بیجا استعمال کی اطلاع دیں

5/random/slider

لیبلز

About Limmer

About Limmer
Glimmer is one of the most Elegant, Clean and Creative WordPress blog.

About Me

About Me
Lorem ipsum dolor sit amet Cras vitae nibh nisl. Cras etwmaur is egettobsi lorem ultricies ferme ntutbm a in diam. Morbi mollis pellentesque aug uenec rhoncus.

لیبلز

Popular Posts

Recent in Fashion

3/Fashion/post-list

Subscribe Us

نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Slider

4-latest-1110px-slider

ذ را مسکرا ئیے

ذ را مسکرا ئیے پروفیسر صاحب انتہائی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے تھے، جیسے ہی آپ نے تختہ سیاہ پر کچھ لکھنے کیلئے رخ پلٹا کسی طالب علم بے سیٹی ماری۔ پروفیسر صاحب نے مڑ کر پوچھا کس نے سیٹی ماری ہے تو کوئی بھی جواب دینے پر آمادہ نا ہوا۔ آپ نے قلم بند کر کے جیب میں رکھا اور رجسٹر اٹھا کر چ…

پکوڑوں کا مہینہ

پکوڑوں کا مہینہ رمضان کی آمد آمد ہے۔ہر طرف زور و شور سے رمضان کی تیاریاں جاری و ساری ہیں۔ ایسے میں دو طرح کے مزاج ہیں ایک تو وہ جو رمضان کو حقیقتا روزے اور عبادات کے لئے خالص کر رہے ہیں۔ اور دوسرا اکثریتی گروپ جو افطاری کے تصورات سے ابھی سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ جن کا موٹو ہے *ہمیں افطاری س…

قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم۔۔

قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم۔۔۔ کچھ سالوں سے ایک رحجان (ٹرینڈ) دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یقینا آپ کی نظر سے بھی گزرا ہو گا۔ وہ ہے علامہ محمد اقبال کی شاعری کی بڑھتی ہوئی مقبولیت!! گو کہ یہ مقبولیت ایک صدی سے چلی آ رہی ہے۔۔۔۔ مگر اس بار رنگ ڈھنگ الگ ہیں ۔ سماجی رابطے کی ہر ویب سائٹ …

میں اور میرا گیدڑ

میں اور میرا گیدڑ میں اور میرا گیدڑ ہماری پہاڑی زبان میں کٹی گھاس کا ڈھیر یا ترتیب میں گھاس کی گڈیوں کو جب ایک جگہ جمع کیا جاتا ہے تو اسے' گھاڑا'کہتے ہیں، اردو لغت کے مطابق اسے گھاس گنجی، گاہ انبار یا گھاس کا چوٹی دار ڈھیر کہتے ہیں. اکثر یہ 'گھاڑے' گاؤں کے باہر زمین…

انوکھا بیج : ایک سبق آموز کہانی

انوکھا بیج : ایک سبق آموز کہانی ایک تاجر اپنی محنت سے کامیاب ہوا اور ایک بہت بڑے ادارے کا مالک بن گیا ۔ جب وہ بوڑھا ہو گیا تو اُس نے ادارے کے ڈائریکٹروں میں سے کسی کو اپنا کام سونپنے کی دلچسپ ترکیب نکالی ۔ اُس نے ادارے کے تمام ڈائریکٹروں کا اجلاس طلب کیا اور کہا “میری صحت مجھے زیادہ…

وہ بڑھا

وہ بڈھا ( راجندر سنگھ بیدی ) میں نہیں جانتی۔ میں تو مزے میں چلی جا رہی تھی۔ میرے ہاتھ میں کالے رنگ کا ایک پرس تھا، جس میں چاندی کے تار سے کچھ کڑھا ہوا تھا اور میں ہاتھ میں اسے گھما رہی تھی۔ کچھ دیر میں اچک کر فٹ پاتھ پر ہو گئی، کیو ں کہ مین روڈ پر سے ادھر آنے والی بس…