیں۔ جہاں زیب دھیرے سے مسکرائے۔

میرے نادان بیٹے! وہ نیچ ذات تمہاری آنکھوں میں دھول جھونکتی رہی ہے۔

ان مڈل کلاس عورتوں کو ڈھکوسلے کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ پہلے خود کو چادروں میں لپیٹ کر پیش کرتی ہیں پھر اصل رنگ ڈھنگ دکھانے لگتی ہیں۔ وہ ڈاکو دراصل ڈاکو نہیں تھے‘ تمہاری بیوی کے پرانے عاشق تھے جو کہ تمہاری غیر موجودگی میں تجدید محبت کرنے آئے تھے۔ ایسی ذلیل گھٹیا…“

پاپا! میں اس ٹاپک پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ خاموش ہو جائیں پلیز۔

وہ اذیت سے بولا تھا۔ جہاں زیب کی آنکھوں میں ناگواری در آئی۔

یہ ٹاپک اسی وقت کلوز ہو گا‘ جب تم ہمیشہ کیلئے اس ”ورق“ کو پھاڑ کر پنی زندگی سے نکال دو گے۔ یہ پیپرز پڑے ہیں‘ ان پر سائن کر دو۔ اگر وہ لڑکی تمہارے قابل ہوتی تو وہ خود جا کر اسے لے آتا مگر اب…“ جہاں زیب نے چند کاغذات اس کے سامنے رکھے تھے۔ شاہ میر بے خیالی میں انہیں دیکھے گیا۔

یہ… سب کیا ہے؟

یہاں سائن کرو۔“ جہاں زیب نے اسے قلم تھمایا۔

پاپا…! مگر…“ وہ منمنایا۔

کوئی اگر مگر نہیں‘ بہت ہو گئی بک بک۔ شاہ میر! تمہاری ضد کو مان لیا تھا‘ یہی بہت تھا۔ وہ لڑکی اگر کسی اچھے خاندان کی ہوتی تو اسی پر قناعت کرتی مگر ایسی عورتیں…“ جہاں زیب نے دو چار موٹی موٹی گالیاں دے کر اپنے غصے کو کچھ کم کیا۔

شاہ میر اس وقت جذباتی توڑ پھوڑ کا شکار تھا۔ رات رات بھر جاگنے کی وجہ سے پہلے ہی آنکھیں اور سر درد سے پھٹ رہا تھا۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج ہو گئی تھیں۔ اوپر سے پاپا کے مطالبے نے رہی سہی کسر پوری کر دی تھی۔ اس نے قلم تھام کر کاغذوں پر گھسیٹا اور پھر اٹھ کر تیزی سے باہر نکلتا چلا گیا تھا۔ جہاں زیب کے لبوں پر پرسکون سی مسکراہٹ پھیل گی تھی۔

اس رات بڑی تیز آندھی آئی تھی۔ رات بھر بادل گرجتے برستے رہے۔ صبح بڑی اجاڑ اور ویران تھی۔ ہر طرف زرد پتے‘ درختوں کی ٹوٹی شاخیں اور گلابی پھول بکھرے پڑے تھے۔ صبح ڈاکیا آیا تھا اور ”وہ“ موت کا پروانہ اس کے ہاتھ میں تھما گیا۔ صبح سے شام اور شام سے رات ہو گئی تھی۔

اس رات کوارٹر ماسٹر بشیر احمد کے گھر صف ماتم بچھی تھی اور وہ تینوں ہی ایک دوسرے سے چھپ کر روتے رہے تھے۔

اماں! میں شاہ میر سے ملنا چاہلتی ہوں۔ میں اسے بتاؤں گی کہ میں اس کے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔ اماں! وہ مجھ سے بدگمان ہو رہا ہے۔ وہ اس جھوٹی عورت پر یقین کر رہا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ان ڈاکوؤں نے میرے ساتھ…“اپنی ماں کی گود میں سر رکھے وہ ٹوٹے لہجے میں کہتی ہوئی بے اختیار رو دی تھی۔ خالدہ نے اس کے بالوں میں محبت سے انگلیاں پھیرتے ہوئے اس کے سر کو چوما۔

 

ہاں بیٹی! تم اس سے ملو‘ اسے آرام سے تمام حالات بتاؤ‘ وہ یقینا سمجھ جائے گا۔

اماں! محبت کے رنگ اتنے کچے ہوتے ہیں کہ ایک ہی بارش سے بدرنگ ہو جاتے ہیں۔“ وہ لب کچلتے ہوئے آہستگی سے بولی۔

تم نے شاہ میر کو فون کیا ہے؟

دونوں نمبر بند ہیں‘ اس سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

اماں! ہم ابھی شاہ میر سے ملنے چلتے ہیں۔

وہ بے قراری سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ خالدہ نے گہری سانس کھینچ کر چادر اٹھا لی۔

شفق کو اسپتال سے آئے آج ساتواں دن تھا اور وہ مسلسل شاہ میر کے نمبر پر ٹرائی کر رہی تھی مگر کوئی رسپانس نہیں مل رہا تھا۔ وہ دونوں رکشے کے ذریعے شادمان آئی تھی مگر کوٹھی کے گیٹ پر بڑا سا تالا لگا ہوا تھا پھر اس نے میس جانے کے متعلق سوچا۔ اس کی ماں کے چہرے پر تفکر کے سائے پھیلے ہوئے تھے جبکہ شفق پرامید تھی۔

ریسپشن پر اس نے اپنا تعارف کروایا اور شاہ میر کے متعلق پوچھا۔ سامنے کھڑے لڑکے نے جو خبر اس کی سماعتوں میں انڈیلی تھی‘ اسے سن کر ایک لمحے کیلئے وہ چکرا کر رہ گئی۔

شاہ میر کی پوسٹنگ ہو چکی ہے۔“ وہ زیر لب بڑبڑائی۔ اس کی ماں نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا۔ وہ تھکے تھکے قدموں سے چلتی ہوئی گھر چلی آئیں۔ ایک ہفتے کے اندر اندر اس کی پوسٹنگ کیونکر ہوئی‘ اس کے پیچھے کون سا مضبوط ہاتھ ہے اس کے ساتھ جو کچھ ہوا‘ وہ کس نے کروایا؟ کڑیوں سے کڑیاں ملتی گئیں۔

بہت سے پردے آنکھوں کے سامنے ہٹتے چلے گئے اور وہ کسی ہارے ہوئے مسافر کی طرف بالکل ڈھے گئی تھی۔

######

پھر کیا سوچا ہے تم نے؟“ وہ ابھی ابھی آفس سے آیا تھا۔ باپ کا پیغام ملتے ہی اسٹڈی روم میں چلا گیا تھا۔ جہاں زیب اس کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ اسے آتا دیکھ کر اس نے کتاب سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی۔

کس بارے میں؟

اپنی زندگی کے بارے میں۔

جہاں زیب نے کافی پیتے ہوئے اس کے چہرے کا بغور جائزہ لیا۔

زندگی…“ وہ تلخی سے بولا۔

اگر تم اپنی اس ”حماقت“ کی وجہ سے اداس پھر رہے ہو تو میں ”اسے“ لے آتا ہوں۔“ جہاں زیب نے کافی کے مگ پر انگلی پھیرتے ہوئے بہت اطمینان سے کہا تھا۔

ایسا اطمینان جو دوسروں کو بے اطمینان کر دے۔ شاہ میر کے تاثرات بدل گئے تھے۔ آنکھوں میں سختی سی اتر آئی۔

تاہم وہ بولا کچھ نہیں تھا۔ جہاں زیب اسی سکون کے ساتھ کافی کے سپ لیتے رہے۔

تمہاری ”مجنونانہ“ حالت دیکھ کر دل تو نہیں چاہتا کہ تمہیں اصل حقیقت بتاؤں مگر بتانا ضروری بھی ہے۔ بشرطیکہ تم حوصلہ رکھو۔“ انہوں نے خالی مگ میز پر رکھ کر چیئر گھمائی۔ شاہ میر بے چینی سے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا۔ باپ کے کہنے پر اس نے چونک کر دیکھا۔

تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ ڈاکو جو تمہارے گھر گھسے تھے۔ وہ یوں ہی آؤٹنگ کی غرض سے آئے تھے۔ میرا مطلب ہے کہ اگر انہوں نے ڈاکہ ہی ڈالنا ہوتا تو کوئی زیور‘ پیسہ بھی لے کر جاتے اور…“ انہوں نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی۔

شاہ میر کی آنکھوں میں دکھ کی لہریں ہلکورے لے رہی تھیں۔ جہاں زیب دھیرے سے مسکرائے۔

میرے نادان بیٹے! وہ نیچ ذات تمہاری آنکھوں میں دھول جھونکتی رہی ہے۔

ان مڈل کلاس عورتوں کو ڈھکوسلے کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ پہلے خود کو چادروں میں لپیٹ کر پیش کرتی ہیں پھر اصل رنگ ڈھنگ دکھانے لگتی ہیں۔ وہ ڈاکو دراصل ڈاکو نہیں تھے‘ تمہاری بیوی کے پرانے عاشق تھے جو کہ تمہاری غیر موجودگی میں تجدید محبت کرنے آئے تھے۔ ایسی ذلیل گھٹیا…“

پاپا! میں اس ٹاپک پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ خاموش ہو جائیں پلیز۔

وہ اذیت سے بولا تھا۔ جہاں زیب کی آنکھوں میں ناگواری در آئی۔

یہ ٹاپک اسی وقت کلوز ہو گا‘ جب تم ہمیشہ کیلئے اس ”ورق“ کو پھاڑ کر پنی زندگی سے نکال دو گے۔ یہ پیپرز پڑے ہیں‘ ان پر سائن کر دو۔ اگر وہ لڑکی تمہارے قابل ہوتی تو وہ خود جا کر اسے لے آتا مگر اب…“ جہاں زیب نے چند کاغذات اس کے سامنے رکھے تھے۔ شاہ میر بے خیالی میں انہیں دیکھے گیا۔

یہ… سب کیا ہے؟

یہاں سائن کرو۔“ جہاں زیب نے اسے قلم تھمایا۔

پاپا…! مگر…“ وہ منمنایا۔

کوئی اگر مگر نہیں‘ بہت ہو گئی بک بک۔ شاہ میر! تمہاری ضد کو مان لیا تھا‘ یہی بہت تھا۔ وہ لڑکی اگر کسی اچھے خاندان کی ہوتی تو اسی پر قناعت کرتی مگر ایسی عورتیں…“ جہاں زیب نے دو چار موٹی موٹی گالیاں دے کر اپنے غصے کو کچھ کم کیا۔

شاہ میر اس وقت جذباتی توڑ پھوڑ کا شکار تھا۔ رات رات بھر جاگنے کی وجہ سے پہلے ہی آنکھیں اور سر درد سے پھٹ رہا تھا۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج ہو گئی تھیں۔ اوپر سے پاپا کے مطالبے نے رہی سہی کسر پوری کر دی تھی۔ اس نے قلم تھام کر کاغذوں پر گھسیٹا اور پھر اٹھ کر تیزی سے باہر نکلتا چلا گیا تھا۔ جہاں زیب کے لبوں پر پرسکون سی مسکراہٹ پھیل گی تھی۔

اس رات بڑی تیز آندھی آئی تھی۔ رات بھر بادل گرجتے برستے رہے۔ صبح بڑی اجاڑ اور ویران تھی۔ ہر طرف زرد پتے‘ درختوں کی ٹوٹی شاخیں اور گلابی پھول بکھرے پڑے تھے۔ صبح ڈاکیا آیا تھا اور ”وہ“ موت کا پروانہ اس کے ہاتھ میں تھما گیا۔ صبح سے شام اور شام سے رات ہو گئی تھی۔

اس رات کوارٹر ماسٹر بشیر احمد کے گھر صف ماتم بچھی تھی اور وہ تینوں ہی ایک دوسرے سے چھپ کر روتے رہے تھے۔

پنڈی سی ایم ایچ پوسٹنگ کو ابھی نو‘ دس ماہ ہی ہوئے تھے اور وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ شخص ایک دفعہ پھر اس کے سکون کو درہم برہم کر دے گا۔ یہ دوسری رات تھی اسے مسلسل جاگتے ہوئے۔ آنکھیں انتہائی سرخ اور ذہن بے حد بوجھل تھا۔ نماز فجر ادا کرنے کے بعد وہ لان میں چلی آئی تھی۔ وہ اب کچھ بھی سوچنا نہیں چاہتی تھی مگر سوچوں پر پہرہ بیٹھانا کتنا مشکل کام تھا۔

 

کیا چاہتا ہے اب وہ ”مجھ سے؟“ وہ تھک ہار کر کین کی کرسی پر بیٹھ گئی۔

پو پھوٹ رہی تھی۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ نے ماحول کو کتنا پاکیزہ بنا رکھا تھا۔ وہ آسمان پر چھائے سفید بادلوں کے ٹکڑوں کو دیکھنے لگی۔ کتنے ہی پل بیت گئے۔ شاہ خورشید نے اپنے سونے جیسی کرنیں دھرتی پر بکھیریں تو وہ اٹھ کر بچوں کے بیڈ روم میں آ گئی۔

وہ دونوں گہری میٹھی نیند کے مزے لوٹ رہے تھے۔

اس بات سے بے خبر کہ ان کی ماں پر کیسی قیامت بیتی ہے۔

اس نے احد کے بیڈ سے نیچے لٹکتے کمبل کو اٹھا کر اچھی طرح اس کے وجود پر پھیلایا اور پھر ایک ٹک ان کے نقوش دیکھنے لگی۔ اس نے کبھی بھی جی بھر کر اپنے بیٹوں کو نہیں دیکھا تھا۔ وہ دونوں ساڑھے تیرہ سال کے ہو رہے تھے۔ بے حد صحت مند اور قد کاٹھ والے۔ ان کی اٹھان بہت اچھی تھی۔ اپنی عمر سے دو تین سال بڑے ہی لگتے تھے۔

وہ دونوں ہی اپنے باپ کی ہو بہو تصویر تھے۔ ویسی ہی سیاہ آنکھیں‘ خم دار پلکیں سرخ و سفید رنگت‘ مغرور اٹھی ہوئی ناک ہونٹوں کے نیچے ٹھوری کے عین وسط میں سیاہ ٹل۔

مما!“ احد کسمسایا تھا اور پھر اسے اپنے اتنے قریب بیٹھا دیکھ کر سرعت اٹھ گیا۔

کیا بات ہے مما جی! آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔“ اس کی سرخ آنکھوں میں آنسوؤں کی دھند نے احد کو پریشان کر دیا تھا۔

ہاں میں ٹھیک ہوں۔“ اس نے احد کے کے الجھے بالوں میں انگلیاں پھیریں۔

حدید بھی آنکھیں مسلتا اٹھ گیا تھا اور پھر احد کے لاڈ ہوتے دیکھ کر فوراً ہی اس کی گود میں سر گھسانے لگا۔

چلو‘ اب جلدی سے اٹھو‘ برش کرو۔ ہاتھ منہ دھو کر یونیفارم پہنو۔ اسکول نہیں جانا کیا۔ میں تم لوگوں کیلئے فٹا فٹ ناشتہ بناتی ہوں۔ آج مجھے بھی ذرا جلدی نکلنا ہے۔

وہ جمائیاں لیتے حدید کو واش روم میں دھکیل کر جلدی سے بولی تھی۔ احد بھی انگڑائیاں لیتا اٹھ گیا۔ جب تک وہ دونوں تیار ہو کر آئے‘ شفق ناشتہ لگا چکی تھی اور خود بھی تیار بیٹھی ان دونوں کا انتظار کر رہی تھی جو کہ حسب معمول ایک دوسرے سے جھگڑ رہے تھے۔

مما! احد نے میرا سویٹر پہن لیا ہے۔“ حدید بسورا تھا۔

کہاں‘ یہ تو میرا ہے۔

احد تنک کر بولا۔

جی نہیں۔ تمہارے سویٹر کا یہ والا ڈیزائن نہیں ہے۔

اچھا اب تو میں پہن چکا ہوں۔“ احد نے لاپروائی سے کہا۔ حدید اس کے شاہانہ انداز ملاحظہ فرما کر غصے سے اس کی طرف بڑھا تھا۔

خاموشی سے بیٹھ کر ناشتہ کرو۔“ شفق ان کی تکرار بڑھتے دیکھ کر سخت لہجے میں بولی تھی۔ خلاف توقع وہ دونوں چپ چاپ بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگے۔

گیٹ پر ہی اس کی ملاقات کرنل ڈاکٹر راحیل سے ہو گئی۔ وہ اسے دیکھ کر بھرپور انداز میں مسکرائے تھے۔

اسلام و علیکم! کیسی ہیں آپ؟

وعلیکم‘ اسلام میں ٹھیک ہوں۔ آپ کیسے ہیں؟“ وہ ان کے برابر چلتے ہوئے آہستہ سے بولی تھی۔

آپ کے سامنے ہی ہیں۔ دیکھ لیں۔“ وہ بے ساختہ بولے تھے۔ شفق اک پل کو خاموش سی ہو گئی۔

میں شام چھ بجے تک آپ کے گھر آؤں گا۔

کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔ باہر تو آپ ملیں گی نہیں۔“ کرنل راحیل دھیمے لہجے میں کہتے ہوئے اس سے آگے نکل گئے تھے۔

شفق گہری سانس لیتی کوریڈور میں آئی تو خرم سے مڈھر بھیڑ ہو گئی۔

یہ کرنل صاحب تم سے کیا کہہ رہے تھے؟“ وہ تنک کر پوچھ رہا تھا۔ شفق نے اسے گھور کر دیکھا۔

صبح ہی صبح میرے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے۔

خواہ مخواہ موڈ خراب کر دیتے ہو۔

وہ سختی سے بولتے ہوئے اپنے روم کی طرف چلی گئی۔

خرم نے بھی غصے سے اس کی پشت کو گھورا۔ یہ سارا دن اس کا بے حد مصروف گزرا تھا۔ اس نے دوبارہ خرم کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ چار بجے کے قریب خرم نے اس کے روم میں جھانکا۔

گھر چلو گی یا ابھی مزید خدمت خلق کا ارادہ ہے۔“ شفق ابھی راؤنڈ لینے جا رہی تھی اس لئے سر نفی میں ہلانے لگی۔

اچھا پھر میں تو جا رہا ہوں۔

وہ فورات ہی یہ جا وہ جا۔ آف کے بعد وہ تو ایک منٹ بھی مزید نہیں رک سکتا تھا۔ شفق ساڑھے پانچ بجے تک فارغ ہوئی تھی۔

واپسی پر اس نے سوچا کہ یوٹیلٹی اسٹور سے کچھ خریداری کر لی جائے دالیں‘ چاول‘ اور کوکنگ آئل وغیرہ خرید کر اس نے قریبی بیکری سے حدید کیلئے پائن اپیل کیک پیک کروایا۔ وہ گلاس ڈور کھول کر باہر نکل رہی تھی جب ایک دفعہ پھر شاہ میر کا چہرہ اسے نظر آیا تھا۔

اس کے ساتھ یقیناً اس کی بیوی تھی۔ وہ سلگتے ہوئے گاڑی تک آئی۔

شاہ میر کے تو گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ کل کی شفق جسے وہ اپنے قدموں تلے روند کر چلا گیا تھا آج کی میجر ڈاکٹر شفق ہے۔“ وہ تنفر سے سوچ رہی تھی۔ گھر آکر بھی اس کے دماغ سے شعلے نکلتے ہے۔ تمام چیزیں پٹخ کر وہ بے اختیار رو دی تھی۔

مجھے کیا ملا‘ درد‘ اذیتیں‘ تنہائی… اور وہ آج بھی کتنا خوش ہے مطمئن ہے۔

اسے تو یاد بھی نہیں ہوگا کہ کوئی شفق اس کی زندگی میں تھی بھی۔

سارے خسارے میرے ہاتھ میں ہی چلے آئے ہیں۔ اس کا تو کچھ بھی نہیں گیا۔ آج بھی شان سے جی رہا ہے۔ سب کچھ تو ہے اس کے پاس۔ عہدہ‘ دولت‘ گھر‘ بیوی اور یقینا بچے بھی۔“ وہ تڑپتے ہوئے بال نوچنے لگی تھی۔

ساری ذلتیں‘ ساری تکلیفیں میرے حصے میں آئی ہیں۔“ اس کی آواز رندھ ہو گئی تھی۔

حلق میں کانٹے چبھنے لگے تھے۔ معاً فون کی بیل گنگنا اٹھی۔ اس نے گھٹنوں سے سر اٹھا کر اس بجتے کھلونے کی طرف دیکھا اور پھر سرعت سے اس کی طرف لپکی۔

اب کیا چاہتے ہو جنرل جہاں زیب، بکو اب میں تمہیں کیا دوں۔ اپنا بیٹا تو تم پا ہی چکے ہو۔ اس سے شادی کرنے کی سزا بھی دے دی۔ تم نے‘ اب کیا چھیننا ہے تم نے مجھ سے کیا۔ کیا بچا ہے میرے پاس؟

پہلے تمہارا دل اجاڑا ہے‘ اب گود اجاڑنی ہے۔

دوسری طرف وہی تکبر تھا‘ وہ ہی انداز تھا‘ وہ ہی انگاروں کی تپش لیا لہجہ تھا۔

میں تم سے اپنے پوتوں کو چھیننا چاہتا ہوں میرے پوتے‘ میرے شاہ میر کے بیٹے۔

اس نے پگھلا ہوا سیسہ شفق کے کانوں میں انڈیلا تھا۔ اس نے بے حد خوفزدہ ہو کر ریسیو کو دیکھا اور پھر کریڈل پر پٹخ دیا۔

نہیں‘ نہیں تم میرے بچوں کو مجھ سے دور نہیں کر سکتے۔

میں تمہیں اپنے بچے نہیں دوں گی نہیں‘ کبھی نہیں۔“ وہ کانوں پر ہاتھ رکھے زور زور سے چلا رہی تھی۔

احد اور حدید بیٹ پھینک کر اپنی ماں کی طرف لپکے تھے۔

مما… مما جان،!“ وہ دونوں بھی اس کے ساتھ رو رہے تھے۔ کرنل راحیل ان تینوں کو روتے چلّاتے دیکھ کر سرعت سے آگے بڑھے۔ وہ ابھی ابھی آئے تھے۔ اندر سے آنے والے اس نامانوس شور نے انہیں بے حد پریشان کر دیا تھا۔

جوں ہی انہوں نے لاؤنج میں قدم کھا تھا‘ شفق اپنے بیٹوں کے بازوؤں میں جھول گئی تھی۔ وہ دونوں خوف زدہ نظروں سے اپنی ماں کی طرف دیکھ رہے تھے۔

انکل! ہماری مما!“ کرنل راحیل نے ان دونوں کو دلاسا دے کر خاموش رہنے کیلئے کہا اور پھر احد کے ساتھ مل کر شفق کو بستر پر ڈالا۔

شفق نے آنکھیں کھول دی تھیں۔ مگر اس کی ذہنی حالت کچھ بہتر نہیں تھی۔ وہ اٹھتے ہی احد اور حدید کو پکارنے لگی تھی۔

مما! ہم آپ کے پاس ہیں۔“ کرنل راحیل کے کہنے پر وہ دونوں اپنی ماں کے دائیں بائیں بیٹھ گئے تھے۔ شاید شفق کو بھی یہی اطمینان چاہئے تھا۔ وہ ان دونوں کا ہاتھ تھام کر قدرے پرسکون ہو گئی تھی

کر نل راحیل نے اسے ایک ہفتے کی چھٹی دے دی تھی تاکہ وہ آرام کر سکے۔ وہ شفق کیلئے اپنے دل میں نرم گوشہ محسوس کر رہے تھے۔

انہیں شفق سے عجیب سی اپنائیت کا احساس ہوتا تھا۔ جسے وہ ابھی تک کوئی نام نہیں دے رہے تھے۔ وہ شفق کو دو تین سالوں سے جانتے تھے۔ وہ انہیں پہلے دن ہی بہت اچھی اور اپنی اپنی سی لگی تھی۔ یہ اپنائیت وقت گزرنے کے ساتھ بڑھی تھی۔

آج انہوں نے بہت ہمت کرکے ایک فیصلہ کیا تھا۔

اپنی محبوب بیوی کی وفات کے بعد انہوں نے شادی نہ کرنے کا عزم کر رکھا تھا۔ مگر اب انہیں اپنی زندگی میں کچھ کمی سی محسوس ہونے لگی۔ وہ اداس اداس آنکھوں والی شفق کی زندگی میں کچھ رنگ بھر دینا چاہتے تھے۔ وہ اسے بتانا چاہتے تھے کہ زندگی اتنی بھی بری شے نہیں ہے۔

ایسا کون سا غم تھا جو اس نے اپنی جان کے ساتھ لگا رکھا تھا۔

وہ اسے کھوجنے کیلئے نکلے تھے اور خود کو کھو بیٹھے۔ وہ ساری رات بچوں کے پاس رہے تھے۔ جو فیصلہ اک عرصے سے نہیں ہو پا رہا تھا۔ چند لمحوں میں ہو گیا۔ اب وہ اس کی مکمل صحت یابی کے انتظار میں تھے۔

کرنل راحیل اس کا درد بانٹنا چاہتے تھے۔ شفق کو اس کرب سے نکالنا چاہتے تھے۔ ان کی یہ کوشش بے کار نہیں گئی تھی۔ دوسرے دن وہ اس کی طبیعت پوچھنے کیلئے آئے تو وہ خود ہی جیسے کسی کندھے کی منتظر بیٹھی تھی۔

انہوں نے کیپٹن خرم کو اس کے گھر سے غصے کی حالت میں نکلتے دیکھا تھا۔ وہ حیران نہیں تھے جانتے تھے کہ خرم‘ شفق کا ماموں زاد بھائی ہے۔ البتہ اس کے چہرے پر پھیلے تاثرات نے انہیں کافی حیران کیلا تھا۔

پہلے عذاب کون سا کم تھا جو یہ خرم بھی ستانے لگا ہے۔“ وہ فون پر کسی سے بات کر رہی تھی۔

ممانی جان! اسے سمجھائیں آپ‘ کیوں پاگل بن رہا ہے۔

کیوں میری پریشانیوں کو نہیں سمجھتا۔“ اس کے آنسو بہنے لگے تھے۔ سر کو ایک ہاتھ سے دباتے ہوئے وہ ٹوٹے لہجے میں کہہ رہی تھی۔

ابھی تک اس کا بچپنا نہیں گیا۔ آپ نے بھی تولاڈ اٹھا اٹھا کر بالکل ہی ضدی بنا دیا ہے اسے۔ آج میں نے ٹھیک ٹھاک کھنچائی کی ہے اس کی۔ امید تو ہے سمجھ گیا ہو گا۔“ کرنل راحیل کو دیکھ کر اس نے فون کال مختصر کرکے گفتگو کو سمیٹ دیا تھا۔

اور پھر اس کے پوچھنے پر جیسے وہ پھٹ پڑی تھی۔ آنسوؤں کے درمیان اس نے کتاب زندگی کا وہ صفحہ کھول کر سنای تھا۔ وہ گم صم سے اس نازک عورت کو دیکھ رہے تھے جس پر نجانے کتنے ہی پہاڑ ٹوٹے تھے اور وہ پھر بھی بڑے حوصلے سے جی رہی تھی۔

خرم کہتا ہے کہ میں اس سے شادی کر لوں۔ پاگل ہے وہ‘ میں بھلا اسے کیا دے سکتی ہوں۔ کیا ہے میرے پاس اسے دینے کیلئے۔

اس نے تو ابھی زندگی کی شروعات کرنی ہے جبکہ میں تو زندگی کو برت چکی ہوں۔ میرے پاس سوائے پریشانیوں کے کچھ نہیں۔“ وہ جیسے تھک کر گہرے گہرے سانس لینے لے رہی تھی۔

انہوں نے آگے بڑھ کر گلاس میں پانی انڈیلا اور اس کے لبوں سے لگا دیا۔ وہ کافی دیر اسے تسلیاں دیتے رہے تھے۔ اس کا حوصلہ بڑھاتے رہے اور شفق بچی تو نہیں تھی کہ ان کی آنکھوں میں چھپے نرم گرم جذبوں کو محسوس نہ کرتی۔

مرد عورت کے گرد اپنی محبت کا دائرہ بنا کر اسے چھوڑ دیتا ہے اور وہ ساری زندگی اسی دائرے کے اندر چکراتی رہتی ہے۔ مگر باہر نہیں نکلتی۔ اس لئے کہ وہ باہر نکلنا ہی نہیں چاہتی جبکہ مرد کی محبتیں تو بدلتی رہتی ہیں۔“ وہ جیسے کسی گہری کھائی سے بول رہی تھی۔ کرنل راحیل کچھ دیر مزید بیٹھے تھے اور پھر چلے گئے

ایک ہفتے بعد وہ دوبارہ سے ڈیوٹی پر جانا شروع ہو گئی تھی۔ اسی دوران جنرل (ر) جہاں زیب کا فون نہیں آیا تھا۔ اس دن وہ ہسپتال سے واپسی پر کرنل راحیل کے گھر چلی گئی تھی۔ وہ اسے دیکھ کر بے حد حیران ہوئے تھے اور خوش بھی۔

ہمارے غریب خانے کو کیسے رونق بخش دی ہے آج؟“ وہ خوش دلی سے مسکرائے تھے جبکہ شفق مسکرا بھی نہ سکی۔

انہوں نے چائے کے ساتھ ڈھیروں لوازمات بھی منگوائے تھے۔

شفق چائے کی پیالی پکڑ کر چند پل سوچتی رہی۔

مجھے آپ سے ایک بات کرنا ہے۔

آپ ایک نہیں سو باتیں کر لیں۔“ انہوں نے کیک پیس اٹھاتے ہوئے نرمی سے کہا۔

دراصل میں ریٹائر منٹ لینا چاہتی ہوں۔

واٹ!“ انہیں شاک لگا تھا۔ ہاتھ میں پکڑا کپ انہوں نے مزید پر رکھ دیا۔

اصل میں میں چاہتی ہوں کہ اپنے آبائی شہر چلی جاؤں۔

کم از کم کوئی ڈر‘ کوئی خدشہ تو نہ ہوگا۔ بچے بھی ڈسٹرب نہیں ہوں گے۔

ایک فون کال سے گھبرا کر آپ اپنا کیریئر تباہ کرنا چاہتی ہیں۔“ وہ نہایت افسوس سے بولے تھے۔

اس نے آپ کو دھمکایا اور آپ خوف زدہ ہو گئیں۔ بہت حیرت ہو رہی ہے۔ مجھے آپ کے اس فیصلے کو سن کر۔ یعنی کہ حد ہی ہو گئی۔

آپ نہیں جانتے کہ ان کے ہاتھ کتنے لمبے ہیں۔

وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ پہلے مجھے یہ اطمینان تھا کہ چلو انہیں مجھ سے اور میرے بچوں سے کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی وہ میرے بیٹوں سے کوئی تعلق رکھنا چاہتے ہیں۔

مگر اب جبکہ وہ مجھے واضح دھمکی دے رہے ہیں تو مجھے اس سے بہتر کوئی حل نہیں لگا کہ میں…“

فوراً سے پیشتر کسی کونے میں چھپ جاؤں۔ اگر وہ لوگ وہاں بھی پہنچ گئے تو پھر کہاں جائیں گی آپ؟“ کرنل راحیل کے کہنے پر وہ لب کاٹ کر خاموش ہو گئی۔

خاتون! میں تو آپ کو اچھا خاصا سمجھ دار سمجھتا تھا مگر آپ تو ماشاء اللہ سے… اتنی بہادر اور باحوصلہ ہو کر اس مقام پر ایسی کمزوری دکھا رہی ہیں۔ آپ کو تو چاہئے تھا کہ ان کو منہ توڑ جواب دیتیں آپ نے انہیں…“

صاحب! آپ کا فون ہے۔“ ملازم کے کہنے پر وہ اس سے معذرت کرتے فون سننے کیلئے چلے گئے تھے۔

اسی پل لاؤنج کا دروازہ کھلا تھا۔

وہ سامنے لگی خوبصورت سی پینٹنگ کو بغور دیکھ رہی تھی۔ قدرے رخ موڑ کر اس نے اندر آتی شخصیت کو دیکھا اور پھر جیسے زمان و مکاں بھول گئے۔ وقت کی سوئیاں گویا تھم چکی تھی۔ مقابل کے تاثرات بھی کم و بیش ایسے ہی تھے۔

شاہ میر کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ راحیل کے گھر وہ پورے چودہ برس بعد اس چہرے کو دیکھے گا۔ جو کبھی بھی ایک پل کیلئے بھی اس کی نگاہوں کے سامنے سے ہٹا نہیں تھا۔

وہ ایک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا۔

شفق ایک دم اپنی جگہ سے اٹھی تھی اور پھر تیزی سے اس کے قریب سے گزر کر اندرونی دروازہ عبور کر گئی۔ اس کا دماغ سنسنا رہا تھا۔ آنکھوں کے سامنے تارے ناچ رہے تھے۔ شاہ میر کے وجود میں بھی حرکت ہوئی تھی۔ وہ تقریباً بھاگتا ہوا اس کے پیچھے آیا تھا۔

شافی! شفق!“ وہ اسے آوازیں دے رہا تھا۔ بلا رہا تھا۔

شفق نے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے۔

شاہ میر تیزی سے اس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا۔ اس کی سانس پھول رہی تھی۔ چہرہ سرخ تھا اور ہونٹ کپکپا رہے تھے۔

شافی‘ تم کہاں چلی گئی تھیں۔ میں نے تمہیں کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا۔

شفق کے اندر آگ لگی ہوئی تھی۔ آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں۔ وہ اس سے کلام تو کیا دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی اس کی طرف جبکہ وہ اس کے عین سامنے راستہ روکے کھڑا تھا۔

ہٹو میرے راستے سے“ وہ بغیر اس کی طرف دیکھے غرائی تھی۔

پہلے میری بات کا جواب دو‘ کہاں تھیں تم؟“ وہ بے قراری سے بول رہا تھا۔

میں کہہ رہی ہوں کہ ہٹ جاؤ میرے سامنے سے۔ میں تمہاری صورت بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔“ شفق نے آگ بگولا ہو کر اسے دھکا دیا تھا۔ وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔

میں نے اتنی کوشش کی تھی تم سے رابطہ کرنے کی۔

بچوں کو خرچا دینے کی مگر…“

ذلیل! بے غیرت! کن بچوں کی بات کر رہے ہو۔ نہیں ہیں وہ تمہارے بچے‘ اپنی ناپاک زبان سے ان کا نام بھی مت لینا۔“ شفق کے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا۔ وہ بمشکل اپنے ٹوٹے بکھرے وجود کو سمیٹتے ہوئے وہاں سے نکلی تھی۔

کرنل راحیل شفق کو نہ پاکر پریشانی کے عالم میں باہر نکلے تھے جب سرخ پتھروں کی روش پر کھڑے شاہ میر کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔

شاہ میر! تم اندر آؤ یہاں کیوں کھڑے ہو؟“ وہ بے خیالی میں چلتا ہوا ان کے ہمراہ لاؤنج میں آ گیا تھا۔

یہ شفق‘ یہاں؟ میرا مطلب ہے۔

گہرا اضطراب اس کی آنکھوں میں ہلکورے لے رہا تھا۔ لاشعوری طور پر وہ بار بار بیرونی گیٹ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کرنل راحیل کو کچھ غیر معمولی پن کا احساس ہوا اور پھر جیسے کلک کے ساتھ ان کے ذہن میں جھمکاکا ہوا تھا بہت سی غیر واضح چیزیں سامنے آ گئی تھیں۔

شاہ میر تم اور شفق… اومائی گاڈ!“ وہ کسی گہرے دکھ اور صدمے کے زیر اثر بولے تھے۔ ان کے دل میں تنفر کی تیز لہر اٹھی تھی۔

اس اتنے حسین چہرے کے پیچھے اتنی بدصورتیاں…“ ان کا ذہن اس حقیقت کو قبول نہیں کر پا رہا تھا۔

شاہ میر کے پاس گویا الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو گیا تھا۔ وہ گم صم سا بے اختیار اٹھا اور پھر تیزی سے باہر نکلتا چلا گیا۔ کرنل راحیل اسے روک بھی نہیں پائے تھے۔

اس کمینے نے مجھے مخاطب کرنے جی جرأت کیسے کی؟“ شفق کا دماغ کھول رہا تھا۔ اس نے بلاوجہ ہی بچوں کو بھی ڈانٹا تھا۔ کچن میں آکر کتنے ہی برتن آج اس نے توڑے تھے۔ بچے بھی قدرے سہم سے گئے تھے۔

کھانا بھی اسی حالت میں جیسے تیسے پکایا۔ بچوں کو کھانا کھلا کر اور دودھ دے کر ہمیشہ کی طرح ان کے پاس بیٹھنے کے بجائے وہ اپنے کمرے میں آ گئی تھی۔

نو بجے کرنل راحیل کا فون آ گیا تھا۔

کیسی ہیں شفق آپ؟“ وہ سوچ سکتے تھے کہ شفق کی کیا حالت ہوئی ہوگی۔ اسی لئے قدرے تاخیر سے فون کیا تھا۔ شفق اس دوران خود کو سنبھال چکی تھی اس لئے نارمل لہجے میں ان سے بات کرنے لگی تھی۔

مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اب ان باتوں کا کیا مقصد ہے۔ کون سا نیا ڈرامہ کرنا چاہتے ہیں یہ لوگ میرے ساتھ۔

کرنل راحیل کی ہمدرد فطرت اور خلوص ہی تھا جو وہ اپنی ہر بات ان سے شیئر کرنے لگی تھی۔

اگر اس نے بچوں کیلئے عدالت میں کیس کیا تو میں بھی اس کے خلاف اسٹینڈ لوں گی۔“ وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔

بچوں کے بالغ ہونے تک تو کوئی بھی عدالت آپ سے بچے نہیں چھین سکتی۔ اس کے بعد بچے خود فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے کس کے پاس رہنا ہے۔

بچے صرف اور صرف میرے ہیں۔

وہ میرے پاس رہیں گے‘ میرا انتخاب کریں گے۔ وہ ایسے باپ پر تھوکیں گے بھی نہیں۔“ اس نے بڑے دعوے کے ساتھ کہا تھا اور صرف چار دن بعد اس کا یہ دعویٰ اس کا منہ چڑا رہا تھا۔

جہاں زیب ایک دفعہ پھر جیت گیا تھا۔ شفق نے ایک مرتبہ پھر اس کے ہاتھوں بری طرح شکست کھائی تھی۔ اس شام ایک دفعہ پھر اس کے زخم زخم دل پر آندھیاں چل گئی تھیں۔ ایک دفعہ پھر وہ پورے قدرے کے ساتھ زمین پر گری تھی۔

ایک دفعہ پھر اس کے اندر صف ماتم بچھ گئی۔

بہت سال پہلے اس نے بڑی آس بھری نگاہوں سے شاہ میر کے چہرے کی طرف دیکھا تھا اور اسے شاہ میر کا چہرہ بدلا بدلا سا محسوس ہوا تھا۔ اب اس نے اپنے بچوں کے چہروں کو بالکل شاہ میر کے چہرے کی طرح بدلا بدلا پایا تھا۔ سرد‘ لاتعلق اور اجنبی چہرے۔

آپ ہماری ماں نہیں ہیں۔ آپ تو ڈائن ہیں ڈائن‘ جس نے ہمیں ہمارے مم‘ پاپا سے جدا کر دیں۔

آخر کون سا جرم کیا تھا ہم نے۔ بتائیں بولیں۔“ وہ دونوں چلا چلا کر کہہ رہے تھے۔

میں تمہاری ماں نہیں ہوں تو پھر کون ہے تمہاری ماں؟“ وہ خونخوار لہجے میں کہتی ہوئی آگے بڑھی تھی۔

ماہا‘ امی!“

اس کے سر پر گویا آسمان آن گرا تھا۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنے بیٹوں کو دیکھتی رہ گئی۔

کیا کہا۔ ماہا!“ اس نے احد کے منہ پر تھپڑ دے مارا تھا۔

ہاں ماہا ہے ہماری ماں۔ آپ تو ڈاکٹر تھیں۔ مسیحا تھیں پھر کیونکر آپ نے ہماری ماں کے ساتھ یہ ظلم کیا۔ کیوں ہمیں ان سے دور کر دیا۔ کس جذبے کی تسکین کرتی رہی ہیں آپ اب تک۔“ وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا جبکہ شفق کا دل بند ہونے لگا تھا۔ وہ کانوں پر ہاتھ رکھے بیٹھتی چلی گئی۔

نہیں مولا اب نہیں۔ اب نہیں جینا میرے اللہ بس اب آزاد کر دے زندگی کے اس بوجھ سے

بیس دن وہ ہوش و خرد سے بیگانہ رہی تھی۔ اسے ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ ممانی‘ خرم اور کرنل راحیل ان دنوں میں اس کے ساتھ سائے کی طرح رہے تھے۔ ان تین چہروں کے علاوہ اسے وہ دو نظر نہیں آئے تھے جنہیں دیکھے بغیر اس کی سانس بند ہونے لگتی تھی۔

جن کے بغیر اسے لگتا تھا کہ شاید کہ وہ مر ہی جائے گی مگر وہ مری نہیں تھی۔ وہ زندہ تھی‘ سانس لے رہی تھی۔

بس زندگی اس کے اندر مر چکی تھی۔ اس کی آنکھوں کی چمک مفقود تھی اور امید کا آخری دیا بھی بجھ گیا تھا اور پھر لوگوں نے میجر ڈاکٹر شفق احمد کو عین کیرئیر کے عروج میں استعفیٰ دیتے دیکھا۔

گھر اس نے خرم کے نام کر دیا تھا ان دونوں کی شدید ناراضی کے باوجود پھر اس نے خرم کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔

سارے محرم رشتے مر گئے ہیں۔

نہ باپ ہے نہ شوہر اور نہ بیٹے۔

ایک بھائی کا آسرا ہی تھا۔ جسے تم چھین رہے ہو۔ کیا شفق کی زندگی میں کوئی رشتہ باقی نہیں بچے گا؟“ خرم نے بے اختیار روتے ہوئے اسے ساتھ لگا لیا تھا۔

وہ عمرہ کرنے چلی گئی تھی‘ عمرہ ادا کرنے کے بعد سلگتا تڑپتا دل قدرے پرسکون ہو گیا تھا اور پھر خرم کی شادی کے بعد وہ اور بھی مطمئن ہو گئی تھی۔ وقت رینگ رینگ کر گزر رہا تھا مگر شفق کو لگتا تھا کہ جیسے صدیاں بیت گئی ہیں زمانے گزر گئے ہیں۔

سنو شفق! زندگی میں بہت کم اتنے مخلص لوگ ملتے ہیں۔ کرنل راحیل بہت اچھے انسان ہیں۔ اگر تم…“ ایک دن خرم نے اس سے التجا کی تھی۔ شفق نے وحشت بھری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے خاموش کروا دیا تھا۔

اسے ویران اجاڑ پھرتے دیکھ کر ممانی چپکے چپکے کتنے ہی آنسو بہا ڈالتی تھی۔ دل خون کے آنسو روتا تھا مگر سب خاموش تھے۔ وہ ان سے ہر موضوع پر بات کرتی تھی مگر ان کے جذبوں کی پذیرائی کرنا اس کے بس میں نہیں تھا۔

کرنل راحیل اور خرم شطرنج کی بساط بچائے بیٹھے تھے۔ ایک دوسرے کو ہرانے کے چکر میں وہ اکثر ہی شام سے رات کر دیتے تھے۔ شفق کچھ دیر ان کے پاس بیٹھی رہی تھی اور پھر عشاء کی نماز پڑھنے کیلئے اٹھ گئی۔

نماز کے بعد وہ معمول کے مطابق نوافل ادا کر رہی تھی جب فون کی بیل بجی اور پھر بجتی چلی گئی۔ اس نے سلام پھیر کر ریسیو اٹھایا۔ دوسری طرف احد تھا اس کا بیٹا۔

وہ رو رہا تھا اور اس سے ملنے کیلئے بے چین تھا۔ اس نے بغیر کچھ کہے فون رکھ دیا۔

اور ایک دفعہ پھر نفل پڑھنے کیلئے نیت باندھ لی۔

وہ ساری رات عبادت کرتی رہی تھی اور ساری رات فون بھی بجتا رہا۔ اس نے تہجد پڑھی‘ اپنے لئے دعا کی اپنے بچوں کیلئے دعا کی اور پھر فون اسٹینڈ کی طرف آئی۔ ابھی وہ کچھ بولنا چاہ ہی رہی تھی کہ دوسری طرف سے ایک گڑگڑاتی آواز سنائی دی۔

وہ پہچان نہیں سکی تھی کہ دوسری طرف کون ہے۔ اس نے بہت سوچنے کی کوشش کی مگر اس لکنت زدہ لہجے کو پہچان نہیں پائی تھی۔

مم… فی… مانگ… تم سے… میں بہت… درد ہائے۔

ٹوٹے لفظ‘ ٹوٹا لہجہ‘ شفق کا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔ اس نے ریسیو مضبوطی سے پکڑا۔

اسی پل ریسیو کسی اور ہاتھ میں منتقل ہوا۔

میڈم! میں ڈاکٹر عالیان بات کر رہا ہوں۔

جسٹس شرجیل میرے پیشنٹ ہیں اور ان کی حالت کافی نازک ہے اور یہ بار بار التجا کر رہے تھے کہ میں آپ سے ان کی بات کرواؤں۔ ان کی بیگم بڑی مشکل سے آپ کا نمبر لے کر آئی ہیں۔ دراصل چند دن پہلے ایک حادثے میں ان کی بیٹی کا انتقال ہو گیا ہے۔ شدید ذہنی صدمے کی وجہ سے ان کی زبان اور دایاں حصہ متاثر ہوا ہے۔ پلیز آپ ان کی بات سن لیں۔“ ڈاکٹر عالیان نہایت شائستگی سے کہہ رہا تھا۔

ایک دفعہ پھر ریسیور اس کے کان سے لگا دیا گیا تھا۔ ان کی عجیب و غریب بھیانک آوازیں اس کی سماعتوں میں اتر رہی تھیں۔

تو کیا ماہا مر گئی۔“ شفق نے ریسیو کریڈل پر رکھتے ہوئے آزردگی سے سوچا تھا۔

فجر کی اذانیں ہو رہی تھیں۔ جب خرم نے اس کے کمرے کا دروازہ پیٹ ڈالا۔ وہ تیزی سے اٹھ کر دروازے تک آئی۔ خرم یونیفارم میں تھا اور ابھی ابھی شاید ڈیوٹی سے آیا تھا۔

کیا بات ہے خرم!“

جنرل (ر) سید جہاں زیب پر دل کا دورہ پڑا اور وہ انتقال کر گئے۔

کک۔ کیا کہہ رہے ہو تم؟

ابھی ابھی ان کی ڈیڈ باڈی گھر پہنچا کر آ رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے شاہ میر اور اس کی بیوی کا بھی ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ اس کی بیوی تو موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی تھی جبکہ شاہ میر کو شدید چوٹیں آئی تھیں اور اب…“

ایک انسان ہونے کے ناتے ان انسانیت سے عاری لوگوں کی اس طرح کی حادثاتی اموات پر اسے شدید دکھ ہوا تھا۔

اللہ بڑا باانصاف ہے۔“ خرم کہہ رہا تھا جبکہ شفق کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تھے۔

جہاں زیب کا تکبر‘ سیما کی نفرت و حقارت بھری نگاہیں اور جسٹس شرجیل کی وہ آخری فون کال جو کہ طلاق کے پیپرز ملنے کے تیسرے دن انہوں نے کی تھی۔ وہ ہنس رہے تھے قہقہے لگا رہے تھے اس کی بے بسی کا مذاق اڑا رہے تھے۔ وہ خود کو داد دے رہے تھے۔ اپنی شاندار کامیابی پر مسرور تھے۔

دوسرے دن وہ قریبی میڈیکل اسٹور سے اپنی دوائی لے کر گھر واپس آئی تو سامنے صوفوں پر نڈھال بیٹھے اپنے بیٹوں کو دیکھ کر اس کا دل دھک سے رہ گیا۔

وہ دونوں اسے دیکھ کر تقریباً بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئے تھے۔ اس نے ان دونوں کو اپنی بانہوں میں بھینچ لیا تھا۔

میری جان‘ میرے بچے!“ وہ اپنی پیاسی ممتا کو سیراب کر رہی تھی۔ ممانی کی بوڑھی آنکھوں سے آنسو قطرہ قطرہ گر رہے تھے۔ خرم بھی بھیگی پلکوں کے ساتھ اس ملاپ کو دیکھ رہا تھا۔

اللہ نے میری دعائیں قبول کر لیں۔ اللہ نے میری شفق کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔“ ممانی نفل پڑھنے کیلئے چل دی تھیں۔ شفق بھی کیوں اللہ کا شکر ادا کرنے میں دیر کرتی۔

ددا سے ہماری پہلی ملاقات گراؤنڈ میں ہوئی تھی۔ وہ ہمارے پاس آئے‘ انہوں نے ایک نئے رشتے سے ہمیں آشنا کروایا تھا اور ہم ساکت وصامت رہ گئے۔

بقول ددا کے وہ روزانہ ہمیں کرکٹ کھیلتے دیکھا کرتے تھے۔ ان کے تعارف نے ہمارے دلوں میں حشر برپا کر دیا تھا۔ وہ ہمیں اپنے ساتھ گھر لے گئے پھر انہوں نے ہمیں ایک ایسی کہانی سنائی جسے ہم حرف بہ حرف سچ سمجھ بیٹھے۔

دادو اور دادا نے ہمیں بتایا تھا کہ آپ پاپا سے پیار کرتی تھیں۔ مگر پاپا آپ سے محبت نہیں کرتے تھے۔ جب پاپا نے ماہا ممی سے شادی کی تو آپ کا توہین اور غم و غصے سے برا حال ہو گیا تھا۔

ہماری پیدائش کے بعد محض انتقاماً آپ ہمیں کڈنیپ کرکے دوسرے شہر لے گئی تھیں۔ ہم دونوں بہت جذباتی ہو گئے تھے۔ یہ ساری تقریر سن کر ہمیں بہت دکھ ہوا تھا کہ آپ ہماری ماں نہیں ہیں۔

میں نے ددا کے کہنے پر آپ سے بدتمیزی کی تھی۔ دادا بہت خوش تھے پھر رات کو ہم اپنے پاپا سے ملے تھے اور مما‘ انہوں نے ہمیں اتنا پیار کیا اتنا پیار کیا کہ ہم دونوں مزید آپ سے متنفر ہو گئے۔

جب ماہا ممی ہم سے ملیں تو ان کا اندازہ بے حد عجیب تھا جیسے وہ ہماری آمد سے ناخوش ہوں۔ ہم دونوں ان کے رویوں سے ہرٹ ہوئے تھے۔ اگرچہ انہوں نے ددا کی وجہ سے ہمیں پیار بھی کیا تھا۔

مما ہم لوگ اس گھر میں جاکر الجھ گئے تھے۔ وہ اتنا بڑا گھر‘ اتنے نوکر اور پھر بھی اتنی خاموشی۔ سب کے رویے بھی عجیب و غریب تھے۔

پپا صبح کے گئے رات کو گھر آئے تھے۔ ماما ممی بھی سارا سارا دن گھر سے باہر رہتیں۔ دادو کا بھی یہی معمول تھا۔ البتہ دوا ہمیں بہت وقت دیتے تھے ہم سے بے انتہا پیار کرتے تھے۔ ایک دن دادا اپنے کسی دوست سے گفتگو کر رہے تھے جو کہ ہم نے اتفاقاً سن لی۔

میرے تینوں بیٹوں کی چار چار بیٹیاں ہیں مگر بیٹا کوئی نہیں۔ صرف شاہ میر کے ہی تو بیٹے تھے۔ میں کیونکہ انہیں نہ چھینتا اس سے۔ ماہا نے تو مجھے بے حد مایوس کیا ہے اس معاملے میں‘ آخر نسل تو بیٹی اور پھر پوتے سے ہی چلتی ہے۔

وہ سب بہت عجیب تھے۔ دادو ہم سے پیار بھی کرتی تھیں اور پھر ایک دم جھڑک بھی دیتیں۔ ماہا ممی خود میں ہی مگن رہتی تھیں۔

رہے پپا تو وہ بھی اپنی ذات میں گم تھے۔ ہم نے کبھی انہیں بولتے نہیں سنا۔ گھر آکر وہ اسٹڈی میں گھس جاتے تھے۔

ان کی کام والی بھی بہت عجیب تھی۔ اس کی آنکھیں بہت ڈراؤنی تھیں۔ پھر پتا ہے کیا ہوا مما!“

احد کی چہرے پر ایکدم ہی خوف کے سائے لہرائے تھے۔ شفق چاہ رہی تھی کہ وہ پرسکون ہو کر سو جائے۔ مگر اس کی آنکھوں میں نیند دور دور تک نہیں تھی۔

حدید بھی ساکت سا اس کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا۔

رات کو وہ ہمیں دودھ دینے کیلئے آئی تھی۔ حدید ہوم ورک کر رہا تھا اور میں ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ وہ دودھ ٹیبل پر رکھ کر ہمارے پاس ہی بیٹھ گئی۔ پھر اس نے ایکدم ہی ریموٹ اٹھا کر ٹی وی بند کر دیا۔ میں اور حدید چونک گئے تھے۔

اے سنو! اس نے بڑی بڑی گول گول آنکھیں گھمائیں تو حدید خوف زدہ ہو گیا۔

مجھے بھی اس سے خوف محسوس ہوا تھا۔ عجیب وحشت بھری تھی اس کی آنکھوں میں۔

یہ نہیں ہے تمہاری ماں۔ ماں تو وہ ہے جسے تم چھوڑ آئے ہو۔“ اس نے پھر دیدے گھمائے تھے۔

ادھر کانٹوں پر چلنے کیلئے آ گئے ہو‘ یہاں سکھ نہیں ہے اور نہ ہی آ سکتا ہے‘ درد ہے بس۔ درد اور بے سکونی۔ ادھر نواب شاہ میں میری ماں نے ڈبل اسٹوری مکان بنایا ہے پورے گھر میں ماربل کی ٹائلیں لگوائی ہیں۔

مگر وہاں رہتا کوئی نہیں ہے۔ یہاں بھی کسی نے نہیں رہنا اور…“ اس نے بات ادھوری چھوڑ کر ہلکا سا قہقہہ لگایا تھا۔

اچھا اب تم جاؤ۔ ہم دودھ پی لیں گے۔“ حدید یقینا اس سے ڈر گیا تھا۔ وہ اسے بھیج دینا چاہتا تھا مگر میں نے اسے روک دیا۔

تمہیں کیسے پتا ہے کہ جسے ہم چھوڑ کر آئے ہیں‘ وہ ہی ہماری ماں ہے۔

لو مجھے نہیں پتا ہوگا تو اور کسے پتا ہوگا۔

صاحب کی پہلی بیوی۔ تم دونوں کی ماں شفق ہے۔“ اس نے ہم دونوں کے سروں پر گویا دھماکا کیا تھا۔ میرا ایکدم سانس رک گیا۔

گوگی! تو پھر بتاؤ کہ پپا نے ہماری مما کو کیوں چھوڑا تھا۔“ گوگی نے پھر قہقہہ لگایا اور بولی۔

چھوڑا نہیں تھا چھڑوایا گیا تھا۔ ڈرامہ کیا تھا ہم سب نے مل کر‘ ایسا ڈرامہ جس کے بدلے میں ہمیں اتنے پیسے ملے تھے کہ ہماری آنکھوں کی بھوک مٹ گئی تھی اور پتا ہے۔

یہ بڈھا جو تم لوگوں کو ہر وقت چاٹتا رہتا ہے اونہہ!“ گوگی نے کارپٹ پر تھوک دیا تا۔

بڑا کمینہ انسان ہے‘ اسی نے تو تمہاری ماں کو طلاق دلوائی تھی اور اس کا دوست نالی کا گندا کیڑا…“ گوگی نے پھر کارپٹ پر تھوکا۔ ”ایک اور بات بتاؤں یہ جو صاحب ہے نا شاہ میر‘ یہ اسٹڈی میں بیٹھ کر لکھتا پڑھتا نہیں ہے۔ روتا ہے روتا… تمہاری ماں کو یاد کرکے۔

بڑی محبت تھی اسے شفق سے۔“ اس نے آہستگی سے اپنی سر پر مکا مارا تھا اور مسکرائی۔

رات کو اپنے باپ سے لڑائی ہوئی ہے اس کی۔ وہ تم دونوں کو شفق کے پاس بھجوانا چاہتا ہے مگر دیکھ لینا اس بڈھے نے تم دونوں کو اس گھر سے نکلنے نہیں دینا جو یہاں پھنس گیا بس پھنس گیا۔“ گوگی کی آنکھ سے اک قطرہ گرا تھا۔ ”لیکن میں ایسا نہیں ہونے دوں گی‘ تم دیکھ لینا۔

اب کے اس نے قہقہہ نہیں لگایا پھر وہ کمرے سے نکل گئی۔

ان دنوں ہمیں اپنے سائے سے بھی خوف آتا تھا۔ دل چاہتا تھا کہ بھاگ کر آپ کے پاس چلے آئیں۔ پھر پپا کا اتنا شدید ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ گوگی بتاتی ہے کہ پپا اور ماہا ممی کی لڑائی ہوئی تھی نجانے کس بات پر۔ وہ یہ بھی بتاتی ہے کہ پپا نے جان بوجھ کر گاڑی ٹرالر سے ٹکرائی تھی۔

مما! آپ کو پتا ہے کہ جب پپا ہمیں یہاں چھوڑنے کیلئے آئے تو انہوں نے کیا کہا تھا؟“ حدید دونوں ہاتھوں کے پیالے میں اس کا چہرہ لے کر بولا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ اپنی ماں کو کبھی بھی تنہا مت ہونے دینا۔ اس نے بہت عرصہ تنہائی کا زہر پیا ہے اور ہو سکے تو اس سے کہنا کہ اس گنہگار کو معاف کر دے۔“ مما! میرے پیا بھی تو تنہا ہو گئے ہیں ناں؟ وہ آنکھیں رگڑتا معصومیت سے بولا تھا۔ شفق کے دل پر جیسے گھونسا پڑا۔

یہ تنہائی اس نے خود اپنے لئے پسند کی ہے۔ یہ عذاب اس نے خود خریدے ہیں۔

شفق نے اذیت سے سوچا۔ ان دونوں کو سلانے کے بعد وہ آہستگی سے دروازہ بھیڑ کر باہر آ گئی تھی۔ اپنے کمرے میں آکر اس نے دراز کھولا۔ اس میں ایک خاکی لفافہ تھا۔ وہ دونوں ہاتھوں میں اس لفافے کو لے کر کتنے ہی پل گم صم سی بیٹھی رہی۔ پھر لفافہ چاک کرکے اس نے ایک کاغذ نکالا تھا۔

کیا کہوں کہ اس سفر نے جتنا تمہیں تھکایا ہے اتنا ہی مجھے بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا لکھوں… بس اتنا کہوں گا کہ میرے بیٹوں کو جن رنگوں سے آشنائی تم نے کروائی ہے‘ وہ کتنے خوبصورت رنگ ہیں۔

معصومیت‘ سچائی اور پاکیزگی کے پیکر… اگر ذرہ برابر بھی میں اپنے بیٹوں کے قابل خود کو سمجھتا تو شاید ہمیشہ کیلئے تمہارے حوالے انہیں کرنے پر میرا دل رضا مند نہ ہوتا۔ مگر کیا ہے کہ میں خود کو ان معصوم فرشتوں کے قابل نہیں سمجھتا۔ میں ان کے قابل ہوں بھی نہیں۔ تم میرا سامنا کرنا نہیں چاہتی اور میں تم سے نظر ملا کر بات نہیں کر سکتا۔ اتنے فاصلے ہیں ہمارے درمیان کہ چاہ کر بھی قریب نہیں آ سکتے۔

کل راحیل مجھ سے کہہ رہا تھا کہ تم نے ایک ہیرے کو پتھر بنا دیا ہے۔ کیا بتاتا اسے کہ جنوں کی اس راہ نے میرے سارے راستے کھوٹے کر دیئے تھے۔ جب تک یہ تحریر تم تک پہنچے گی‘ میں تمہاری دنیا سے دور بہت دور ہوں گا۔ ہو سکے تو اپنے مجرم کو معاف کر دینا۔

اور ہاں ایک اور بات کہنا تھی۔ شاہ میر کا باپ برا ہو سکتا ہے اس کی ماں بری ہو سکتی ہے۔ شاہ میر خود برا ہو سکتا ہے مگر احد اور حدید کی ماں بری نہیں ہو سکتی۔

شفق کتنی ہی دیر اس تحریر پر نگاہیں جمائے بیٹھی رہی تھی یہاں تک کہ اس کی آنکھوں سے سیلاب جاری ہو گیا تھا۔ چودہ برس سے چبھنے والا کانٹا اذیت دینے والا پھانس چپکے سے نکل گئی تھی۔ جلتے بلتے دل پر گویا پھوار سی پڑی تھی۔ وہ ساری رات جاگتی رہی تھی۔ اک پل کو بھی نہ سو سکی۔

موزن نے ”اللہ اکبر“ کی صدا بلند کی تو وہ کمبل ہٹا کر اٹھ بیٹھی۔

اب وہ وضو کر رہی تھی۔ پھر اس نے جائے نماز بچھائی اور رات کائنات کے سامنے سر جھکا دیا۔

جنوں کی اس راہ پر چلتے چلتے اس نے بہت کچھ کھویا تھا۔ مگر پھر بھی اپنے رب کی شکر گزار تھی کہ اس نے اسے خالی دامن نہیں رکھا بلکہ بہت سی خوشیوں سے اس کے دامن کو بھر دیا ہے۔ ان دو روشن ستاروں کے ہمراہ باقی کا سفر بہت خوشگوار گزرنا تھا۔ اسے بہت پہلے پڑھی جانے الی نظم یاد آ رہی تھی۔

گہری کھائیاں

کالی رات

جنوں کی راہ

گھپ اندھیرا

جگنو نہ سویرا

چندا نہ بادل

گھنکرو نہ پائل

دھوپ نہ روپ

کالی رات‘ گہرا سکوت

لمبا سفر

سایہ نہ شجر

یہ کون سا نگر

یہ کون سا جہاں

یہ کیا امتحان؟

اے دل تو ہی بتا

یہ کیسا ہے سفر

اور یہ کون سی ہے راہ

یہ جنوں کی راہ

ہاں جنوں کی راہ

سامی‘ سونی اور سوہنی

 

تمہارے حضور ایک درخواست پیش کی تھی۔“ وہ اس کے ضبط کا امتحان لینے سویرے سویرے کچن کے دروازے کے چوکھٹے میں اپنا منہ سجا کر کھڑا ہو گیا تھا۔

رات بھر میری ایپلی کیشن پر غور کرتی رہی ہو‘ جو آنکھیں اس طرح سے سوج رہی ہیں‘ گویا شہد کی مکھی نے ان پر پیار سے منہ مارا ہو۔

اب وہ تھوڑا سا آگے جھک گیا تھا۔ جواب اب بھی ندارد… وہ زور و شور سے آٹا گوندھنے میں مصروف تھی۔

آج صبح بیڈ ٹی میں کیک اور چائے کی جگہ ٹیسٹ بدلنے کیلئے گونگے کا گڑ کھا لیا ہے؟“ بڑی معصومیت سے استفسار کیا جا رہا تھا۔

زبان کیا میکے میں بھول آئی ہو؟ ویسے اس انہونی کیلئے دل نہیں مانتا۔“ وہ سلیب سے ایک چھوٹا سا ایپل اٹھا کر ٹراؤزر سے رگڑتے ہوئے کھانے لگا تھا۔

سونی! اوہ سونی‘ خیر تو ہے؟ کیا صدمے کی شدت سے زبان پر فالج تو نہیں گر گیا؟ ہائے نہیں۔“ وہ سخت غم ناکی خود پر طاری کئے کچن اسٹول پر ڈھے جانے کے اسٹائل میں بیٹھ گیا۔

ارے بابا‘ نہیں کر رہا دوسری شادی… مذاق کر رہا تھا میری جان! تم نے خوامخواہ دل پر لے لیا… آنکھیں ابھی بھی بھیگی بھیگی ہیں۔ ابھی تک رو رہی ہو… اتنے آنسو ضائع کر دیئے‘ اتنی محبت ہے مجھ سے‘ میرا بٹوارہ گوارا نہیں تمہیں۔

وہ ایک ہی جست میں سونی تک پہنچ گیا تھا اور سونی اس کے بازوؤں کے حلقے میں چلا رہی تھی۔

سامی! بدتمیز آدمی‘ چھوڑو مجھے۔

تمہیں چھوڑنے کیلئے تو نہیں دبوچا‘ ہائے… کس قدر ٹوٹ کر پیار آ رہا ہے مجھے تم پر… ایسی محبت کا اظہار ہفتے میں کوئی بیس تیس دفعہ کر دیا کرو… میں بغیر کھائے پیے موٹا ہو جاؤں گا“ سامی نے مارے جذبات کے اسے گول گول گھما ڈالا۔

واہیات آدمی! مجھے چکر آ رہے ہیں۔

ہیں… چکر آ رہے ہیں۔“ اس نے حیرانی سے آنکھیں پھیلائیں اور پھر اور بھی سونی کو بھنیچتے ہوئے چلایا۔ ”تو چکروں کو آنے دو‘ انہیں کہو اور زور و شور سے آئیں‘ یہ تو اتنے بابرکت ہوتے ہیں‘ ان ہی کے توسط سے تو خوش خبری کی رپورٹ ملتی ہے۔

سامی! مجھے الٹی بھی آ رہی ہے‘ پیچھے ہٹ جاؤ‘ ورنہ تمہارے اوپر الٹ دوں گی۔

سونی نے اسے دھمکانا چاہا۔

الٹی بھی… یعنی کہ۔“ سامی نے فرط مسرت سے اس کے دونوں رخساروں پر زور سے چٹکی بھری تھی۔ وہ بلبلاتی رہ گئی تھی جبکہ سامی پھر سے اسے دبوچ چکا تھا۔

تین سال بعد یہ چکروں اور الٹیوں کا سیزن شروع ہوا ہے… آنے دو انہیں‘ موسٹ ویلکم… موسٹ ویلکم۔

تمہارا دماغ چل گیا ہے سامی۔“ سونی اس کے بازوؤں کے حلقے کو توڑنے کی کوشش میں محض پھڑپھڑا کر رہ گئی تھی۔

مجھے چھوڑو تو سہی بتاتی ہوں۔

کیا بتانا ہے‘ یہی ناکہ میں پاپا بننے والا ہوں۔ میری جان! بتانے کی ضرورت کیا ہے۔ وہ تو میں جان ہی چکا ہوں‘ مزید تسلی کیلئے ڈاکٹرز نوٹنکی سے چیک اپ کروا لیتے ہیں۔“ سامی کی اپنی لن ترانیاں جاری و ساری تھیں‘ سونی کو غصہ آ گیا۔

بدتمیز! دفتر سے لیٹ ہو رہے ہو‘ خالی پیٹ جاؤ گے کیا۔

یہ خوش خبری سن کر ہی پیٹ بھر چکا ہے۔

سامی جھوما تھا اور سونی کو بھی جھومنا پڑا۔

اف‘ سویرے سویرے دماغ پلپلانے لگے ہو۔

آج تو گالیاں بھی امرت لگیں گی‘ کچھ بھی کہہ لو‘ میں نہیں برا ماننے والا۔“ سامی فل مست ہو چکا تھا۔

مجھے چھوڑو تو سہی“ سونی چلائی۔ ”سامی کے بچے! ایسا بھی نہیں۔

ایسا ضرور ہے۔“ سامی زور دے کر بولا۔ ”تبھی تو چکر آ رہے ہیں۔

مجھے گھمائے جا رہے ہو‘ اسی لئے تو چکر آ رہے ہیں۔“ وہ پھر سے چیخی۔

نہیں یہ خاص چکر ہیں‘ ان میں کچھ راز ضرور ہے۔“ سامی بھی اپنی بات پر اڑا رہا۔

خاص بات یہ ہے کہ میں نے پانچ بجے چائے کے ساتھ کیک کھائے تھے۔ ساڑھے چھ بجے مجھے پھر بھوک لگ گئی تھی۔ رات کا بچا ہوا آٹا پڑا تھا فریج میں۔ آلو کے دو پراٹھے بنا کر کھا لئے تھے۔

پھر برتن وغیرہ دھونے لگی تو پتا ہے‘ کام کرتے ہوئے کچھ نہ کچھ ٹونگنے کی عادت ہے میری۔ بس نمکو پر نظر پڑی تو رہا نہیں گیا۔ اسی لئے طبیعت خراب ہو رہی ہے۔“ اس کی بھرپور وضاحت نے سامی کے چہرے کے زاویے بگاڑ دیئے۔

گھر بھی اپنا ہے اور پیٹ بھی‘ مت ڈھایا کرو اپنے بے چارے معدے پر ستم۔

اف سامی! درد تبھی ہونے لگا ہے‘ ارے مجھے تو چھوڑ۔“ وہ جھنجھلائی۔

تو‘ چھوڑ دیا۔“ سامی نے ایک بھرپور شرارت کے بعد اسے چھوڑا تو وہ محض گھور کر اسے دیکھتے ہوئے دوبارہ سے اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔

یہ تو بتاؤ کہ آنکھیں کس غم میں رو‘ رو کر بھیانک کر لی ہیں۔“ وہ بھی تو سامی تھا۔ اسے زچ کرنے کے بعد ہی اس نے کچن سے باہر کا رخ کرنا تھا۔

خود کو جتنا مرضی چاہے بے نیاز کر لو۔ ڈھول پیٹتی رہو کہ تمہیں میری پروا نہیں۔ میں کچھ بھی کر لوں‘ تمہاری بلا سے‘ چاہے دوسری شادی ہی سہی‘ مگر… یہ روئی‘ روئی آنکھیں‘ یہ اُبلے اُبلے نین‘ یہ مسلی ہوئی پلکیں‘ یہ گالوں پر آنسوؤں کی لکیریں‘ یہ خشک ہونٹ‘ سب راز افشا کر گئے ہیں جانم۔“ سامی نے بھرپور قہقہہ لگایا تھا۔

تمہارے خشکی بھرے بالوں والے سر کی قسم! رات کو میری دوسری شادی کے انکشاف اور تمہارے حضور اجازت نامے والی درخواست نے چہرے پر کیا‘ کیا پرنٹ کیا ہے؟ میں تو دیکھ دیکھ کر لوٹ پوٹ ہو رہا ہوں۔

پھر بھی کہتی ہو‘ تمہیں میری قطعاً پروا نہیں۔

بڑی خوش فہمی ہے۔“ وہ طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے پلٹی۔

ذرا اس چھوٹے سے پلاسٹک کے باؤل کو پکڑاؤ۔

خود پکڑ لو‘ پاس ہی تو رکھا ہے۔“ سامی نے بھرپور چستی بھری انگڑائی لی۔

اٹھا کر دو مجھے۔“سونی نے تحکم سے کہا۔

نہیں دے رہا‘ خود پکڑ لو‘ دو ہاتھ کے فاصلے پر ہے۔

سامی نے چڑچڑے انداز میں کہتے ہوئے اوھ کھائے سیب کو پھر سے اٹھا لیا۔ وہ ہمیشہ سونی کے تحکمانہ انداز سے بری طرح سے خار کھاتا تھا۔

تمہیں یہ باؤل پکڑانا ہوگا۔“ وہ بھی تو سونی ہی تھی‘ ہمیشہ کی ضدی۔

خود چل کر آ جائے تو یہ اور بات ہے۔ یہ باؤل تو میں تمہیں ہرگز نہیں پکڑاؤں گا۔“ بات خود بہ خود کسی اور رخ کی طرف چل نکلی۔ ہمیشہ آغاز خوش گوار ہوتا تھا اور انجام تک پہنچتے پہنچتے وہ دونوں ایک دوسرے سے لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتے تھے۔

یوں لگتا تھا کہ اب تمام عمر ایک دوسرے سے بات نہیں کریں گے‘ مگر

سامی! اگر تم نے یہ باؤل مجھے نہ پکڑایا تو پھر جانتے ہو نا‘ میں کیا کروں گی۔“ سونی نے اپنی مخصوص دھمکی دی۔

کیا کرو گی؟“ وہ بغیر سوچے سمجھے استہزائیہ بولا۔

بھوکا رہنا ہوگا‘ کیونکہ میں ناشتہ ہرگز نہیں بناؤں گی۔

اچھا…“ سامی نے آنکھیں پھیلائیں۔

کھانا بھی نہیں بناؤں گی۔

اوہ…“ سامی نے ہونٹ سیکڑے۔ ”تو ہوٹل کس مرض کی دوا ہیں۔

اچھا…“ سونی نے بھنویں اُچکائیں۔ کتنے دن ہوٹل کا کھانا کھاؤ گے؟ کیا ہمیشہ؟

ہمیشہ کیوں؟ شادی کر لوں گا۔ مسالا ٹی وی کی کسی کوکنگ ایکسپرٹ کے ساتھ۔“ سامی نے بھی کہاں ہار ماننا سیکھی تھی۔

اور کپڑے کس سے دھلواؤ گے؟“ سونی نے طنزوں کی تھیلی میں سے آہستہ آہستہ طنز کے تیر نکالنے شروع کر دیئے۔

ایک اور شادی کر لینا‘ کسی دھوبن کے ساتھ۔

ملازمہ رکھ لوں گا۔

دوسری والی کیلئے نوکرانی افورڈ کر لو گے کمینے۔“ سونی یک دم دھاڑی۔

درزن‘ دھوبن‘ باورچن اور مالن وغیرہ کو اکٹھا کر لو‘ سب سے نکاح کرکے‘ گنجا کرکے رکھ دیں گی تمہیں۔

اتنی بیویاں… اتنی بیویاں۔“ سامی گویا خوش گوار خواب کی کسی حسین وادی میں اتر گیا تھا‘ مگر یہ کیا… وہاں تو کچھ اور ہی منظر تھا۔

سلائی مشین پر جھکی دوشیزہ کپڑوں کے ڈھیر پر لیٹی نڈھال‘ بے حال الجھے بالوں‘ بکھرے حواسوں والی مہ جبیں… ادرک‘ لہسن‘ پیاز کی بو میں مدہوش کونڈے میں لال مرچیں کوٹتی حسینہ‘ کیاریوں کی گوڈی کرتی‘ گھاس کاٹتی‘ کھردرے اور پھٹے پھٹے ہاتھوں والی کھٹے پسینے کی باس سے ادھ موئی ہوتی دلنشینہ‘ ہائے نہیں‘ نہیں‘ نہیں‘ نہیں۔

سامی!“ سونی نے اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔

کیا ہے؟“ وہ ہڑبڑا کر گویا نیند سے جاگا۔

بیٹھے بیٹھے سو گئے تھے کیا؟

نہیں‘ میں تو…“ وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔

چہرے پر ہوائیاں کیوں اڑ رہی ہیں‘ ناشتہ تمہیں ملے گا‘ غم نہ کھاؤ‘ البتہ یہ باؤل تم ہی کو پکڑانا ہے۔

پھر سے باؤ۔“ سامی نے اپنے بال نوچے۔ ”خود پکڑ لو‘ پاس ہی تو رکھا ہے۔ میں اٹھ کر جاؤں۔

ٹانگیں ٹوٹی ہیں تمہاری‘ اٹھو۔

نہیں اٹھتا۔“ سامی بھی ضدی انداز میں گویا ہوا۔

تمہیں اٹھنا ہی پڑے گا۔

اس باؤل میں ہے کیا؟“ سامی نے مرے مرے انداز میں پوچھا۔

خود دیکھ لو۔“ وہ پراٹھا بنانے کیلئے پیڑہ بنا رہی تھی۔

اب تو دیکھنا ہی پڑے گا۔“ سامی اٹھا تھا‘ سلیب پر رکھا ڈونگہ اٹھایا اور منہ بنا کر اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولا۔ ”ہونہہ پیاز‘ میں نے سمجھا تھا شاید ہیرے جوہرات سے بھرا ہوگا۔

تم اسی شوق میں اٹھے بھی تھے۔“ سونی نے ہنسنا شروع کر دیا۔ ”کہاں جا رہے ہو؟ بات سنو۔“ وہ باہر نکلتے سامی کی شرت کھینچ کر بولی۔

تم میرے روئے‘ روئے نینوں کا راز پوچھنا چاہ رہے تھے نا۔

کوئی ضرورت نہیں بتانے کی‘ جانتا ہوں میں۔“ سامی چہک کر بولا۔

کیا جانتے ہو؟

یہ ہی کہ میرے دوسری شادی کے ارادے نے تمہارے دل پر ستم ڈھایا ے۔

وہ گنگنایا۔

خوش فہمی۔“ سونی نے طنزیہ کہا۔ ”یہ کاٹ رہی تھی میں‘ آملیٹ کیلئے پیاز۔“ وہ جتا کر بولی۔

سچ…“ سامی بے یقین تھا۔ خوش فہمیوں پر پانی پھر چکا تھا۔

مچ…“ اب چہکنے کی باری سونی کی تھی۔

بھاڑ میں جاؤ تم۔“ وہ سخت مشتعل ہو کر باہر نکلنے لگا۔

رکو ذرا۔“ وہ بھاگ کر اس کے سامنے آئی۔

کیا ہے؟

ایک بات کرنا تھی۔

اس نے جان بوجھ کر سوچنے کیلئے وقت لیا۔

پھوٹو۔“ سامی کے منہ کے زاویے بگڑے بگڑے تھے۔

تم ایک چھوڑ تین‘ تین شادیاں کر لو‘ مجھے پروا نہیں۔“ وہ ہنس رہی تھی۔

جس دن کر لی‘ دیکھوں گا کیسے دانت نکالتی ہو۔“ سامی بھنایا۔

آزما کر دیکھ لو۔“ وہ صاف مذاق اڑا رہی تھی۔ ”تم سے بھلا کس احمق نے شادی کرنی ہے۔

اگر کسی احمق نے مجھے پرپوز کر دیا تو؟“ وہ بھی چیلنجنگ انداز میں بولا۔

تمہیں پرپوز“ سونی کو ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔ ”خود کو آئینے میں غور سے دیکھنا ذرا۔

پچیس سالوں سے دیکھ رہا ہوں۔“ وہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔ ”راہ چلتی خواتین مڑ مڑ کر دیکھتی ہیں۔

شہزادہ عالم جو ہوئے۔“ سونی نے پھر سے طنز کیا۔

اس میں شک ہے کیا؟“ سامی کے لہجے میں تفخر بھر گیا۔

ہو نہہ…“ سونی یہاں پر مات کھا جاتی تھی۔

بولتی خوامخواہ بند ہو جاتی۔ وہ سچ کہہ رہا تھا۔ لڑکیاں بالیاں تو کیا‘ خواتین تک رک رک کر اسے دیکھنے لگتی تھیں۔ وہ ایسا ہی تھا‘ بس دیکھے جانے کے لائق‘ ایک ایک نقش بولتا ہوا‘ واضح ہوتا‘ اس کی تعریف بس ایک لفظ میں تھی۔ ”وجیہہ و شکیل“ اور وہ خود کیا تھی؟ اکثر وہ دونوں برابر چل رہے ہوتے تو لوگ چونک جاتے‘ کئی دفعہ بازار میں آنٹی نما خواتین بے تکلفی سے رشتے کی نوعیت بھی پوچھ لیتی تھیں۔

پھر حیران ہوتیں۔ ”بھلا ان دونوں کا کیا جوڑ۔“ اور جوڑ تو واقعی نہیں تھا یہ تو رب نے بنا دیا تھا۔ اوپر آسمانوں پر لکھا جا چکا تھا۔ نصیب ساتھ جڑے تھا۔ ہاتھ کی لکیروں میں ایک دوسرے کا نام کھدا تھا۔

کہاں گم ہو گئیں؟ کسی نئی کریم کا فارمولا سوچنے لگی ہو؟ تو میری پیاری چندا! نہ تردد کرو اتنا‘ رنگ تو رگڑ رگڑ کر نکھار… لوگی‘ مگر یہ پھیلی سی ناک اونچی کیسے کروں گی۔

ہونٹوں کو باریک کرنا بھی ضروری ہوگا۔ ہاں یہ ڈیلے نہ چھوٹے ہیں نہ بڑے… بس ٹھیک ہیں اور اگر ان میں میری محبت ٹھاٹھیں مارنے لگتی تو ان آنکھوں کے علاوہ دنیا کی ساری خوبصورتی مجھے کہاں نظر آنی تھی۔ خیر چلتا ہوں تم غم نہ کھاؤ‘ مجھے اس سانولی رنگت‘ عام سے نقوش اور ان روکھے بے جان بالوں والی سونی بہت سوہنی لگتی ہے۔ بہت‘ بہت‘ بہت… ایسے ہی تو نکاح نامے پر جھٹ سے دستخط نہیں کر دیئے تھے۔

سونی جانتی تھی‘ اب وہ محض اسے تپا رہا ہے‘ جلا رہا ہے۔

خالہ نے مجبور کیا تھا‘ سب جانتی ہوں میں۔“ سونی خوامخواہ ملکہ جذبات بنی۔ حالانکہ جانتی تھی‘ سب جانتی تھی ہ سامی نے کس طرح خالہ کے پیر پکڑ لئے تھے کہ شادی کروانی ہے تو سونی سے کروا دیں۔ وہ اس کی محبت میں اوائل عمری سے مبتلاہو گیا تھا اور یہ بہت پرانی بات تھی۔

آج تمہارا بھوکے رہنے کا ارادہ ہوگا۔

وہ خطرناک تیور لئے اس کی سمت بڑھی۔

یہ ظلم مت کرنا۔“ سامی نے دہائی دی۔

گھڑی کی طرف دیکھو ذرا… سوئیاں آگے پیچھے بھاگ رہی ہیں۔ یہ جو ایڑیاں رگڑ رگڑ کے نوکری ملی ہے نا‘ ساڑھے نو ہزار والی‘ بس چار دن کی مہمان سمجھو۔“ وہ اسے وقت کا احساس دلانا چاہتی تھی۔ سامی روزانہ ہی دانستہ لیٹ دفتر جاتا تھا‘ بقول اس کے گھر سے نکلنے کودل نہیں کرتا۔

تمہاری صورت ہر سو نظر آتی ہے۔ فائلوں میں‘ باس کی سیکرٹری کے چہرے میں‘ کمپیوٹر اسکرین پر‘ بھلا میں کیا کروں؟ وہ بھولی سی صورت بنا کر کہتا تھا۔

یہ نوکری مجھے اس وقت ملی تھی‘ جب تم میری زندگی میں شامل ہو گئی تھیں۔ بڑی بھاگوان ہو ڈارلنگ۔“ وہ اس کے کان میں گنگنایا۔

سامی! دو منٹ میں کپڑے چینج کرکے آؤ‘ میں ناشتہ لگا رہی ہوں۔

فٹافٹ آ جاؤ بس‘ مجھے بہت سخت بھوک لگی ہے؟“ سونی نے سنہرے سنہرے آملیٹ کو پلیٹ میں رکھ کر سامی کو زبردستی کچن سے باہر دھکیلا۔

تمہیں پھر سے بھوک لگ گئی ہے۔ سونی!“ وہ حیرت کے مارے بس گرنے ہی والا تھا۔

تو اور کیا‘ کافی دیر سے کچھ بھی نہیں کھایا۔“ سونی نے مسکین سی صورت بنا لی۔

اور وہ کیک اور چائے‘ دو عدد آلو کے پراٹھے‘ وہ کہاں گئے۔

وہ تو صبح کھائے تھے۔“ سونی اطمینان سے بولی۔

اور اب دوپہر ہو گئی ہے کیا؟

سامی! جاؤ یہاں سے‘ میری روٹیاں گننے بیٹھ جاتے ہو۔“ سونی کو ہمیشہ کی طرح غصہ آ گیا۔

بیٹھا کہاں ہوں‘ میں تو کھڑا ہوں۔“ سامی نے حیران ہونے کی ایکٹنگ کی۔

اور اب چلتے پھرتے نظر آؤ۔

اللہ کا شکر ہے چلتا پھرتا بھی ہوں۔ ماشاء اللہ سے بھاگتا دوڑتا بھی ہوں۔“ سامی برامان گیا۔

بس دودھ کے دانت نہیں نکلے ابھی تک‘ دفع ہو جاؤ سامی۔“ وہ اسے بازو سے کھینچ کر کمرے میں لے آئی۔

آج پھر تمہارا چھٹی کا ارادہ ہوگا۔ یہ جو باتوں میں مجھے الجھا رہے ہو نا‘ سب جانتی ہوں میں یہ ڈرامے۔

سونی! میری طبیعت ٹھیک نہیں۔

وہ مچلا۔

کیا ہوا ہے طبیعت کو‘ ہٹے کٹے تو کھڑے ہو۔“ سونی کو اور بھی غصہ آ گیا۔ اس کی آئے دن کی بہانے بازیوں سے سونی بہت چڑتی تھی۔

سر میں درد ہے‘ ٹیسیں اٹھ رہی ہیں۔ فشار خون بلند ہو گیا ہے۔ لگتا ہے بلڈ کا پریشر بڑھ گیا ہے۔“ وہ آواز میں نقاہت بھرے بیڈ پر ڈھے گیا۔

میرا دماغ چاٹتے ہوئے تو سر درد نہیں تھا۔

اچانک ٹیسیں اٹھنے لگی ہیں۔

سامی نے اور بھی چہرے پر مظلومیت طاری کر لی تھی۔

فٹافٹ اٹھ جاؤ۔ میں ٹیبلٹ دیتی ہوں تمہیں۔“ وہ اس کا بازو پکڑ کر اٹھانے لگی۔

مجھے نہیں دوائی کھانی۔“ سامی کا بغیر دوا کھائے منہ کڑوا ہو گیا۔

ناشتہ تو کرنا ہے ناکہ آج ناغہ کرو گے؟

ناشتہ!“ سامی نے سوچنے میں کچھ وقت لیا۔ ”اگر تم اصرار کرتی ہو تو… اچھا‘ ادھر ہی لے آؤ۔

تمہیں‘ میں کیوں اصرار کرنے لگی۔ تمہارا دل نہیں چاہ رہا تو خود کو مجبور مت کرو۔“ وہ بھی اس کی ہر نبض سے واقف تھی۔

سر میں درد ہے سونی! پیٹ میں نہیں۔“ سامی لاچاری سے بولا۔

مگر تکلیف تو تکلیف ہوتی ہے نا… میں تمہارے لئے دلیہ لے کر آتی ہوں۔“ وہ اٹھ کر جانے لگی تھی۔

نہیں سونی! دلیہ تو بالکل نہیں۔“ وہ چیخا۔

تو پھر؟“ سونی رکی۔

وہ آملیٹ اور پراٹھے‘ کیا ضائع کرنے ہیں۔

ضائع کیوں ہوں گے۔“ وہ پلٹے بغیر بولی۔ ”دو ابھی کھاؤں گی اور دو دوپہر کو گرم کرکے کھا لوں گی۔

اس سادگی پر میں مر ہی نہ جاؤں۔“ سامی جل کر رہ گیا۔ ”جا رہا ہوں‘ کپڑے نکالو میرے۔

درد سر میں ہے اور اثر نظر پر ہو گیا ہے۔ یہ صوفے پر کیا رکھا ہے۔

سونی فتح مندی کے احساس سے سرشار ہو گئی۔

لے بھی آؤ ناشتہ!“ وہ کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔

ابھی لائی۔“ سونی ہنسی اور پھر ہنستی چلی گئی تھی‘ کیونکہ سامی کا سر درد بالکل بھاگ چکا تھا اور سونی کو اس کے سر درد اور ہر قسم کے درد کو بھگانے کے ایک ہزار ایک طریقے آتے تھے۔

جا رہا ہوں‘ دروازہ بند کرو۔“ وہ سلگ کر دروازے کے قریب جا کر بولا۔

کر لیتی ہوں‘ تم جاؤ۔“ وہ دوسرا پراٹھا کھاتے ہوئے ہنسنے لگی۔ سامی جا چکا تھا۔ ابھی وہ دروزہ بند کرنے کیلئے اٹھنے ہی لگی تھی جب سامی کا چہرہ پھر سے دروازے کے پیچھے سے نمودار ہوا۔

موبائل لا کر دو۔

کتنی مرتبہ کہا ہے‘ یاد سے ساری چیزیں لے کر جایا کرو‘ کبھی آئی ڈی کارڈ بھول جاتے ہو‘ کبھی بائیک کی چابی‘ کبھی گلاسز اور کبھی یہ چھن چھن۔

وہ موبائل اٹھا کر لے آئی تھی۔

بک بک نہ کرو۔“ وہ پلٹ رہی تھی‘ جب سامی نے اس کی لمبی چوٹی کو کھینچ کر اسے اپنی طرف گھسیٹا تھا۔

سامی!“ وہ چیخی۔

رومانس میں آخری تڑکا تو رہ گیا تھا۔“ سامی نے اس کی پیشانی پر دو‘ تین بوسے دیئے۔ ”جا رہا ہوں‘ مت اتنا آنکھوں کو پھاڑ پھاڑ کر مجھے گھورو‘ ڈیلے اچھل کر باہر نکل آئیں گے۔

دفع ہو جاؤ۔“ وہ اسے باہر دھکیل کر گیٹ لاک کر چکی تھی اور پھر دل ہی دل میں کئی سورتیں پڑھ کر غائبانہ سامی پر پھونکنے کے بعد سامی کے بچے کھچے ناشتے کی باقیات کو بھی چٹ کر گئی۔

رزق کو ضائع کرنا کہاں کی عقل مندی ہے۔“ اس کی بہت سی پختہ ہو چکی عادتوں میں ایک عادت خود سے باتیں کرنے کی بھی تھی۔ تنہا ہونے کے باوجود بھی آج تک سونی نے کبھی خود کو اکیلا نہیں محسوس کیا تھا۔ اسے یوں لگتا تھا کہ کوئی اس کے ساتھ ہے ہمیشہ سے

اماں بی! کہاں رہ گئی تھیں آپ۔“سونی زینت بی کو دیکھتے… ہی چہک اٹھی۔زینت بی نے بھی بڑی گرمجوشی سے سونی کو گلے لگایا تھا۔اماں‘ ابا کے زمانے سے زینت بی کا ان کے گھر آنا جانا تھا۔ رشتہ داری تو نہیں تھی البتہ قرابت داری کی وجہ سے یونہی محسوس ہوتا تھا کہ زینت بی سے گہرا اٹوٹ تعلق ہے۔ اسی محلے اور اسی بند گلی کا آخری مکان زینت بی کا تھا۔بہو اور بیٹے کے ہمراہ رہتی تھیں‘ مگر اکثر ہی عزیزوں کے ہاں سے بلاوا آ جاتا تھا۔

بڑی ہی معاملہ فہم‘ سمجھ دار خاتون تھیں‘ سونی کو تو ہمیشہ اپنی اماں کا پرتو ہی لگا کرتی تھیں۔

کسووال سے مہمان آئے ہوئے تھے‘ ان ہی میں مصروف رہی‘ پر دل تو ادھر ہی اٹکا رہا تھا۔ مہمانوں کے جاتے ہی بھاگ چلی آئی ہوں۔ سوچا بچی کو اک نظر دیکھ آؤں۔

تم تو کم کم ہی نکلتی ہو۔

مہمان واپس چلے گئے؟“ وہ اماں بی کو لئے صحن میں آ گئی۔

اگرچہ گھنے اونچے اور بے تحاشا درختوں کی وجہ سے سورج کم کم ہی جھلک دکھاتا تھا۔ مگر اس وقت ظہر کے بعد اچھی خاصی دھوپ بڑے سے آنگن میں اتر آئی تھی۔

دو منزلہ مکان تھا‘پرانی طرز کا بنا ہوا‘ مگر سہولت کی ہر شے موجود تھی۔ اس کی اماں بڑی سلیقے قرینے والی خاتون تھیں۔ کفایت شعار بھی تھیں۔ ہر کمیٹی کھلنے کے بعد گھر کیلئے کچھ نہ کچھ منگواتی رہتیں‘ فریج‘ واشنگ مشین‘ ایئر کولر‘ گیزر اور اے سی تک لگوایا تھا۔

سونی کے پوچھنے پر اماں ہنس پڑتیں۔

یہ ساری چیزیں تیری سہولت کیلئے ہیں۔ شادی کے بعد کام آئیں گی۔“ سونی گویا سمجھ کر سر ہلا لیتی تھی‘حالانکہ پلے کچھ بھی نہیں پڑتا تھا۔ وہ عمر ہی ایسی تھی۔ سوئی جاگی سی‘ بچپن جا رہا تھا‘ لڑکپن دامن کھینچ رہا تھا۔ شعور ابھی دور تھا‘کوسوں دور‘ بے فکری کا زمانہ اور اماں کی بے حساب محبت‘ ابا تو تین سال پہلے دل کے معمولی جھٹکے سے سنبھل نہ پائے تھے۔

مہمان ابھی ادھر ہیں‘ ہمیشہ ادھر رہیں گے۔“ اماں بی کی آواز اسے سوچوں کی وادی سے واپس کھینچ لائی۔

اچھا…“ سونی حیران ہوئی۔ ”واپس نہیں جائیں گے۔

نہیں…“ اماں بی نے ٹھنڈی آہ بھری۔ ”میرے مرحوم چچا کی نواسی اور اس کی بیٹی ہے۔ ماں‘ بیٹی بے آسرا ہیں۔ کرایوں پر دھکے کھاتی رہی ہے۔ ساری زندگی مشقت ہی کی۔ کچھ بنا نہ پائی کہ پیٹ کا دوزخ بھرتا تو کچھ اور سوچتی‘ لڑکی کو پڑھا لکھا دیا تھا‘ یہ بھی نانی کی مہربانی سے سولہ جماعتیں پاس کر گئی۔

ادھر پرائیویٹ اسکول میں نوکری کی بات کرکے آئی ہوں بچی کیلئے۔ صرف دو ہزار تنخواہ‘ ماں کہتی ہے گھر ڈھونڈ دو‘ چاہے ایک کمرہ ہی ملے۔ ماں‘ بیٹی سر چھپا کر بیٹھ جائیں گی۔ میری بہو کے مزاج سے تو واقف ہو‘ انہیں پل پل شرمندہ کئے دیتی ہے۔ میں نے بھی سوچا‘ ٹھکانہ تو ڈھونڈ دیتی ہوں‘ مگر دو ہزار تنخوا میں اگر پندرہ سو کرایہ نکل گیا تو یہ دونوں مہینے کے دن کیسے گزاریں گی۔

بہت سوچنے کے بعد تمہارے پاس آئی ہوں۔“ اماں بی کے چہرے پر سوچ کی پرچھائیاں تھیں‘ سونی چپ ہی رہی۔

میں چاہتی ہوں اگر تم سامی سے مشورہ کرکے اوپر کی منزل کا ایک کمرہ ان ماں‘ بیٹی کو دے دو‘ تو بے چاریوں کی پریشانی کم ہو جائے گی۔ میرا تو دل کٹتا ہے ان دونوں کی بے بسی دیکھ کر‘ بچی تو سونے کی تار ہے‘ رج رج کر سوہنی‘ ماں اپنے پروں میں چھپائے بیٹھی ہے۔

یہ معاشرہ اور اس کے چلن کہاں کسی شریف بیوہ کو چین سے جینے دیتے ہیں۔ اللہ تمہارا بھلا کرے بیٹی! یک طرفہ فیصلہ نہ کرنا۔ سامی سے مشورہ کر لو۔ تم بھی تنہا ہوتی ہو‘ تمہارا وقت بھی اچھا کٹ جائے گا۔ ثروت اور اس کی بیٹی سوہنی کی تسلی میں دیتی ہوں۔ میری ذمہ داری پر بغیر کسی خوف کے تم فیصلہ کرنا۔سامی بھی دیکھا بھلا‘ شریف بچہ ہے۔ مجھے ثروت اور سوہنی کیلئے اس سے زیادہ اچھا اور باحفاظت ٹھکانہ نہیں ملے گا۔

اماں بی بات کے اختتام پر گم صم بیٹھی سونی کے ہاتھ پر اپنا کھردرا مگر شفیق ہاتھ رکھ کے نرمی سے بولیں۔

تم اچھی طرح سے سوچ لو۔ اگر دل نہیں مانتا تو زبردستی کا ہے کی۔

اماں بی! میں سامی سے بات کر لوں‘مجھے تو کوئی اعتراض نہیں۔اس گھر میں بھی انسانی آوازیں گونجیں گی‘ اس سے اچھا شگون اور کیا ہے‘ اماں‘ ابا کے بعد تو ایسا جمود طاری ہوا ہے جو ابھی تک سامی اور میری موجودگی کے باوجود نہیں ٹوٹا۔

سونی نے سنجیدگی سے پھلوں سے لدی شاخوں کی طرف دیکھ کر یاسیت سے کہا۔

””اللہ نے چاہا تو اس آنگن میں بچوں کی قلقاریاں ضرور گونجیں گی۔ پھر دیکھنا جمود کیسے ٹوٹتا ہے۔“ اماں بی نے حلاوت سے کہا تھا۔ پھر اس کا ہاتھ دباتے ہوئے نرمی سے مزید بولیں۔

بیٹی! جس ڈاکٹرنی کا میں نے تمہیں پتا دیا تھا‘ اس سے رابطہ نہیں کیا؟

یہ دیر تو اللہ کی طرف سے ہے اماں بی!ہم دونوں کی رپورٹس ٹھیک ہیں۔

سونی نے لہجے میں اترتی رنجیدگی کو بمشکل خود پر طاری ہونے دیا۔

رب سوہنا اپنا فضل ضرور کرے گا‘ نماز میں دل لگایا کرو بیٹی! دعا عبادت کا مغز ہوتی ہے۔

جی اچھا…“ ہمیشہ کی طرح سونی جی بھر کر شرمندہ ہوئی تھی۔ نماز تو وہ پڑھتی تھی‘ مگر ایک یا دو نمازیں ہمیشہ چھوٹ جاتیں۔ پابندی کا تسلسل قائم نہیں رہتا تھا۔

سامی کب تک آ جاتا ہے دفتر سے۔

اماں بی پھل کے بوجھ سے جھکی امرود کی شاخوں کو دیکھ کر پوچھنے لگیں۔

چار بجے تک‘ مگر آج دیر سے آئے گا۔ چناب بازار جانا ہے اس نے کرایہ لینے۔

اللہ رزق میں اور برکت ڈالے بیٹی!یہ پھل اُتار لینا تھا۔

اتنی مرتبہ سامی سے کہا ہے‘مگر مجال ہے جو میری بات مان لے‘خود کا دل چاہا تو میرے کہے بغیر سارے صحن میں پتے ہی پتے بکھیر دے گا‘سارا پھل اُتار لے گا‘مگر صحن کی صفائی کرنے میں صاف جھنڈی دکھائے گا۔

لیموں بھی زردی مائل ہو رہے ہیں‘ اچار ڈال لیتی۔

اماں بی!سامی کو اچار پسند نہیں‘ میں بھی صرف آم کا اچار کھاتی ہوں۔آپ کو ضرورت ہے تو لے جائیں۔

نہیں بیٹی!میں نے مرتبان بھر کے مرچ اور آم کا اچار ڈالا تھا۔ یاد ہے نا‘آم بھی اس درخت سے سامی نے توڑ کر دیئے تھے اور لیموں بھی یہیں سے لے کر گئی تھی۔رب تعالیٰ زیادہ کی ہوس سے بچائے‘جب تمہاری ماں زندہ تھی نا‘ پورے محلے میں موسم کے پھل اور سبزیاں بانٹتی تھی۔

اماں بی کسی اچھی یاد کو بیتے وقت کے کسی لمحے میں کھوجنے لگیں۔ سونی کو گویا جھٹکا لگا تھا۔ وہ کچھ پل کیلئے ساکت رہ گئی۔

اور میں کیا کرتی ہوں۔اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو ضائع‘ محض سستی کی وجہ سے۔“سالن اور روٹی کے ٹکڑوں کو بچانے کیلئے ہر وقت کانشس رہنے والی سونی کو کبھی خیال نہیں آیا تھا کہ پیڑوں پر پکے پھل کیسی کیسی دہائی دیتے ہیں۔

مگر اس کا بھی قصور نہیں تھا۔ سامی کی منتیں کرتی رہتی تھی کہ امرود‘کیلے‘آم‘جامن وغیرہ اتار دیا کرے‘ موڈ ہوتا تو اتار دیتا تھا‘ پھر سونی کی موج ہو جاتی تھی۔ کبھی سیلڈ بن رہا ہے تو کبھی تازہ پھلوں کی چاٹ‘ کبھی فروٹ کسٹرڈ اور کبھی طرح طرح کے مربے‘ ہاں اس نے اماں کی روایت برقرار نہیں رکھی تھی۔ محلے کے کسی گھر میں موسم کی سبزی یا پھل نہیں بھیجا تھا۔ نہ جانے کیوں سونی کو جی بھر کے پشیمانی ہوئی۔ اس نے دل ہی دل میں ارادہ باندھا تھا کہ اس دفعہ وہ اماں کی یاد اسی طرح تازہ کرے گی اور پھر ہمیشہ کرتی رہے گی۔

اماں بی! میری پہنچ جہاں تک ہوتی ہے نا‘ کوئی بھی فروٹ میرے ہاتھوں سے بچ نہیں پاتا۔ آپ کو پتا ہے نا کہ میں کتنا کھاتی ہوں۔ اگر کچھ نہ ملے تو گاجر اور مولی سے پیٹ بھر لیتی ہوں۔ مگر یہ اونچے درختوں کی چوٹیوں تک پہنچنا میرے لئے آسان نہیں۔ ایک دفعہ کوشش بھی کی تھی‘ مگر اس کوشش کے بعد توبہ کر لی۔ مرتے مرتے بچی تھی میں‘ یادہے نا آپ کو‘ کتنے دن بستر پر پڑی رہی۔

آپ کے گھر سے تینوں وقت کا ناشتہ کھانا آتا تھا اور یہ سبزیاں بھی میرے شوق کی بدولت ہری بھری ہیں۔ آپ کو نہیں لگتا درختوں‘ پھولوں اور پودوں سے محبت میں نے اماں سے وراثت میں لی ہے اور صفائی ستھرائی کا خبط بھی اماں کی طرح میرے سر پر سوار رہتا ہے۔ صبح صبح صحن دھو لیتی ہوں۔ دن بھر گرنے والوں پتوں کو اٹھاتی رہتی ہوں‘ مگر شام کو پھر ہمت نہیں ہوتی کہ سامی درختوں کو ہلا ہلا کر پتوں کے ڈھیر لگا دے اور پھر مجھے دوبارہ سے صفائی کرنا پڑے۔

اس نے اپنی سستی دوسرے معنوں میں بے بسی کی اچھی خاصی وضاحت کر ڈالی تھی۔

سلیقہ قرینہ سگھڑ عورت کی پہچان ہوتا ہے۔“اماں بی صاف ستھرے چمکتے فرش کو دیکھتے ہوئے بولیں۔ پچھلے سال سونی کی ضد اور شوق کے ہاتھوں مجبور ہو کر سامی نے پورے صحن میں ماربل لگوا کر دیا تھا۔ سونی کی خواہش پر ہی پورے گھر کو پینٹ بھی کروایا گیا تھا۔ اس گلی کے سبھی گھروں میں یہ دو منزلہ مکان اپنی الگ ہی شناخت اور پہچان رکھتا تھا۔

بیرونی دیواریں تک بیلوں سے لدی ہوئی تھیں۔گیٹ بھی نیا لگوایا تھا۔اماں کے وقت میں لکڑی کا بھاری دروازہ تھا‘ جسے وقت نے دیمک کی بیماری لگا دی تھی۔

گیٹ کے اوپر انگور کی بیل نے سایہ کر رکھا تھا۔اتنا پھل لگتا تھا کہ گلی کے بچے کچے اور کٹھے میٹھے انگور کے گچھے پکنے سے پہلے ہی ہڑپ کر جاتے تھے۔ یہ بیل نہ جانے کس نسل کی تھی۔محلے میں اکثر مہمان کسی گھر میں آتے تو خصوصاً انگور کی اس بیل کا دیدار ضرور کرتے۔

جو ابا کے ہاتھ سے لگائی گئی تھی اور اس کا پھل نہ جانے کس کس نے کھانا تھا۔ سونی کو یاد تھا۔ اماں نے کبھی بھی کسی بچے کو پھل توڑنے سے منع نہیں کیا تھا۔ حالانکہ سونی کو بہت غصہ آتا تھا۔

اماں! کچے توڑ کر لے جاتے ہیں۔ پکنے کا انتظار بھی نہیں کرتے۔ایک دن سارے کٹوا دوں گی

نہ میری بیٹی!وعدہ کر ان درختوں کو محض اس وجہ سے نہیں کٹوائے گی کہ محلے کے بچے پتھر پھینکتے ہیں۔

کچے پھل کو توڑتے ہیں۔ انہیں کھانے دے‘ یہ ان کا بچپنا اور شوق ہے اور لگانے والوں کیلئے صدقہ جاریہ‘ موت کے بعد کا بھی انعام۔“ اماں ہمیشہ دہل کر ٹوک دیتی تھیں اسے اور سونی کو اماں کا ٹوکنا ہمیشہ یاد رہا تھا۔ اس کے ذہن میں محفوظ تھا اسی لئے کبھی بھی اس نے درختوں کو کٹوانے کے بارے میں نہیں سوچا تھا اور نہ ہی بچوں کو کبھی منع کیا تھا۔

حالانکہ اس وقت کے بچے اب جوان ہو چکے تھے اور ان کے بچوں نے کنکر اور پتھر اٹھا لئے تھے۔ ہاں‘سونی نے اماں کی طرح کبھی ٹوکری بھر بھر کے کسی کے گھر موسم کی سبزی نہیں بھجوائی تھی۔

ایک ہماری بہو ہے… گندگی کی پوٹ‘نہ کبھی خود کو صاف رکھا‘ نہ گھر کو‘ سوہنی بے چاری نے کمروں اور برساتی کا گند کیا نکال دیا وہ بھی میرے ہی کہنے پر… بس بہو بیگم نے سارے بھرم کے چولے اُتار دیئے۔

بچی کو ایسی بے بھاؤ کی سنائی کہ منہ سے ادا کرنا بھی مشکل ہیں‘ ایسے گھٹیا الفاظ‘ گندے القابات‘ توبہ توبہ۔“ اماں بی کا چہرہ ایک دم رنگ بدل گیا۔ شاید ثروت اور ان کی بیٹی کیلئے اماں بی کے دل میں بہت گنجائش تھی‘ نرمی تھی‘ خیر نرمی کے کیا ہی کہنے‘ اماں بی تو راہ چلتے فقیروں سے بھی ہمدردی جتانے سے باز نہیں آتی تھیں۔ اجنبیوں کو گھر لے آتیں‘ کھانا کھلاتیں‘ بساط بھر مدد کرتیں۔

کوثر بھابھی کا مزاج ہی ایسا ہے۔“ سونی نے عام سے انداز میں تبصرہ کیا۔ ”آپ کیلئے چائے لاتی ہوں۔

نہ بیٹی! اب چائے کا تردد مت کرنا۔ میں چلتی ہوں۔“ وہ اٹھنے لگی تھی اور اماں بی نے سرعت سے اس کا ہاتھ تھام کر روکا۔

تردد کیسا‘میں اپنے لئے بنا رہی ہوں۔“ وہ سونی ہی کیا جو اپنی منوائے نہ‘ اٹھ کر اندر جاتے ہوئے اس نے اماں بی کو دھمکایا تھا۔

اب اگر چلی گئیں میری چائے پیے بغیر تو پھر دیکھئے گا۔

اگر میں چلی گئی اور پورا امکان ہے کہ میری بیٹی کچن میں گھسے گی اور میں باہر کی طرف دوڑ لگا دوں گی۔ تب چائے کی دوسری پیالی میری بیٹی قطعاً ضائع تو نہیں ہونے دے گی۔“ اماں بی کے لبوں پر شفیق سی مسکراہٹ اُبھر آئی۔ اس محلے کی سبھی بچیاں انہیں مان اور عزت دیتی تھیں۔ خواتین تو کیا مرد حضرات بھی سلام کئے بغیر آگے نہیں بڑھتے تھے۔

آس پڑوس کی بچیوں نے ان سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ سلائی‘ کڑھائی‘ کھانا پکانا‘ لحاف اور ہر قسم کے غلاف بنانا۔ غرض ہر اس فن کو اماں بی نے مفت میں آگے منتقل کیا تھا‘ جو ان کے بڑوں نے انہیں سکھایا تھا۔ سونی بھی اماں بی کی شاگردوں میں سے تھی‘ بلکہ ہر دل عزیز شاگرد تھی۔

آپ نے ٹھیک کہا۔ چائے کی پیالی میری ٹنکی میں چلی جائے گی۔ تاہم گاجر کا یہ حلوہ کون چکھے گا۔“ تھوڑی ہی دیر میں سونی جھٹ پٹ چائے بنا کر لے آئی تھی۔

حلوہ کب بنایا؟

سامی کیلئے بنایا تھا… شام کو گاجریں چھیلیں۔ صبح کش کر لی تھیں اور پھر ساتھ ہی چولہے پر چڑھا دیں۔ جھٹ پٹ بن گیا تھا۔“سونی نے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے بتایا۔

گاجریں کوکر میں نرم کر لی ہوں گی‘آج کل سہولت کے سو طریقے ایجاد ہو گئے ہیں۔“ اماں بی نے سچ ہی کہا تھا‘ سونی ہنس پڑی۔

اماں بی! یہ سہولتیں وقت بھی تو بچاتی ہیں۔

ٹھیک کہا‘ ناصرف وقت‘ بلکہ گیس کی بچت بھی۔

تو اور کیا۔“ سونی نے شدومد سے سر ہلایا۔

اماں بی! اتنے دن غائب مت رہا کریں۔“ سونی نے لاڈ سے ان کے گلے میں بانہیں ڈال لی تھیں۔

کیوں بھلا۔“ انہوں نے جان بوجھ کر استفسار کیا۔

سچی بور ہو جاتی ہوں۔

پھوپھی کی طرف نہیں گئی تھی کیا؟“اماں بی نے اس کی اکلوتی پھوپھی کے بارے میں پوچھا تھا۔

نفیسہ پھوپھو ہی میکے کے نام پر اس کا مان تھیں۔اماں کے بعد سونی کچھ عرصہ پھوپھی کے گھر قیام پذیر رہی تھی۔ اس کی شادی بھی پھوپھی نے کی تھی۔پھوپھی کے گھر سے رخصت ہو کر وہ اپنے بابل کے گھر آئی تھی۔پھوپھی کے گھر کو وہ اپنا میکا سمجھتی تھی اور پھوپھی اور ان کی اولاد نے اس مان کو کبھی توڑا نہیں تھا۔پھوپھی کی سب سے چھوٹی بیٹی شازیہ اس کی بیسٹ فرینڈ تھی۔

شازی کی شادی بھی پچھلے ماہ اپنے چچا کے بیٹے سے ہوئی تھی۔شازی بیاہ کر اسی محلے کی تیسری گلی میں آئی تھی۔ مگر ساس کی نازک مزاجی کے باعث کم کم ہی یہاں آتی تھی اور سونی تو بغیر کسی وجہ کے کسی کے گھر جاتی نہیں تھی‘سو ملنا ملانا بہت کم ہو کر رہ گیا تھا۔

پھوپھی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ گھڑی دو گھڑی کیلئے گئی تھی۔“ اس نے منہ بنا کر بتایا۔

تو ٹھہر جاتی۔“اماں بی نے سادگی سے کہا۔

سامی کا بچہ ٹھہرنے دیتا تب نا۔“ سونی نے اماں بی سے بھی زیادہ سادگی کا مظاہرہ کیا۔

قسم سے اماں بی!جتنی دیر بھی بیٹھی رہی سامی نے اتنے ٹہو کے مارے تھے اور کوئی بیس چٹکیاں میرے بازو میں بھری تھیں‘ سچ نیل پڑ گئے تھے۔

اللہ تمہاری خوشیوں کو سدا قائم دائم رکھے۔سہاگ سلامت رہے۔

اماں بی نے ہنستے ہوئے الوداعیہ کلمات کہے تھے اور یہ ان کا مخصوص انداز تھا۔ سونی اس محبت پر ہمیشہ دل ہی دل میں مشکور رہتی تھی۔

کچھ دیر تو بیٹھئے۔“ اس نے بھی ہمیشہ کی طرح اصرار کیا۔

چلتی ہوں بیٹی! کافی دیر ہو گئی ہے۔“ وہ اٹھنے لگی تھیں۔

سامی سے ضرور بات کرنا‘ میں منظر رہی ہوں گی۔“جاتے جاتے انہوں نے ایک دفعہ پھر یاد دہانی کروائی تھی۔

میں ضرور بات کروں گی۔ اگر سامی مان گیا تو مجھے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔“سونی نے خوشدلی سے کہا۔

جیتی رہو بیٹی! اللہ تیری گود بھرے بس میری یہ ہی دعا ہے‘ رب تعالیٰ تیری جھولی کو بھر دے۔“ اماں بی آبدیدہ ہو گئی تھیں۔ سونی محض سر جھکا کر رہ گئی تھی اور یہ تو اس کا دل جانتا تھا جو اس کمی پر پہروں رویا کرتا تھا۔ اماں بی چلی گئی تھیں۔

سونی نے چائے کے گندے برتن دھو کر رکھے۔ شام تک وہ اماں بی کی درخواست ذہن میں محفوظ رکھے ہوئے تھی‘ مگر سامی کو دیکھتے ہی سب کچھ دماغ سے نکل گیا۔ بلکہ وہ اپنے سوا کچھ یاد رہنے ہی کہاں دیتا تھا۔

سونی! اوہ سونی! کہاں گئی ہو۔“ سامی کی بائیک رکنے کی آواز آئی تھی اور دوسرے ہی لمحے وہ چیختا ہوا اندر داخل ہوا۔

کیا ہوا ہے؟“ ہمیشہ کی طرح سونی دہل کر اس کی طرف آئی۔

یہ دیکھو‘ میں تمہارے لئے کیا لایا ہوں۔“ وہ ایک ڈبا ہاتھ میں پکڑے اس کے اردگرد گھوم رہا تھا۔

کیا ہے؟“ سونی مارے اشتیاق کے مچل اٹھی۔ ”تمہیں بھی میرے لئے کچھ لے کر آنا یاد رہا۔

ایسے تو نہیں کھولنے دوں گا۔“ سامی نے پیکنگ میں لپٹا ڈبا پیچھے کر لیا۔

اس میں ہے کیا؟“ وہ مچلی۔

بوجھو۔“ سامی جان بوجھ کر اس کے تجسس کو ہوا دے رہا تھا۔

بتا دو نا۔

اگر بتا دیا تو ماروگی تو نہیں۔“ سامی نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

کوئی فضول چیز ہوگی۔“ اسے غصہ آ گیا۔

ہاں‘ واقعی… تم نے بوجھ ہی لیا۔ اچھی خاصی ذہین ہو۔ پھر بھی… انٹر میں بورڈ والوں کی سازش کی وجہ سے فیل ہو گئی تھی۔“ سامی نے اسے چڑای

v اور تم نے بی اے کی نہ جانے کتنی رشوت دے کر ڈگری حاصل کی تھی۔“ سونی نے بھی بدلہ چکایا۔

اپنے ملک کے سیاست دانوں کی طرح نہ سمجھو مجھے۔“ وہ بھی کہاں چوکتا تھا۔

میرا بھیجا مت کھاؤ۔ جلدی سے بتاؤ اس میں کیا ہے۔“ سونی بھی تجسس کے ہاتھوں مجبور تھی۔

لال بیگ۔“سامی نے اطمینان سے کہا۔

تم سے مجھے یہ ہی امید تھی۔“ وہ جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔

دفتر میں لال بیگ پکڑتے رہے ہو۔

تو اور کیا؟“سامی سنجیدہ تھا۔

باس نے اپنی بیوی کیلئے لے کر جانے تھے‘ سبھی نے اپنی اپنی بیویوں کیلئے دو‘ دو‘ چار‘ چار پکڑ لئے۔ میں نے بھی سوچا تمہیں کیوں نہ خوش کر دیا جائے۔

پورے کمینے ہو۔“ وہ جل بھن کر رہ گئی۔

مجھے پتا ہے۔

سامی ہنس رہا تھا۔

ویسے تمہاری اماں زندہ ہوتی نا تو اپنی لاڈلی کے زبان سے نکلنے والے شعلوں کو دیکھ کر خودکشی کر لیتیں۔

میں تمہارا شوہر ہوں سونی! مجھے بار بار کیوں تمہیں یاد دلانا پڑتا ہے۔“وہ تاسف سے بولتا گیا۔

جانتی ہوں۔ بتانے کی ضرورت نہیں۔“ سونی نے بے نیازی سے کہا۔ وہ سامی کے اتارے جوتے‘ جرابیں وغیرہ ٹھکانے لگا رہی تھیں۔سامی کا شلوار قمیص باتھ روم میں لٹک رہا تھا۔ وہ پالش اور برش دراز میں سے نکال لائی۔ فوراً جوتے بھی دوبارہ سے چمکا ڈالے تھے۔

وہ آج کا کام کل پر چھوڑنے والوں میں سے نہیں تھی۔ پھر بھی سامی کے شکوے ختم ہونے کا نام نہیں لیتے تھے۔

یہ لال بیگ تم نے اچھا کیا ہے لے آئے ہو‘ بریانی کے ساتھ کھا لینا۔

حساب برابر کر چکی ہو تو ادھر دیکھو۔“ وہ اس کے سامنے دو زانو بیٹھ چکا تھا۔

کیا ہے؟“سونی پھاڑ کھانے کو دوڑی۔

یہ ہے… بریسلیٹ۔“ چھوٹا سا ڈبا کھل چکا تھا۔

سونے کا نازک سا بریسلیٹ‘ سونی دم بہ خود رہ گئی تھی۔

سامی! تم نے یہ کب خریدا؟اور کیسے؟

کب اور کیسے کو مارو گولی‘ بتاؤ پسند آیا۔“ اس لمحے سامی کی آنکھیں جگر جگر کر رہی تھیں۔ یوں کہ سونی کا دل بری طرح پھڑپھڑانے لگا تھا اور وہ ان آنکھوں کی چمک سے نظر چرا گئی تھی۔

ماشاء اللہ۔“ اس کے ہونٹوں سے صدا نکلی اور یہ صدا بریسلیٹ کیلئے نہیں تھی۔

سامنے بیٹھے خدا کے اس شاہکار کیلئے تھی۔جو اس کا سب کچھ تھا اور جس کی طرف نظر بھر کر دیکھنا بھی دھڑکتے دل کیلئے قیامت تھا۔

پسند آیا۔“وہ بریسلیٹ سامی نے اس کی کلائی میں سجا دیا تھا اور لمحہ بھر کیلئے سونی کو یوں لگا تھا بریسلیٹ بے قیمت ہو کر رہ گیا ہے۔سانولی سی گول مٹول نرم کلائی میں پھنسا چمکتا دمکتا بریسلیٹ سونی کو برا نہیں لگ رہا تھا۔

بس یہ کلائی اتنی خوبصورت نہیں تھی جس میں یہ قیمتی بریسلیٹ اپنی قیمت کو بڑھاتا۔اس کے منفی خیالات سے انجان سامی بہت پرجوش تھا۔

اتنے عرصے سے تمہیں کوئی ڈھنگ کا تحفہ دینے کیلئے سوچ رہا تھا۔اپنی سالگرہ پر تمہیں سوٹ دیا تھا۔ تمہاری سالگرہ پر تم نے سویٹر لے لئے‘ وہ بھی میرے لئے‘ بجٹ نے اجازت ہی نہیں دی تھی۔ شادی کی سالگرہ بھی روکھی پھیکی گزر گئی۔

تمہاری پھوپھی بیمار تھیں۔ دوسری سالگرہ ہم نے منائی ہی نہیں۔یاد ہے تم جامن کے درخت سے گر گئی تھیں تیسری بھی فلاپ ہو گئی اور چوتھی کیلئے یہ پیشگی گفٹ۔“سامی نے اس کا ہاتھ تھام کر چوم لیا۔ ”اب تو خوش ہونا۔“ وہ اس کا گال تھپتھپا رہا تھا۔

ہاں… خوش تو میں ہمیشہ رہتی ہوں۔اتنے قیمتی تحفے کی کیا ضرورت تھی۔اپنی جیب کو دیکھنا تھا۔

وہ سنبھل کر بولی۔

یہ تحفہ تم سے قیمتی نہیں۔“وہ پورے دل سے مسکرایا۔

ڈائیلاگز مت جھاڑو۔“سونی جوتے پالش کر چکی تھی‘اب ہاتھ دھونے باتھ روم میں جا رہی تھی۔

کھانا…“سامی نے دہائی دی۔

ابھی آ رہی ہوں‘ تم ہاتھ منہ تو دھولو۔

میرے حصے کے تم دھو آنا۔“اُسے سخت بھوک لگی تھی اور وہ میز پر سجے لوازمات بھی دیکھ چکا تھا۔ سونی آئی تو وہ کرسی کی بجائے میز پر بیٹھا بریانی کھا رہا تھا۔ وہ ہمیشہ کی طرح ٹوکنے کی بجائے خود بھی کھانا کھانے لگی تھی۔ سامی کا موڈ بہت خوشگوار تھا اور وہ چاہتی تھی کہ اس کا موڈ اسی طرح خوشگوار ہی رہے۔ کیونکہ روک ٹوک سامی کو کریلوں کی طرح بری لگتی تھی جو سونی نے چپکے سے میز پر سے اٹھا دیئے تھے

سونی یعنی سونیا باقر‘ بانو بیگم اور باقر شریف کی اکلوتی اولاد تھی۔ ماں اور باپ کی آنکھ کا تارا۔ پھوپھی نفیسہ کی لاڈلی‘ دلاری بھتیجی۔ اماں بی کی عزیز از جان شاگرد‘ اماں بی نے اسے قرآن پاک بھی پڑھایا تھا اور اس کی اماں اس لئے بھی اماں بی کی بہت عزت کرتی تھیں۔

ابا کی وفات کے بعد اماں نے بڑے سلیقے سے وقت بتایا۔ چناب بازار میں ابا کی سات دُکانیں تھیں۔

جس کا کرایہ ماہانہ وصول کیا جاتا تھا۔ یہ ہی ذریعہ آمدن تھا۔ اماں کی فہم و فراست اور اماں بی جیسے لوگوں کے تعاون سے اچھا وقت گزرنے لگا تھا۔معاشی طور پر سونی کو اماں نے کسی بھی بنیادی ضرورت سے محروم نہیں رہنے دیا۔ ہمیشہ اچھا کھلایا‘اچھا پہنایا‘اچھی تربیت کی‘تھوڑی ضدی اور جذباتی تھی‘اماں کا خیال تھا وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو جائے گی۔

اماں کا ساتھ بھی مختصر رہا تھا۔ابا کے جانے کے نو سال بعد چل بسیں۔اماں بی اور پھوپھی کے سہارے نے سونی کو کبھی بے سہارا نہیں ہونے دیا۔

پھوپھی اسے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئی تھیں۔چار سال وہ پھوپھی کے پاس رہی‘پھوپھی کی شفقتوں اور محبتوں سے دامن بھرتی رہی۔

شازی اور سونی نے ایک ساتھ انٹر کے پرچے دیئے تھے۔شازی پاس اور وہ شاندار طریقے سے فیل ہو گئی تھی۔

اماں بی انٹر کے رزلٹ کا سن کر مٹھائی کے ڈبے سمیت پھوپھی کے گھر آ گئیں۔ سونی کو ڈھیروں پیار کیا تھا۔

راشدہ کا لڑکا پاس ہوا ہے‘ جلیبی دینے آئی تھی‘ مجھے خیال آیا کہ میری سونی نے بھی بارہویں کے پرچے دے رکھے ہیں۔بس پپو کو بھیج کر مٹھائی منگوائی اور فوراً آ گئی۔“وہ خوشی خوشی بتا رہی تھیں۔ سونی کیلئے سوٹ بھی لائی تھیں‘ جو شازی کو پسند آ گیا۔

اماں بی! یہ تو میرا ہوا۔

مگر کیوں؟“ اماں بی تذبذب کا شکار ہو گئیں۔

سوٹ اسے ملنا چاہئے‘ جو پاس ہوا ہے۔“ شادی نے مصنوعی کالر کھڑے کئے۔

کیا مطلب؟“ اماں بی حیران سی بولیں۔

اماں بی! آپ کی لاڈلی تو فیل ہو گئی ہے۔“شازی نے پٹاخہ چھوڑا۔

نہیں“ اماں بی بے یقین سی شرمندہ شرمندہ سونی کو دیکھنے لگیں۔

گویا پوچھنا چاہ رہی تھیں کہ ”بچی! کیا یہ ٹھیک بول رہی ہے۔

اماں بی! پرچے چیک کرنے والا کوئی بڑا ہی سنگ دل تھا۔ گول گول انڈے دیتا رہا۔ دیتا رہا‘ دیتا رہا۔“ سونی نے منہ بسور کر کہنا شروع کیا۔

بچی! کیا وہ مرغ تھا۔“ اماں بی اور بھی حیران ہوئیں۔

مرغ نہیں‘ مرغی انڈے دیتی ہے۔“ شازی چہکی۔

پر اس نے سونی کو انڈے کیوں دیئے۔

اماں بی گویا اٹک کر رہ گئیں۔

یہ انڈے لینے کے قابل تھی اماں!سارے پرچے خالی پکڑا آئی تھی‘ بغیر کچھ لکھے۔“شازی نے راز اُگل دیا تھا۔

سونی! کیا یہ سچ کہہ رہی ہے؟“ اماں بی کو اب بھی یقین نہیں آیا تھا۔

جی اماں بی! سونی نے اثبات میں سر ہلایا۔

اچھا… تم دل چھوٹا مت کرو‘ اب کے محنت کرکے پھر سے پرچے دینا۔“ انہوں نے اس کی ہمت بندھائی۔

راشد کا لڑکا بھی تیسری مرتبہ کامیاب ہوا ہے۔

محنت کرنا اسے پسند ہے‘ ہر کام کو دلجمعی سے کر سکتی ہے‘ مگر سوائے پڑھنے کے‘ کتاب دیکھتے ہی محترمہ کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔“ شازی سچ کہہ رہی تھی۔ سونی بغیر بُرا مانے گلاب جامن کھائے جا رہی تھی۔

اماں بی!مٹھائی تو بڑے مزے کی ہے۔

تمہیں پسند آئی۔“اماں بی خوش ہو گئی تھیں۔

اب وہ بٹوہ کھولے دو مڑے تڑے نوٹ نکالنے لگی تھیں۔ پھر یہ نوٹ انہوں نے شازی کے ہاتھ میں دبا دیئے۔

مجھے خبر ہوتی کہ تم بھی بارہویں میں پاس ہوئی ہو تو تمہارے لئے بھی جوڑا لاتی‘اب یہ رکھ لو۔

اماں بی! میں تو مذاق کر رہی تھی۔“شازی شرمندہ ہو گئی۔

رکھ لو شازی!اماں بی کو تمہارا انکار کرنا برا لگے گا۔“سونی اب انگلیاں چوس رہی تھی۔

پھوپھی‘ اماں بی کیلئے چائے لے کر آئی تھیں۔

بیٹی! اتنا کچھ کیوں اٹھا لائی ہو۔“ اماں بی سخت خفا ہوئیں۔

کوئی بات نہیں اماں بی!ہم جو ہیں آپ کا ساتھ دینے والے۔“سونی نے کباب اور سموسے پلیٹ میں رکھ لئے۔

سونی نے ٹھیک کہا۔“شازی کیوں پیچھے رہتی‘ فوراً ایک سموسہ اور کباب اچک لیا۔حالانکہ پھوپھی دونوں کو بیک وقت گھور رہی تھیں۔

پھوپھی! آپ بھی لیں نا۔“ اماں بی کے ”نہ نہ“ کرنے کے باوجود سونی ان کی پلیٹ میں کچھ نہ کچھ رکھ رہی تھی اور اب وہ پھوپھی کے آنکھیں دکھانے کے باوجود بڑی معصومیت سے انہیں بھی پلیٹ میں آخری بچا ہوا سموسہ آفر کر رہی تھی۔ اماں بی نے تو صرف بسکٹ لئے تھے۔ باقی سب کچھ ان دونوں نے چٹ کر دیا۔ اماں بی کے جانے کے بعد ان دونوں کو خوب جھاڑ پڑی تھی اور وہ دونوں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتی رہیں۔

کاش میں پاس ہو ہی جاتی۔“ سونی نے چپکے سے شازی کے دوپٹے سے ہاتھ پونچھے۔

اچھا… وہ کس لئے۔

اماں بی کیلئے۔“سونی اُٹھ کر ذرا دور بیٹھ گئی تھی۔ ”میرے فیل ہونے کی خبر نے انہیں کافی رنجیدہ کر دیا تھا۔

اگلی دفعہ اماں بی کو خوش کر دینا۔“ شازی برتن دھونے لگی تھی۔ دوپٹہ اتار کر کرسی کی پشت پر رکھا تھا‘ مگر پلو کو دیکھ کر چونک گئی۔

یہ کیا ہوا ہے؟

کیا؟“سونی نے چونکنے کی بھرپور اداکاری کی۔

میرے نئے سوٹ کا دوپٹہ تھا۔ ہائے یہ کس بدنظر نے کیا ہے۔“ شازی رو دینے کو تھی۔

مجھے تو لگتا ہے کسی نے ہاتھ پونچھ ڈالے ہیں۔“باریک بینی سے پلو ہاتھ میں لئے جلدی اور گھبراہٹ میں اس نے سچ اُگل دیا۔

کسی نے نہیں‘ تم نے تمہارے علاوہ کون ہے اس وقت گھر میں۔“شازی خطرناک تیور لئے اس کی سمت بڑھی تھی جبکہ سونی‘ پھوپھی جی! بچا لیں۔ کی دہائی دیتی سرپٹ بھاگ گئی۔

تم جانتی ہو اماں نے کیا حکم صادر کیا ہے۔“ شازی جلتی کلستی چھت پر چلی آئی تھی۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ سونی کینوؤں سے بھری ٹوکری لئے چھت پر ہی بیٹھی ہوگی۔

میں نہیں جانتی۔“وہ کینو کا رس نکال رہی تھی۔ ساتھ ساتھ مالٹے کھا بھی رہی تھی۔

تم جانو گی کیسے؟“ شازی کا انداز بھرپور طنز لئے ہوئے تھا۔

کھانے کے علاوہ تمہارا دھیان کب کسی اور چیز پر ہوتا ہے۔

کھانا اور سونا دو ہی تو تمہارے شوق ہیں۔

اور تمہیں میرے یہ ہی دونوں شوق ایک آنکھ نہیں بھاتے۔“ وہ دلجمعی سے اپنے کام میں مصروف رہی۔

شوق تو ڈھنگ کے پالتی‘ کھانا‘ اور سونا۔“ شازی نے کھا جانے والی نظروں سے کینوؤں سے بھری ٹوکری کو دیکھا۔

اور کام کرنا‘بے حساب‘بے شمار۔

وہ بھی جتا دینے میں ماہر تھی۔ ”کام چور!تیرے حصے کا کام بھی کرتی ہوں۔

انرجی ڈاؤن ہو جاتی ہے‘ تبھی تو کچھ نہ کچھ کھاتی رہتی ہوں۔

پھر بھی بے حساب کھانے کے باوجود جسم پر ماس نہیں آ رہا‘ ویری سیڈ۔“ شازی نے تاسف کا برملا اظہار کیا۔

اور تم بغیر کھائے پیے پھٹنے کے قریب پہنچ چکی ہو۔

تمہاری طرح کھایا پیا ضائع تو نہیں ہو رہا نا‘کھاتی ہوں تو نظر بھی آتا ہے“ شازی نے ایک کینو اٹھا لیا۔

تمہارے گھر کے باغ کے ہیں۔

ہاں…“

کون لایا۔“ شازی نے میٹھا رسیلا کینو دو منٹوں میں چٹ کر دیا تھا۔ اب وہ ایک اور اٹھانا چاہتی تھی۔

اماں بی نے بھجوائے ہیں‘ گھر کی دیکھ ریکھ وہ ہی تو کرتی ہیں۔“ وہ اس کا ارادہ بھانپ چکی تھی‘ تبھی ٹوکری بائیں سے دائیں طرف منتقل ہو چکی تھی۔

ایک اور دونا۔“ شازی نے لجاجت سے کہا۔

سوری! میں نے تین گلاس جوس پینا ہے۔

مگر یہ تو چار سے بھی اوپر ہو جائے گا۔ بس بھی کرو‘ انہیں نمک لگا کر کھاتے ہیں۔“ شازی کے منہ میں پانی بھر آیا۔

ایک گلاس تمہیں بھی ملے گا اور دوسرا پھوپھی جی کو۔“وہ ہاتھ کی مشین سے جوس نکال رہی تھی۔ اماں کے جہیز کی مشین تھی جو اس نے سائر کے ہاتھ منگوائی تھی گھر سے‘ وہ بڑی مہارت سے ہینڈل گھما کر جوس نکال رہی تھی۔

ہاتھ کی مشین سے احتیاط کے ساتھ رس نکالنا پڑتا تھا تاکہ چھلکے کی کڑواہٹ جوس میں گھلنے نہ پائے۔

جیو‘ میری جان‘ ہزاروں‘ لاکھوں برس۔“ شازی اس عنایت پر کھل اٹھی۔

بد دعا تو نہ دو۔“ وہ خواہ مخواہ بھنائی۔

بددعا نہیں دیتی‘ تم مجھے ایک کینو دے دو‘ یہ تو بڑے مزے کے ہیں۔“شازی نے للچاتی نظر سے اُسے دیکھا۔

جوس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملے گا‘ ہاں‘ یہ چھلکے پڑے ہیں‘ انہیں کھانا چاہو تو شوق سے کھا سکتی ہو۔

آدھا ہی دے دو۔

بھاگو یہاں سے‘ جوس بھی نہیں دوں گی۔“ اس نے دھمکایا۔ ”ویسے تم چھت پر کرنے کیا آئی تھیں۔

شکر ہے‘ تمہیں خیال تو آیا پوچھنے کا۔“وہ کلس کر رہ گئی۔

بتاؤ۔“وہ اپنا کام ختم کر چکی تھی۔ چھت پر لگی ٹونٹی کھول کر ہاتھ دھوتے ہوئے بولی۔

اماں نے آگے پڑھنے سے منع کر دیا ہے۔“ شازی کو رونا آ گیا تھا‘ سچ مچ کا رونا۔

تو نہ پڑھو۔“ وہ ہاتھ دوپٹے سے خشک کرتی بے نیازی سے بولی۔

آستین کی سپولن۔ کیسے منہ پھاڑ کر کہہ دیا ہے نہ پڑھو جبکہ میں چاہ رہی ہوں تم اماں کو راضی کرو۔“ شازی پھاڑ کھانے کو دوڑی۔

پھوپھی جی ہرگز نہیں مانیں گی‘ اگر انہوں نے منع کر دیا ہے تو بس کر دیا۔ کوئی بھی انہیں منا نہیں سکتا، حتیٰ کہ زمین پر لوٹیں لگا کر پیسے مانگتا سائر بھی نہیں۔

وہ اطمینان سے بولی۔سائر‘ شازی کا چھوٹا بھائی تھی اور پھوپھی کا بہت لاڈلا بھی تھا۔

وہ میری شادی کرنا چاہتی ہیں۔“شازی بسوری۔

اچھی خبر ہے‘ کب جا رہے ہیں ہم رشتہ دیکھنے‘ دہی بھلے اور فروٹ چاٹ کھانے۔“ سونی نے چٹخارا لیا۔

بس تم تو کھانے پر مرتی رہنا۔“شازی جل کر اُٹھی۔ منڈیر پر سے کپڑے اتارے۔

تو اور کس پر مروں۔

وہ جوس کا تیسرا گلاس چڑھاتے ہوئے بولی۔

وہ ہے نا‘ تیری رشتے کی خالہ کا سوتیلا بیٹا۔“ شازی معنی خیزی سے مسکرائی۔

کون؟“وہ حیران ہوئی۔

سامی اور کون؟“ شازی ہنس رہی تھی۔

بکواس نہ کر۔“ وہ برا مان گئی۔

غصہ کھانے کی کیا بات ہے۔‘ مرنا ہی ہے تو سامی پر مرمٹو‘ کچھ حاصل بھی ہو‘ ویسے ہے تو وہ دیکھنے کی چیز۔

شازی نے آنکھ دبائی۔

تم نے کب دیکھا اسے۔“ وہ بھنویں اچکا کر دیکھ رہی تھی۔

ایک ہزار ایک مرتبہ تو دیکھا ہے۔ مامی کی فوتگی پر‘ قل اور دسویں والے روز‘ چالیسویں کے بعد بھی خالہ اور سامی آتے رہے تھے نا‘تیری خبر گیری کیلئے۔“شازی کپڑے تہ کرنے کے ساتھ ساتھ کن انکھیوں سے اسے بھی دیکھ رہی تھی‘ جو سچ مچ کسی سوچ کے زیر اثر دور بہت دور پہنچی ہوئی تھی۔

سامی!“ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ آمنا سامنا تو بے شمار مرتبہ ہوا تھا۔ خوش مزاج اور شوخ و شریر سا خالہ کا سوتیلا بیٹا حسام سہیل‘ کھلتی رنگت‘سیاہ آنکھیں‘ کھڑی ناک‘ جس پر اسے بڑا ہی مان تھا۔ ہر دفعہ اس پر نظر پڑتی تو وہ وہ لمحہ بھر کو ضرور رک جاتا تھا اور پھر دانستہ کوئی نہ کوئی شریر سا جملہ بھی اچھال دیتا۔ اماں کی عیادت کے بہانے کئی مرتبہ خالہ کے ساتھ آیا تھا۔ خالہ‘ اماں کی دور کی کزن تھیں۔ اماں کو ان سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ بھی اماں سے ملنے آتی جاتی رہتی تھیں۔جب سے وہ پھوپھی کے ساتھ آئی تھی‘ خالہ نے چکر نہیں لگایا تھا۔

تم تو سامی کے تصور میں گم ہو گئی‘بہن! لوٹ آؤ اپنے حواسوں میں۔“وہ اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجاتے ہوئے بولی۔

دفع دور۔“ سونی بری طرح سے جھینپ گئی۔

ایک بات کہوں؟“ اس نے ڈرتے ڈرتے اجازت طلب کی۔

برے منہ سے اچھی بات نکالنا۔“ سونی نے وارننگ دی۔

سنو تو…“ شازی قدرے آگے کو جھکی۔ ”سامی کے ساتھ تیری خاص بے تکلفی ہے۔

کچھ خاص بھی نہیں۔“سونی نے بے نیازی دکھائی۔ ”خود بے تکلف ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ شاید اس کا مزاج ہی ایسا ہے اور پھر مجھ سے گالیاں سنتا ہے۔

اور گالیاں سن کر کیا کرتا ہے۔“وہ بے حد سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔

خوش ہوتا ہے۔ ہنستا ہے۔“سونی نے لاپرواہی سے کہا۔

اچھا۔“وہ منی خیزی سے ہونٹ سکیڑنے لگی۔

مجھے تو لگتا ہے۔

کیا؟“سونی بغیر اس کے کہے ہی سمجھ گئی تھی تبھی پھاڑ کھانے کو دوڑی۔

سامی کو تجھ سے خاص قسم کا لگاؤ ہے۔

وضاحت کرنا پسند کرو گی۔

سونی نے طنزیہ کہا۔

بھئی صاف لفظوں میں کہوں گی تو تمہیں بظاہر تو برا لگے گا البتہ دل ہی دل میں لڈو پھوٹ رہے ہوں گے۔“ وہ کپڑے تہہ کر چکی تھی۔ اب فرصت سے چارپائی پر پھسکرڑا مارے بیٹھ گئی۔

بکو۔“سونی نے انجان بننے کی بھرپور ایکٹنگ کی۔

مجھے تو لگی لپٹی آتی نہیں۔ صاف بات کروں گی۔ سامی اور تمہاری خالہ کا اینٹ‘ پتھر کا بیر ہے۔

ایک سیر ہے تو دوسرا سو اسیر۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پر اکٹھے آتے رہے ہیں۔ یعنی تمہارے گھر۔ دال میں کچھ کالا تو ضرور ہے۔“ شازی نے مکاری سے آنکھیں پٹپٹائیں۔

ہامون جادوگر کی بہن کی طرح ڈیلوں کو مت مکارانہ انداز میں گھمایا کرو۔“ وہ دل کی بے قابو ہوتی دھڑکنوں کو ڈنپٹتے ہوئے بول تھی۔

مجھے تو لگتا ہے۔ سامی تجھ سے محبت کرتا ہے۔

عنقریب تمہارا ہاتھ مانگنے آئے گا۔ لکھوا لو مجھ سے

اور میں اتنی احمق ہوں۔ اپنا ہاتھ کاٹ کر اُسے دوں گی۔ ہونہہ۔“ سونی نے تنک کر کہا۔

تم احمق نہیں ہو بلکہ احمقوں کی ملکہ ہو۔“شازی نے اپنا ماتھا پیٹا تھا۔ ”اماں کے پاس آئے گا۔ تیرا رشتہ مانگنے۔

اچھا۔“سونی نے طنزیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

مجھے تو لگتا ہے۔

سامی تیرے سے مشورے کرتا ہے روزانہ۔

یہی سمجھ لو۔“وہ مزے سے پیر جھلانے لگی۔

تو ڈیئر شازی! تم بھی ایک بات ذہن نشین کر لو کہ سامی جیسے خوبرو نوجوان کو بھلا پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ مجھ سے محبت کرنے کی حماقت کرے۔ اسے لڑکیوں کی بھلا کیا کمی ہے۔ جہاں بھی جائے‘مقناطیس کی طرح صنف نازک کو کھینچ لیتا ہے اپنی طرف۔ اماں کی وفات پر تو مجھے ہوش نہیں تھا البتہ دسویں اور چالیسویں پر میں نے سامی کے گرد اتنی ”بالیوں“ کا جمگھٹا دیکھا ہے نا اور بالیوں کی ماؤں تک کو اس پر فدا ہوتے ان گناہ گار آنکھوں نے دیکھا ہے۔

مجھے تو لگتا تھا تمام خواتین پرسہ دینے نہیں‘سامی سے روابط بڑھانے کیلئے آتی ہیں۔“ سونی بے حد سنجیدہ تھی۔

ایسے لڑکے ہمارے گلی‘محلوں میں کسی ہیرو کی طرح پہچان بنا لیتے ہیں۔

سامی معاشی طور پر بہت کمزور ہے۔اپنا گھر بھی نہیں‘کرائے کا مکان وہ بھی ڈیڑھ کمرے کا۔“ شازی سنجیدگی سے کہہ رہی تھی۔ ”ٹھیک ہے۔ ہم بھی سفید پوش لوگ ہیں۔

ابا کی دودھ‘ دہی کی چلتی دُکان ہے۔ یہ تین کمروں کا مکان ہے‘ لیکن ہے تو اپنا۔ سامی تو ابھی تک کوئی کام دھام بھی نہیں کرتا۔

کام سے تو لگا ہوا ہے۔

بڑی معلومات ہیں۔ واہ جی واہ۔“ شازی گویا یہی سب سننے کیلئے سنجیدہ خانم بنی ہوئی تھی۔ ”کس نوعیت کے کام سے منسلک ہیں جناب!“

خالہ کسی کے پوچھنے پر بتا رہی تھیں۔ رنگساز کی دُکان پر کام کرتا ہے۔

چلو‘ اب تو ہماری اماں اعتراض کا کوئی نقطہ بھی نہیں اٹھائیں گی۔ لڑکا برسر روزگار ہے۔ رج کے سوہنا ہے۔ ہماری سونی کا دل سے طلبگار ہے۔“ شازی کی زبان نان اسٹاپ چل پڑی تھی۔

بکو مت۔“ سونی برامان گئی ”میں خوابوں اور خوش گمانیوں میں گم رہنے والی نہیں ہوں اور نہ ہی میں سامی کے حوالے سے خوابوں کے تاج محل کھڑے کروں گی۔

فرض کرو۔

سامی کی طرف سے نکاح کا پیام آئے تو تم کیا جواب دوں گی۔ اماں بھی رضا مند ہوں اور بھی کسی کو اعتراض نہ ہو۔“ نجانے کیوں شازی کسوٹی کسوٹی کھیلنے پر اسے بھی مجبور کر رہی تھی۔

میں ایسا کچھ بھی فرض نہیں کر سکتی۔“ ایکدم اس کے تاثرات پتھریلے ہو گئے تھے۔ اپنے نازک آبگینے سے دل کو وہ کسی بھی قسم کی ٹھیس پہنچانے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔

میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔

مگر اب سوچنا شروع کر دو۔“ شازی نے چٹکی بجائی۔

تم کہنا کیا چاہتی ہو۔“ اب کے سونی سچ مچ ٹھٹک گئی۔

جو تمہیں کچھ کچھ سمجھ میں آ چکا ہے۔“ وہ چہکی۔

شازی!“سونی کا چہرہ ایک دم سرخ ہو گیا۔ ”تم ایسے سنگین مذاق بھی کرنے لگی ہو۔

یہ مذاق سنگین نہیں رنگین ہے۔ ٹوٹلی کلر فل۔

وہ ہنس رہی تھی۔

بکتی ہو یا لگاؤں دو جھانپڑ۔“ اس کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔

ہو۔ ہو‘ اتنی بے صبری۔“وہ اس کی بے چینی سے لطف اٹھا رہی تھی۔

شازی۔“ اس نے دانت پیستے ہوئے شازی کے بازو پر مکا جڑا۔

جارہی ہوں میں۔“وہ سچ مچ اٹھ کر سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگی تھی۔ محض اپنی آنکھ میں اترنے والی نمی کو چھپانے کیلئے۔

سونی! رکو تو‘سنو تو۔“ شازی چلائی۔

نہ رکوں گی نہ سنوں گی۔

سننا تو تجھے پڑے گا۔ وہ جو تیری رشتے کی خالہ ہیں نا‘ان کے سوتیلے بیٹے نے تیرے لئے نکاح کا پیغام بھجوایا ہے۔بتانا منظور ہے یا نہیں۔“شازی نے بالاخر دھماکا کر ہی دیا تھا۔ساتویں سیڑھی پر رکھے اس کے قدم ہی نہیں۔ پوری سونیا باقر لرز کر رہ گئی تھی۔

کیا۔“ اس کی دل کی دھڑکنوں نے اودھم مچا ڈالا۔

اماں نے مجھے تیری رضا مندی لینے کیلئے بھیجا ہے۔“ وہ گاجر کترتی اس کے کان میں گھس کر چلائی تھی۔ سونی کپڑے دھو رہی تھی۔ مشین کا بزر بھی بجے جا رہا تھا۔

میرا کان پھاڑنا ہے کیا۔

مشین کا کان مروڑ کر اسے تو چپ کراؤ۔“ شازی نے کاہلی سے موڑھا گھسیٹا ور بیٹھ گئی۔

دیکھ نہیں رہی۔ میں کپڑے کھنگال رہی ہوں۔ تم ہی اس کا کان مروڑ دو۔

سوری‘ میں جس کام کیلئے آئی ہوں‘بس وہ ہی کروں گی۔یہ کون سا معمولی کام ہے۔“ وہ سست الوجود تھی اور اس کی ساری سستی چچا کے گھر جا کر ہوا ہو گئی تھی۔

کون سا کام؟“وہ مصروف سے انداز میں بولی۔

تمہاری رضا مندی۔

تمہیں کیوں بتاؤں۔“آن کی آن میں ڈھیروں لاج برس پڑی تھی گویا۔ شازی کو زور کی کھانسی آئی۔

تیری رضا تو ان آنکھوں میں اترتے رنگوں نے اچھی طرح بتا دی ہے۔

اب وہ اسے چھیڑ رہی تھی۔

میں نے سارا معاملہ پھوپھی جی پر چھوڑ دیا ہے۔ وہ جو بھی فیصلہ کریں۔مجھے اعتراض نہیں ہوگا۔ ابا اور اماں کے بعد وہ ہی میری سرپرست ہیں۔ میرا سب کچھ ہیں۔“سونی حد درجہ سنجیدگی سے بولی۔

ایسے رشتے ہمارے جیسے گھروں میں آئیں تو نیازیں بٹنے لگتی ہیں۔ اردگرد نظر دوڑاؤ تو‘ہر گھر میں تین‘چار لڑکیاں اچھے تو کیا معمولی سے معمولی بر کے انتظار میں سروں میں چاندی لئے بیٹھی ہیں۔

شازی کے لہجے میں واضح دُکھ کی جھلک تھی۔ سونی بھی رنجیدہ ہو گئی یہ مسئلہ تو ان جیسے معمولی مڈل کلاس گھرانوں کا المیہ بنتا جا رہا تھا۔

تو اماں کی طرح بالوں کو لال مہندی سے رنگتی کیوں نہیں۔ ایسے نیک مشورے تو ثواب کا کام ہیں۔ تم یہ بیڑہ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھالو آپا!“سائر کبوتر کو سینے سے لگائے قریب پڑی چارپائی پر ڈھے گیا تھا۔

کمینے! کہاں گئے تھے صبح سے۔“شازی کو چھوٹے بھائی کی مداخلت ہمیشہ کی طرح زہر لگی۔

بہت دفعہ سمجھایا ہے‘ بڑوں کے درمیان مت بولا کرو۔ مگر تمہاری عقل میں بات سماتی نہیں۔

کبوتروں کے پیچھے خوار ہو رہا تھا آپا!تم جانتی تو ہو‘ پھر بھی زخم ادھیڑنے سے باز نہیں آتی“سائر نے شاید کسی ڈرامے کا ڈائیلاگ جھاڑا تھا۔ آپا سخت اشتعال میں آ گئی۔

کتاب کو ہاتھ مت لگانا۔ غلطی سے کہیں پاس ہی نہ ہو جاؤ۔

اس معاملے میں میرا سونی آپا کا نقش قدم پر چلنے کا ارادہ ہے۔“ سائر نے شان بے نیازی سے کہا۔

سونی آپا کو تو بس چند دنوں کی مہمان ہی سمجھو۔“ شازی کا دھیان پھر سے بٹ گیا۔

کسی ڈاکٹر نے بتایا ہے یا حکیم صاحب نے۔“سائر غم کی شدت سے دوہرا ہو گیا تھا۔

بے عقل!میرا مطلب ہے‘سونی کو ڈولی میں بٹھانے کا وقت قریب آ گیا ہے۔

تو ڈولی کا ڈنڈا پکڑنے کی تیاری کر۔“شازی نے سائر کا کندھا تھپتھپایا۔

سچی آپا۔“ سائر الگنی پر کپڑے پھیلاتی سونی سے لپٹ گیا۔

مچی چھٹکے۔“ شازی نے لقمہ دیا۔

آپا! بہت یاد آؤ گی۔“سائر خوامخواہ جذباتی ہونے لگا۔ آٹھویں کا اسٹوڈنٹ تھا۔ مگر حرکتیں پانچویں کے بچوں جیسی۔سونی نے پیار سے اس کے ماتھے پر چپکے بال ہاتھ سے پیچھے ہٹائے۔

تم بھی بہت یاد آؤ گے۔

پر تم جا کہاں رہی ہو۔“اس نے معصومیت سے پوچھا۔

پیا کے دیس۔“جواب شازی کی طرف سے آیا۔

ہائے سچی۔“وہ خوشی سے جھوما۔ ”یہ کون سا ملک ہے؟

ہیں۔“سونی اور شازی کی ہنسی چھوٹ گئی۔

میرا مذاق اڑا رہی ہو۔“سائر برامان گیا۔

ہماری مجال۔“ ان دونوں نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔

آپا! پردیس جا کر مجھے مت بھولنا۔“ وہ ٹھنک کر کہہ رہا تھا۔“ ٹافیاں اور چاکلیٹ بھجوانا۔ ہو سکے تو کپڑے اور جوتے بھی۔ دل چاہا تو ایک کرکٹ کٹ بھی بھیج دینا۔ اپنی خوشی سے جو مرضی لے آیا کرنا۔ کبھی منع نہیں کروں گا۔ تمہارا دل توڑنے کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ تصور بھی نہیں کر سکتا۔

بس کر میرے ویر!تیری آپا اٹلی یا فرانس نہیں جا رہی۔

سونی نے اسے خوابوں کی دنیا سے کھینچ کر باہر نکالا۔

تو پھر کہاں جا رہی ہو۔“سائر نے ہونق پن کی انتہا کر دی۔

سونی پورہ جا رہی ہے۔یعنی شادی کے بعد اپنی اماں کے گھر۔“شازی کے انکشاف نے سائر کو بدمزہ کر دیا تھا۔

سونی پورہ سے تو لیموں یا پھپالک‘ گاجر‘ بینگن‘ بھنڈی کے ٹوکرے ہی آیا کریں گے۔

اُٹھ کر کپڑے بدل لو‘ بلکہ نہا لو۔

میں یہ کپڑے بھی ساتھ ہی دھو دیتی ہوں۔

رہنے دو آپا! ابھی تو میں پی جن فلائنگ کی آخری پرواز دیکھنے جا رہا ہوں۔“سائر ایک دفعہ پھر اٹھ گیا۔

ٹانگیں توڑ کر رکھ دوں گی۔“شازی ڈنڈا پکڑ کر اٹھ گئی۔

پہلے اوپر تو دیکھو۔

کیا ہے؟“ شازی نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔سائر نظر بچا کر بھاگ گیا تھا۔

وہ تو نکل گیا ہے“سونی نے ہنسنا شروع کر دیا۔

بدھو! لوٹ کر گھر میں آنا ہے۔“ وہ اسے دھمکا رہی تھی۔

اللہ کرے سونی آپا کی جگہ تم ہی پیا کے دیس دفعان ہو جاؤ۔“ وہ جاتے جاتے بھی اُسے چڑانے سے باز نہیں آیا۔

میری جان تو چھوٹ جائے گی۔

تیری جان نہیں چھوڑ کر جانے والی۔

بڑے بول مت بولو آپا! یہ نہ ہو کل ہی چاچی اور لیاقت بھائی تجھے لینے آ جائیں۔“ وہ چہک کر پلٹا۔

میں تو جلیبی پر ختم دلوا کر محلے میں بانٹوں گا۔

فٹے منہ تیری اوقات کا۔“ شازی جل بھن کر رہ گئی۔ ”تیرے جیسے بھائی ہوتے ہیں۔ ہونہہ‘ بہنوں کا مان تم بنو گے؟

تمہارا نہ سہی‘ سونی آپا کا مان ضرور بنوں گا۔“ وہ کالر کھڑے کرتے ہوئے بولا۔ ”آپا! یہ تو بتاؤ‘ تمہیں کس کے کھونٹے سے باندھا جا رہا ہے۔

بڑی بہنوں کا ذرا بھی لحاظ نہیں۔

سونی نے تاسف سے ماتھا پیٹا۔ ”بے شرم! ایسی باتیں ”آپاؤں سے نہیں پوچھتے۔

اچھا۔“ وہ سچ مچ شرمندہ ہو گیا۔ ”سوری آپا۔

سوری کے بچے! چل غسل خانے میں گھس۔ بدبو کے بھبھکے اٹھ رہے ہیں تیرے آس پاس سے۔“ شازی اسے گھسیٹ کر غسل خانے کی طرف لے گئی تھی جبکہ وہ ”سونی آپا بچا لو۔“ کی گردان کئے چلا رہا تھا۔

خالہ نہ جانے کس دل کے ساتھ شگن کا سامان لے کر آئی تھیں۔سامی کے ساتھ ان کا روایتی سا تعلق تھا۔انہوں نے ہمیشہ ہی سامی کو اپنا سوتیلا بیٹا سمجھا تھا۔سامی کے ساتھ انہوں نے کبھی بھی اچھا سلوک نہیں کیا تھا۔ اسے ذہنی طور پر ہمیشہ ٹارچر کرتی رہی تھیں۔ غرض وہ سامی کیلئے بدترین سوتیلی ماں ثابت ہوئی تھیں اور سننے میں آیا تھا کہ سامی کے مجبور کرنے پر ہی وہ سونی کا رشتہ لے کر آئی تھیں کہ اب وہ اسی سوتیلے بیٹے کے رحم و کرم پر تھیں جس کو تین تین وقت بھوکا رکھ کے اور گرما کی دوپہروں میں چھت پر کھڑا کر دیتی تھیں وہ بھی ننگے پاؤں اور یہ سزائیں چودہ سال تک سامی کا مقدر بنی رہی تھیں۔

 

بہت اعلیٰ اور قیمتی سامان نہیں تھا۔ مگر جو کچھ بھی تھا بہت اچھا تھا۔سونی کو سب کچھ پسند آیا اور جب خالہ نے اُسے بتایا کہ خریداری سامی نے کی ہے تو سونی کا دل نجانے کتنی ہی مرتبہ خوشی کے احساس سے جھوما۔

خالہ بیمار تھیں ظاہر ہے وہ تو بازار جا نہیں سکتی تھیں۔ سامی کو ہی تمام بھاگ دوڑ کرنا پڑ رہی تھی۔ حالانکہ پھوپھی نے سامی کو فضول خرچی سے منع کر رکھا تھا۔

اسی شام سامی کا فون آ گیا تھا۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ فون پھوپھا کے کمرے میں رکھا ہوا تھا۔ شازی نے اپنے زرخیز دماغ سے ترکیب ڈھونڈ ہی نکالی تھی۔ دوسرے ہی پل وہ پھوپھا کے کمرے میں پہنچ گئی تھی مگر چائے کی پیالی کے بغیر۔

چائے لالی ہو؟

نہیں ابا۔“ شازی گڑبڑائی۔

میرے موزے لینے ہیں۔ آج انہیں مت دھونا‘ صبح تک سوکھیں گے نہیں۔

وہ اپنا حساب کتاب کر رہے تھے۔

جی ابا! موزے ہی لینے آئی تھی۔“ شازی بلاوجہ ہی مسکرائی۔“ابا! آپ کو چاچا رسول بخش بلا رہے تھے۔

تم نے بتایا کیوں نہیں۔ کون آیا تھا بلانے۔“ابا کو سارا حساب کتاب بھول گیا۔چاچا رسول بخش ابا کے قریبی عزیز ازجان دوست تھے۔بے چارے معذور تھے‘چلنے پھرنے سے قاصر۔ابا شام کے وقت ضرور ان سے ملاقات کی غرض سے جاتے تھے مگر ٹیلی فون کو چھوٹا سا تالا لگا کر۔

ٹیپو آیا تھا۔“وہ جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہی تھی۔

اپنی ماں کو بتا دینا۔ میں جا رہا ہوں‘ رسول بخش کی طبیعت خراب نہ ہو…“ابا فکر مند سے باہر نکل گئے۔ شازی نے جوش کے عالم میں ابا کا دراز کھولا۔ چابی باآسانی مل گئی تھی۔ لکڑی کا باکس جھٹ سے کھل گیا۔ وہ بھاگ کر سونی کو بلا لائی تھی۔

شازی! کیا مذاق ہے یہ۔“وہ سر تاپا کانپ رہی تھی۔

سامی سے بات کر لو۔ فٹا فٹ آ جاؤ۔“شازی زبردستی اس کا ہاتھ کھینچ کر فون کے پاس لے آئی۔ اس نے سامی کا نمبر نہ جانے کہاں سے لیا تھا۔

یہ لو‘ کرو بات۔“ وہ ریسیور اسے زبردستی پکڑا کر خود پلنگ پر بیٹھ گئی۔

میں نہیں کروں گی۔“ اس نے ریسیور کو یوں پھینکا گویا کوئی ظالم سا اژدھا ہو۔ فون سے سامی کے بولنے کی آواز آ رہی تھی۔

ناچار شازی کو بات کرنا پڑی اور وہ نان اسٹاپ شروع ہو گئی۔

آپ کی خیریت پوچھنے کے ارادے سے فون کیا ہے۔“شازی نے سامی کی کسی بات کے جواب میں چہک کر کہا۔

جناب! وہ پاس ہی موجود ہے مگر ہیں خفا خفا۔“ وہ گنگنا کر اسے مسلسل چڑا رہی تھی۔

کیوں نہیں میں ضرور بات کرواتی مگر جنابہ کے تیور بگڑے بگڑے ہیں۔“ وہ قہقہہ لگا کر مزے سے بولی تھی پھر ریسیور پر ہاتھ رکھے بغیر شروع ہو گئی ”سامی کہہ رہا ہے میں تیور درست کر لوں گا۔

ذرا ریسیور تو سجنوں کو پکڑاؤں۔ کر لونا بات۔“ شازی نے ریسیور اس کے کان سے لگا دیا۔

تم پھوٹو یہاں سے میں تمہارے سامنے بات نہیں کروں گی۔

اوہ۔ یاروں سے پردہ داری۔“ شازی چہک کر بولی پھر دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے پلٹی۔

ذرا جلدی سے باہر آ جانا۔ ابا کے آنے سے پہلے پہلے۔

تم تو دفع ہو جاؤ۔“وہ دانت پیس کر بولی۔

ہماری بلی اور ہمیں ہی میاؤں۔“ شازی ہنستے ہوئے باہر نکل گئی تھی۔

شکر ہے‘ تمہاری آواز تو سنائی دی ہے۔‘ ایئر پیس میں سے سامی کی آواز سنائی دی۔ سونی کے دل کی دھڑکن بے قابو ہو گئی تھی۔

تم نے دن کو بھی فون کیا تھا؟“ سونی کو کوئی بات نہ سوجھی تو بے تکا سا سوال جڑ دیا۔

ہاں۔

شازی کے ساتھ مل کر پلاننگ بھی تم ہی نے بنائی ہوگی۔

تو اور کیا۔“ وہ بغیر ہچکچائے اعتماد سے بولا۔

کرو بات پھر۔“ گویا احسان عظیم کیا گیا تھا۔ سامی عش عش کر اٹھا۔ ”اس ادا پر کچھ کھا کر مر ہی نہ جاؤں؟

اللہ نہ کرے۔“ وہ گھبرا اٹھی۔ ”کم از کم اچھا تو بول لیا کرو۔

میں برا بولتا ہوں۔ بدشگونی کی باتیں کرتا ہوں۔

وہ ٹھنک کر بولا۔

تو اور کیا۔

تم ہی کسی اچھی بات سے آغاز کر لیتی۔“ سامی نے نفیس سا شکوہ کیا۔

میں فون رکھ رہی ہوں۔“ وہ گھبرا کر بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔

ارے۔ یہ غضب مت ڈھانا۔“ سامی دبی آواز میں چیخا۔

کیا ہوا؟“ وہ اور بھی گھبرائی۔

ابھی فون مت رکھنا۔

گویا التجا کی گئی تھی۔

پھوپھا آ جائیں گے۔

نہیں آئیں گے۔ شازی نے چاچا رسول بخش کے گھر انہیں بھیجا ہے۔ گیارہ بجے سے پہلے نہیں آئیں گے۔“وہ مطمئن تھا۔

گیارہ بجنے میں صرف دس منٹ باقی رہ گئے ہیں۔آنکھیں کھول کر گھڑی کی طرف دیکھو۔“اس نے گویا جتا کر کہا تھا۔

اچھا۔“ وہ سچ مچ گھڑی کی طرف دیکھ کر چونکا۔ ”ابھی تو بات بھی نہیں کی۔

تو کر لو نا۔

تمہیں میری خریداری پسند آئی؟

ہاں۔

صرف ہاں۔“وہ بسورا۔

ہاں‘ ہاں‘ ہاں۔

یہ ہوئی نا بات۔“سامی کھل اٹھا ”ایک سوال کا اور جواب دو؟

کیا؟“ وہ خوفزدہ ہو گئی۔

تمہیں میرا ساتھ دل سے قبول ہے؟

جی۔“ اس نے اطمینان سے بھرا سانس لیا۔

صرف جی۔“وہ گویا چٹخ کر رہ گیا۔

جی‘ جی‘ جی۔“ سونی نے پھر سے گردان کی۔

جیو میری جان!دل خوش کر دیا ہے۔

باقی کے دن سکون سے گزریں گے۔“ وہ چہکا۔

فون رکھ دوں؟“ سونی نے اجازت طلب کی تھی۔

ابھی سے۔“ وہ ناراضی سے بولا ”تم فون رکھو‘ میں کال کرتا ہوں۔

نہیں‘ پھر سہی۔“ وہ ہکلائی۔

یار! ڈرتی کیوں ہو۔ پھوپھا کچھ نہیں کہیں گے۔ میں نے ان سے پرمیشن لے کر دن کو فون کیا تھا مگر تم نجانے کہاں تفریح کرنے نکلی ہوئی تھیں۔

میں پھوپھی جی کی دوائی لینے سائر کے ساتھ اسٹور تک گئی تھی۔“ وہ تفریح کی ناراضی کے ساتھ تشریح کرنے لگی۔

خود کام کے بہانے نجانے کہاں کہاں آوارہ گردی کرتے ہو۔

یہ ہوائی کس دشمن نے اڑائی ہے۔“ وہ چٹخا۔

ہمارا دھیان آپ ہی میں اٹکا رہتا ہے جناب۔“سونی تو کہہ کر پچھتائی تھی۔

یہ ہماری خوش نصیبی ہے۔“ وہ گویا کورنش بجالایا۔

اور کیا کیا جانتی ہیں ہمارے بارے میں۔

بہت کچھ۔“ اس نے اختصار سے کام لیا۔

پھر بھی کیا کیا؟“وہ جاننے کیلئے بے چین ہوا۔

یہی کہ خوبصورت لڑکیاں کو تاڑتے ہو۔

یہ تمہیں کس نے بتایا ہے؟ نرا جھوٹ۔“سامی ماننے سے انکاری ہو گیا۔ ”میں نے تو صرف ایک لڑکی کو تاڑا تھا اور وہ تم ہو۔ اپنے بارے میں تو تم اچھی طرح سے جانتی ہونا۔

اب وہ سونی کو چھیڑ رہا تھا۔

کیا میں خوبصورت نہیں ہوں۔“سونی نے صدمے کے زیر اثر پوچھا۔

مجھے تو لگتی ہو مگر…“اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔

مگر کیا؟“ وہ بھنا کر بولی۔

مگر آئینہ تو سچ ہی بولتا ہے نا۔“سامی نے معصوم بن کر کہا۔

خود بڑے شہزادہ عالم ہو۔“ وہ بل کھا کر رہ گئی تھی۔ ”خبردار‘ جو آئندہ مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی۔

مجھے بھی تمہاری سڑی ہوئی باتیں سننے کا کوئی شوق نہیں۔“وہ بھی سامی تھا۔ کیوں پیچھے رہتا۔

ہونہہ۔“سونی نے بھنا کر فون پٹخ دیا تا۔ادھر سامی نے بھی یہی عمل دہرایا۔یہ تھی ان کی پہلی باضابطہ لڑائی۔اس کے بعد لڑائیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔خوشگوار آغاز کا انجام ایسا ہی کھٹی میٹھی لڑائیوں اور جھڑپوں سے آراستہ۔

سونی کے مزاج میں حاکمیت تھی جو سامی کو سخت ناپسند تھی۔وہ ضدی بھی تھی۔منہ سے نکلی ہر بات منوا لینا چاہتی تھی۔ایک اضافی خوبی یہ بھی تھی کہ اسے غصہ بھی جلدی آتا تھا۔ مگر اترنے میں بھی زیادہ دیر نہیں لگتی تھی۔ دوپل میں جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا۔

شادی سے صرف چار دن پہلے خالہ چل بسیں۔ سامی کو سخت تپ چڑھ گئی کئی دن اس نے پھوپھی کے گھر کے چکر لگائے تھے‘ ایک دن پھوپھی سے دکھ سکھ کہنا شروع کر دیئے۔ شازی اور وہ گندم صاف کر رہی تھیں۔ پھوپھی گاجریں چھیل رہی تھی۔ مربہ بنانے کیلئے سامی‘ پھوپھی کے قریب موڑھے پر بیٹھا تھا۔

سونی کی خالہ جنت کے باغوں میں سیر کریں ہمیشہ‘ پر جاتے جاتے بھی میرا کام بگاڑ کر ہی گئی ہیں اچھی بھلی تاریخ طے تھی۔

دعوت نامے تقسیم کر دیئے تھے۔ میری خوشی برداشت نہ ہو سکی۔“ وہ جلا بھنا بیٹھا تھا۔

پُتر! یہ اللہ کے کام ہیں۔ تمہاری اماں کا بلاوا آ گیا تھا‘ جانا تو تھا ہی۔“ پھوپھی نے سادگی سے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔ شازی اور سونی اپنی ہنسی چھپانے میں ہلکان ہو رہی تھیں۔

اس وقت بلاوا آ جاتا تو اچھا تھا۔

جب دھوپ میں میری کمر سینکا کرتی تھیں۔

سچ بتاؤں‘ پھپھی! بہت مارا کرتی تھیں۔ رات بھر بھوکا رکھتیں۔ دن بھر گدھے کی طرح جوتے رکھتیں۔ ابا کاٹھ کے وہ۔ ابا تھے‘ اب انہیں کیا کہوں۔ دونوں میاں بیوی جنت مکانی‘ ہماری تو یہی دعا ہے۔ دونوں کی دعائے مغفرت کرتا ہوں۔ پر میری بچپن میں مانگی بددعائیں عین شادی سے چار دن پہلے پوری ہوئی ہیں بطور میری سزا کے۔

اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔

چار دن شادی آگے ہو گئی ہے تو اس میں بھی کوئی بہتری پوشیدہ ہوگی۔“ پھوپھی نے نرمی سے سمجھایا تھا پھر سونی سے مخاطب ہوئیں۔“سامی کو گاجر کا رس نکال دے بیٹی!“

اچھا پھوپھی!“وہ خوشی خوشی اٹھنے لگی تھی۔ کیونکہ گاجر کا رس اسے خود بہت پسند تھا۔

نہ پھوپھی! مجھے نہیں پینا۔“سامی نے منہ بنایا۔

کیوں پتر!“ پھوپھی جی نے نرمی سے پوچھا۔

کیا چائے پیو گے۔؟

نہ چائے نہ پانی۔

تو پھر۔“سونی نے کلس کر پوچھا۔

کھانا۔

واہ جی واہ۔“ شازی جھومی۔ ”تم ہماری برادری سے ہو‘ یعنی کھانے پینے کے شوقین۔

جی نہیں۔“سامی نے ان کی خوشی فہمی دور کی۔

میں کھانے کے بعد کچھ نہیں کھاتا اور کھانا میں کھا کر آ رہا ہوں۔

ہم نے تو کڑاہی بنائی تھی۔

سوچا تھا تم آؤ گے توکھائیں گے۔ چلو بھئی سونی! ہم خود ہی کھا لیتے ہیں۔“ شازی نے بے تابی سے ہاتھ جھاڑ کر کہا۔

کڑاہی کس نے بنائی۔“سامی نے گاجر کترتے ہوئے پوچھا۔

میں نے۔“جواب سونی کی طرف سے آیا تھا۔سامی کو ادھر سے ہی جواب کی توقع تھی۔

اور کیا کچھ بنانا آتا ہے؟“ باقاعدہ انٹرویو کا آغاز ہو گیا۔

دہی گوشت اور…“ابھی وہ مزید سوچنے لگی تھی جب چوبارے سے سائر نے جھانک کر لقمہ دیا۔

سامی بھائی! مجھے سے پوچھیے۔ آپا کو سب بنانا آتا ہے۔دہی گوشت‘ دھواں گوشت‘ بالٹی گوشت‘ٹب گوشت‘ کڑاہی گوشت‘فرائنگ پین بینگن‘ بھنڈی ہانڈی‘ ادولی گنی‘ پالک کوکر‘ دال کوکر‘ پائے کوکر‘ یہ کوکر میں پکائی جانے والی ڈشز تھیں۔توا کباب‘ کباب توے پر تلے جاتے تھے‘ گولا کباب‘ بارود کباب‘ سیخ کباب‘ توپ کباب‘ بندوق کباب‘ سب آتا ہے میری آپا کو بنانا۔

بڑے فخر سے سینہ پھلا کر سائر نے کہا تھا۔ سونی اور شازی نے گویا ماتھا پٹیا تھا جبکہ سامی بھائی تو گویا جھوم اٹھا۔

میرے بھائی! مجھے ایک مشورہ تو دے۔“سامی نے سوچتے ہوئے کہا۔

جی بھائی! بولئے۔“سامی پتنگ کی ڈور اپنے دوست کو تھما کر نیچے چلا آیا۔

فیوچر پلاننگ کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ کیا میں ایک ہوٹل نہ کھول لوں؟

ضرور کیوں نہیں۔

سائر نے زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا۔

کک کی تو ضرورت نہیں پڑے گی۔

تو اور کیا۔“ وہ سنجیدگی سے سر ہلاتا رہا۔

تمہاری آپا جو ہے۔ہر فن مولا۔جسے بندوق اور توپ کباب بھی بنانے آتے ہیں۔ دال کوکر اور پائے کوکر بھی بنا سکتی ہے۔ ٹب گوشت اور بالٹی گوشت تمہاری آپا کے اضافی کمالات ہیں۔ تو پھر میرا تو فائدہ ہی فائدہ ہوا نا۔

سامی نے سنجیدگی کے ریکارڈ توڑے۔

آپا ہوٹل میں کام کرتی اچھی لگے گی کیا۔“سائر نے بہت دیر سوچنے کے بعد برا ماننے کی کوشش کی۔

ابے گدھے! اٹھ‘ جاکر اپنا کام کر۔“شازی نے چپل لہرائی تھی۔وہ واقعی اٹھی کر بھاگ گیا۔

تم کہاں کھسک رہی ہو؟“سامی نے نظر بجا کر کچن کی طرف جاتی سونی سے پوچھا۔

بھوک لگی ہے؟“وہ منمنائی۔

ناشتہ نہیں کیا تھا۔“سامی نے ہمدردی سے پوچھا۔

کیا تھا۔“سونی نے اثبات میں سر ہلایا۔

کیا کھایا تھا ناشتے میں؟“اس نے سرسری سے انداز میں پوچھا تھا جبکہ سونی تو تفصیل سنانے کیلئے بیٹھ گئی۔

دو فرائی انڈے‘ دو چھوٹے پراٹھے۔ شازی اتنا سا پیڑہ لیتی ہے۔“باقاعدہ دو انگلیوں کا دائرہ بنا کر دکھایا گیا تھا۔

دو گلاس لسی پی تھی۔

پھر مجھے سخت نیند آئی۔ مگر کام بھی تو ضروری تھے۔برتن دھوئے‘ صفائی کی‘ کپڑوں کے ڈھیر کو استری کیا۔ پھر سو گئی صرف دس منٹ سوئی تھی۔ بھوک نے جگا دیا تھا۔ سوجی کا حلوہ گرم کرکے جلدی جلدی سے کھایا۔ ایک کپ چائے پی۔ صبح کا بچا ہوا پراٹھا کھایا۔ پھر چکن کڑاہی بنائی۔ شازی نے بتایا تھا تم نے آنا ہے۔ پھوپھی نے کہا‘ رس ملائی بھی بناؤ۔ کھانا بنایا‘ گندم صاف کی‘ تمہاری باتیں سنی اور پھر سے بھوک لگ گئی ہے۔

ماشاء اللہ‘ پیٹ ہے کہ کنواں۔“ سامی نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔

اتنا کھایا پیا کہاں جاتا ہے؟“سامی کا اشارہ اس کی صحت کی طرف تھا۔

نظر لگانے والے بھی تو بہت ہیں۔“وہ شازی کو چڑا رہی تھی۔

دیکھ رہے ہو سامی! یہ قدر ہے ہماری۔

غم نہ کھاؤ میری بہنا! ہماری قدر اتنی بھی نہیں۔“سامی خوامخواہ جذباتی ہوا۔

اکیس توپوں کی سلامی دوں تمہیں۔

سونی بھنا کر پلٹی۔

مجھے سلامی دینے سے زیادہ اہم کام مرغ کو چیرنا پھاڑنا ہے‘آپ جاکر اپنا شغل فرمایئے‘ چکن کڑاہی آپ کو پکار رہی ہے۔“سامی نے پچکار کر کہا۔

تم تو گویا کچھ کھاتے نہیں‘ سونگھتے ہو صرف۔“سونی نے جواب دینا ضروری سمجھا۔

اس رفتار سے تو نہیں کھا سکتا۔

سونی کے ساتھ رہو گے تو ایسی ہی رفتار پکڑ لو گے۔“ شازی بھی سونی کے پیچھے کچن کی طرف بھاگی تھی۔

پھوپھی جی! یہ دونوں کتنا کھاتی ہیں۔

تو اور کیا۔“ پھوپھی کو اپنے دکھڑے یاد آ گئے تھے کہ کس طرح ان دونوں کے بابرکت ہاتھوں کی بدولت راشن ہفتہ بھر میں ہوا ہو جاتا ہے۔

سونی‘ پھوپھی کے گھر سے رخصت ہو کر اپنی اماں کے گھر آ گئی تھی۔زندگی میں گویا رنگوں کی برسات اُتر آئی تھی۔ سامی کی بے پایاں محبت‘ توجہ اور چاہتوں کے سنگ وقت سبک خرامی سے گزرنے لگا تھا۔ کمی تھی تو صرف اس ننھے منے وجود کی جو ان کی خوشیوں کے ستاروں کو قوس و قزح سے سجا دیتا۔

ایک معمول سے گزرتی زندگی کے سمندر میں تلاطم بھلا کب اور کیسے آیا؟

صبح اور شام کی اس کہانی کے صفحات پورب سے آتی ہوا سے پھڑپھڑائے تھے اور صفحہ قرطاس پر کچھ اور ہی نئے انداز میں رقم ہونے لگا۔

بہار سر جھکائے آنسو پیتی چپکے سے کسی اور دیس نکل گئی تھی اور خزاں نے نخوت سے پتا پتا گرتے درختوں کے نوحوں کو سنا اور استہزائیہ ہنس دی۔

سورج اپنی نرم کرنوں کو سمیٹ رہا تھا۔ دھوپ میں تپش سی محسوس ہونے لگی تھی۔

دو پل بھی آنگن میں بیٹھنا محل ہو گیا تھا۔ اپریل کی آخری تاریخیں تھیں۔ موسم نے ایک دم ہی کروٹ بدل لی تھی۔ دن اور راتیں نہ جانے کیوں اُداسی کی لپیٹ میں گم ہو کر رہ گئے تھے۔

آج صبح سے سونی پر نامعلوم سی سستی سوار تھی۔ معمول کے کام بھی بس جیسے تیسے نبٹائے تھے۔ بڑے دن ہوئے تھے اماں بی نے چکر نہیں لگایا تھا۔ ورنہ سونی کی طبیعت اماں بی سے ملاقات کے بعد فریش ہو جاتی تھی اور اماں بی کی گزارش اور درخواست تو سونی کے ذہن سے نہ جانے کب کی پرواز کر چکی تھی۔سامی نے بات کرنا‘ مشورہ کرنا تو دور کی بات تھی‘ذہن میں اماں بی کی التجا محفوظ ہوتی تو کرائے داروں کے بارے میں سوچا جاتا۔

سامی نے آج دیر سے آنا تھا۔آج پھر سے چناب بازار کی دکانوں کا کرایہ ملنا تھا۔سامی نے گھر کیلئے ضروری سامان خریدنا تھا۔ سو وہ جانتی تھی کہ سامی دو‘ تین گھنٹوں سے پہلے آنے والا نہیں۔

وہ کھانا تو کب کا بنا چکی تھی۔ چکن بریانی‘ کڑھی کوفتہ اور میٹھے میں کھیر‘ ایک ہی تو سونی کا شوق تھا‘ اچھا اچھا پکانا اور رج کے کھانا۔

رات کے آٹھ بج چکے تھے‘ گلیاں سرشام ہی سنسان ہو جاتی تھیں۔

چھوٹے محلوں کے محنت کش لوگ تھکے ہارے بستروں پر لیٹتے ہی خراٹے لینے لگتے۔ مگر آج کچھ الگ اور انوکھی سی بات فضا محسوس کر رہی تھی۔

گلی میں معمول سے ہٹ کر چہل پہل‘ہلکی ہلکی سرگوشیاں‘تاسف میں ڈوبی آوازیں‘کسی کے چیخنے اور چلانے کی چنگھاڑ‘ جواباً درد میں ڈوبی سسکیاں‘ آہیں۔

یارب! یہ معاملہ کیا ہے؟“سونی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر بیرونی گیٹ تک چلی آئی‘ جھری میں سے دیکھا تو بہت سے چہرے نظر آئے‘ تنویر باجی‘ خالہ بتول‘ چاند بی‘ بے بے نعمت اور نہ جانے کون کون۔

سونی نے دروازے کا پٹ کھول کر بازار میں جھانکا تھا۔ تقریباً سبھی کے گھروں کے کواڑ کھلے تھے۔ عورتیں اور بچیاں جھانک رہی تھیں۔ کچھ چوبارے پر لٹکی ہوئی تھیں۔ سونی حیران ہی تو رہ گئی۔

تنویر باجی! کیوں کھڑی ہیں؟

ارے سونی! تم کیسی ہو؟“تنویر باجی نے سونی کو دیکھ کر خوشی کا بے ساختہ اظہار کیا۔

میں ٹھیک ہوں۔ آپ سب یہاں اس وقت کیوں کھڑی ہیں‘ خیریت تو ہے؟“سونی اپنے گیٹ کا کواڑ پکڑے کھڑی تھی۔

تنویر باجی نے کچھ سوچا تھا‘ پھر جلدی جلدی اپنا دروازہ بند کرکے اس کے پاس چلی آئیں۔

آؤ‘ تم بھی دیکھ لو‘یہاں تو اچھا خاصا تماشا لگا ہے۔

کیا ہوا؟“وہ اور بھی حیران ہوئی۔

کوثر نے اماں بی کے مہمانوں کو گھر سے نکال دیا ہے۔“تنویر باجی نے تاسف سے کہا۔

کیوں؟“ سونی کا منہ بے ساختہ کھل گیا۔

کوثر سدا کی زبان دراز ہے‘ بے چاری ماں‘ بیٹی پر ایسے گندے گندے الزام لگائے ہیں‘ رات کے اس پہرے گھر سے نکال دیا ہے‘ سامان اٹھا کر گلی میں پھنکوا کر خود ایسی ایسی غلیظ گالیاں دینے لگی۔

تنویر باجی نے کانوں کو ہاتھ لگا کر دیدے گھمائے۔

بڑی بے عزتی کی ہے کوثر نے ثروت بے چاری کی‘ساری گلی‘ محلے کے سامنے۔

اماں بی کہاں ہیں؟

وہ تو پندرہ‘ بیس دن سے کسی نواسی کی شادی کے سلسلے میں سکھر گئی ہیں۔“تنویر باجی نے مزید اس کی معلومات میں اضافہ کیا۔

اور وہ مہمان کہاں ہیں؟“سونی ساکت ہی تو رہ گئی تھی۔

پشیمانی کے عمیق گڑھے میں گرنا اسی کو کہتے ہیں۔آناً فاناً اسے اماں بی کی درخواست کا خیال آ گیا۔ساتھ ڈھیروں شرمندگی نے گھیر لیا تھا۔

بے بے نعمت کے گھر‘ اب اس وقت بے چاری کہاں جاتیں‘صبح کو کہیں جانے کیلئے نکلیں گی۔“ تنویر باجی پپو کے آواز دینے پر پلٹ گئی تھیں۔سونی کئی لمحے سوچتی رہی تھی‘پھر دوسرے ہی پل چادر لپیٹے بے بے نعمت کے گھر آ گئی۔وہ دونوں ماں‘ بیٹی ڈیوڑھی میں بیٹھی تھیں۔ غم زدہ‘ رنجیدہ‘ شرمندہ۔

میں سونی ہوں‘اماں بی نے ذکر تو کیا ہوگا۔ آپ خالہ ثروت ہیں اور یہ آپ کی بیٹی سوہنی۔“وہ ان کے قریب ہی دو زانو بیٹھ گئی تھی۔اس کے نرم ملائم لہجے نے ان دونوں ماں‘بیٹی کو سر اٹھانے پر مجبور کر دیا۔

آپ سونی ہیں۔“دودھ اور گلاب سے گندھی اس لڑکی نے اپنی غلافی آنکھوں سے سونی کی طرف دیکھا تھا اور سونی تو اس کے حسن جہاں سوز میں چند پل کیلئے کھو گئی۔

جی… اور میں آپ کو لینے کیلئے آئی ہوں۔“فیصلہ تو ہو چکا تھا۔ اب تو عمل کرنا باقی تھا۔

ہمیں…“دونوں ماں‘ بیٹی تحیر زدہ رہ گئیں۔

جی… اٹھئے‘ میرے ساتھ چلئے۔“ سونی اب مسکرا رہی تھی۔

بے حد سادہ اور اجلی مسکراہٹ۔

کہاں؟“ ان دونوں کے مردہ تن میں گویا جان پڑ گئی تھی۔ بھیگی آنکھوں اور اداس ہونٹوں پر شفق اتر آئی۔

میرے گھر۔“سونی نے کپڑوں کا تھیلا ہاتھ میں پکڑ لیا تھا۔ سوہنی نے دوسرا تھیلا اور ماں کی دواؤں کا شاپر تھاما۔وہ ان ٹوٹی بکھری دو عورتوں کو سائبان دینے کی غرض سے گھر لے آئی تھی۔

انسان درد دل کے واسطے ہی تو پیدا کیا گیا ہے‘ تخلیق کیا گیا ہے۔

اس بے درد دنیا میں تیرے جیسے لوگ بھی موجود ہیں بیٹی۔“گھر آنے کے تیسرے دن بعد بھی ثروت خالہ بے یقین تھیں‘ حیران تھیں اور سوہنی ششدر۔

خالہ! اس گھر کو اپنا گھر سمجھئے گا۔مجھے اماں بی پر پورا پورا اعتماد ہے اور میں آپ کا بھی اعتبار کرتی ہوں‘مجھے کسی وضاحت‘ تسلی یا سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنے دل سے سارے بوجھ اتار دیجئے‘ میں ہی نہیں یہ پورا محلہ کوثر باجی کی فطرت اور مزاج سے بہ خوبی آگاہ ہے۔

سونی نے حلاوت سے ان کی تمام پریشانی کو دور کرنے کی کوشش کی۔وہ جو اسے کوثر کے رویے کی وضاحت دینا چاہتی تھیں۔ محض آنسو پی کر خاموش ہو گئیں۔

چند دنوں میں ہی سونی کی خالہ اور سوہنی سے اچھی خاصی بے تکلفی ہو گئی تھی۔ان دونوں کے آنے سے گویا گھر میں رونق سی اتر آئی۔ کسی بزرگ کی موجودگی بھی نعمتوں سے کم نہیں ہوتی۔خالہ ثروت بہت کم گو‘ سنجیدہ اور صوم و صلوٰة کی پابند خاتون تھیں۔

سوہنی میں بھی اپنی ماں کی عادتیں بددجہ اتم موجود تھیں۔وہ سونی کے ساتھ بہت جلد گھل مل گئی تھی۔

سامی کو اماں بی کی ان مہمان خواتین کی اپنے گھر میں موجودگی خاصی کھٹکی تھی۔پوری رات تقریباً ان دونوں کی بحث و مباحثے میں گزر گئی تھی اور یہ اسی رات کی بات تھی جب سونی خالہ اور سوہنی کو گھر لے کر آئی تھی۔ سامی نے سنا تو تاؤ کھا کر رہ گیا۔

ہر ایک پر اعتبار کر لیا کرو‘ نہ جانے کسے اٹھا کر گھر لے آئی ہو۔

مجھے پوری تسلی ہے‘تم فکر مت کرو‘یہ ہمیں کوئی بھی نقصان نہیں پہنچائیں گی‘ عزت دار شریف عورت‘ حالات کی ستائی ہو‘جوان بیٹی کو لئے در در دھکے کھا رہی ہے اور دنیا کو دیکھنے اور لطف لینے کیلئے ایک تماشا مل گیا ہے۔

تم مجھ سے پوچھ تو لیتیں۔“سامی سخت خفا تھا۔

میں گھر میں کہاں ہوتا ہوں‘ تمہیں تنہا جان کر اگر کوئی نقصان پہنچا دیں تو پھر؟

ایسا کچھ نہیں ہوگا۔“سونی بھی سنجیدہ تھی۔

میں کچھ نہیں جانتا۔ تم انہیں صبح ہی چلتا کرو۔

میں ایسا ہرگز نہیں کروں گی۔“وہ اٹل انداز میں گویا ہوئی۔

تم بہت بھولی ہو سونی۔“ اس نے اپنا چائے کا کپ خالی کرکے سونی کو تھمایا۔

میری بات مان جاؤ‘ فائدہ اسی میں ہے‘ کب تک انہیں گھر میں رکھو گی۔

جب تک خالہ ثروت چاہیں‘یہاں رہ سکتی ہیں۔

ساری زندگی اگر رہنا چاہیں‘یہیں ڈیرہ لگا لیں تو پھر۔“سامی نے طنز بھرے انداز میں کہا۔

میرے دل میں اور گھر میں بہت جگہ ہے۔

بھاڑ میں جاؤ تم۔“سامی کو غصہ آ گیا۔ ”ہر کسی سے ہمدردی کرنے لگتی ہو‘ کسی دن سخت چوٹ کھاؤ گی۔

کبھی اچھی بات بھی منہ سے نکال لیا کرو۔“ وہ بھی برامان گئی تھی۔ رات بھر سامی خفا ہی رہا تھا اور یہ خفگی سویرے سویرے دو پل میں جاتی رہی۔ خالہ کی میٹھی طبیعت نے سامی کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ حالانکہ وہ بہت کم بولتی تھیں اور سوہنی کے حسن کو دیکھ کر تو اچھے بھلے بندے سدھ بدھ بھول جائیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

لڑکی خوبصورت ہی نہیں معصوم بھی ہے۔

دھوکے باز تو نہیں لگتیں دونوں۔“سامی کے اس تبصرے نے سونی کو غصہ دلانے کی بجائے مسکرانے پر مجبور کر دیا تھا۔

سو ہنی کے حسن کا جادو تو نہیں چل گیا۔

توبہ توبہ۔“ سامی نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔ ”میری ایسی مجال کہاں۔“ وہ بائیک کی چابی اٹھا کر باہر نکل گیا تھا۔ سونی بھی ہنستے ہوئے اپنے کام میں مصروف ہو گئی

سونی خالہ کے ہمراہ بازار گئی تھیں سیزن کے کپڑے لینے۔ پہلے اماں بی اس کے ساتھ جایا کرتی تھیں‘ مگر اب اسے اماں بی کو بازاروں میں گھسیٹنا خود بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ سوہنی تو اسکول چلی گئی تھی۔ خالہ نے اس کے ساتھ برابر کام نبٹائے تھے۔ حالانکہ سونی انہیں بہت دفعہ منع کرتی رہی تھی۔

کوئی بات نہیں بیٹی!مجھے کام کرنے کی عادت ہے۔

پھر بھی خالہ!مجھے آپ کا کپڑے دھونا تو بالکل پسند نہیں‘ ہفتے کے روز میں مشین لگاتی ہوں آپ کے بھی دھو دیا کروں گی۔

وہ بازار سے واپس آ چکی تھیں۔اب نچلی منزل کے تخت پر ہی بیٹھی تھیں۔ سوہنی دو بجے تک آتی تھی۔ پھر دوپہر کا کھانا اکٹھے ہی کھایا جاتا۔ سوہنی انہیں الگ سے کھانا بھی پکانے نہیں دیتی تھی۔دوپہر کے برتن وغیرہ سوہنی دھو لیتی تھی۔

سونی کو محسوس ہوتا تھا کہ اس کی ذمہ داریاں کئی حصوں میں تقسیم ہو گئی ہیں۔

ابھی وہ دونوں باتیں کر رہی تھیں جب اماں بی چلی آئیں۔

سوہنی بھی اسکول سے آ گئی تھی۔ ان دونوں نے جھٹ پٹ کھانا لگا دیا۔

اماں بی!آپ نے تو مجھ پر بڑا ہی احسان کیا ہے۔“ سونی مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی۔

کیسا احسان بیٹی!“

خالہ اور سوہنی کو میرے پاس بھیج کر۔

انہیں تو تم خود ہی لے کر آئی ہو‘ میں تو جنم جلی پردیس گئی تھی۔ بدبخت کوثر سے چار دن بھی برداشت نہ ہو سکا۔“ اماں بی نے افسردگی سے کہا۔

مگر وسیلہ تو آپ بنی ہیں۔“ خالہ نے محبت سے سونی کی طرف دیکھا۔ کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا تھا۔ اماں بی اور خالہ دونوں باتوں میں مصروف ہو گئی تھیں جبکہ سونی اور سوہنی دونوں کمرے میں آ گئیں۔ سوہنی کے ہاتھ میں تہہ کئے کپڑے تھے جو وہ الماری میں رکھ رہی تھی۔ سوہنی جانے لگی تو اس نے روکا۔

کیا کرو گی اوپر جا کر۔

سوؤں گی۔

آج تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے۔“ وہ سادگی سے بتانے لگی۔

ادھر ہی سو جاؤ۔“ سونی اپنے بیڈ کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔

یہاں…“ سوہنی گویا اچھل پڑی۔ ”آپ کے بیڈ روم میں سوؤں‘ کبھی نہیں۔

کیا حرج ہے۔“ وہ حیران ہوئی۔

سامی بھائی کی جگہ میں کبھی بھی نہیں سوؤں گی۔

تو جگہ بدل لیتے ہیں۔ میٹرس نیچے بچھا لیں۔“سونی نے کچھ سوچتے ہوئے ایک حل پیش کیا۔

آپ ہی اوپر آ جائیں۔

یہاں سو جاؤ‘سامی تو رات کو آئے گا‘بلکہ خالہ کو بھی ادھر ہی لے آتی ہوں‘خوامخواہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جائیں گی۔“ سونی اٹھنے لگی۔

رہنے دیں نا‘آپ بھی آرام کرلیں۔میں اور اماں عصر کے بعد نیچے آئیں گی‘کھانا میں بنا لوں گی‘ آپ تردد مت کیجئے گا۔“وہ بولتے ہوئے دروازہ کھول کر باہر نکل گئی تھی۔

چائے بھی تم نے بنانی ہے‘ جلدی آ جانا جناب۔“سونی نے ہانک لگائی۔ کچھ دیر بعد اماں بی کمرے میں چلی آئی تھیں۔

سوری اماں بی!میں نے سمجھا آپ چلی گئی ہیں۔“سونی شرمندہ ہو گئی۔

سوری موری کی ضرورت نہیں۔ویسے میں جانے لگی تھی‘ سوچا جاتے سمے تمہیں دیکھ لوں۔“ وہ اس کے قریب بیٹھ گئی تھیں۔

بیٹی! ثروت اور سوہنی تمہیں کیسی لگیں؟

بہت اچھی ہیں اماں بی! میرا تو ان دونوں کی وجہ سے بڑا دل لگ گیا ہے۔

ورنہ تو سامی کے جانے کے بعد میرا دن کٹتا ہی نہیں تھا۔“ وہ پرجوش سی بتانے لگی۔

تمہیں کبھی بھی شکایت نہیں ہوگی‘ثروت بہت بھلی عورت ہے‘بیٹی بھی ماں کا دوسرا روپ ہے۔“ اماں بی نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے دبایا۔ ”سامی کو غصہ تو نہیں آیا؟

غصہ تو آیا تھا‘ مگر جلد ہی اتر گیا۔“ اس نے سادگی سے بتا دیا۔ ”بولا‘ اماں بی کا کہا ٹالا نہیں جا سکتا۔

بڑا نیک بچہ ہے‘ اللہ تم دونوں کے ساتھ میں برکت ڈالے‘ جلدی گود ہری ہو تمہاری۔“اماں بی کا دل خوش ہو گیا۔ پھر کچھ سوچ کر وہ بتانے لگی تھیں۔

ثروت کا قیام زیادہ طویل نہیں ہوگا۔ اس کی سسرالی زمینوں کا جھگڑا چل رہا ہے۔ فیصلہ ہو گیا تو بیٹی کو لے کر اپنے گھر چلی جائے گی۔ ان بدبختوں کو خوف خدا نہیں۔ یتیم بچی کا حق مار کر کون سے محل کھڑے کر لیں گے۔

اللہ بہتر فیصلہ کرے ان ماں‘ بیٹی کے حق میں۔

اماں بی! میری تو خواہش ہے خالہ اور سوہنی ہمیشہ میرے پاس رہیں۔“وہ خلوص دل سے بولی۔

میں تو خوش نصیب ہوں اماں بی! کہ کسی بے آسرا کو میری وجہ سے ٹھکانہ مل گیا ہے‘ نہ جانے اللہ کو کوئی سی بھی ادا پسند آ جائے۔

تمہاری ساری تمنائیں اور نیک خواہشات بارگاہ ایزدی میں قبولیت کا درجہ پائیں۔

اماں بی کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

بیٹی! جانے والے کہاں رکتے ہیں‘ چار دن آزمائش کے تھے۔ ثروت کی بھی اور ہماری بھی‘ ہم تو مانو اس آزمائش میں پورا نہیں اتر سکے‘ فیل ہو گئے‘ کیا تھا جو دو دن کوثر اور صبر سے کام لیتی۔ یوں انہیں محلے میں رسوا نہ کرتی۔ گھر سے نہ نکالتی۔

اللہ کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے۔ کوثر باجی یہ سنگین قدم نہ اٹھاتیں تو میرے ذہن کی کھڑکی بھی شاید نہ ہی کھلتی۔

میں تو بھول ہی چکی تھی کہ آپ نے مجھ سے ثروت خالہ کے قیام کے متعلق کچھ کہا تھا۔

یہ رحم بھی خدا کسی کسی کے دل میں ڈالتا ہے۔ ورنہ اس رات تماشائی تو بہت تھے‘ پر کسی کے دل میں خوف خدا نہ جاگا۔“ اماں بی استغفار پڑھتی اٹھ رہی تھیں۔

بیٹی! دروازہ بند کر لو‘ ثروت بھی اوپر چلی گئی ہے‘ سامی عصر کے بعد آ جاتا ہے نا۔

جی… اگر کوئی کام نہ ہو تو۔

وہ سلیپراڑس کر اٹھ گئی۔

تمہاری پھوپھی ٹھیک ہیں اب‘ کسی دن ان کی بھی عیادت کرنے جاؤں گی۔“ اماں بی گویا خود کلامی کے سے انداز میں بول رہی تھیں۔

پہلے سے بہتر ہیں۔“ وہ بھی پر سوچ سی کہنے لگی۔ ”اس بے وفا شازی کا حال دیکھو‘ کبھی چکر لگانے کی توفیق نہیں ہوئی‘ کسی دن جاؤں گی میں سامی کے ساتھ۔“ سونی گیٹ بند کرکے اندرونی حصے کی طرف بڑھ گئی تھی۔

اتوار کے روز سوہنی کی بھی چھٹی ہوتی تھی اور سامی کی بھی… مگر اس روز خالہ اور سوہنی نیچے بالکل نہیں آتی تھیں۔ خالہ بہت سمجھ دار اور معاملہ فہم خاتون تھیں اور سونی ان کی سمجھ داری کو دل ہی دل میں بہت سراہتی تھی۔

عام دنوں میں بھی سوہنی اپنا اور خالہ کا رات کا کھانا اوپر لے جاتی تھی۔ جس روز سامی لنچ گھر میں آکر کرتا تھا اس روز بھی خالہ یا سوہنی اپنا کھانا نکال کر لے جاتیں۔

وہ ان کی تنہائی میں کبھی مخل نہیں ہوئی تھیں۔ نہ ہی بلا ضرورت اوپر نیچے کے چکر لگاتی تھیں۔ سامی کا سوہنی سے آمنا سامنا بہت کم ہوتا تھا۔

چھٹی والا دن سونی کا بہت مصروف گزرتا تھا۔ سامی کے فرمائشی پروگرام ہی ختم ہونے کا نام نہیں لیتے تھے اور جب سے سوہنی نے اس کی ذمہ داریاں بانٹ لی تھیں۔

سونی کافی آرام طلب ہو گئی تھی۔ کام نبٹنے اور سمٹنے کا نام نہیں لیتے تھے۔

اب بھی سامی کیلئے چائے بناتے ہوئے اس کے ہاتھ سے برتن چھوٹ چھوٹ کر گرتے رہے۔

سارا دن پلنگ توڑنے کا یہ ہی نتیجہ ہے۔ تمہیں کام کرنا بھول چکا ہے سونی۔“ وہ اس کا دل جلانے کیلئے معمول کے مطابق اپنا چہرہ کچن کے چوکھٹے میں سجا کر کھڑا ہو گیا۔

میں خالہ کو منع کرتا ہوں۔ اپنی بیٹی کو اوپر تک محدود رکھیں۔ ورنہ سونی تو اور بھی ناکارہ ہو جائے گی۔

فریج کے پاس کھڑی ہو کر آواز لگائے گی۔ سوہنی! بوتل تو نکال دو۔ میں نے کچھ غلط تو نہیں کہا۔ اتنا مت گھورو‘ ڈیلے باہر نکل آئیں گے۔

دفع ہو جاؤ تم‘ ورنہ چائے ہرگز نہیں ملے گی۔

اس دھمکی سے ذرا پرہیز کیا کرو‘ میں خالہ سے یا ان کی دختر سے بنوا لوں گا۔ ویسے وہ تم سے زیادہ اچھی چائے بناتی ہے۔“ سامی نے اسے چڑانا چاہا۔

واقعی‘ تم ٹھیک کہتے ہو۔

سوہنی چائے بنائے تو حلق تک خوشبو سے مہک اٹھتا ہے۔“ سونی نے زور و شور سے تائید کی۔

یا حیرت‘ تم میری بات سے اختلاف نہیں کر رہی۔“ سامی نے حیران ہونے کی اداکاری کی۔

ڈھنگ کی بات کرو گے تو اختلاف نہیں کروں گی۔

یہ چائے بنائی ہے یا جوشاندہ۔“ شامی مگ پکڑ کر چیخا۔

چائے ہے‘ ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو۔“ وہ بے نیازی سے بولی۔

اتنی کالی‘ میں نہیں پیوں گا۔“ مگ سلیب پر پٹخ کر سامی نے ناراضی سے کہا۔

تو نہ پیو۔“ وہ اطمینان سے بولی۔ ”ضائع تو نہیں کروں گی۔“ سونی مزے سے مگ پکڑ کر باہر نکل آئی۔

مجھے اور بنا کر دو۔“ سامی بھی اس کے پیچھے چلا آیا۔

اب تین گھنٹے بعد ہی ملے گی۔“ وہ ٹی وی آن کرکے بیٹھ گئی۔

یعنی جب تم خود پیوگی۔“سامی چیخا۔

یہ میری قدر ہے۔

نخرہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ تمہارے لئے بنائی تھی‘ پی لیتے۔“ وہ مزے سے چینل سرچنگ میں مصروف ہو گئی۔

اٹھو… مجھے چائے بنا کر دو۔“ سامی کے انداز میں تحکم تھا۔

سوری… میرا فیورٹ ڈرامہ آ رہا ہے۔

سونی!“ وہ خفگی سے اسے دیکھ کر رہ گیا۔ ”ڈرامہ چائے سے زیادہ ضروری ہے۔

ہاں…“

ڈرامہ تم بھی نہیں دیکھ سو گی۔

وہ بھی سامی تھا۔ غصے سے بھنا کر اٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد لائٹ چلی گئی تھی۔ سونی اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔

اتنا زبردست سین چل رہا تھا۔ احسن خان اور عائشہ خان بے حیائی کے ریکارڈ توڑ رہے تھے۔

سونی!“ سیڑھیاں اتر کر سوہنی نیچے چلی آئی تھی۔ ”کیا بات ہے؟“ سونی اس کی طرف متوجہ ہوئی۔

سامی بھائی سے کہیں‘ موٹر بعد میں ٹھیک کر لیں‘ تھوڑی دیر کیلئے مین سوئچ آن کر دیں۔

میں یہ چادر استری کر لوں۔“ وہ لجاجت سے کہہ رہی تھی۔

اوہ… تو یہ کارنامہ سامی کا ہے‘ بدتمیز نہ ہو تو۔“ سونی سمجھ کر کھڑی ہوئی۔ ”سامی موٹر ٹھیک کرنے لگا ہے‘ تمہیں سامی نے بتایا ہے؟

نہیں… اماں کو بتایا ہے‘ وہ بالکونی میں کھڑی تھیں۔ سامی بھائی گیراج میں مین سوئچ کے بٹنوں کو چھیڑ رہے تھے۔ کہنے لگے کچھ دیر کیلئے لائٹ آف کرنے لگا ہوں‘ موٹر ٹھیک کرنی ہے‘ پانی ٹھیک سے نہیں آ رہا۔

سوہنی نے اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں سامی کی کارستانی اس تک پہنچائی تھی۔ وہ کچھ بولنے لگی تھی‘ جب سامی کو اندر آتا دیکھ کر خاموش ہو گئی۔

دیکھ لیا ہے ڈرامہ‘ واپڈا والے بھی اچھے موقعوں پر ساتھ دیتے ہیں۔“ وہ مزے سے اسے چڑاتا صوفے پر ڈھے گیا۔

مگر لائٹ تو آپ نے آف کی ہے سامی بھائی!“گھنٹیاں بجاتی اس آواز نے سامی کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔

میرا اس محکمے سے کوئی تعلق نہیں۔“ وہ گڑبڑا کر بولا۔ ”میں تمہیں لائن مین نظر آتا ہوں۔

میرا مطلب ہے آپ نے مین سوئچ کے بٹن…“

کب؟ کہاں؟ کس وقت؟“ سامی چیخا تھا جبکہ سوہنی گھبرا کر بات ادھوری چھوڑ کر خاموش ہو گئی۔

تم نے مجھے کہاں دیکھا ہے؟

میں نے نہیں اماں نے دیکھا تھا۔“ وہ منمنائی۔

اچھا… اچھا۔

سامی آئیں بائیں کرنے لگا۔ ”تمہاری انٹری بھی بے موقع نہیں‘ جاؤ شاباش‘ ایک کپ چائے بنا لاؤ۔

سوہنی چندا! میرے لئے بھی‘ سچی اپنے ہاتھ کی چائے میں ذرا مزا نہیں رہا۔“ سونی نے بھی ہانک لگائی۔ وہ سر ہلا کر کچن کی طرف بڑھ گئی۔

کچھ شرم کرو۔“ سامی نے تاسف سے اسے دیکھا۔

تمہیں شرم آئی‘ اسے چائے کا کہتے ہوئے۔

یہ خواتین کا شعبہ ہے۔

سامی کو بات گھمانے میں کمال حاصل تھا۔

لنچ میں کیا بناؤں؟“ وہ باآواز بلند سوچ رہی تھی۔

دال‘ چاول بنالیں۔“ سوہنی ٹرے میں دو کپ رکھے چلی آئی تھی۔

تمہیں پسند ہیں؟“ سونی نے پوچھا‘ وہ سوچ رہی تھی کہ ساتھ چکن بنا لے گی‘کیونکہ سامی دال چاول دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔

جی…“ وہ سر جھکا کر بولی۔ ”دراصل اماں کی طبیعت ٹھیک نہیں۔

وہ مسور کی دال کھانا چاہتی ہیں۔“ سوہنی سخت شرمندگی کا شکار تھی۔ اپنی کوئی فرمائش ایسے لوگوں تک پہچانا جن کے پہلے ہی بے شمار احسانات ہوں‘ کس قدر مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ مگر وہ بھی کیا کرتی‘ اماں کی جب بھی طبیعت خراب ہوتی‘ گلا دکھنے لگتا یا زکام‘ کھانسی کی شکایت ہوتی‘ وہ مسور کی دال پکواتی تھیں اور منٹوں میں بھلی چنگی ہو جاتیں۔

ٹھیک ہے‘ ابھی دال چاول بنا لیتے ہیں اور سامی! تم چکن کھاؤ گے؟“ سونی نے بغیر جرح کئے اثبات میں سر ہلا دیا تھا اور سوہنی کی آنکھوں میں تشکر کی نمی چھلکنے لگی تھی۔

سیاہ ریشمی پلکوں پر اٹکی شبنم پر اک سرسری نگاہ ٹھہری تھی‘ مگر سامی لمحہ بھر کیلئے دم بخود رہ گیا تھا۔ نگاہیں گویا ہٹنے سے انکاری ہو گئیں۔

سامی!“ وہ چائے کی طرف متوجہ تھی۔ساتھ ساتھ ہاتھ میں پکڑا میگزین بھی دیکھ رہی تھی۔

بتاؤ نا چکن بناؤں یا کوئی سبزی وغیرہ۔

لنچ میں تو کچھ ہلکا پھلکا ہی ہونا چاہئے‘ چکن وغیرہ کا تردد کرنے کی ضرورت نہیں‘ یہ ہی ٹھیک ہے نا‘ دال چاول۔

وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔ چائے میز پر رکھی تھی‘ سونی حیران ہی تو رہ گئی تھی۔ اگر کچھ غور کرتی تو ضرور ٹھٹک جاتی۔ سامی کا رویہ معمول سے ہٹ کے تھا‘ چند پل میں ہی الجھا دینے والا۔

سامی دال چاول کھائے گا یا حیرت۔“ اب وہ سوہنی سے مخاطب تھی۔ ”یہ کایا پلٹ کیسے ہوئی۔“ وہ سوہنی سے پوچھ رہی تھی۔ جو اس کی طرح ہی انجان تھی۔ اپنی سادگی میں سونیا حسام سہیل بہت سی واضح چیزوں کو بھی نظر انداز کر دیتی تھی۔

سونی! یہ رکھ لونا۔“ وہ کب سے پندرہ سو روپے ہاتھ میں دبائے اصرار کئے جا رہی تھی۔

کیوں رکھوں؟“ سونی کو غصہ آ گیا۔

ہم ادھر سے کھاتے ہیں‘ کرایہ تک آپ لیتی نہیں‘ یہ پیسے تو رکھ لیں نا۔“ سوہنی منمنائی۔ ”اب میں تمہیں ایک جھانپڑ لگاؤں گی۔

پلیز سونی جی! اتنا زیر بار نہ کریں‘ آپ یہ رکھ لیں‘ گیس اور بجلی کا بل ہی سہی۔

وہ ابھی تک اپنی بات پر اڑی ہوئی تھی۔

چندا! یہ پیسے میں نہیں لے سکتی‘ تم خالہ کی دوائیں منگوا لینا۔ اپنے لئے جمع کر لو‘ مشکل وقت میں کام آئیں گے۔ رہا کھانے پینے کا سوال تو تم اپنے نصیب کا کھاتی ہو اور کرایہ وصول کرکے میں نے کون سا محل کھڑا کر لینا ہے‘ ابھی تم انہیں سنبھال کر رکھو‘ تمہاری محنت کی کمائی ہے۔“ سونی نے اس کی بھرائی آنکھوں پر نرمی سے ہاتھ رکھا تھا۔

وہ اس سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

سونی جی! آپ کیا چیز ہیں؟رحم دل پری‘ نیک شہزادی یا انسان کے روپ میں فرشتہ۔

ارے‘کچھ بھی نہیں ہوں میں‘بہت حقیر انسان ہوں۔“وہ ہنس پڑی۔ ”چل آنسو تو صاف کر۔“ سوہنی بھی روتے روتے مسکرانے لگی تھی۔دھوپ‘ چھاؤں سے اس روپ کی سونی نے دیکھا اور دل ہی دل میں ماشاء اللہ کہا۔

رات کو وہ سامی کو آج کا تازہ ترین سوہنی کا کارنامہ بتا رہی تھی۔

تم نے پندرہ سو روپے لے لئے؟“ سامی نے ناقابل فہم سے انداز میں پوچھا۔

ہاں…“ وہ محض سامی کے تاثرات جانچنا چاہ رہی تھی۔ تبھی غلط بیانی کرتے ہوئے سنجیدگی سے بولی۔

اتنی نیچ حرکت۔“ سامی کو گویا یقین نہیں آ رہا تھا۔ ”تم نے واقعی روپے لے لئے۔

تو اور کیا؟

مگر کیوں؟“ سامی کو بہت برا لگا۔“ اتنی معمولی سی رقم لیتے ہوئے تہیں قطعاً شرمندگی نہیں ہوئی۔

نہیں۔“ سونی اطمینان سے بولی۔

واہ جی واہ! ویسے تو بڑی ہمدرد بنتی ہو۔“ وہ طنزیہ بولا۔ ”کیا سوچتی ہوگی۔

کون؟

سوہنی… میرا مطلب ہے سوہنی کی ماں یعنی خالہ ثروت۔“ سامی نے گڑبڑا کر وضاحت کی۔

تو سوچتی رہیں۔“ سونی لاپروائی سے اپنے مساج میں مصروف رہی۔ ”مفت میں یہاں رہ رہی ہیں۔ کھاتی ہیں‘ پانی‘ بجلی‘ گیس حتیٰ کہ فون تک استعمال کرتی ہیں۔

میں نے پیسے لے لئے ہیں تو کون سا قیامت آ گئی ہے۔“ سونی کو جھوٹ بولنے میں مزا آ رہا تھا۔ اپنے تئیں وہ سامی کو چڑا رہی تھی‘ یہ دیکھے بغیر کہ سامی کی آنکھوں میں کیسے کیسے رنگ چھلک رہے ہیں۔ وہ سلگ رہا تھا‘گیلی لکڑی کی طرح۔ جی چا رہا تھا‘ اس نیک پروین کو دو جھانپڑ لگا دے۔ ویسے تو رحم دلی کی تقریریں کی جاتی تھیں اور اب یہ گھٹیا حرکت نہ جانے کیا ثابت کرنے کیلئے کی تھی۔

صرف یہ جتانے کیلئے کہ وہ دو بے آسرا خواتین ان محترمہ کے مکان میں رہ رہی ہیں۔

تم…“ وہ کچھ سخت الفاظ بولتے بولتے لب بھینچ کر خاموش ہو گیا۔ اپنے جذبات اور احساسات کی اسے خود سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ وہ کیوں غصہ کر رہا تھا؟ سونی سے کیوں الجھ رہا تھا؟ اگر سونی نے پیسے لے بھی لئے تھے تو یہ سونی کا معاملہ تھا۔ اسے اس قدر جذباتیت دکھانے کی کیا ضرورت تھی؟

میں نے اچھا کیا ہے نا۔

وہ کروٹ کے بل لیٹے سامی کو چھیڑ رہی تھی۔

بھاڑ میں جاؤ تم۔“ سامی نے تکیے میں منہ گھسا لیا۔

تمہیں کیا ہوا ہے؟“ وہ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے حیرانی سے بولی۔مساج کی مصروفیت ترک کر دی گئی تھی۔

کچھ نہیں۔

سونے لگے ہو؟‘ وہ پیار سے اس کے قریب جھکتے ہوئے بولی۔

ہاں۔“ سامی رکھائی سے بولا۔

اتنی جلدی۔

وہ گھڑی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ابھی صرف نو ہی تو بجے تھے جبکہ وہ دونوں ایک دوسرے سے فضول گفتگو کے چکر میں ایک‘ دو بجا کر سوتے تھے۔

نیند آ رہی ہے۔

مجھے ابھی باتیں کرنا ہیں۔“ وہ ٹھنکی۔

مگر مجھے نہیں کرنا۔

سامی کے بچے! اُٹھو نا۔“ وہ اس کا بازو ہلا رہی تھی۔

سونے دو‘ ورنہ میں دوسرے کمرے میں چلا جاؤں گا۔

اس نے گویا دھمکی دی تھی۔ سونی ششدر رہ گئی۔

تم دوسرے کمرے میں چلے جاؤ گے“ وہ گویا بے یقین تھی۔

ہاں…“ وہ پھاڑ کھانے کو دوڑا۔

اس طرح کیوں بات کر رہے ہو۔“ سونی روہانسی ہو گئی۔

مجھے اسی طرح بات کرنا آتی ہے۔“ وہ چٹخا۔

سامی!“ وہ دم بخود ساکت تھی اور سامی تکیہ اٹھا کر دوسرے کمرے میں جا رہا تھا۔ شازی کے ساڑھے تین سال میں پہلی مرتبہ‘ پہلی مرتبہ‘ نہ جانے کیوں؟ کیا وجہ تھی؟ آخر سامی کو ہوا کیا تھا؟ سامی نے ایسا کیوں کیا؟ وہ بہت سے سوالوں کے درمیان چکرا رہی تھی۔

یہ کون ہے؟“ شازی الگنی پر کپڑے پھیلاتی سوہنی کو دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔ سوہنی نے مشین لگا رکھی تھی۔ ساتھ ساتھ وہ حلیم بھی پکا رہی تھی۔ خالہ‘ سونی کے کپڑے سلائی کر رہی تھیں۔ شازی ابھی ابھی آئی تھی۔ بچہ بھی ساتھ تھا‘ جسے دیکھ کر سونی دیوانی ہو گئی تھی۔ چوم چوم کر اسے رلا دیا تھا۔ شازی تو اس جیتی جاگتی چینی کی گڑیا کو دیکھ کر دم بخود تھی۔

 

سوہنی ہے۔“ وہ عادل کو ہنسانے کی کوشش میں اوٹ پٹانگ حرکتیں کر رہی تھی۔

سوہنی ہے‘ رج رج کے سوہنی ہے۔ مجھے بھی نظر آ رہا ہے‘ مگر یہ ہے کون؟“ شازی سنجیدہ تھی۔

خالہ ثروت کی بیٹی ہے۔ اماں بی کی رشتہ دار ہیں۔ اوپر کی منزل میں رہتی ہیں۔ کسووال سے آئی ہیں۔

اماں بی کی رشتے دار یہاں کیوں رہی رہی ہیں۔

شازی دبی آواز میں بولی تھی۔

سونی نے اسے تمام تفصیل اور ساری روداد سنا دی۔

تیرا دماغ چل گیا ہے سونی!“ شازی نے اپنا ماتھا پیٹا۔

تجھے کیا ضرورت تھی انہیں اپنے گھر میں لے کر آنے کی۔

کیوں؟ کہاں دھکے کھاتیں یہ‘ کوثر باجی نے گھر سے نکال دیا تھا۔ میرے ضمیر نے گوارا نہیں کیا۔ وہ میرے دروازے کے سامنے سے گزر کر نعمت بے بے کے گھر بیٹھی تھیں۔ بے یارو مددگار‘ آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر ویرانی لئے میں تو سرتاپاؤں کانپ کر رہ گئی تھی‘ میرے دل نے فیصلہ کیا تھا اور میں نے دل کی مان لی۔

سونی بھی سنجیدہ ہو گئی۔

اور تو اس چلتی پھرتی قیامت کو گھر لے آئی۔

کیا مطلب؟“ وہ بھی ٹھٹک گئی۔

تجھے کبھی عقل نہیں آئے گی۔ بھوسہ بھرا ہوا ہے تیرے دماغ میں۔

میں سمجھی نہیں۔“ سونی سچ مچ نا سمجھی کے انداز میں اسے دیکھ رہی تھی۔

تب تم سمجھو گی‘ جب پانی سر سے اونچا ہو گیا۔“ شازی نے ریں ریں کرتے عادل کو زور کا دھمو کا جڑا۔

کھل کر بتاؤ۔

اس حسین مورت کو گھر میں رکھنے کی بھلا کیا تک بنتی تی۔ آگ اور تیل کو آمنے سامنے یا قریب قریب رکھنا کہاں کی عقل مندی ہے۔“ شازی خطرناک حد تک سنجیدہ تھی۔

سوہنی ایسی ویسی لڑکی نہیں۔“ سونی سمجھ چکی تھی‘ تبھی روکھے سے لہجے میں بولی۔

سوہنی میں بڑی خوبیاں ہوں گی‘ بہت اچھی ہوگی‘ مگر مردوں کا بھلا کیا بھروسہ‘ ایسی من موہنی صورت دیکھنے کے ساتھ ہی دل پانی بن کر بہنے لگے اور تم بے عقل۔

شازی دانت پیس کر رہ گئی۔

تم سامی کو اس طرح کا مرد سمجھتی ہو۔“ وہ ناراضی سے بولی۔

مرد سارے ایک جیسے ہوتے ہیں

مگر سامی ایسا نہیں۔“ سونی اٹھ کر چلی گئی تھی۔ واپس آئی تو ہاتھ میں کیلے تھے۔ اب وہ عادل کو کیلا کھلا رہی تھی۔

اسی خوش فہمی میں گم رہنا۔“ شازی تیکھے انداز میں بولی۔ ”اور یہ محترمہ تمہارے گھر میں مالکانہ انداز لئے کام کاج میں مصروف ہیں۔

وہ میرا ہاتھ بٹانے کیلئے…“ سونی سے بات نہیں بن پائی تھی۔

میری بات سنو سونی! تم بہت سادہ طبیعت رکھتی ہو‘ لوگوں کے چلن سے کہاں واقف ہو۔“ وہ نرمی سے سمجھا رہی تھی۔ ”پھر مرد ذات پر بھروسہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے سامی ہے کہاں؟“ شازی پوچھ رہی تھی۔ اسی اثناء میں سامی اندر چلا آیا۔

تم کہاں سے راستہ بھول آئی ہو۔

سامی نے خود پر بڑی دقتوں کے ساتھ بشاشت طاری کی تھی۔

اور تم دونوں نے کبھی راستہ بھولنا بھی گوارا نہیں کیا۔“ شازی بھی بھلا کہاں چوکتی تھی۔

سونی نے کبھی کہا نہیں۔“ وہ اس کے کندھے پر بندوق رکھے مسکرا رہا تھا۔ سراسر مصنوعی مسکراہٹ۔

ایک ہزار مرتبہ تو اس مہینے میں کہہ چکی ہوں۔ یہ وزیراعظم سے بھی زیادہ مصروف ہے۔

سونی نے جتا کر کہا۔ اس پل سوہنی دروازہ کھولے اندر چلی آئی۔

کھانا لگا دوں؟

ہاں…“ سونی کسی سوچ میں گم تھی۔

کیا پکایا ہے؟“ شازی تو دنگ ہی رہ گئی تھی۔ جب اس نے سامی کے جگمگاتے چہرے کی طرف دیکھا‘ وہ سونی کی بجائے سوہنی سے پوچھ رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں ستاروں کی سی چمک تھی۔

یہ سونی کیا اندھی ہے؟ اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا؟“ شازی بے تحاشا پریشان سی سوچے گئی۔

حلیم اور روٹی۔“ سوہنی نے سادگی سے بتایا۔

شازی کیلئے چار‘ پانچ روٹیاں بنانی تھیں۔“ وہ شازی کو چھیڑ رہا تھا اور اس کا موڈ دیکھ کر شگفتہ ہوا تھا۔ شازی دھک سے رہ گئی۔

کچھ میٹھا بھی بنا لینا تھا۔ آخر ہمارے مہمان پکے لاہوری ہیں۔ حد سے زیادہ چٹورے۔

کسٹرڈ بنایا ہے۔ ڈبل روٹی کی پڈنگ بھی ہے۔“ سوہنی‘ عادل کو پیار کر رہی تھی۔

شازی! سوہنی کے ہاتھ کا کھانا کھا کر یہیں ڈیرہ مت لگا کر بیٹھ جانا۔“ وہ ہنس رہا تھا۔

سونی کے ہاتھ میں بھی بہت لذت ہے۔“ نہ جانے کیوں شازی نے روکھے سے انداز میں جواب دیا۔

یہ لذت ہمیں تو محسوس نہیں ہوئی آج تک۔“سامی مذاق تو نہیں کر رہا تھا۔ اب کے سونی بھی چونک گئی۔

تم نئے نئے ذائقے چکھ رہے ہو‘ اب تو کچھ یاد بھی نہیں رہے گا تمہیں۔

شازی نے مسکرا کر طنز کیا۔

یہ تو تم نے ٹھیک کہا۔“ سامی نے فوراً تسلیم کر لیا تھا۔

سوہنی کے ہاتھ میں ذائقہ ہے‘ اپنی سونی سے پوچھ لو‘ یہ بھی گواہی دے گی۔

ہاں… واقعی۔“ سونی اب کچل کر رہ گئی تھی جبکہ سوہنی خود کو ڈسکس ہوتا دیکھ کر منظر سے ہٹ گئی تھی۔

کھانا کھاتے ہوئے سامی نے سوہنی کو پکارا تھا۔ جو آخری چپاتی رکھے جا رہی تھی شاید اوپر۔

سوہنی! تم بھی آؤ نا۔

میں اماں کے ساتھ کھالوں گی۔“ وہ سنجیدگی سے بولی۔

یار! مہمان کا ساتھ دو‘ شازی بڑی مزے کی گفتگو کرتی ہے۔ وہ بھی طنزیہ۔“ سامی مزے سے کہہ رہا تھا۔

آجاؤ سوہنی! اتنے اصرار سے سامی کم کم کسی کو بلاتا ہے۔“ شازی نے پانی کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگا لیا۔

دیکھا‘ میں نہ کہتا تھا‘ شازی سے زیادہ اچھے طنز تو کوئی کر ہی نہیں سکتا۔

سامی نے گویا سردھن لیا۔

آجاؤ یار! بیٹھو یہاں۔“ وہ جو تذبذب میں کھڑی تھی۔ لب کچلتے ہوئے بیٹھ گئی۔

کیا لو گی کڑھی یا حلیم۔“ اس اپنائیت اور توجہ کو شازی کے ساتھ ساتھ سونی نے بھی محسوس کیا تھا

میں کھا لوں گی‘ آپ پلیز کھائیں۔“ سونی بری طرح گھبرا گئی۔

کیا تعلیم ہے تمہاری‘ سنا ہے اسکول میں پڑھاتی ہو۔

شازی نے تلخ سے انداز میں پوچھا۔

ایم اے کیا ہے۔“ وہ دھیمی آواز میں بولی۔

یہاں کب تک قیام کا ارادہ ہے؟“ شازی سے ایسے سوال کی نہ سامی کی توقع تھی‘ نہ سونی کو۔

جی…“ سوہنی کی آواز حلق میں پھنس کر رہ گئی۔

میں نے کچھ غلط پوچھ لیا ہے۔“ سازی نے معصومیت سے فرداً فرداً سب کی طرف دیکھا۔ سامی کے چہرے پر واضح ناگواری جھلک رہی تھی۔

پتا نہیں جی! وقت کیا فیصلہ کرتا ہے۔

سوہنی کی آواز بھرا رہی تھی۔

بڑا فلسفیانہ سا جواب ہے ماشاء اللہ سے۔“ شازی نے پھر سے طنز کا تیر پھینکا۔

سونی! سویٹ تو لے آؤ‘ لگتا ہے شازی کو میٹھے کی ضرورت ہے‘ میاں صاحب سے کڑوی سی ڈوز لے کر آئی ہے۔“ سامی نے بھی نفیس سا طنز کیا۔

سنا ہے‘ تمہاری پروموشن ہو گئی ہے۔“ یہ خبر سونی کیلئے سچ مچ کا دھماکہ ثابت ہوئی تھی۔

اس کے ہاتھ سے نوالہ چھوٹ کر پلٹ میں گر گیا۔

لگتا ہے تم نے سونی کو یہ خوش خبری نہیں سنائی۔“ شازی چبا چبا کر بولی۔

دراصل میں…“ وہ رک ساگیا۔ ”سرپرائز دینا چاہ رہا تھا اسے۔“ صاف لگ رہا تھا۔ سامی نے بات بنائی ہے۔

اچھا…“ شازی کھانا کھا چکی تھی۔ بلکہ اس نے کھایا کہاں تھا محض خانہ پری کی تھی اور زندگی میں شاید پہلی مرتبہ وہ کھانے کی طرف متوجہ نہیں ہوئی تھی۔

اس کا ذہن تو کئی دنوں سے منتشر تھا۔ اس کے میاں نے ابھی کل شام اسے بتایا تھا کہ سامی پراپرٹی ڈیلر سے کسی مناسب سے گھر کا مطالبہ کر رہا تھا۔ مگر کس کیلئے؟ کیوں؟ آخر کیا وجہ تھی؟ پوری رات وہ سو نہیں پائی تھی۔ صبح ہوتے ہی ساس کی بڑبڑاہٹ کی پروا کئے بغیر وہ بھاگی چلی آئی تھی۔ ادھر آکر اس کا دماغ اور گھوم چکا تھا۔

جاتے سمے وہ صرف اتنا ہی بولی تھی۔

سونی! میں تیرے لئے دعا کر سکتی ہوں اور ضرور کروں گی‘ کرتی رہوں گی‘ تیرے آبگینے سے دل کو کبھی ٹھیس نہ پہنچے‘ سامی کی طرف سے تو کبھی نہیں۔

شازی‘ رک جا‘ میرا دل گھبرا رہا ہے۔“ سونی لب کچلتے درخواست کر رہی تھی۔

میں رک نہیں سکتی‘ میرے ساس کے مزاج کو تو تم جانتی ہو‘ گھر میں سو طرح کے بکھیڑے ہیں۔ چلتی ہوں اب‘ اپنا خیال رکھنا۔

عادل کو میرے پاس چھوڑ دو۔“ اس کی ہکلاہٹ‘ منتشر سوچوں کی عکاسی کر رہی تھی۔

تنگ کرے گا تمہیں‘ بہت چڑچڑا ہو رہا ہے آج کل۔“ شازی بچے کے کپڑے سمیٹ رہی تھی۔

دانت نکال رہا ہے؟

شاید۔“ وہ خود بھی سخت پریشان تھی اور سونی کو مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی مگر سونی کو بے خبر رکھنا بھی کہاں کی عقل مندی تھی۔

بہت دیر سوچنے کے بعد شازی آنگن میں رکھی چارپائی پر بیٹھ گئی تھی۔ سونی بھی حیران سی اس کے برابر بیٹھ گئی۔ ابھی تو شازی جانے کیلئے بے چین تھی‘ مگر اب۔

سونی! جو کچھ میں تمہیں بتانا چاہ رہی ہوں‘ تحمل سے سننا‘ صبح سے الفاظ ڈھونڈ رہی ہوں‘ مگر… کیا کروں‘ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیسے کہوں۔“ شازی کی تمہید میں لرزا دینے والے انکشاف کی بو سے ماحول پر سانسوں کو بوجھل کر دینے والی کثافت چھا گئی تھی۔

کیا کہنا چاہتی ہو شازی۔

سامی ان دنوں گھر ڈھونڈ رہا ہے۔ پراپرٹی ڈیلر سے بات کر رکھی ہے اس نے۔ کیوں کس لئے؟ کیا تمہیں نہیں خبر؟ سامی کو گھر کی کیوں ضرورت ہے؟“ شازی نے بڑے نرم الفاظ میں وضاحت کی تھی۔

گھر دیکھ رہا ہے۔“ سونی بے یقین سی تھی۔

تم دونوں کی لڑائی ہوئی ہے؟“ شازی پوچھ رہی تھی۔

لڑائی۔“ سونی تو ابھی تک شاک کی کیفیت میں تھی۔

چونک کر اسے دیکھنے لگی۔

لڑائی… ہاں‘ لڑائی تو ہوئی تھی‘ مگر روزانہ ہی لڑائی تو ہوتی ہے‘ عام سی کھٹی میٹھی‘ تیکھی‘ کڑوی‘ ہماری جھڑپوں سے تم بھی تو واقف ہو‘ بات نہ جانے کہاں سے شروع ہوئی تھی۔ میں نے بھی غصے میں سامی سے کہہ دیا تھا کہ وہ میرے گھر میں رہتا ہے‘ یہ گھر میرا ہے‘ میرے اماں‘ ابا کا۔ اس کے ابا تو اس کیلئے کچھ بھی نہیں چھوڑ کر گئے ترکے میں‘ بس اتنی سی بات ہوئی‘ کئی مرتبہ ہماری اسی موضوع پر نوک جھوک ہوتی رہی ہے‘ یہ کوئی ایسی سیریس بات تو نہیں تھی جو سامی الگ گھر دیکھ رہا ہے۔

سونی کا دماغ گویا سوچ سوچ کر دکھنے لگا تھا۔

بات کچھ اور ہے سونی! مزید کیا کہوں چلتی ہوں‘ اس کے ابو آگئے ہیں شاید۔“ اسکوٹر کی آواز سن کر شازی اس کے رخسار چوم کر اٹھ گئی تھی جبکہ سونی میں اتنی بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ شازی کو گیٹ تک چھوڑ ہی آتی۔ اللہ حافظ ہی بول دیتی۔ وہ بے جان سی چارپائی پر بیٹھی رہ گئی۔

سوہنی معمول سے ہٹ کر تیار ہوئی تھی۔ اس کے اسکول میں فنکشن تھا اور فنکشن کی مناسبت سے اس نے تیاری کر رکھی تھی۔ سوہنی کی اٹھان اتنی اچھی تھی کہ کچھ بھی پہن لیتی‘ بس دیکھنے کو جی کرتا۔

وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی تھی۔ سونی ٹھٹک کر اسے بغور دیکھ رہی تھی۔ گورا رنگ‘ ریشمی بال اور تیکھے نقوش‘ بلاشبہ وہ حسین لڑکیوں میں شمار ہوتی تھی۔

سونی کی نظریں اب سامی پر مرکوز تھیں۔ جو دنیا بھلائے سوہنی کو دیکھ رہا تھا۔ دیکھے جا رہا تھا‘ سونیا کے دل کی دھڑکن رک رک کر چلنے لگی۔

کہاں جا رہی ہو؟“سامی کو اس سے یہ پوچھنے کی بھلا کیا ضرورت تھی۔ سونیا کو یہ بات شدت سے محسوس ہوئی تھی۔

اسکول جا رہی ہوں۔“ وہ سادگی سے بولی۔ سونیا کی ایک دم یہ سادگی بناوٹ لگنے لگی تھی۔

اتنی تیاری کے ساتھ۔

جی… اسکول میں تقریب ہے۔“ وہ چادر اوڑھ رہی تھی۔

سونی جی! میں نے گڑ کا شربت بنا دیا ہے۔ بس گھی میں الائچی فرائی کرکے شربت ابال لیجئے گا اور پھر چاول ڈال کے دم دینا ہوگا۔“ وہ سونی کو گڑ والے چاول بنانے کے متعلق بنا رہی تھی۔ سونی کا ذہن تو کہیں اور تھا۔ اسے کچھ بھی سنائی نہیں دیا۔ وہ تو بس سامی کو دیکھ رہی تھی‘ دیکھے جا رہی تھی۔

آؤ‘ میں تمہیں چھوڑ آؤں۔“ سامی بائیک کی چابی اٹھائے کھڑا ہو رہا تھا۔

نہیں بھائی! میں چلی جاؤں گی۔“ سوہنی گھبرائی۔

کیسے جاؤ گی۔ اتنا بن سنور کر‘ میں چھوڑ آتا ہوں۔“ سامی نے کب سے تکلف کی حدود پار کرلی تھیں۔ سونیا نے توجہ ہی نہیں دی۔ اپنے سامنے سب کچھ دیکھتی رہی‘ سامی کے مذاق چھیڑ چھاڑ‘ وہ سامی کا مزاج سمجھ کر نظر انداز کرتی رہی تھی۔

سامی کی توجہ‘ سوہنی کا کترانا‘ گھبرانا‘ سر جھکائے پاس سے گزر جانا۔ سامی کی تشنہ سی نظریں۔ پردے ہٹتے چلے جا رہے تھے۔ منظر واضح ہو رہے تھے۔ وہ دونوں برابر کھڑے تھے۔ ایک ساتھ باہر جا رہے تھے۔ سامی اور سوہنی‘ ایک ساتھ چلتے ہوئے بہت مکمل لگ رہے تھے‘ منظر بھرپور تھا۔ اس میں کسی سونی کی گنجائش نکلتی تھی کیا؟ وہ سوچوں کی بھول بھلیوں میں گم تھی۔

وہ حیران تھی‘ ساکت تھی‘ غم زدہ بھی ششدر تھی۔

سونی! سونی پتر۔“ اماں بی کی آواز اس کے بہت قریب ابھری تھی۔

اماں بی!“ سونی نے کھوئی کھوئی نظروں سے اماں بی کو دیکھا تھا۔ دوسرے ہی پل وہ ان کے شفیق وجود میں گم سسک رہی تھی۔

سونی! میری بیٹی! کیا ہوا ہے؟ خیریت تو ہے۔“ اماں بی بری طرح سے گھبرا گئیں۔

میرا دل پھٹ رہا ہے اماں بی!“ وہ روئے جا رہی تھی۔

میری بچی! کیا ہوا ہے۔“ اماں بی خود بھی رونے لگیں۔ ان کا دل تو ویسے بھی بہت کمزور تھا۔

میں لٹ گئی ہوں اماں بی! میرا اعتبار‘ میرا یقین‘ میں برباد ہو گئی۔“ وہ سسک رہی تھی۔

ثروت! اوہ ثروت‘ نیچے آ۔“ اماں بی نے بلند آواز میں خالہ ثروت کو آوازیں دی تھیں۔ دوسرے ہی لمحے خالہ بھی جلدی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آ گئیں۔

دیکھ‘ میری بچی کو کیا ہوا ہے۔

اماں بی پھپک پھپک کر رو دیں۔

سونی! میری بیٹی‘ آنکھیں کھولو۔ اماں بی! یہ تو بے ہوش ہو گئی ہے۔ میں پانی لاتی ہوں۔“ خالہ کچن کی طرف دوڑیں۔

ہائے‘ یہ سامی کہاں گیا۔“ اماں بی سخت پریشان تھیں۔ سونی کی حالت دیکھ کر بوکھلا کر رہی گئی تھیں۔

شاید باہر نکلا ہے۔“ خالہ بھی گھبرا کر بولیں۔

تم ڈاکٹرنی کو فون کرو۔

پر اماں بی! مجھے تو نمبر نہیں آتا۔“ خالہ بے چارگی سے بولیں۔ ساتھ ساتھ سونی کے منہ پر پانی کے چھینٹے پھینک رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد گھریلو ٹوٹکوں کے استعمال سے اسے ہوش آ گیا تھا‘ مگر وہ مسلسل رو رہی تھی اور اس کا رونا ان دونوں خواتین کی سمجھ سے بالاتر تھا۔

یہ پندرہ سو روپے۔“ سوہنی پھر سے مٹھی میں چند نوٹ دبائے کھڑی تھی۔

پھر پیسے اٹھا لائی ہو“ کتنی مرتبہ سمجھایا ہے۔ اب میں تمہیں سچ مچ دو لگاؤں گی۔“ سونی تھکی تھکی آواز میں کہہ رہی تھی۔ اس کے لہجے میں پہلے والی بشاشت مفقود ہو کر رہ گئی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسے سامی سے وہ سب کچھ کہہ ڈالے جو اس کے دل کا ناسور بن رہا تھا۔

وہ سب کچھ‘ وہ سارے خدشات‘ خوف‘ شکوک جنہوں نے سونیا کی راتوں کی نیندیں اڑا کر رکھ دی تھیں۔

سونی جی! یہ میری تنخواہ کے پیسے نہیں۔“ وہ انگلیاں مروڑے کہہ رہی تھی۔

تو پھر؟“ اب کے سونی چونک گئی۔

سونی جی! یہ پیسے مجھے سامی بھائی نے دیئے ہیں۔ وہ اسکول مجھے چھوڑنے کیلئے گئے تھے نا اسی دن۔ اس وقت مجھے سمجھ نہیں آئی۔

میں حیران بھی تھی اور خوف زدہ بھی ہو گئی۔ اردگرد کے لوگوں کے متوجہ ہونے کا خدشہ تھا۔ اسی لئے خاموش ہونا پڑا۔ مگر مجھے ان پندرہ سو کی سمجھ نہیں آئی تھی۔ سامی بھائی نے مجھے یہ پیسے کیوں دیئے تھے۔ انہوں نے کہا‘ مجھے سخت شرمندگی ہے‘ سونی نے تم لوگوں سے گھر میں رہنے کی یہ حقیر سی رقم وصول کی ہے۔ مجھے سونی کی ذہنیت سے گھن آئی۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سونی تم لوگوں سے گھر میں رہنے کا کرایہ لے گی۔

یہ پیسے انہوں نے اسی لئے لوٹائے تھے۔ یہ میں ان سے کہہ نہیں سکی کہ آپ نے تو آج تک ان پانچ مہینوں میں ایک روپیہ تک نہیں لیا۔ سامی بھائی کو غلط فہمی ہوئی تھی‘ مجھے تو…“ سوہنی اور بھی نہ جانے کیا کچھ کہہ رہی تھی‘ مگر سونیا کو لگا وہ کچھ اور سن نہیں پائے گی۔ اس کی سماعتیں مفلوج ہو جائیں گی یا اس کا دل پھٹ جائے گا۔ اس دل میں کوئی نیزہ اترا تھا یا بھالا‘ وہ سمجھ نہیں پائی تھی‘ مگر یہ جو آتش فشاں ابل رہا تھا اسی رات ہی گویا پھٹ پڑا۔

اس کے پھٹتے ہی سونی کی پوری عمارت پورے قد سے زمین بوس ہو گئی تھی۔ بھرم کا ہلکا سا بلوریں شیشہ نہ جانے کب ٹوٹا تھا۔ سونیا حسام سہیل کو آج کی رات اندازہ ہو گیا تھا۔ وہ تو ایک تباہ شدہ عمارت ہے‘ ٹوٹی‘ پھوٹی ریزہ ریزہ عمارت۔

اس نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ وہ سامی کے گریبان تک ہاتھ کرے۔ مگر جب مان‘ اعتبار اور اعتماد کا خون ہو تو اس سے رہا نہیں گیا تھا۔

وہ بپھر گئی تھی اور بپھرے دریا تباہی تو مچاتے ہیں۔

تم نے میرے ذرا سے مذاق کو نہیں سمجھا۔تم مان گئے کہ سونیا اتنی گھٹیا‘ اتنی ہی پشت ذہنیت کی ہو سکتی ہے کہ خالی ہاتھ ان دو عورتوں سے اس گھر میں رہنے کا خراج لے گی۔تم نے ایسا سوچا‘ یقین کیا اور سوہنی تک پہنچ گئے۔یہ پندرہ سو لوٹانے‘ جو وہ ابھی مجھے دے کر گئی ہے اور تم نے سامی!مجھے ذلیل کر دیا۔

رسوا کر دیا۔دو کوڑی کا کر دیا۔اس لڑکی کے سامنے جو میرے اور تمہارے لئے قطعاً اجنبی ہے۔ جس سے میں نے انسانیت کا رشتہ جوڑا۔ کالی رات جب ان کے سر پر پہنچی تو میں صبح کا پیغام لئے ان ماں‘ بیٹی کے پاس چلی گئی۔شکوہ مجھے ان سے نہیں تم سے ہے۔ تم نے میرا دل‘ میرا مان توڑا اور تم نے سامی! مجھے پوری کی پوری سونیا کو توڑ کر رکھ دیا۔“وہ چلا رہی تھی۔

رو رہی تھی‘ بین کر رہی تھی۔

چلاؤ مت۔“ سامی شرمندہ کہاں تھا۔ وہ تو دھاڑ رہا تھا۔

بات کھل گئی ہے تو کچھ اور بھی سن لو۔ میں سوہنی سے شادی کرنے لگا ہوں۔ تمہارے اس محل سرا کو چھوڑ دوں گا۔ چار سال سے ذلیل کر رہی ہو‘ اس گھر میں رہنے کے طعنے دے رہی ہو۔ بہت حاکمیت پسندی ہے تم میں۔ آج تک مجھے شوہر نہیں سمجھا۔ میری تمہارے نزدیک اہمیت ہی کیا ہے۔

ہمیشہ جتاتی رہیں بڑا مان ہے تمہیں اس گھر کا۔ اپنے باپ کی سات دُکانوں کا‘ لعنت بھیج رہا ہوں میں ہر اس چیز پر جو مجھے تمہارے توسط سے ملی۔ تم نے مجھے عزت دی‘ نہ اہمیت دی۔ محبت کا سوال کرنا ہی بے کار ہے‘ مجھے تمہارے جیسی عورت سوٹ ہی نہیں کرتی۔خود پرست‘ ضدی‘ بدمزاج۔“وہ اس کے وجود کے پرخچے اڑا رہا تھا۔ ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل رہا تھا۔

اس کی محبت‘ اس کی وفا کی دھجیاں بکھیر رہا تھا۔

تم سوہنی سے شادی کرو گے۔“ سونی کو لگا تھا اس کے دماغ کی نس پھٹ جائے گی۔

ہاں۔“ وہ اٹل انداز میں بولا۔

مجھے چھوڑ دو گے؟“ سونی یک دم پتھر ہو گئی۔

نہیں۔“ یہ فیصلہ بھی شاید وہ پہلے سے کر چکا تھا۔ اسی لئے بغیر سوچے سمجھے بولا۔

اس کیلئے گھر ڈھونڈ رہے ہو؟

ہاں…“

سوہنی سے بات کرلی۔

وہ گویا اپنے ضبط کو آزما رہی تھی۔

نہیں‘ مگر مجھے یقین ہے‘ اسے اعتراض نہیں ہوگا‘ کیونکہ اس کے پاس کوئی اور آپشن جو نہیں۔“ وہ بڑے غرور سے کہہ رہا تھا۔ اس پر غرور سجتا بھی تھا۔ سونی کے دل میں گویا آخری نیزہ بھی اتر گیا۔ وہ بڑے ضبط سے مڑی‘ پلٹی اور… اور مسکرا دی۔یہ مسکراہٹ اور اس میں چھپی ”ہار“ حسام سہیل نے بھی محسوس کر لی تھی۔ اس ”ہار کو“ سونی نے تسلیم کر لیا تھا۔ تبھی تو وہ سر جھکا کر رہ گئی تھی اور اسی ہار میں چھپے نوحے دروازے میں کھڑی سوہنی نے بھی سن لئے تھے اور وہ سوچ رہی تھی کہ اس عورت نے اسے نوچا کھسوٹا کیوں نہیں۔ دھکے کیوں نہیں دیئے‘ گھر سے کیوں نہیں نکالا۔

میں سوہنی ہوں‘ ماں نے میری صورت دیکھ کر سوہنی نام تجویز کیا تھا۔ میں سوہنی ضرور تھی‘ مگر نصیب اتنے سوہنے نہیں تھے۔ آپ کو سب بتاتی ہوں‘ آج اگر کچھ نہ کہا تو کبھی نہ کہہ پاؤں گی۔“ وہ جس سے مخاطب تھی‘ وہ ہمہ تن گوش تھا۔

ابا مر گئے تو چچاؤں نے گھر بدر کر دیا‘ نانی کے آنگن نے پناہ دی‘ محبت بھی ملی اور نفرت بھی‘ حقارت اور ذلت کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہا‘ زندگی میں سکھ بہت کم دیکھے ہیں‘ دکھوں سے بھری ایک طویل داستان ہے‘ نہ آپ کے پاس وقت ہوگا‘ نہ میرے پاس‘ مختصر یہ کہ نانی کی مہربانی سے میں نے اپنے واحد شوق کو پایہ تکمیل تک پہنچایا تھا۔

میں نے تعلیم حاصل کی‘ جاب کرنا چاہی‘ تو ماموؤں کی غیرت جاگ اٹھی‘ سرکاری نوکری مل رہی تھی‘ مگر بعض حاسدوں نے روڑے اٹکا دیئے‘ پھر نانی مر گئیں‘ گھر والوں کے رویے بدل گئے‘ لہجے بدل گئے‘ چہرے بدل گئے‘ حتی کہ شکلیں بدل گئیں‘ ہمیں گھر بدری کا حکم نامہ مل گیا۔

اماں مجھے پروں میں چھپائے اماں بی کی پناہ میں لے آئیں۔ بدنصیبی نے یہاں بھی پیچھا کیا‘ ذلت ادھر سے ملنا ہی نصیب میں لکھا تھا۔

اماں بی کی غیر موجودگی میں جو کچھ کوثر بھابھی نے کہا تھا‘ پاک زبان ایسے گندے الفاظ بولنے کی ہمت کہاں سے پکڑے‘ گھر سے نکلنا ازل سے ہمارے مقدر میں تھا۔ جب اپنوں نے مان نہ بخشا‘ تحفظ نہ دیا تو غیروں سے کیسے گلے۔

بس لاج آ رہی تھی کہ گلی سے کیسے گزریں‘ غیرت دار ماں اپنی جوان بیٹی کا ہاتھ پکڑے پل پل مر رہی تھی۔ شرمندگی سے پاؤں بھاری تھے۔

محلے کی گلی پل صراط تھی‘ جہاں سے گزرنا تو تھا ہی‘ تماشا تو اہل محلہ دیکھ ہی چکے تھے۔ کچھ اور سین دیکھنا باقی تھے۔

کسی عزت دار گھرانے کی عورت نے کواڑ کھول کر ان درد کی ماری دو عورتوں کو پناہ کا سندیسہ نہ دیا۔ نیکی گلے بھی تو پڑ جاتی ہے۔ کون نیکیوں کے ڈھول بجائے؟ ایک بوڑھی عورت ترس کھا گئی۔ اس بے بس ماں کی جوان بیٹی پر اسے رحم آ گیا۔

اس نے کہا رات کے اس پہر مت اسٹاپ تک جاؤ‘ صبح سویرے نکلنا میرے گھر رات گزار لو‘ ہم لٹے پٹے چل دیئے‘ یہ نہیں پتا تھا‘ یہ نہیں خبر تھی کہ سنگ دلوں کی اس دنیا میں آبگینے جیسا نازک‘ حساس‘ شفاف اور بے انتہا نرم دل رکھنے والی ایک لڑکی بھی ہے۔ اسی محلے کے کسی گھر سے اٹھ کر ہمیں لینے کیلئے آ جائے گی۔ یہ انہونی ہو گی۔ ہم پناہ گاہ میں آکے محفوظ ہوئے۔

میری ماں حیران تھی۔

گھر میں رہتے ہوئے… بے انتہا اچھا وقت گزرا۔ مگر برا وقت بھی تو تعاقب میں رہتا ہے ہمیشہ۔ آپ کو شاید پتا نہیں‘ عورت کی نگاہ ہر رنگ کو پہچان لیتی ہے۔ میں نے آپ کی نظر کے بدلتے رنگ دیکھے اور جان گئی‘ اس گھر سے کوچ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

آپ نے کیسے سوچا سامی بھائی! میں آپ سے شادی کروں گی‘ کبھی نہیں‘ دنیا میں آخری مرد بھی آپ بچتے تو میں سونیا حسام کا حسام سہیل کبھی اس سے نہ چھینتی۔

ایک عورت ہی دوسری عورت کو تباہ کرتی ہے‘ برباد کرتی ہے‘عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔ مگر میں سونیا کا نہ دل اُجاڑ سکتی ہوں‘ نہ گھر‘میں اس کے آبگینے سے دل کو کیسے توڑوں؟کیا یہ دل پھر کسی درد کے مارے کسی مظلوم پر ترس کھائے گا؟رحم کھائے گا؟احسان کرے گا؟اعتبار کرے گا؟ اعتماد کرے گا؟ مجھے سونیا حسام کے دل کو توڑنا ہے‘ نہ مان کو‘ نہ اعتبار کو۔

سامی بھائی! ہم نے سامان باندھ لیا ہے۔ ابھی کسووال کیلئے نکل رہے ہیں۔ ہماری زمین کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ ددھیال سے مکان میں سے بھی حصہ ملا ہے۔ سر چھپانے کو جگہ مل گئی اور کیا چاہئے‘ زندگی کے سفر میں کوئی ہم سفر بھی مل جائے گا انشاء اللہ۔ میں چاہتی ہوں‘ آپ کی کچھ اور غلط فہمیاں بھی دور کر دوں۔ آپ نے سونیا جی سے بولا کہ وہ آپ سے نہ محبت کرتی ہیں‘ نہ عزت‘ آپ پر حکم چلاتی ہیں‘ آپ کو اہمیت نہیں دیتیں۔

آپ کیسی نگاہ رکھتے ہیں حسام سہیل صاحب! جو محبت اور نفرت کو پرکھ نہیں سکتی۔ جانچ نہیں سکتی۔ کیا سونیا جی کے ہر ہر انداز میں محبت نہیں جھلکتی۔

وہ عورت سراپا محبت ہے۔ اس کے دل جیسا دل تو ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔ آپ اس کے دل سے نکل کر کہاں جائیں گے۔ وہ آپ سے محبت کرتی ہیں۔ بے تحاشا‘بے حساب‘ اس عورت کی عظمت پر میرا دل قربان! جس نے ایک دفعہ بھی میری طرف انگلی نہیں اٹھائی‘ مجھے پر کیچڑ نہیں اچھالا۔

میرے وجود کو گندا نہیں کیا۔ ایسی باہمت اور صابر عورت خوش نصیبوں کو ملتی ہے۔ آپ خوش نصیب ہیں۔ آپ بلند بخت ہیں۔اپنے بخت کو پستیوں کے حوالے نہ کریں‘ اسے بلند ہی رہنے دیں۔ لوٹ جایئے کہ محبت بہت وسعت رکھتی ہے‘ معاف کرنے کا ظرف رکھتی ہے اور آپ بھٹکے ضرور ہیں‘صرف گھڑی دو گھڑی کیلئے مگر بہکے نہیں۔

وقتی پسندیدگی محبت نہیں ہوتی۔ محبت وہ ہے جو آپ کو اپنی سونی سے ہے‘آپ کا آشیانہ سدا سلامت رہے۔

ہم سے کچھ غلطی ہو گئی ہو تو ہمیں معاف کر دیجئے گا۔ رب راکھا۔“ وہ چلی گئی تھی۔ ایک چھوٹی سے قندیل اس کے ہاتھ میں تھما کر۔ سامی اور سونی کی جنت میں سوہنی نکل گئی تھی ہمیشہ کیلئے۔

 

######

سوہنی نے کہا تھا حسام بھٹکا ضرور ہے مگر بہکا نہیں‘ بھٹکنے والے کو ایک موقع تو ملنا چاہئے اور میں نے یعنی سونیا حسام نے اپنے سامی کو معاف کر دیا تھا‘ مجھے ایسا ہی کرنا چاہئے تھا‘ اگر میں ایسا نہ کرتی تو بھٹکنے والا اور بھی بھٹک جاتا‘ کھو جاتا‘ گم ہو جاتا اور میں اپنے سامی کو کبھی بھی کھونا نہیں چاہتی تھی۔

کیونکہ مجھے یعنی سونیا حسام کو حسام سہیل سے محبت ہے‘بے تحاشا محبت اور سوہنی نے ٹھیک کہا تھا کہ عورت ہی عورت کی دشمن بھی ہوتی ہے‘ خود ایک عورت ہو کر دوسری عورت کا گھر اجاڑتی ہے اور کبھی کبھی یہ عورت دوسری عورت کا گھر بچاتی بھی ہے۔ بہت کم لوگ سوہنی کی طرح ہوتے ہیں۔ ہاتھ آئی نعمت کو محض کسی دوسرے کی خوشی کی خاطر ٹھکرانے والے۔ غرض سے پاک‘ حسد سے دور بہت دور‘ خود غرضی جن کی فطرت میں نہیں ہوتی۔ عزت کیلئے قربان ہونے والے‘ خود موم کی طرح پگھل پگھل کر بھٹک جانے والوں کو گھر کی راہ دکھانے والے۔ سچے اور خالص لوگ۔ میں نے کھڑکی کے پٹ کھول کر کمرے میں موجود اس حبس کو باہر نکلنے کا راستہ دے دیا تھا‘ جو بہت دنوں سے میرے کمرے کی فضا کو بوجھل کئے ہوئے تھی۔

تم میرے ہو

 

اس نے جوں ہی کمرے میں قدم رکھا۔ فون کی بیل ایک دم بجنے لگی۔ اس نے ایک نظر سیل فون کی طرف دیکھا۔ پھر غصے کے عالم میں سفید رنگ کی گیند کو دیوار پر پوری شدت سے دے مارا۔ ہاتھ میں پکڑی ہاکی اور پسینے سے تربتر شرٹ اتار کر بیڈ پر پھینکی۔ فون کی بیل تواتر سے بجتی جا رہی تھی۔ اب وہ صوفے پر بیٹھ کر جوتوں کے تسمے کھول رہا تھا۔

وہ ابھی تک بجتی بیل کی طرف متوجہ نہیں ہو سکا تھا کیونکہ وہ ذہنی طور پر یہاں موجود ہی نہیں تھا۔ وہ تو ابھی تک خود کو ہاکی کے میدان میں محسوس کر رہا تھا۔

سوگز لمبے اور ساٹھ گز چوڑے ہاکی کے اس میدان میں ابھی تک تماشائیوں کا ہنگامہ مچا ہوا تھا اور آج کی شکست بری طرح اسے تلملا رہی تھی۔

تھوڑی دیر اس نے فون کے بند ہو جانے کا انتظار کیا۔

پھر کچھ سوچ کر گویا کرنٹ کھا کے اٹھا۔

مائی گاڈ! اگر لالہ کا فون ہوا تو… وہ کس قدر پریشان ہو رہے ہوں گے۔

پھرتی سے فون اٹھا کر اس نے اسکرین کی طرف دیکھا اسکرین پر چمکتا نمبر اجنبی نہیں تھا۔ وہ پہلے ایک سال سے اس نمبر سے آنے والی ہر کال نہ چاہتے ہوئے بھی اٹینڈ کر رہا تھا۔ وہ تھوڑی دیر مزید سوچتا رہا۔ شاید دوسری طرف موجود ڈھیٹ انسان کو کچھ شرم آ جائے۔

مگر اسے غیرت بھلا کہاں آ سکتی تھی۔ اس نے دانت پیستے ہوئے کال ریسیو کی۔

عبد ڈارلنگ! کہاں تھے؟ اتنا انتظار کروایا۔“ چہکتی ہوں اس آواز میں بلا کی تازگی تھی۔ وہ گہری سانسیں خارج کرتے ہوئے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

مجھے پورا یقین تھا کہ تم اس وقت بہت سیڈ ہو رہے ہو گے۔ سو اسی لئے کال کر لی۔ کیا روتے رہے ہو۔ بڑی ہمدردی کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔

گویا ان دونوں؟“ میں بلا کی ذہنی ہم آہنگی اور دوستی ہو‘حالانکہ وہ اس ہمدردی کے پردے میں چھپا طنز اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔

جسٹ شٹ اپ!“ وہ بری طرح تپ گیا تھا۔ وہ کچھ پل مزید خود کو ٹھنڈا کرتا رہا۔ ”ہار اور جیت زندگی کا حصہ ہوتی ہے۔ میں اتنی معمولی بات پر رو نہیں سکتا۔“ اس کے لہجے میں بلا کی مضبوطی تھی۔

تب ہی وہ شرارتی انداز میں چہکی۔

حوصلے تو بہت بلند ہیں۔

ہر سپاہی کا حوصلہ بلند اور ہمت جواں ہوتی ہے۔“ وہ چڑ کر گویا ہوا۔ جانتا تھا کہ وہ بات سے بات نکالتی جائے گی اور وہ اس کے جوابات نہ چاہتے ہوئے بھی دیتا رہے گا۔

اے بلند ہمت سپاہی! آج کا معرکہ تمہارے لئے خاصا تکلیف دہ رہا۔ وہ شکست ہمیشہ یاد رہنے والی ہے۔ تمہاری گیند بھول کر بھی ”فلیگ پوسٹ“ (جہاں گول کیا جاتا ہے) کی طرف نہیں جا سکی جبکہ جازم کی ٹیم نے یکے بعد دیگرے کئی گول کئے تھے۔

مائی گاڈ! ستر منٹ کے کھیل میں ایک بھی گول تم لوگوں سے نہیں ہو سکا۔ ویری بیڈ! آج تو بہت خراب کھیلے ہو۔“ اس کے ہمدردانہ لہجے میں چھپی شرارت کو محسوس کرکے عبد کا خون کھول اٹھا۔

کیوں فون کیا ہے؟

سونے کی قیمت دن بہ دن بڑھ رہی ہے‘بس یہی بتانے کیلئے فون کیا ہے۔“ وہ ایک دفعہ پھر اسے بری طرح سے تپا گئی۔

دیکھئے مس!“ عبد کچھ بولنا چاہتا ہی تھا جب وہ سرعت سے اسے ٹوک گئی۔

میں رمشا اکرام ہوں۔ ایک سال ہو چکا ہے۔ اب تک تو تمہیں میرا نام حفظ ہو جانا چاہئے۔

حفظ تو تب ہوتا‘جب میں تمہارے نام کو یاد کرنے کی کوشش کرتا۔“ عبد نے بھی طنزیہ لہجے میں اسے جلانا چاہا۔

کوئی بات نہیں… صرف حفظ ہی نہیں کرو گے بلکہ میرے نام کی مالا بھی جپنے لگو گے۔“ وہ تلملاتی کہاں تھی‘بلکہ تلملا کر رکھ دیتی تھی۔

بڑی خوش فہمی ہے۔“ وہ خون کے گھونٹ بھر کر رہ گیا تھا۔

جو بھی کہہ لو۔“ اسے کون سا پروا تھی۔

جسٹ شٹ اپ!“ عبد پھر سے سخت الفاظ کہتے کہتے رک گیا۔ خواتین سے نازیبا گفتگو کرنا اسے کبھی بھی پسند نہیں رہا تھا‘مگر یہ رمشا اکرام اسے زچ کرکے رکھ دیتی تھی۔

تم نے فون کرنے کی وجہ نہیں بتائی۔“ اس نے روکھے لہجے میں پوچھا۔

اس لئے فون کیا تھا تاکہ تم سے پوچھ سکوں ہاکی کا کھیل برصغیر پاک و ہند میں کب متعارف ہوا؟“ رمشا نے کھنکتی آواز میں اسے چڑایا۔ ”ویسے آج تم بہت خراب کھیل رہے تھے۔ تین گول مس کئے۔ تم اچھے کھلاڑی نہیں ہو۔“ وہ اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھے مسلسل بول رہی تھی۔

میں تمہیں…“

لنچ کی آفر کرنا چاہتے ہو کیا؟“ وہ جانتی تھی‘اب عبد ضرور کچھ نہ کچھ بولے گا اسی لئے اس کی بات سنے بغیر اپنی سناتی رہی۔

تم…“ وہ ایک دفعہ پھر لفظ ترتیب دینے لگا تھا جب رمشا نے اس کی بات درمیان میڈ اچک لی۔

آجکل کلب کیوں نہیں آ رہے تم؟“ اسے موضوع بدلنے میں بھی مہارت حاصل تھی۔

میری مرضی۔“ عبد چڑ کر رہ گیا۔

کل ضرور آنا۔“ رمشا کا انداز دھونس بھرا تھا۔

کیوں‘تم نے میراولیمہ ارینج کروایا ہے؟“ وہ غصے میں پھنکارا۔

بولنے سے پہلے سوچ تو لیا کرو۔

رمشا نے گویا خوب لطف لیا تھا۔ ”ویسے‘ایسا ہو بھی سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے تم ”دولہا“ بننے کیلئے تیار تو ہو جاؤ۔ ہم سارا ارینج منٹ کر لیں گے۔ اکیس توپوں کی سلامی بھی تیار رہے گی۔

تم آخر چاہتی کیا ہو؟“ وہ زچ ہوا۔

صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ تم جتنا اچھا جہاز اڑاتے ہو۔ اتنے ہی برے کھلاڑی ہو۔“ وہ ہمیشہ فون بند کرنے سے پہلے ایسی ضرب لگا دیتی تھی کہ عبد کئی گھنٹے تک سلگتا رہتا تھا۔

اس وقت بھی وہ غصے کے عالم میں بیڈ پر رکھی ہاکی کو ہاتھ میں لے کر کھڑا ہو گیا تھا۔ ہاکی کے پچھلے چپٹے سرے کو پکڑ کر اس نے پوری قوت سے ہوا میں اچھالا تھا اور یہ اس کی بدقسمتی تھی یا پھر فلائنگ آفیسر ثوب کی‘بے چارے نے اسی پل دروازہ کھول کر کمرے کے اندر پاؤں رکھا تھا‘جب لہراتی ہوئی ہاکی اس کے عین کندھے پر لگی۔ یہ تو اللہ کا شکر تھا کہ سر یا ماتھا محفوظ رہا تھا ورنہ تو جس قوت کے ساتھ اس نے ہاکی کو پھینکا تھا‘ثوب کا سر تو ضرور ہی پھٹ جاتا۔

سر! میں ادھار مانگنے تو نہیں آیا‘پھر ایسا استقبال؟“ اس نے اپنے کندھے کو پکڑ کر دہائی دی۔ عبد کو بے تحاشا خفت نے آن گھیرا۔

سوری یار! مجھے بس پتا نہیں چل سکا۔

اگر ہڈی وڈی ٹوٹ گئی تو پھر؟“ ثوب بھی خاصا نازک مزاج تھا۔ نجانے ایئر فورس اس نے کیسے جوائن کر لی تھی۔

مجھے تو لگتا ہے۔ ضرور اندرونی طرف سے جلد پھٹ گئی ہو گی۔ اگر جلد کے اندر انفیکشن پھیل گیا تو۔“ سدا کا وہمی ثوب اسے بھی دہلا رہا تھا۔

وہ دراز میں سے آیوڈیکس نکال لایا اور اس کے کاندھے پر لگا دیا۔

پھر ہاتھ دھونے کیلئے واش روم میں چلا گیا۔ واپس آیا تو ثوب کو جوس پیتے اور فروٹ کی ٹوکری سامنے رکھے دیکھ کر چیخ اٹھا۔

تم میں ذرا بھی مینرز نہیں ہیں۔

بغیر اجازت چیزوں میں گھستے ہو۔

اجازت کا کیا ہے۔ وہ تو میں ابھی بھی لے سکتا ہوں۔“ ثوب نے فوراً چہرے پر معصومیت طاری کر لی۔

ویسے آج اتنے پر تشدد کیوں لگ رہے ہیں۔ خیر تو ہے؟“ اس کی تمام تر توجہ فروٹ باسکٹ کی طرف تھی۔

تم سے مطلب؟“ وہ ناگواری سے بولا۔

ہم سے مطلب رکھ کر بھلا آپ کو کیا ملے گا۔

ثوب نے معنی خیزی سے آنکھیں گھمائیں۔

ویسے آج کل بڑی کالز آ رہی ہیں آپ کے نمبر پر۔

تمہیں کیسے پتا؟“ وہ کچھ چونک کر بولا۔

خبر تو رکھنی پڑتی ہے۔ ویسے آج میں سارا دن آپ کے کمرے میں سوتا رہا ہوں اور پورا دن آپ کا سیل بجتا رہا ہے۔“ ثوب نے اطمینان سے بتایا۔

کوئی رانگ کالر ہو گا۔“ اس نے خود کو لاپروا ظاہر کرنا چاہا۔ اب وہ لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ چکا تھا تاکہ ثوب کی معنی خیز نظروں سے بچ سکے۔

رانگ کالر بھی خاصا مستقل مزاج لگتا ہے۔

تم یہ دو کیلے اور لو اور بھاگو یہاں سے۔“ عبد بھنا کر بولا۔ ثوب اطمینان سے چھلکے اکٹھے کرکے ڈسٹ بن میں ڈال آیا تھا۔

ایکچوئیلی! مجھے بھی یہاں بیٹھنے کا کوئی شوق نہیں۔ میں تو بس اظہار افسوس کرنے آیا تھا۔“ جاتے جاتے اسے بھی تو کمینگی دکھائی تھی۔

کیا مطلب؟“ عبد کا ماتھ ٹھنکا۔

لگتا ہے پورے بیس میں خبر نشر ہو گئی ہے۔

یہ بات چھپا کر رکھنے والی بھی نہیں ہے۔

دفع ہو یہاں سے۔“ عبد کا پارہ چڑھ گیا تھا۔

وہ ہاکی اٹھا کر ثوب کے پیچھے لپکا تھا مگر وہ اسے ڈاج دے کر بھاگ گیا۔

ثوب کے جانے کے بعد وہ صوفے پر ڈھے گیا تھا۔ آج کی شکست نے سچ مچ اسے بے حد بددل کر دیا تھا۔ ہاکی کھیلنا اس کا شوق ہی نہیں‘جنون بھی تھا۔

ان کے ادارے کی دو ٹیمیں تھیں۔ جن کے آپس میں میچز ہوتے رہتے تھے۔ جازم اس کا کولیگ بھی تھا اور مخالف ٹیم کا کپتان بھی۔ رسال پور اکیڈمی میں بھی یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ تھے۔ ایف ایس سی کے زمانے سے ہی دونوں کے درمیان مقابلہ رہتا تھا۔ آج اسے جازم کی ٹیم نے شکست سے دوچار کیا تھا۔ اوپر سے رمشا کے ریمارکس نے اس کا دماغ بری طرح سے کھولا کر رکھ دیا تھا۔ اگلے چار پانچ دن اسے اسی کھولن کا شکار رہنا تھا۔ اس بات سے وہ اچھی طرح آگاہ تھا۔ فی الحال وہ جازم کی جیت کو بھلائے رمشا کے متعلق سوچنے لگا تھا۔

آخر یہ ہے کون؟“ اس کے اردگرد بڑا سا سوالیہ نشان چکرا رہا تھا۔

وہ کالج کے زمانے سے ہی بہت اچھی ہاکی کھیلتا تھا۔ اگر عناس لالہ اسے اکیڈمی نہ بھیجتے تو شاید آج وہ قومی ٹیم کی نمائندگی کر رہا ہوتا۔ اتنی سخت ملازمت میں بھی وہ اپنے اس شوق کو ختم نہیں کر پایا تھا۔ اس کے جیسے ہاکی کے کئی شوقین اور جنونی لڑکوں نے دو ٹیمیں بنا رکھی تھیں۔ فرصت کے دنوں میں وہ میچ رکھ لیا کرتے تھے۔ فائنل سے پہلے کافی پریکٹس بھی کی جاتی تھی۔

جس دن ان کے سالانہ یا ماہانہ میچ شروع ہوتے تھے۔ تقریباً پورے بیس کے شائقین بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے وہ اور جازم اب محنت کے بعد میدان میں آئے تھے۔ مگر اس میچ میں قسمت نے اس کا ساتھ نہیں دیا تھا۔

عبد جرار کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے تھا۔ مگر اب اس کے پاس صرف تین مربع زمین تھی۔ عبد کے والد کا انتقال ہو چکا تھا۔

اس کی ماما تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔

انہوں نے اپنے بیٹوں کے مستقبل کی خاطر زمین بیچ کر شہر میں دو منزلہ مکان لے لیا تھا اور خود ایک پرائیویٹ کالج میں پڑھانے لگی تھیں۔ ان کی تمام تر توجہ اپنے بیٹوں کی طرف تھی۔ بیگم عدیلہ جرار نے اپنے بیٹوں کی زندگی بنانے کیلئے بے حد جدوجہد کی تھی۔ اپنے بچوں سے انہیں بے انتہا محبت تھی۔ اسی طرح عناس اور عبد بھی ماں کے ہر فیصلے اور ہر بات کو حکم کا درجہ دیتے تھے۔

بیگم عدیلہ کی ایک بیوہ بہن بھی ان کے گھر میں رہائش پذیر تھیں۔ عاشرہ کی تین بیٹیاں تھیں۔ مونسہ‘مونا اور مینا… ان کی رہائش اوپری منزل پر تھی۔ مونسہ ماسٹرز کر چکی تھی اور اب ایک اچھی ساکھ رکھنے والے اسکول میں پڑھاتی تھی۔ مونا نے بی اے کر لیا تھا۔ ان دنوں انگریزی زبان سیکھنے کے خبط میں مبتلا تھی۔ سب سے چھوٹی مینا تھی۔ جو کہ فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی۔

مختلف تعلیمی اداروں میں عبد کو بے شمار دوستوں کا ساتھ ملا تھا‘مگر جو دوستی عناس لالہ اور اس کے درمیان تھی۔ اس کی کہیں مثال نہیں ملتی تھی۔ عبد میں گویا عناس کی جان تھی۔ عبد کو معمولی سی تکلیف کیا ہوتی تھی‘اس کا دل پہلے سے ہی اسے سگنل پہنچا دیتا تھا۔ وہ اس کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھتا تھا۔ ایک مرتبہ چھوٹے سے ایکسیڈنٹ میں عبد معمولی سا زخمی ہو گیا تھا مگر بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے خون بہنا بند نہیں ہو رہا تھا۔

تب عناس گویا پاگل ہونے لگا تھا۔ وہ ڈاکٹروں سے چیخ چیخ کر کہتا رہا کہ ”میرے جسم کا سارا خون نکال کر عبد کو لگا دو۔ اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں زندہ نہیں رہ پاؤں گا۔

شاید اس لئے بھی یہ دونوں بھائی ایک دوسرے کے زیادہ قریب آ گئے تھے کہ ان کے والد کا انتقال ان کے بہت بچپن میں ہو گیا تھا‘تب ماما نے عناس کو ایک بات گویا گھول کر پلا دی تھی۔

عبد کے تم بھائی نہیں ہو‘باپ بھی ہو۔ زندگی کے کسی بھی موڑ پر عبد کو تنہا مت چھوڑنا… عبد میرا دل ہے۔“ ماما گویا اس سے وعدہ لے رہی تھی۔

اور عبد میرا بھی دل ہے۔“ عناس کے دل نے بھی ماں کی بات پر مہر لگا دی تھی۔ بہت بچپن سے ہی عبد کو محبتیں سمیٹنے کی عادت ہو گئی تھی۔ ماما اور عناس سے لے کر خالہ اور مینا تک سب ہی اسے ہتھیلی کا چھالا بنائے رکھتے تھے۔

وہ جب بھی اکیڈمی سے گھر واپس آتا۔ گویا پورے گھر میں ایک خوشی کی لہر دوڑ جاتی تھی۔ سب ہی یوں مستعد ہو جاتے گویا کسی کمانڈر کی آمد کی اطلاع مل گئی ہو۔

مونسہ کچن میں گھس جاتی تھی۔ مونا اور مینا اس کا کمرا صاف کرنے کیلئے بھاگ اٹھتی تھیں۔ خالہ اس کے کپڑے استری کرتیں اور عناس ای کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا بھی خیال رکھتا۔

عناس ذاتی کلینک بہت کامیابی سے چلا رہا تھا۔

عناس نے ایم بی بی ایس لاہور سے کیا تھا۔ اس کے علاوہ ڈپلومیٹ ان ڈرماٹالوجی میں اعلیٰ تعلیم انگلینڈ سے اور پھر چار سال پہلے کاسمیٹک سرجری میں بھی امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔ بے حد قابل اور لائق فائق سرجن تھا۔ اپنی فیلڈ میں خاصی شہرت رکھتا تھا مگر ماما کے ہزار مرتبہ کہنے کے باوجود ابھی تک تنہا تھا۔ نجانے کیوں شادی کے نام سے ہی بدکتا تھا‘حالانکہ چوڑیاں چھنکات بھابھی کو گھر میں لانے کیلئے عبد بھی خاصا بے قرار تھا مگ عناس کی ”نہ“ ابھی تک ”ہاں“ میں نہیں بدلی تھی۔

پچھلے دو دن سے وہ چھٹی کے مزے لوٹ رہا تھا۔ مگر فی الحال تازہ تازہ شکست کا غم ابھی زندہ تھا۔ سو وہ ابھی تک کسی کا سامنا کرنے سے گریزاں تھا۔

وہ اس وقت بھی اپنے کمرے میں موجود تھا اور پروفیسر غفور احمد کی ”پھر مارشل لاء آ گیا“ پڑھنے میں بری طرح سے محو تھا جب دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر کیڈٹ ہارون اندر داخل ہوا۔ وہ لابی میں موجود فون بوتھ کا آپریٹر بھی تھا۔

عبد کا دھیان فوراً اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔

سر! آپ کی کال آ رہی ہے۔

کہاں سے؟“ وہ خاموش پڑے سیل کی طرف دیکھ کر بولا۔

آپ کے بھائی ہیں… اور کہہ رہے ہیں کہ اپنا موبائل آن کریں۔ انہیں کوئی ضروری بات کرنا ہے۔“ ہارون پیغام پہنچا کر باہر کی طرف چلا گیا۔ عبد نے فوراً کتاب بند کرکے سیل فون آن کر لیا۔ ابھی وہ عناس کا نمبر ملانے ہی لگا تھا کہ اسکرین پر ”لالہ کالنگ“ جگمگاتا نظر آ گیا۔ عناس نے چھوٹتے ہی سیل فون کی خاموشی کے متعلق جاننا چاہا تھا۔

 


تبصرے