کفن ( منشی پریم چند ) جھونپڑے کے دروازے پر باپ اور بیٹا دونوں ایک بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور اندر بیٹے کی نوجوان بیوی بدھیا دردِ زہ سے پچھاڑیں کھا رہی تھی اور رہ رہ کر اس کے منہ سے ایسی دلخراش صدا نکلتی تھی کہ دونوں کلیجہ تھام لیتے تھے۔ جاڑوں کی رات تھی…
Search
Trending now
سفرِ زیست۔افسانہ
سفرِ زیست کتاب وقت گزارنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ انٹرنیٹ اور ورائٹی شوز کے دور میں آج بھی ت…
ذ را مسکرا ئیے
ذ را مسکرا ئیے پروفیسر صاحب انتہائی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے تھے، جیسے ہی آپ نے تخت…
بلاؤز
بلاؤز ( سعادت حسن منٹو ) کچھ دنوں سے مومن بہت بے قرار تھا۔ اس کا وجود کچا پ…
وہ بڑھا
وہ بڈھا ( راجندر سنگھ بیدی ) میں نہیں جانتی۔ میں تو مزے میں چلی جا …
لحاف
لحاف ( عصمت چغتائی ) جب میں جاڑوں میں لحاف اوڑھتی ہوں، تو پاس کی دیواروں …